Stories


سیکس کی پجارن کی انوکھی داستان از رانا پردیسی

نامکمل کہانی ہے

کومل سکسی دوشیزہ تھی  اس کو آثار قدیمہ سے بہت دلچسپی تھی   جب وہ کئی سال پہلے کالج میں تھی تو گریجویشن میں انگریزی کے  ساتھ اس کا دوسرا  خاص مضمون آرکیالوجی ہی تھا  اس کے بعد اس نے ماسٹر اور ایم فل بھی آرکیالوجی  میں ہی کیا تھا  مگر اس کے لئے ڈگریوں کی کوئی  اہمیت نہیں تھی  وہ ایک ٹھاکر خاندان کی اکلوتی  مگر سکسی بیٹی تھی

اور اس کے پاپا ٹھاکر راجندرکبھی اس کے شوق کے آڑے نہیں آئے تھے  نہ ہی سکسی کومل کی ماما رکمنی دیوی نے اسے کبھی روکا اور پھر ایک کار ایکسیڈنٹ میں جب اس کے پاپا اور ماما کی وفات  ہو گئی تو  وہ اب کروڑوں کی جائیداد کی اکلوتی وارث تھی  اس نے اب اپنے شوق کے لئے ہی خود کو وقف کر دیا تھا  اور وہ  سکسی دوشیزہ آثار قدیمہ  کی کھوج ، تحقیق اور مطالعہ  میں گم ہو گئی

اب اپنے جنون کی آگ کو سرد کرنے کے لئے وہ کھنڈرات میں ماری ماری پھرتی  اس نے ہندوستان کے سبھی کھنڈر چھان مارے تھے  آج بھی وہ ایک پرانی کتاب میں مہاراشٹر کے ایک علاقے جمنا نگر کے بارے میں پڑھ کر آئی تھی وہاں  اس کتاب میں لکھا تھا  کبھی وہ ایک مہان راجہ کی حویلی ہوا کرتی تھی لیکن اس کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر وہاں سے لوگ جانے لگے

اور پھر ایک ایسا وقت بھی آیا جب اس حویلی پر آسمانی بجلی گری  شاید دیوتاؤں کو بھی اس کے ظلم اب پسند نہیں آئے تھے  اور وہ سارا علاقہ ہی جل کر سیاہ ہو گیا  پھر وہاں بھوت پریت نے قبضہ کر لیا وہاں آج  پھر کبھی کوئی نہیں گیا تھا  یہ سب پڑھ کر کومل کا من وہاں جانے کو کرنے لگا اور آج وہ اس علاقے  میں موجود تھی  وہ ایک دلیر  سکسی لڑکی تھی  اس نے بے خوف و خطر اس علاقے میں اکیلی ہی آ گئی تھی

وہ اب اس قدیم حویلی میں داخل ہوئی جس کی دیواریں  بھی جلی ہوئیں تھیں  پھر  سکسی کومل نے اس حویلی میں گھومنا شروع کر دیا اچانک وہ ایک ایسے حصے میں آئی جہاں ایک کمرے کو یوں لوہے کے کیلوں سے جیسے جادو کے زور پر کیلا گیا تھا  وہ اب اشتیاق سے اس دروازے کی طرف بڑھی دروازے پہ  ایک قدیم ہندی زبان میں کچھ لکھا ہوا تھا  کومل کو مختلف زبانیں سیکھنے کا بھی شوق تھا  اسی لئے اسے وہ قدیم زبان پڑھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی  وہ تحریر کسی پنڈت لکشمی داس کی طرف سے تھی

کہ اس کمرے کو کبھی نہ کھولا جائے  اب  سکسی کومل نے زیر لب مسکرا کر کہا میں تو کھولوں گی یہ بھوت پریت سب قصے کہانیاں ہیں  اب اس نے دروازے کی کنڈی کھولی اور اندر داخل ہو گئی اس نے اپنے ہاتھ میں موجود ٹارچ کو کمرے میں گھمایا  سارا کمرہ خالی تھا صرف ایک کونے میں اسے ایک سنہری چھوٹی سی صندوقچی ملی  وہ بولی لو جی پنڈت صاحب نے یہ خزانہ چھپا رکھا تھا جو اسے کھولنے سے روکا گیا تھا  وہ اس صندوقچی کو لے کر باہر آئی
اور جیسے ہی اس نے اس کمرے کی حدود سے باہر قدم رکھا اس سکسی کے من میں یہ خیال خود بہ خود آنے لگا اب گھر چلا جائے  یہاں کیا ہے ایسے ہی اتنا لمبا سفر کیا اور پھر یہ خیال اس پہ ہیوی ہو گیا اب وہ کئی دنوں کے سفر سے یہاں آئی تھی  لیکن واپس جانے میں جیسے غائبانہ طور پہ اس کی مدد کی گئی ھو وہ حیران تھی کہ گھنٹوں کا سفر منٹوں میں طے ہوا جا رہا تھا

اب وہ سکسی سوچنے لگی یہ کیا چکر ہے  پھر اس کی سوچیں آپس میں بھڑنے لگیں  اور وہ جب اپنے شہر ممبئی میں پہنچی تو رات کافی ہو چکی تھی وہ اب گھر میں داخل ہوتے ہیں جیسے کسی اور کے زیر اثر اپنے کمرے میں چلی گئی اس کی خاص اور راز دار ملازمہ جمنا  اس کے کمرے میں آئی اور بولی کومل دیدی  آپ کے لئے کھانے کو لاؤں یا بعد میں کھائیں گئیں

کومل نے کہا نہیں یار آج بھوک نہیں ہے میں اب سونے لگی ہوں  کوئی مجھے ڈسٹرب نہ کرے اب جمنا  نے  کہا جی دیدی  اور واپس چلی گئی سکسی کومل نے اب اندر سے دروازہ لاک کیا اور اور اپنے بیڈ پہ بیٹھ گئی  اب اس نے اس صندوقچی کو کھولنے کا سوچا اور پھر جیسے ہی اس نے صندوقچی کھولی وہ چونک گئی اس کے اندر ایک سنہری رنگ کا ایک لمبا بال تھا جو عام بال سے حجم میں کچھ موٹا تھا

وہ سکسی دوشیزہ اب اشتیاق سے اس بال کو دیکھنے لگی  پھر اس نے سوچا یہ کس کا بال ہے اور بال کو اپنے ہاتھ میں لے کر اس نے جیسے ہی اس صندوقچی سے باہر نکالا  اسی لمحے میں لائیٹ بند ہو گئی اب کومل نے حیرانی سے سوچا یہ لائیٹ کیسے بند ہوئی ہے  آج تک تو کبھی نہیں ہوئی اب وہ ایمر جنسی لائٹ لینے کو اٹھی تواس کا پاؤں قررب ہی رکھی کرسی سے ٹکرایا اور وہ بل اس کے ہاتھ سے گر گیا

اب  سکسی کومل ابھی سیدھی ہی ہوئی تھی کہ لائٹ آ گئی اب وہ نیچے دیکھنے لگی لیکن اسے کہیں بھی وہ بال نظر نہ آیا  اب وہ پریشاں ہو گئی کہ وہ سنہری بال کہاں گیا اس نے کمرے میں ہر طرف دیکھا بیڈ کے نیچے سے بھی لیکن وہ نہ ملا اب کومل نے وہ صندوقچی بند کر کے ایک طرف رکھی اور خود وہ بیڈ سے ٹیک لگا کر لیٹ گئی وہ اب جیسے کسی دوسرے کے زیر اثر ہر عمل کر رہی تھی

کچھ دیر بعد اس کی آنکھیں بند ہو گئیں اب اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کوئی چیز اس کے پاؤں سے ٹکرائی ہے پھر اسے ہلکی ہلکی خارش کا احساس ہوا اب کوئی نرم سی چیز اس کی پاؤں سے اوپر کی طرف رینگنے لگی اور پھر وہ چیز کومل کی  سکسی پینٹ میں گھسی اب وہ پنڈلیوں سے آگے آنے لگی کومل کو ایک عجیب سا مزہ آنے لگا تھا  وہ نرم سی جو بھی چیز تھی اسے ایک ایسی لذت سے روشناس کرا رہی تھی
جو اسے کبھی نہیں ملی تھی  اب اس کی آنکھیں ایک جھٹکے سے خودہی کھل گئیں اور اسے سکسی پینٹ کے آر پار سے اپنی  سکسی ننگی رانیں نظر آنے لگیں جن پہ وہی سنہری بال تھا جو آھستہ آھستہ سے سرسراتا ہوا اوپر آنے لگا پھر وہ بال کومل کی سکسی پینٹی میں گھسا اور اس کے ساتھ ہی کومل کی اب ایک زور کی چیخ نکل گئی

درد سے کیوں کہ وہ سنہری بال اب کومل کی ان چھوئی سکسی چوت میں جیسے سرایت کر گیا تھا  اب کومل کے سارے  بدن  کو یوں ہلکے ہلکے جھٹکے لگنے لگے جیسے اس نے بجلی کی ننگی تار کو پکڑ رکھا ھو  کافی دیر تک کومل کو یہ جھٹکے لگتے رہے  پھر اس کا سارا سکسی جسم سردی میں بھی پسینے پسینے ہو گیا  اب کومل کو یوں لگ رہا تھا جیسے وہ روئی کی طرح  ہلکی پھلکی ہو گئی ھو

اب اس نے ایک کمر توڑ انگڑائی لی اور کومل کی خوبصورت سکسی چھاتی اس  کے جسم کے کمان کی طرح تن جانے سے باہر کو نکل آئی  اور اب کومل اٹھی اس نے اپنے  سکسی جسم سے ایک ایک کر کے سارے کپڑے اتار دئیے اب وہ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھی اور اپنے  جسم کا اس  نے آئینے میں جائزہ لیا اس کی  سکسی چھاتی چھتیس تھی اور کمر نہ ہونے کے برابر نیچے سے پیچھے کو نکلے کولہے اڑتیس تھے

اس نے چاروں طرف گھوم کر خود کو دیکھا کومل کی  سکسی چھاتی  بڑی سائز کی ٹینس بال جیسی تھی اور پنک کلر کی قدرے ابھری ہوئی  نپلز نے اس کی چھاتی کے حسن کو دو بالا کر دیا تھا وہ اب نیچے آئی اور اپنی  سکسی چوت کو ٹانگیں پھیلا  کر دیکھنے لگی کومل کی چوت بہت ہی صاف اور شفاف  تھی  اس کی چوت کی شیپ بہت ہی کمال کی تھی

جب اس نے جی بھر کے اپنے حسین بدن کا جائزہ لے لیا تو  وہ واش روم میں داخل ہوئی اور نیم گرم پانی سے اچھی طرح سے غسل کیا  پھر باہر نکل آئی اور ننگی حالت میں ہی اپنے بیڈ پہ لیٹ کر اس نے آنکھیں موند لیں  پھر کچھی لمحوں بعد جیسے اس کی بند آنکھوں کے سامنے فلیش سے چمکنے لگی

 اب اسے ایک سریلی نسوانی آواز سنائی دی  میرا نام چندرکانتا ہے اور میں   سیکس اور محبت کی دیوی ہوں  تم نے مجھے کئی سالوں کی قید سے مکتی دلائی  میں تمہاری شکر گزار ہوں پہلے میں نے کوشش کی اپنے اصلی روپ میں آ سکوں لیکن نہیں آ پائی ابھی مجھے پتا نہیں کتنے سال اسی سنہری بال کی شکل میں رہنا ہو گا  میں روزانہ کسی  نوجوان مرد سے سیکس کے بنا نہیں رہ سکتی

اب مجبور ہو کر میں نے آپ کے  سکسی خوبصورت جسم پہ قبضہ کیا ہے جسم آپ کا اور شکتی میری ھو گی کومل آپ آج سے اس ہندوستان کی رانی ھو  کس میں اتنی شکتی ہے کہ وہ چندرا دیوی کے سامنے آ سکے آج سے تم ہی چندرا دیوی ھو  تم سیکس کسے بعد اس نوجوان مرد کا خون  پیو گئی  اب جیسے کومل کے دل اور دماغ نے انکار سا کیا تو وہ آواز کچھ دیر بعد بولی ٹھیک ہے وہ میں خود ہی اپنے طریقے سے پی لوں گئی
اب خوش میری جان لیکن یہ کنفرم ہے آپ سے سیکس کرنے والا مرد زندہ نہیں رہے گا میں اس کا خوں پی جاؤں گی کیسے پیوں گئیں یہ میں نہیں بتاؤں گئی  کہوں کہ میری غذا ہی جوان مردوں کا خون ہے  میں ہر ہفتے میں دو مردوں کا خون پیوں گئیں  لیکن آپ کو ہر رات جس مرد پہ آپ کا دل آئے گا اس سے سیکس کرنا ہو گا

اب  سکسی کومل کی سوچ نے کہا اگر مجھے پولیس نے پکڑ لیا تو خون کے الزام میں اب اسے ایک سریلا سا قہقہ سنائی دیا وہ بولی میری نادان دوست تم نہیں جانتی اب کتنی شکتی تمہارے بدن میں سرایت کر گئی ہے اور اب تمہاری ابرو کے ایک اشارے سے کسی کی بھی گردن کٹ سکتی ہے تم صرف کسی کی طرف بھی آنکھ اٹھا کر جو بھی سوچو گئی میری مہان شکتی اسے کر دے گئی

اب سکسی  کومل کی سوچ نے کہا اگر کوئی میرے دل کو اچھا لگا تو اب اسی چندرا دیوی کی آواز نے جواب دیا جانو میں اپنی دوست کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہوں  جو آپ کو اچھا لگے گا مجھے خود ہی پتا چل جائے گا کیوں کہ میں تو آپ کے سارے  سکسی جسم میں ہوں اب اسے میں کچھ نہیں کہوں گی  اب کومل نے ایک لمبا سانس لیا اور کہا آج کچھ نہیں ہو گا کل سے تو چندرا دیوی نے کہا آج تم سو جاؤ اب تم صرف سوچو گئی میں آپ سے اسی سوچ کے لہجے میں جواب دوں گی   اور اب  سکسی کومل کو نیند آنے لگی اور وہ سو گئی

اس سے آگے کی کہانی سکسی کومل کی  اپنی زبانی

گلی صبح میں  کافی دیر سے اٹھی  جیسے ہی میں اٹھی میں نے اپنے بیڈ کے ساتھ ہی دیوار سے لگی سوئچ بورڈ پہ لگا اکلوتا  بٹن پریس کیا کچھ دیر میں جمنا میرے لئے بیڈ ٹی لے کر آ گئی  اس نے بیڈ ٹی  بیڈ کے ساتھ اٹیچ  ٹیبل پہ رکھی اور میری طرف دیکھ کر بولی دیدی کیا کھاتی ھو آج کل

آج آپ کا رنگ یوں چمک رہا ہے جیسے سونے سے بنا ہوا کوئی  مست سکسی بدن ھو  میں نے مسکرا کر کہا وہی کھاتی ہوں جو تو پکاتی ہے  اور وہ اب ہنستے ہوئے باہر نکل گئی میں نے گرما گرم ٹی کو اپنے ہونٹوں سے لگا لیا اور ہلکے ہلکے سپ بڑھنے لگی  ٹی ختم کر کے میں اٹھی اور واش روم کی جانب بڑھی وہاں سے فارغ ہو کر میں نے اب اپنی شرٹ اور ٹرؤزر اتارا  اب میں صرف سکسی  برازیئر اور پینٹی میں تھی

اپنا تولیہ کندھے پہ ڈالا اور کمرے سے باہر نکل آئی وہاں سے سیدھی میں سوئمنگ پول کی جناب بڑھی  تولیہ وہاں موجود اسٹینڈ  کے ساتھ لٹکا دیا اور خود سوئمنگ پول میں چھلانگ لگا دی  پانی نیم گرم تھا  یہ سب کمال جمنا کا تھا وہ جانتی تھی میں سردی ہو یا گرمی بلا ناغہ سوئمنگ کرتی ہوں   میرا سکسی بدن عادی تھا وہ سردیوں میں میرے اٹھنے سے پہلے ہی پانی نیم گرم کر دیتی تھی  اس مقصد کے لئے کافی ہیوی ہیٹر موجود تھا  جو صرف بیس منٹ میں پانی کو نیم گرم کر دیتا تھا
جمنا میری کوٹھی میں سب ملازموں کی نگران تھی  وہ کوئی پندرہ ملازموں کو کنٹرول کرتی تھی  جن میں دس مرد اور پانچ عورتیں تھیں  میں اب مزے سے پانی میں تیراکی کے فن کا مظاہرہ  کر رہی تھی   میں نے اپنی روٹین کے مطابق ایک گھنٹے  تک لگا تار سوئمنگ کی بعد میں باہر آئی اور خود کو تولیے سے اچھی طرح صاف کیا  اور میرا سکسی بدن اور بھی نکھر گیا تھا

اسی وقت میرے لئے لباس لے کر جمناآگئی   میں نے وہیں پہ اپنی شرٹ اور ٹرؤزر پہنا یہ روز کی روٹین تھی  میں جیسے ہی سوئمنگ سے فارغ ہوتی جمنا میرے لئے اندر سے لباس لاتی آج وہ بولی دیدی سچی میں آج آپ کا بدن بالکل گولڈ کی طرح سے چمک رہا ہے  آج آپ پہلے سے بہت زیادہ  خوبصورت   اور سکسی لگ رہی ہیں

میں نے اسے باتوں میں ٹال دیا اب وہ بولی دیدی آج سنا ہے ھمارے شہر میں سب سے بڑھی ریس  دوڑے گی گھوڑوں  کی میں نے اب چونک کر پوچھا تم کو کیسے پتا تو جمنا نے بتایا کل سامنے والوں کا سنیل بتا رہا تھا  ھمارے کاکا جی کو کاکا جی میرے گھر میں گیٹ کیپر تھے  میں نے کہا چلو ٹھیک ہے ہونے دو ہم کو کیا  اور اندر اپنے روم میں آ گئی

اسی وقت مجھے اپنے کان میں سرگوشی سنائی دی سکسی   چندرا دیوی کی وہ بولی کومل جانو آپ آج کی اس ریس میں حصہ لو آج ہم آپ کو اپنی شکتی کے ادنیٰ سے کرشمے دکھائیں میں نے کہا ٹھیک ہے دوست اور پھر میں اپنی روز مرہ کی مصروفیت میں مشغول  ہو گئی  کچھ دیر میں نے یوگا کی مشقیں کیں اور بعد میں ناشتہ کر کے تیار ہوئی

اور اپنی ایک دوست سے ملنے اس کے گھر چلی گئی میری دوست  سکسی پائل  تھی  اس کو کچھ دنوں سے فلو تھا  وہ میری ایک ہی قریبی دوست تھی  میں اس کے گھر گئی تو وہاں کا ماحول دیکھ کر میں چونک اٹھی  وہاں اس کے گھر والےایک سادھو کی یوں خدمت کر رہے تھے  جیسے وہ کوئی بہت ہی مقدس ہستی ہو  مجھے دیکھ کر پائل نے کہا آو مہاراج کو ڈنڈوت کرو  یہ کلکتہ کے بہت ہی بارے پنڈت ہیں

مہاراج چرن جیو میں نے اس مہان پنڈت کی طرف دیکھا  وہ بھی مجھے ہی گھورے جا رہا تھا  چرن جیو کی جسامت کافی بھاری تھی  اور اس کا رنگ توے کی سیاہی کی طرح تھا  اس کی آنکھیں بڑی بڑی اور لال تھیں میں نے پائل کے سارے گھر والوں کو اس کے قدموں میں بیٹھے  دیکھا تھا  میں نے ابھی تک اسے ڈنڈوت نہیں کیا تھا

اب وہ اپنی گونجیلی آواز میں بولا  پائل لگتا ہے اس سندری کو ابھی ہمارا اصلی پریچے نہیں ہے ورنہ یہ کبھی ھمارے سامنے یوں نہ کھڑی ہوتی  پنڈت کی آنکھیں جیسے میرے بدن کے آر پار جا رہی تھیں میں نے اب  سکسی پائل کی طرف دیکھا وہ میری طرف ہی دیکھ کر آنکھ کے اشارے سے بولی  میں پرنام کروں میں نے دل ہی دل میں کچھ سوچا اور اسے پرنام کیا  ہاتھ جوڑ کر اب میں پائل کے پاس رکھے صوفے پر بیٹھ گئی
  پائل کی ماما نے کہا بیٹا گرو جی کا آشیرواد    نہیں لو گئی کیا میں نے کہا میں ایسے ہی ٹھیک ہوں آنٹی  اب میری بات نے جیسے اس پنڈت کا دماغ گھما دیا وہ اب اپنے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ لا کر بولا کوئی بات نہیں سندری کوئی بات نہیں آج نہیں تو کل تم کو کیول ھمارے پاس ہی آنا ہو گا  میں نے بھی اب ایک طنزیہ سمائل اس کی طرف پھینکی

اور سکسی پائل سے کہا  آؤ یار اندر چل کر بیٹھتے ہیں  اب میں جیسے ہی پائل کے روم میں اس کے ساتھ داخل ہوئی وہ غصے سے مجھے دیکھ کر بولی  اوہ کومل میں کیا کروں تیرا تم نے آج کتنا برا پاپ کیا ہے تم نہیں جانتی یہ مہاراج کتنے با کمال پنڈت ہیں   آج بھی ان کو بھائی صاحب نے خصوصی طور پر بلایا ہے کیوں کہ آج بمبئی  کی تاریخ کی سب سے بڑی ریس ہونے جا رہی ہے

 جس میں پورے ملک سے لوگ حصہ لے رہے ہیں  بھائی ساگر نے بھی اپنے دوست ٹھاکر وکرم کے لئے ان کو بلوایا ہے  آج دیکھنا صرف وہی گھوڑا جیتے گا جس پہ یہ مہاراج اپنا سایہ کریں گے میں نے ہنس کر کہا یہ سب ڈھوسلے ہیں ان لوگوں کے معصوم جنتا  کو لوٹنے کے لیکن  سکسی پائل کے سر پہ تو چرن جیو کا جادو سر چڑھ کے بول رہا تھا

وہ میری بات کاٹ کر بولی چلو آج رات کو دیکھ لینا میں نے چونک کر اسے دیکھا اور پوچھا کیا تم بھی جاؤ گئی ریس دیکھنے وہ بولی نہیں یار مجھے بھائی ساگر نے وہاں جانے سے روک دیا ہے میں نے ایک اطمینان کا سانس لیا  پھر میں کافی دیر اس کے ساتھ رہی اور بعد میں اپنے گھر واپس آ گئی میں زیادہ تر  سکسی ماڈرن پینٹ اور شرٹ ہی استمال کرتی تھی

لیکن آج میں نے خصوصی طور پرآسمانی رنگ کی  قیمتی ساڑھی نکالی اور جب میں ساڑھی میں تیار ہو کر اپنے کمرے سے باہر نکلی تو جمنا نے مجھے دیکھ کر اپنے دل پہ ہاتھ رکھا اور بولی ہائے میں مر جاؤں آج تو دل کر رہا ہے آپ کو جی بھر کے پیار کروں  سچی سیدھی دل میں ہی کھب گئی ہیں دیدی اتنا حسین سکسی بدن تو کیسی اپسرا کا بھی نہیں ھو گا جیسا آپ کا ہے

میں نے اسے کہا آج کل خیر ہے نہ باتیں بہت کرنے لگی ہے تو کیا آج کل رامو کچھ زیادہ ہی تو نہیں وقت دینے لگا وہ اب شرما کے بولی ہائے دیدی کس ظالم کا نام لیا ابھی تک  میرا سکسی جسم ٹوٹ رہا ہے  رامو اس کے پتی کا نام تھا  وہ مجھ سے اپنی ہر بات شئیر کرتی تھی  میں نے کہا جمنا جاؤ رامو سے کہو آج میری مرسڈیز کو باہر نکالے یہ مرسڈیز مجھے پاپا نے گفٹ  کی تھی میں کم ہی اسے استعمال کرتی تھی
 پھر میں جیسے ہی اپنی نیو ماڈل کی مرسڈیز کو ڈرائیونگ کرتی ہوئی اپنے گھر سے باہر آئی مجھے سکسی  چندرا دیوی کی آواز سنائی دی وہ بولی کومل آپ کو بہت مزہ آئے گا  کیوں کہ آج سارے ہندوستان سے بڑے ہی کڑیل جوان آ رہے ہیں میں تمہارے کان میں کہوں گئی جس جوان کا اسے ہی تم نے سب سے زیادہ اہمیت دینی ہے

اور جس گھوڑے کو آپ کہو گئی وہی جیتے گا  میں نے اپنی سوچ میں کہا لیکن سنا ہے آج وہاں بڑے بڑے نامور پنڈت آ رہے ہیں وہ اپنی سریلی آواز میں ایک کھنکتا ہوا قہقہ لگا کر بولی میری جان  سکسی کومل اس ہندوستان میں ایسا کوئی پنڈت  نہیں جو چندرا دیوی کا سامنا کر سکے  ابھی تم کو احساس ہی نہیں ہے تم کو کون سی شکتیاں مل گئی ہیں

ہم یوں ہے آپس میں سوال و جواب کرتے ہوئے ریس کورس پہنچ گئے  میں نے اب وہاں کی وسیح و عریض پارکنگ میں اپنی مرسڈیز پارک کی اب جیسے ہی میں گاڑی سے نیچے اتری مجھ میں خود ہی ایک شاہانہ پن پیدا  ہو گیا میں خود بھی اپنی ایک نخریلی سکسی چال پہ خود ہی قربان ہوئی جا رہی تھی ٹھاکر وکرم  کا تعلق ایک قدیم راجہ فیملی سے تھا

وہ راج نگر کے ارد گرد ہزاروں ایکڑ زمین کا مالک تھا  اسے خود بھی نہیں پتا تھا اس کے پاس کتنی دولت ہے وہ ہر وقت تیس چالیس لوگوں کو ساتھ رکھتا تھا  اسے دو ہی شوق تھے ایک گھوڑوں کی ریس کا اور دوسرا کنواری اور کمسن سکسی دوشیزاؤں کی سیل توڑنے کا ہر رات اس کی خواب گاہ میں ایک نئی کنواری لڑکی آتی  جس کے جسم سے وہ دن چڑھنے تک اپنی پیاس بجھاتا

اور اگلے دن اسے اس کی سوچ سے بھی زیادہ نوازتا  وہ کسی بھی  سکسی لڑکی  کے ساتھ ایک سے دوسری رات نہیں گزارتا تھا البتہ اگر کوئی اسے پسند آ جائے تو اور بات تھی  اور آج تک اسے کوئی ایسی سکسی  لڑکی ملی ہی نہیں تھی جو اس کی نظروں میں پسندیدگی کی سند  پیدا کر سکے اپنے لئے  وکرم خود بھی مردانہ وجاہت کا منہ بھولتا شاہکار تھا

اس کی پہلی نظر سے سی بڑی بڑی مغرور لڑکیوں کے دل بغاوت کر جاتے تھے  آج بھی جیسے ہی اس کی اور اس کے حواریوں کی گاڑیاں پارکنگ میں رکیں وہ  اپنی انتہائی قیمتی رولز رائس میں سے نیچے اترا اور اس نے ایک نظر چاروں طرف دیکھا

آج ریس کورس کی پارکنگ میں کم ہی خالی جگہ نظر آ رہی تھی  پھر اس کی نظر ایک شاندار سی مرسڈیز سے ہوتی ہوئی واپس آنا بھول گئی اس گاڑی سے ایک  سکسی لڑکی جس کے حسن کو لفظوں میں بیان کرنا اس کے حسن کی توہین تھی  آسمانی رنگ کی ساڑھی میں نیچے اتری اور اس کے انگ انگ سے جیسے ہزاروں سال پورانی شراب سے بھی زیادہ نشہ  چھلک رہا تھا  اس کی چال میں ایک عجیب سا شاہانہ پن تھا اور اسے جو بھی دیکھتا تھا وہ اپنی جگہ جیسے بت سا ہو جاتا  تھا
 اس سکسی اپسراؤں کی رانی کا ہر اٹھتا ہوا قدم جیسے ہر طرف ایک سحر پھونک رہا  تھا  وکرم نے جیسے اپنے ارد گرد سے بیگانہ ہو گیا تھا اس کے قریبی دوست پریش نے کہا کیا بات ہے وکی کہاں گھم ھو لیکن جواب ندارد اب پریش نے دو تین دفعہ اسے پکارا اور اس کی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر اب پریش نے اسے کندھے سے پکڑ کر ہلایا تو وکی یوں چونکا جیسے گہری نیند سے جاگا ھو

 پریش نے کہا یار آپ کو کب سے پکار رہا ہوں کہاں کھو گئے تھے اب ٹھاکر وکرم نے خود پہ کنٹرول کیا اور بولا کہیں نہیں یار بس کچھ سوچ رہا تھا  اور ریس کورس کی طرف اپنے قدم بڑھا دئیے ریس کورس میں ٹھاکر وکرم کے لئے اور اس کے ساتھیوں کے لئے خصوصی نشستوں کا بندوبست تھا  یہاں درجہ بدرجہ سب ہی کا خیال رکھا تھا

ریس کورس کی انتظامیہ نے ٹھاکر وکرم نے اب اپنے خاص مصاحبوں سے مشورہ کیا اور پھر ریس شروع ہوئی تھی کہ اس نے اسی پری جمال سکسی حسینہ کو اپنے سے کچھ نشستیں چھوڑ کر بیٹھے دیکھا  اب پہلی ریس شروع ہوئی آج کل پانچ ریسیں  تھیں اور ہر ریس میں شاندار گھوڑے تھے اب جیسے ہی ریس شروع ہوئی ٹھاکر نے ریس میں دوڑنے والی گھوڑوں کو دیکھا

اور پھر اس نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کر کے ایک کالے رنگ کے شاندار سے گھوڑے پہ شرط لگا دی  اب ٹھاکر وکرم نے اسی سکسی  مہ جبیں کی طرف دیکھا اور اچانک اسی وقت اس اپسرا نے بھی نظر گھما کر وکرم کی طرف دیکھا اب دونوں ہی نظریں چار ہوئیں اور وکرم تو جیسے اس کی حسین جھیل سے بھی گہری نیلی آنکھوں میں کھو گیا

اب اس حسن کی ملکہ نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ سے نوازا وکرم کو اور وکرم  کو یوں لگا جیسے ہر سو پھول سے کھل گئے ہوں اب بے تابانہ انداز میں اس نے دھیرے سے کہا اے مہ وشوں کی رانی اس سنسار کے سارے رنگ اور پھول حقیر ہیں تمھارے اس ہلکے سے تبسم کے آگے  اب پہلی ریس پورے جوبن پہ تھی  اور ٹھاکر نے جس گھوڑے پہ شرط لگائی تھی وہ سب سے آگے تھا

اور زیادہ تر لوگوں نے اسی گھوڑے جس کا نام سکندر تھا اسی پہ شرطیں لگا رکھیں تھیں پھر دیکھنے والوں کی نظروں میں حیرت کے جہاں آباد ہو گئے کیوں کہ اب جیسے ہی ریس اپنے اختمام کے قریب ہوئی تو ایک ایسا گھوڑا جس پہ شئیس ایک یا دو لوگوں نے ہی شرط لگائی تھی وہ سب سے پیچھے تھا  اس کا نام بھی عجیب سا تھا جو اس کی جسامت سے بالکل مناسبت نہیں رکھتا تھا

طوفان بھلا ان شاندار گھوڑوں میں وہ سب سے حقیر تھا اسے پتہ نہیں کیسے اس  ریس میں شامل ہونے کی اجازت ملی ہو گئی اور پھر تو لوگوں کی سانسیں ہی تھم گئیں اب کیوں کہ پہلی ریس  طوفان نے ہی جیتی تھی اب اناؤنس مینٹ کرنے والی نے کہا آج اس ریس  کورس کا سب سےحیران کن  مقابلہ تھا  جیسے طوفان نے جیتا ہے
 نامی گرامی گھوڑوں کو شکست دے کر اور اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے اس گھوڑے پہ صرف ایک ہی شخصیت نے بہت بڑی رقم لگائی تھی  اور جیتنے والی شخصیت تھی  سکسی کومل کماری  آج کی اس ریس کا سب سے اہم جزو یہ تھا کہ آج عام دنوں سے ہٹ کر ایک خاص بندوبست کیا گیا تھا  وہ یہ کہ ہر ریس کے ختم ہونے پر جیتنے والوں کو جیت کی رقم بھی دوسری ریس شروع ہونے سے پہلے ہی  ادا کی جا رہی تھی

اور اس کے لئے ایک طرف کافی اونچا ایک سٹیج بنایا گیا تھا  جس پہ اس ریس کورس کے منتظم اعلیٰ  بیٹھے تھے اب پھر سے سکسی کومل کماری کو سٹیج پہ بلوایا گیا  اور پھر ہر آنکھ میں ہی اشتیاق تھا  کون ہے وہ کومل کماری اور جیسے ہی کومل کماری اٹھی اور اپنی سکسی مستانی اور شاہانہ چال سے چلتی ہوئی سٹیج کی طرف بڑھی  تو کئی دل تو کئی آنکھوں میں تعریف اور کئی آنکھوں میں حسد تھا

مرد حضرات کے تو جیسے دل ہی بے قابو ہوئے جا رہے تھے  اور صنف نازک بھی حسن کے اس مجسمے کو چلتے دیکھ کر بے ساختہ ہی کہہ اٹھی تھیں  یہ تو کوئی اپسرا ہے جو فلک سے اتری ہے  اور مردوں کی نظریں جیسے ان کی دور بینوں سے ہی چپک گیں تھیں وہ کومل کے  سکسی بدن کے ہر حصے کو زوم کر کے قریب کرتے کومل کی  سکسی چھاتیوں کی اٹھان اس کے چلنے سے اس کے کولہوں کی آپس میں جنگ  نے جوان تو جوان بوڑھوں کے لن بھی کھڑے کر دیے تھے

ہر ایک اسی بات کا متمنی تھا کہ کاش یہ سنگ مر مر سے تراشا سکسی بدن اس کی بانہوں میں آ جائےریس کورس کا منتظم اعلیٰ  راجہ پریم  راج جو اپنی نسل کا آخری راجکمار تھا  جس کے بارے میں کہا جاتا تھا وہ پچیس سالہ کڑیل جوان ہونے کے باوجود کسی لڑکی طرف دیکھنا بھی اپنی توہین سمجھتا تھا  جس سے شادی کرنے کی بمبئی کی کتنی ہی امیر ترین لڑکیوں کی خوائش تھی  وہ دیومالائی حسن کا ملک تھا

وہ اپنی نظریں اٹھا کر کسی لڑکی کو دیکھ لے اور وہ لڑکی اپنی جگہ بھسم نہ ہو جائے  آج تک ایسا ہوا ہی نہیں تھا  اور وہ راجکمار پریم راج جو صنف نازک کو اس قابل ہی نہیں سمجھتا تھا کہ ایک نظر کے بعد دوبارہ دیکھ ہی لے وہی آج  اس اپسرا کو دیکھ کر اپنی جگ پہ جیسے بیٹھے بیٹھے ہی جل کے سیاہ ہو گیا تھا رعب حسن کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ اس کے سٹیج پر آنے سے پہلے ہی کھڑا ہو گیا تھا

اور اس کی اس حرکت نے بہت سوں کو چونکنے پر مجبور کر دیا تھا  جو آج تک کبھی کسی کے احترام کے لئے نہ کھڑا ہونے والا آج یوں کھڑا ہو گیا تھا  جیسے اس نے بیٹھ کر کوئی مہا پاپ کیا ہو  پریم کی نظروں نے کومل کے چہرے کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا  اس نے کومل کی آنکھوں میں دیکھا اور اس کا دل بے اختیارانہ کہ اٹھا اف کیا آنکھیں ہیں
 لمبی پلکیں ،متناسب بھنویں ، سبز اور نیلے رنگ کے امتزاج سی آنکھیں جن میں جا بجا لال دوڑے دوڑ رہے تھے  اور آنکھوں میں ایسی چمک اور غرور کہ جیسے ساری دنیا کی وہ اکیلی مالک ھو  نیچے ستواں ناک اور پھر اس کے سائے میں سکسی کومل کے یاقوتی ہونٹ یوں تھےجیسے ادھ کھلے گلاب کی پنکھڑیاں ہوں  چھوٹی سی ٹھوڑی اور اس کی قندھاری اناروں سے  سکسی گال

اب پریم کی نظر کچھ نیچے ہوئی اور اس کی صراحی دار گردن  جس میں وہ ایک بل ڈالے شان سے اسی کی طرف آ رہی تھی  اور گردن سے نیچے آسمانی بلوز  میں قید اس کے  سکسی پستان جو جب وہ چلتی تو دیکھنے والوں کو ایک دعوت نظارہ دیتے تھے اور اس کی متوالی چال میں ایک چلینج تھا  کومل کا اٹھنے والا ہر قدم ہر سو یہی اعلان کر رہا تھا ہے کوئی اس ریس کورس میں جو میرا من جیت سکے

ہے کوئی جو میری انمول جوانی کا رس پی سکے  کون ہے ایسا جوان رعنا جو مجھے اپنی مضبوط بانہوں میں لے کر اتنا زور سے کسے کہ میرا انگ انگ توڑ دے  پریم راج نے تب بھی آنکھوں سے دوربین نہیں ہٹائی جب کومل اس کے بالکل پاس سٹیج پہ موجود تھی

 اب سکسی کومل نے اپنی سریلی آواز میں کہا  اب تو دور بین رکھ دیں راجکمار صاحب  اور پریم کو یوں لگا جیسے ہر طرف جلترنگ سے بج  اٹھے ہوں  اب پریم نے خود کو سنبھالا اور پھر سکسی کومل دیوی کو جیت کی بھاری رقم کیش میں دو بھاری بریف کیسوں میں دی گئی اب کومل نے ان بریف کیسوں کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا اور سٹیج پہ موجود کاؤنٹر کے پیچھے  کھڑی ہو کر مائیک  کو اپنی طرف کیا اور اپنی کھنکتی آواز میں بولی

میں اپنی جیت کی تمام رقم ونود آشرم کو دان کرتی ہوں اب یہ راجکمار پریم جی کا فرض ہے ان تک پہنچا دیں  اور سب کو ہاتھ جوڑ کر پرنام کرتے ہوئے واپس اپنی نشست پہ جانے کے لئے پھر سے سٹیج سے اتری کومل کو پتہ تھا سب ہی اس کی متوالی چال کے دیوانے  ہو گئے ہیں  اس کے کانوں میں چندرا دیوی کی سرگوشیاں گونج رہی تھیں  واہ کمال کر دیا میری جان تم نے کون ہے اس ریس کورس میں جو تمہارا دیوانہ نہیں ہو رہا  میں نے تمہارے  سکسی بدن میں ایسا نسوانی حسن پیدا کر دیا ہے  کہ جو بھی تم کو دیکھے گا وہ اپنی ذات بھول جائے گا

 تم پہلے ہی کمال تھی میں نے تم کو بے مثال کر دیا ہے  اب جیسے ہی کومل دوبارہ سے نشستوں میں داخل ہوئی اس کی نظر ایک بانکے سجیلے مرد پہ پڑی اور جس کے مردانہ حسن میں ایک ساحرانہ کشش تھی  اب چندرا دیوی نے کہا  کومل جسے آپ نے ابھی دیکھا ہے وہ سیٹھ بنسی لعل کا بیٹا سریش ہے اور آج یہی آپ کے اس خوبصورت سکسی  بدن کو اپنے بدن کی طاقت سے سیراب کرے گا  اور میرا پہلا شکار ہائے کیا تازہ اور مزے کا خون ہے
اس کا اب اس کو اپنے قابو میں کر کومل چھوڑوں سب کچھ میں اب جیسے ہی سریش کی کرسی کے پاس سے گزری جان بوجھ کر یوں گرنے لگی جیسے میرے پاؤں کو کوئی ٹھوکر لگی ھو اور میں بے  اختیارانہ  سریش کے اوپر گر گئی  وہ چونک پر اس بھپتا سے اور گرتے ہی اس نے سنبھالنا چاہا تو بے ساختہ اس کے ہاتھ سکسی مست چھاتی پہ آ گئے اور اس کے ہاتھوں کے دباؤں نے اسےبے اختیارانہ سسکنے پہ مجبور کیا اس کے  منہ سے ہلکی آواز میں ہائے اف نکل گیا  اور اس نے ایک بھر پور نظر سے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور سرگوشی میں بھولی ظالم میری نازک چھاتی کو اب تو چھوڑ دو

یہ سارا وقوعہ  صرف چند سیکنڈوں میں عمل پذیر  ہوا اور پھر وہ  خود کو سنبھال کر اب اپنی نشست کی طرف بڑھی  اور اپنی نشست پہ بیٹھ گئی  اس  کے دائیں طرف ایک تیس سال کی ماڈرن سی لڑکی بیٹھی تھی وہ بولی کومل جی آپ نے اتنی بڑی رقم ایسے ہی آناتھ آشرم کو دان کر دی تو اس نے مسکرا کر کہا مجھے اس جیت کی رقم کی کوئی ضرورت نہیں ڈیئر

اب وہ بولی پلیز آپ میری مدد کرو نہ میں بھی آج جیتنا چاہتی ہوں میں پچھلے پانچ سال سے ہار ہی رہی ہوں کومل نے کہا ایک شرط ہے آپ کو اپنی یہ سیٹ میرے ایک دوست کے لئے خالی کرنا ہو گئی اور خود اس کی سیٹ پہ جا کر بیٹھنا ہو گا وہ بولی قبول ہے  اب کومل نے دوسری ریس میں اسے کہا وہ اپنی ساری رقم چتکبرے رنگ کے  گھوڑے جس کا نام ستارہ ہے اس پہ لگا دے

اس نے ایسا ہی کیا اور پھر وہ تو جیسے دور بین سے چپک ہی گئی سکسی کومل بھی اپنی دوربین سے دیکھنے لگی کومل کو پتہ تھا یہ ریس ستارہ ہی جیتے گا  اور یہی ہوا  پھر جیسے ہی اس لڑکی کا نام آناونس کیا گیا وہ سٹیج پہ گئی اور اس نے بھاری رقم لیتے ہوئے یہ کہ دیا کہ یہ صرف اور صرف کومل دیوی کی وجہ سے میں جیتی ہوں انہی کے کہنے پہ میں نے اس گھوڑے پہ رقم لگائی تھی  ورنہ میں پچھلے پانچ سال سے ہار ہی رہی ہوں

اور وہ اپنی رقم کیش کی  بجائےپریم سے چیک  لے کر آ گئی اس نے آتے ہی کہا کمال ہیں آپ بھی کومل جی نے اب اسے سریش کے پاس بھیجا اور اس نے سریش کے کان میں کچھ کہا تو وہ چونک کر کومل  کی طرف دیکھنے لگا سکسی کومل نے اس کی طرف ایک دل موہ لینے والی مسکراہٹ پھینکی اور وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر کومل  کے  دائیں طرف آ بیٹھا  اب تیسری ریس شروع ہونے سے پہلے ایک طرف سے تین سادھو اٹھے اور سٹیج پہ جا کر مائیک سے بولے ہم اب یہ چتاوانی دیتے ہیں  اس شکتی کو جو اس کھیل کی ہار جیت کا فیصلہ اپنی مرضی سے کر رہی ہے  اب کی بار اس کا کوئی بھی عمل کامیاب نہیں ہو گا
اب تیسری ریس پر کومل نے سریش کی طرف جھک کر کہا  سریش اپنی ساری رقم اب کی بار اس سفید گھوڑی رانی پہ لگا دو وہ کومل کی طرف میٹھی نظروں سے دیکھ کر بولا جیسے آپ کہو دوست اب اس نے  سکسی کومل کا ایک ایک ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر سہلانا شروع کر دیا تھا  اور وہ اس کے ہاتھوں کا لمس پا کر جیسے ہواؤں میں پرواز کرنے  لگی تھی

پھر یوں ہی ہوا تیسری ریس سریش جیتا اور وہی نہیں بعد کی مزید تین ریسیں وہی جیتا اب آخری ریس تھی جی کا سب کو انتظار تھا  اب  سکسی کومل کو کئی طرف سے لوگوں نے آ کر کہا پلیز ہم کو کوئی ٹپ دو اس نے سب سے کہا میں کوئی جوتشی نہیں ہوں  اب اس کی طرف ایک خوبصورت سا نوجوان آیا اور بولا ہم کو ٹھاکر وکرم چوہان کہتے ہیں

کیا ہم کو آپ کا دوست بننے کا شرف حاصل ہو سکتا ہے  سکسی کومل نے کہا لیکن میں آپ کو نہیں جانتی وہ بولا ہم تو جانتے  ہیں نہ پھر اس کے پیچھے سے پائل کا بھائی ساگر آیا اور بولا کومل کی بچی یہ سب کیا ہو رہا ہے  سب ہی کو جتوا رہی ھو کیا کوئی جنتر منتر سیکھ لئے ہیں کیا وہ کومل  سے کافی فری تھا سکسی نے کہا ساگر آپ کہاں تھے  وہ بولا میں یہی تھا

اور ان سے ملو میرا قریبی دوست وکی کومل اب چونک کر بولی اوہ تو ان کے لئے اس لنگور کو لائے تھے تم کلکتہ سے اسی لمحے وکرم نے کہا پلیز دوست وہ ایک مہان پنڈت ہیں  ان کے بارے میں یوں نہ کہو کومل نے اب زیر لب مسکرا کر کہا تو پھر آخری ریس میں حصہ لوں گی اب کومل  نے آخری ریس میں ایک گھوڑے جس کا نام تو بہت بڑا تھا لیکن وہ خود اپنے ساتھ گھوڑوں میں ایک ٹٹو ہی نظر آتا تھا

آخری ریس میں دس ایسے گھوڑے دوڑ رہے تھے  جنہوں نے پورے ہندوستان کے کونے کونے میں جیت کے ڈنکے بجا رکھے تھے  کومل نے  اب جیسے ہی ایک خطیر رقم ہٹلر پہ لگائی جی ہاں نام ہٹلر تھا لگتا تھا کسی ستم ظریف نے جان بوجھ کر اس کا یہ نام رکھا تھا  اب ریس شروع ہونے سے پہلے ہی اسے  راجکمار پریم کا پیغام ملا کہ پلیز آپ اس گھوڑے پہ رقم نہ لگائیں

میں آپ کو ہارتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا اور بھی کافی منچلوں نے میرے لئے یہی پیغام  دئیے تھے  کومل نے اب ساگر سے کہا چلو سٹیج پہ بھولا کیا پاگل ہوئی ھو کزن وہ سکسی کومل کو کبھی کبھی کزن بھی کہتا تھا کیوں کہ اس کی ماما میرے پاپا کی قریبی عزیز تھیں  وہاں کیسے منہ اٹھا کر چلے جایئں یہ راجکمار پریم راج کا انتظام ہے کیوں مجھے مروانا ہے

سکسی کومل نے اب سریش سے کہا آؤ دوست آج دیکھیں ذرا قریب جا کر اور اس  نے پھر ساگر کے ساتھ ہی وکرم  چوہان کو بھی آنے کو کہا  وہ بولا نہیں کومل میں اس راجکمار سے کم نہیں ہوں میں کیوں چل کر جاؤں اس کے پاس اب  سکسی کومل  نے کہا تو یہ بات ہے اور وہ بھی اپنی جگہ بیٹھ گئی
 اب ان  کےپاس کی سیٹوں پہ وکرم لوگ بیٹھ گئے اور ان کی سیٹوں پہ یہاں موجود لوگوں کو بٹھادیا گیا  اب جیسے ہی ریس شروع ہوئی سکسی  کومل نے کہا لو سریش اس دفعہ جیت کی رقم آپ کے ہاتھوں بننے والے  ہسپتال کو ڈونیٹ کی جائے گئی  سریش ایک ڈاکٹر تھا وہ اپنی ماتا جی کے نام سے ایک میموریل ہسپتال بنوا رکھا تھا  اب یہ بات سن کر وکرم نے کہا نہیں کومل جی اس دفعہ جیت ہماری ہی ہو گی

اور پھر اسی وقت اس پنڈت کو کومل نے اسی طرف آتے دیکھا اسے دیکھ کر وکرم لوگوں نے اٹھ کر اس کا استقبال کیا وہ سب کو ہاتھ کے اشارے سے بیٹھنے کا کہہ کر کومل  کی طرف آیا اور بولا سندری بہت اونچا اڑ رہی ہے  جانتی ہے کیا ہم کون ہیں ہم کالے جادو کے مہا مہان تیج پال ہیں  اور تو کل کی چھوکری  اب دیکھنا ہمارا کمال

اب کومل نے کہا مہاراج ہم سے کیا دوش ہوا  ہے جو آپ یوں غصے میں ہیں وہ اب کی بار نرمی سے بولا کچھ نہیں سندری میرا حساب بتا رہا ہے تم ایک عام سی ناری ھو  ہم سمجھے تم بھی کوئی شکتی کی مالک ہوگی   اس کا مطلب ہے اب تک صرف اتفاق سے ہی تم جیتی ھو  کومل نے اب معصومیت سے کہا  مہاراج معافی چاہوںگی یہی گستاخی آخری بار بھی ہو جائے گی

میں ہی جیتوں گئی  وہ یہ بات سن کر ہنسا اور کہا نہیں سندری اب کی بار دیوی کو منظور ہوا تو میں وکرم کو ہی جتواؤں گا  سکسی کومل نے اب کہا جی مہاراج اب وہی ہو گا جو دیوی چاہے گی اور دیوی کے میں بہت قریب ہوں  وہ کومل کی بات سن کر پھر سے چونکا اور اب اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور ریس شروع ہو گئی

اب سب گھوڑے  ہی ایک سے بڑھ کے ایک تھے سوائے ہٹلر کے لیکن جیسے کہ  چندرا نے کہا تھا وہی ہوا اور پہلی بار کی طرح آخر میں بھی ہٹلر ہی جیتا اب تو سب ہی حیران تھے  اور کومل  اب سٹیج پہ جانے کی بجائے وہی سے اس نے پیغام بھجوایایا راجکمار پریم کو کہ اب کی بار کی میری جیت والی رقم  ڈاکٹر سریش کو ایک چیک کی صورت میں دے دی جائے اس کے لکشمی میموریل ہسپتال کے نام

اور اپنی جگہ سے اٹھی آج سب ہی حیران تھے  اگر کسی پنڈت یا سادھو  کو کوئی شک تھا بھی تو اب نہیں رہا تھا  کیوں کہ اب کی بار مہاراج چرن جیو نے بھی کہا تھا سندری کیوں کہ تم یہ رقم دیوی کے نام سے ہی دان  کیئے  جا رہی ھو اسی لئے آج کا دن تمہارا ہے  پھر سب ہی اپنی اپنی گاڑیوں کی طرف بڑھے ٹھاکر وکرم نے  کومل کو کافی کہا وہ اس کے ساتھ آئے

لیکن کومل نے کہا پھر کبھی ٹھاکر صاحب  اور اپنی گاڑی میں بیٹھی اور وہاں سے باہر نکل آئی کچھی دیر میں کومل سریش نے کال کی اور کہا میں آپ کا انتظار کر رہا ہوں ندیا کے کنارے سکسی کومل نے وہاں سے سریش کو اپنے ساتھ لیا اور وہ شہر سے باہر سی ویو کی طرف جانے لگے
پھر وہاں سب نے مل کر ایک اچھے سے ریسٹورنٹ سے کھانا کھایا اور پھر ان دونوں  نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر واک کرنے لگے کافی دیر یوں ہی گزر گئی اب وہ  چلتے چلتے ایک سنسان سے ساحل پہ آ گئے تھے وہاں آ کر سریش نے کہا کومل آو ذرا کچھ دیر سمندر کی لہروں سے باتیں کریں پھر وہ کچھ اور سمندر کے پاس ہوئے اب سمندر کی لہروں نے ان دونوں کو بھگو دیا تھا   اور سکسی کومل کا مست سکسی بدن بھیگ کے اور بھی غضب ڈھا رہا تھا

سریش نے چکنا سکسی بھیگا بدن دیکھا تو وہ کچھ مچل  اٹھا اس نے کہا کومل کیا سندر بدن ہے آپ کا کاش میں اسے چھو سکتا کومل نے  اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا میرے پریتم  کہاں سے چھونا ہے کومل سر سے پاؤں تک آپ کی ہے اور اس کا ہاتھ اپنےچہرے پہ رکھا اور بولی یہاں سے وہ بولا ہاں اور کومل نے اس کے بعد سریش کا ہاتھ اپنی گردن پہ رگڑا اور بولی یہاں پہ

Posted on: 04:37:AM 28-Jan-2021


0 0 288 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 60 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com