Stories


سیما کی آپ بیتی از بینا 20

نامکمل کہانی ہے

میں فیصلہ کر چکی تھی کہ اب مزید انتظار نہیں کرنا بس زندگی بھر سسکنے سے بہتر ہے بندہ مر جائے یا کسی کو مار دے زندہ رہنا ہی ہے تو اچھے اور بہتر انداز سے خوشیوں بھری لائف گزارنی چاہیئے نہ کہ بس ٹھنڈی آہوں
میں بے بسی کی موت مرجانا ۔بچپن سے لے کر اب تک سب کی بھوکی نظروں نے میرے جسم کو بہت بھنبھوڑا مفت کا مال سمجھ کر ہمدردی کے نام پر کچھ دن کچھ مہینے اور سال اپنی جھوٹی باتوں سے من کی بھوک مٹانے کے چکر میں مجھے پٹاتے رہے ۔مگر مجھے ہر نئے آنے والے میں سچے پیار کی تلاش تھی ایسا پیا ر جس میں کوئی کھوٹ نہ ہو نہ جنسی ہوس ہو اور نہ ہی جسمانی پیاس ۔بس روحوں میں رچی مہک کی پہچان ہو میں نے اب تک صرف یہ جانا تھا ہر انسان کی کوئی نہ کوئی خواہش ہوتی ہے زیادہ تر لوگوں کو دولت کی طلب ہوتی ہے کسی کو شہرت کی اور بہت کم لوگوں کو صرف سچی بے لوث محبت کی طلب ہوتی ہے اور ایسے لوگ صرف جیتے ہی
محبت کیلئے ہیں دراصل وہ پیدا ہی محبت کیلئے ہوتے ہیں ۔بس میرا جنوں بھی صرف محبت کی تلاش تھی ۔مگر مجھے سب لالچی دھوکے باز پرلے درجے کمینے بندے متھے لگے ۔کافی سوچنے کے بعد میں نے بھی ایک فیصلہ کیا ۔کھیلنے کا ۔۔۔۔ہاں کھیلنے کا فیصلہ ۔۔اُن سے کھیلنے کا جو ہر لڑکی کو دیکھتے ہی فنکاری کرتے ہیں ۔ بڑھکیں مارتے ہیں دعوے کرتے ہیں محلات کے خواب دکھا کر عزتیں لوٹ کر چلتے بنتے ہیں کسی نئے شکار کی تلاش میں ۔ایسے سب شکاری میری نظر میں مجرم تھے اور یہ سب میرا شکار بننے والے تھے ۔ان کو لبھانے کے بہت سے طریقے میں سیکھ چکی تھی۔اور بس اب شروعات کرنی تھیں ۔سب کچھ تو میرے پاس بھی ہے موبائل انٹرنیٹ واٹس اپ،سکائپ ،فیس بک ،اب میں نے ان بھوکے درندوں کو انگلیوں پر نچانا تھا ۔جو معصوم اور سیدھی لڑکیوں کو بے وقوف بنا کر بے آبرو کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔
میرا نام سیماب بھٹی ہے مگر سب مجھے سیما کہتے ہیں ۔مجھے تنہائی سے الرجی ہے اکیلے پن سے چڑتی ہوں اسی لیئے تنہائی دور کرنے کے سب لوازمات میرے پاس ہیں ۔ماں باپ کی اکلوتی ہونے کی وجہ سے
کافی آزاد ہوں باتیںبھی بہت کرتی ہوں مگر جب کوئی مجھ سے دوستی کے رشتے میں جھوٹ بولے تو بے حد دکھی ہوتی ہوںاکثر جذباتی ہو جاتی ہوں رو پڑتی ہوں مگر کسی کے سامنے نہیں اکیلے میں ۔میری ساتھی
لڑکیاں کزنز سب سے میری اچھی فرینکنس ہے میں بعض اوقات ایسی باتیں جو دوسری لڑکیاں کرتے ہوئے گھبراتی ہیں روانی سے بول جاتی ہوں میرا یہ بے باک انداز سب میں مشہور ہے ۔انٹرنیٹ پر زیادہ وقت صرف کرنے سے مجھے کافی نالج ملی مگر جب نیٹ استعمال کرنے کا مقصد ہی صرف وقت گزاری ہو تو بندہ پھر بھٹک کر فضول کاموں میں الجھ جاتا ہے ۔اور میں بھی ایسے ہی فضول کے فیس بک گروپس اور پیجز کی دلدادہ ہو گئی۔اور پھر ان کی ایسی لت لگی کہ اپنا ہوش ہی کھو بیٹھی ۔ فیس بک پرزیادہ تر لڑکے پہلے پہل تو مجھ سے مہذب انداز میں بات کرتے اور جب میں انہیں چیک کرنے کیلئے کچھ انتظار کرتی تو وہ اپنی اصلیت دکھانے لگتے ۔بعض لڑکے مختلف قسم کی شاعری والی تصویریں مجھے ٹیگ کرتے اور بعض انبکس میں بھیج دیتے کئی ۔سر پھرے غیر اخلاقی گندی فوٹو مجھے انباکس کرتے اور کئی ایک تو کمینگی کی انتہا کرتے ہوئے اپنی ننگی فوٹو بھیج دیتے اور یہ سب دیکھتے ہی مجھے طیش آجا تا اور میں انہیں کھر ی کھری سنا دیتی ۔اب آپ سے کیا چھپانا جب بتانا ہی ہے تو سب ہی بتا دوں میں نے کافی گندے قسم کے پیج بھی لائیک کیئے ہوئے تھے ۔ان میں سے ایک میرا سب سے فیورٹ تھا جس پر اردو میں کہانیاں پوسٹ ہوتی تھیں ۔اس کی ایڈمن فیمیل تھیں جبھی مجھے اس میں دلچسپی بڑھ گئی اسکی ساری کہانیاں وہ خود لکھتی تھیں اور انکا انداز مجھے
بہت پسند تھا ۔میں نے ان سے انباکس میں رابطہ کیا تصدیق کے بعد انہوں نے اپنا نمبر دیا تو میری ان سے دوستی ہو گئی ۔جبھی میں نے اپنی آپ بیتی ان سے لکھوانے کا فیصلہ کیا ۔ کچھ دنوں بعد انکا پیج بند ہو گیا
تو انہوں نے وعدہ کیا کہ جب بھی کوئی نیا پیج بنائیں گی تو میری آپ بیتی اس پر پوسٹ ضرور کریں گی ۔نوٹ:میں نے اپنا وعدہ پوراکردیا© سیما ڈیئر ۔۔ایڈمن بینارانا۔۔۔۔
ہاں تو میں آپکو بتا رہی تھی میں نے ۔۔شکاریوں کو شکار کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔میرے پاس اپنے شکار کو پھانسنے کیلئے حسین چہرہ،لمبی پلکیں خوبصورت براﺅن کلر کی بڑی بڑی آنکھیں ،لمبے بال ،سفید گلابی رنگت،
اور لال گلابی پتلے ہونٹ ،اوپری ہونٹ پر بائیں جانب کالے رنگ کا تل ہی کافی تھا ۔مگر فیس سے نیچے بھی سب کچھ کمال کا تھا۔ مرد کی پہلی نگاہ پڑتے ہی اسکی بھوک بھڑک اٹھتی تھی۔ایک میں تھی جو ابھی تک سچی محبت کی تلاش میں بھٹکتی پھر تی رہی مگر یہ حقیقت ہے میں اب تک ان ٹچ بلکہ سکریچ لیس ہوں ۔شاید اس کی وجہ میرا بے حد حساس ہونا ہے۔اچھا کچھ پڑھنے والوں کو میرے ان ٹچ والے لفظ پر اعتراض ہو تو میں وضاحت کرتی چلوں کہ ہاں مجھے اپنے اس فیصلے سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہیں تھا۔شایدکالج، یونیورسٹی میں کچھ لڑکوں نے اگر کبھی کسی پارٹی وغیرہ میں اپناجسم ٹچ کر کے ٹھرک پوری کی ہو تو مجھے یاد نہیں مگر جانتے بوجھتے کبھی ایسا نہیں ہو اتھا ۔
تو میں نے فیس بک سے شروعات کی ۔میری فرینڈ لسٹ میں کچھ بوائز تھے جنہوں نے مجھ سے کبھی کچھ غلط نہیں کہا تھا اور نہ ہی کچھ برا مجھے بھیجا ہو بس پوسٹ کرنا اور کمنٹس کر دینا ان میں سے ایک پر میری نظر ٹھہر گئی۔وہ دیکھنے میں معصوم کم اور بے وقوف زیادہ لگتا تھا ۔وہ تھا بھی کم عمر ۔میں نے اسے میسیج بھیجا اور اور چیٹنگ کرنے لگی وہ تو بیچارہ ویسے ہی کسی کی تلاش میں تھا مجھ سے بات کرتے ہی وہ تو ہواﺅں میں اڑنے لگا
۔میں دھیرے دھیرے اس سے کھلنے لگی وہ بھی بس دن بھر میرے ہی انتظار میں رہتا اسکا نام فیصل تھا اسکا ایک چھوٹا بھائی اور ایک بڑی بہن تھی ماں بیمار رہتی تھا باپ ڈاکٹر تھا ۔بہن MBAکر رہی تھی ۔خیر ہماری اچھی خاصی دوستی ہو گئی وہ بدھو ٹائپ لڑکا کافی گرم تھا ۔اکثر آڈیو کالز کے دوران وہ گہری آہیں بھرتا رہتا میرے پوچھنے پر ٹال جاتا ۔میری آواز تو وہ روز سنتا تھا مگر مجھے کبھی دیکھا نہیں تھا اس نے ۔مگر میں اسکی تصویریں دیکھ چکی تھی ۔ویسے وہ تھا دلکش چاکلیٹی اسے دیکھ کر مجھے بھی اب عجیب کشش سی محسوس ہونے لگی تھی ۔سترہ سال کا تھا وہ مگر اسکے چہرے پر بس قدرتی فرنچ کٹ داڑھی تھی باقی اسکے رخسار بلکل صاف اور چکنے تھے ۔میں نے ایک دن اس سے کہا مجھے تم سے کچھ پرائیویٹ پرسنل باتیں شئر کرنی ہیں پلیز تم کسی کو بتاﺅ گے تو نہیں ؟
فیصل ہکلاتے ہوئے بولا©ہاں ہاں کیوں کیا بولنا ہے ہاں بولیں ناں ۔میں نے سرگوشی میں کہا تم پہلے وعدہ کرو میں جو کہوں گی کروگے اور کسی سے کچھ نہیں کہو گے ۔
وہ جلدی سے بولا قسم سے میں کسی کو نہیں بتاﺅں گا آپ بتائیں تو کیا بات ہے ۔میں کچھ دیر چپ رہی تو وہ بولا ۔ہاں بتائیں تو سہی کیا ہوا ؟
میں نے کہا اچھا چلو پہلے تم اپنی شرٹ اتارکے تصویر لو اور مجھے اپنی باڈی دکھاﺅ پھر میں تمہیں وہ بات بتاﺅں گی ۔یہ سنتے ہی اس کی ہنسی چھوٹ گئی ۔وہ واقعی بعض اوقات بدھو لگتا تھا اپنے انداز سے باتوں سے اس کی ہنسی سن کر میں نے مصنوعی غصہ کرتے ہوئے کہا۔یہ کیا بد تمیزی ہے اس میں ہنسنے والی کیا بات ہے فیصل میں سیریس ہوں ۔بولو دکھا رہے ہو اپنی باڈٰ ی یا میں کال بند کروں ؟
تو وہ جلدی سے بولا نہیں یار میں اس لیئے ہنس رہا تھا کہ میری باڈی دیکھ کر ٓپ بھی ہنسیں گی ۔اچھا رکو میں شرٹ اتار لوں پھر ۔۔۔ کچھ دیر بعد اس نے جو فوٹو بھیجی تو میں اسکی چکنی چھاتی دیکھ کر دنگ رہ گئی ۔اسکے سینے پر ایک بھی بال نہیں تھا پنک کلر کے گول گول دائروں والے نپلز بلکل سلم پیٹ کے درمیان اندر کو دھنسی ہوئی گول ناف واہ ۔۔۔اس چکنے بدھو کو دیکھ کر میرے بدن پر چیونٹیاں سی رینگنے لگی۔میں بولی واہ یار تم تو بہت چکنے ہو فیصل ۔۔i like u dearتو وہ ہی ہی کر کے ہنستے ہوئے بولا اچھا چکنا وہ کیسے مجھ پہ کہاں چکنائی لگی ہوئی ہے ہاں بولو ؟
میں دل ہی دل میں اس کیسادگی پر مسکرائی ۔پھر اسے کہا چلو آج میں بھی اپنی فوٹو تمہں دکھاتی ہوں بلکہ ویڈیو کال پر بات کرتی ہوں مگر اس سے پہلے تمہیں میرا ایک کام کرنا پڑے گا ۔
تو وہ بولا ہاں بولو کیا کام کونسا کام ؟تم واقعی میں مجھسے ویڈی کال پر بات کرو گی ؟اس نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا ؟۔میں نے کہا فیصل جب تم پاگلوں والی باتیں کرتے ہو تو مجھے غصہ آتا ہے ۔وہ میری بات کاٹتے ہوئے فورا بولا ۔۔سو سوری یار اچھا آپ کام بتاﺅمجھے کیا کرنا ہو گا ۔میں بولی ۔مجھے تمہاری مکمل باڈی دیکھنی ہے بولا دکھا سکتے ہو ؟ وہ ہکلاتے جوشیلی آواز میں بولا ہ ہاں مگر ہاں کیا کروگی ؟
میں نے پھر سے غصہ کرتے ہوئے کہا ۔پھر تم نے وہی حرکت کی ناں چلو میں ویڈیو کال کرتی ہوں پھر جو بولوں گی کرو گے ناں؟تو اس نے کہاں ہاں ٹھیک ہے ۔
میں نے اسکائپ پر ویڈیو کال کی اس وقت میں اپنے بیڈ پر ٹیک لگائے نیم دراز تھی اور میں نے دوپٹہ نہیں پہنا تھا لیٹنے سے میرے سینے کے ابھار کچھ زیادہ ہی نمایاں ہو گئے تھے جو کہ واضح طور پر کیمرے میں نظر آرہے تھے ۔میں اسے آج فل گرمانا چاہتی تھی اسی لئے جب اس نے میری کال ایکسپٹ کی تو پہلے اسکی نظر میرے سڈول ابھاروں پر گئی پھر وہاں سے کراس کرتی ہوئی میرے چہرے پر پڑی۔مجھ پر نظر پڑتے ہی وہہکا بکا رہ گیا ۔اور بولا آپ اتنی خوبصورت ہو میں سوچ بھی نہیں سکتا سیما ۔اس للو کو پہلی نظر میں ہی میری جوانی نے لبھا دیا تھا ۔میں بولی تمہیں مجھ میں کیاخوبصورتی نظر آگئی ہاں ؟
تو وہ بولا نہیں آپ ساری ہی پیاری ہیں ۔ویری نائس سیما ۔پھر میں نے اسے کہا ہاں اب دکھاﺅ ناں تم اپنی مکمل باڈی ۔ وہ پھر ہنس پڑا ۔میں بولی ارے پھر وہی پاگلوں والی حرکت ۔؟تو وہ سیریس ہوتا ہوا بولا ۔کیا دکھاﺅ ں مجھے شرم آتی ہے ۔ میں بولی دوست سے کیسی شرم اگر نہیں دکھانی تو بتا دو میں کال بند کر دیتی ہوں ۔وہ بولا نہیں کال مت بند کرنا اصل میں نتاشا سٹڈی روم میں ہے کہیں وہ نہ آجائے ہم تینوں بہن بھائی اکٹھے سوتے ہیں ناں ۔تو میں بولی تم جب تک کنڈی لگا لو ۔وہ جھجکتے ہوئے بولا وہ کیا سمجھے گی ۔ میں نے اسکی بات کاٹتے ہوئے کہا ۔اوکے مت دکھا ﺅ بائے ۔تو وہ بولا پلیز رکو اچھا میں دکھاتا ہوں ۔پھر وہ اٹھا
اور اس نے کنڈی لگائی اور کیمرے کے سامنے کھڑا ہو گیا اس نے ڈریس پینٹ پہن رکھی تھی میری طرف دیکھتے ہوئے اس نے اپنے پینٹ کا ہک کھولا بیلٹ نہیں تھا ۔پھر زپ کھولی اور میری طرف دیکھنے لگا میں نے کہا اتار دو ناں دیکھ کیا رہے ہو ؟تو اس نے اپنی پینٹ اتارنا شروع کی نیچے اس نے گرے رنگ کا انڈر ویئر پہنا ہوا تھا وہ صورت سے چینی لگتا تھا اسکی باڈی بھی بلکل ان جیسی ہی تھی ۔وہ پتلون پنڈلیوں تک لے گیا اور میری طرف دیکھ کر بولا بس ؟۔ میں غور سے اسکی دونوں رانوں کے درمیان ابھری ہوئی جگہ کو دیکھتے ہوئے اندازہ کر رہی تھی کہ یہ بدھو واقعی بدھو ہے یا بس دکھتا ایسے ہے ۔ اسکی آواز سن کر میں نے چونکتے ہوئے کہا ہاں تم اسے پاﺅ سے نکال دو نا ں۔ تو وہ بولا پلیز پھر کبھی ابھی میری بہن نہ آجائے ۔اس کے لہجے میں التجا تھی ۔تو میں نے بھی زیادہ زور نہیں دیا پھر اس سے کہا تم نے میرا پورا کہان نہیں مانا تمہارا جسم اب بھی چھپا ہوا ہے ۔تو اس نے اپنے انڈر ویئر کی طرف دیکھا پھر میری طرف اور بولا کیااسے بھی اتار دوں ؟ میں بولی ہاں سب اتاردو تم سمجھتے کیوں نہیں ۔
تو وہ شرم کے مارے الٹا گھوم گیا میری طرف پشت کرکے اپنا انڈر ویئر اتارنے لگا ۔وہ جیسے جیسے انڈر ویئر اتار رہا تھا میرے سانس ویسے ہی تیز ہوتا جا رہا تھا ۔اسکی ہپس بہت گوری تھی جب اسکا انڈر ویئر گٹھنوں
تک کھسک گیا تو اس نے چہرہ موڑ کر میری طرف دیکھا تو میں بولی اسے پاﺅں تک اتار دو تو وہ اسے مزید اتارنے کیلئے آگے کو جھکا اُف یار اسکی ہپس کے نیچے سے اسکی بالز کی لٹکتی ہوئی تھیلی نے تو مجھے مست کر دیا
انکا سائز کافی بڑا تھا ۔میرا دل کر رہا تھا اٹھ کر انہیں دبوچ لوں مگر
 مگر یہ کیا میں نے تو ان سے کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا اور اب خود بہکنے لگی تھی ۔میں خود کو جذباتیت سے دور رکھتے ہوئے اسے دیکھنے لگی ۔میں فیصل کی گوری گوری ہپس کے نیچے اندر کی طرف جھولتی ہوئی تھیلی کو غور سے دیکھ رہی تھی ۔فیصل نے اب اپنا انڈر ویئر پنڈلیوں تک کر دیا تھا جب وہ کھڑا ہوا تو اس نے گرد ن موڑ کر میری جانب دیکھا ۔مجھے اپنی طرف غور سے دیکھتا پا کر اس نے اپنے دونوں ہاتھ شرم کے مارے اپنی آنکھوں پر رکھے اور دھیرے سے کھی کھی کرتے ہوئے بولا بس اب دیکھ لیا ؟ میں بولی ابھی تو تمہاری بیک سائیڈ دیکھی ہے فرنٹ بھی تو دیکھاﺅ ناں ؟ وہ بولا بس اور نئیں ۔میں نے کہا سوچ لو فیصل۔۔۔؟
تو وہ کچھ دیر سوچ نے کے بعد مجھ سے بولا اچھا بتاﺅ اب کیا کروں ؟۔۔۔ میں نے کہا میری طرف گھوم جاﺅ ۔۔۔میرے کہتے ہیوہ میری طرف گھوم گیا ۔اور ایک دم اپنے ہاتھ اپنے آگے ٹانگوں کے درمیان رکھ رکھ لیئے ۔میں نے دیکھا اسکی ناف کے نیچے کالے اور گھنے بال کافی لمبے تھے ۔مگر اس سے نیچے اسکے ہاتھ تھے ۔میں بولی ہاتھ ہٹاﺅ ۔اس نے جب ہاتھ ہٹائے تو میں یہ دیکھ کر حیران ہوئی اس کا کیلا نیم مردہ یا پھر نیم زندہ نیچے کو لٹکا ہوا تھا ۔میں بولی اوئے بدھو یہ بال کیوں نہیں صاف کرتے ؟ تو وہ پھر سے ہکلانے لگا ۔۔ وہ وہ بس کس لیئے کروں ؟ ہاں ۔۔۔ بس کبھی کبھار کر لیتا ہوں ۔پھر کہنے لگا آپ کیوں پوچھ رہی ہیں ہاں ؟ ۔۔اس کی یہ باتیں سن کر میری ہنسی نکل گئی وہ واقعی بدھو تھا ۔میں بولی پھر چہرہ کیوں دھوتے او رصاف کرتے ہو ۔۔؟ وہ بولا چہرے کو تو ہر کوئی دیکھتا ہے اسے کون دیکھتا ہے ۔؟ میں نے کہا پاگل اسے صاف کرتے ہیں ۔ورنہ گناہ ہوتا ہے ۔یہ کہتے ہوئے میں اٹھ بیٹھی دوپٹی نہ ہونے کی وجہ سے میرے کھلے گریبان سے میراحن نمایاں ہو گیا اور یہ نظارا فیصل نے بھی دیکھا میرے گورے گورے ابھاروں پر نظر پڑی تو وہ بھی بے چین ہو گیا اس نے اپنی زبان سے خشک ہوتے ہوئے ہونٹوں کو تر کیا ۔اور بے اختیار اسکا ایک ہاتھ اپنی ٹانگوں کے درمیان چلا گیا میں نے دیکھا کہ وہ اپنے کیلے کو اپنے ہاتھ سے سہلا رہا ہے ۔
میں بولی اوئے یہ کیا کر رہے ہو ؟ تو وہ بولا ک کوچھ نہیں یہاں کھجلی ہو رہی ہے ۔میں فورا بولی ۔اوئے بدھو کھجلی ہو رہی ہے تو کھجاﺅ تم تو مسلے جا رہے ہو اس بیچارے کو ۔۔۔میری باتوں سے اور اسکے سہلانے سے اسکے نیم جان کیلے میں جان پڑنے لگی تھی ۔یہ بات اسنے بھی محسوس کی جبھی وہ اپنے کیلے کو مروڑنے لگا ۔میں نے پوچھا فیصل یہ کیا کر رہے ہو ؟تو بولا ۔۔۔یہ تنگ کر رہا ہے مجھے شرم آرہی ہے آپکے سامنے اسی لئے اسے مروڑ رہا ہوں تا کہ یہ تنگ نہ کرے ۔ میں نے تھوڑا حیران ہوتے ہوئے پوچھا ۔۔ارے یہ کیسے تنگ کر رہا ہے ۔۔؟اچھا یہ بتاﺅ یہ کیوں تنگ کر رہا ہے ؟وہ بولا ۔۔۔ وہ جی آپکو دیکھ کر پاگل ہو رہا ہے ۔فیصل نے میرے ابھاروں پر نظریں گاڑتے ہوئے جواب دیا ۔وہ مسلسل میرے ابھاروں کو دیکھتے ہوئے اپنے کیلے کو سہلا رہا تھا اور میں نے دیکھا اب اس کا کیلا موٹا اور لمبا ہو چکا تھا اس کا کیلا بہت اٹریکٹو تھا خاص طور سے اس کی نوک ۔۔سمجھ گئے ناں نوک مطلب ہاں وہی نوک وہ بڑی ہی گول گول اور پھولی ہوئی تھی اس کے رنگ کو فیصل اپنی انگلیوں سے دائرہ بنا کر آگے پیچھے کرتے ہوئے مجھے دیکھے جا رہا تھا ۔اب اس کا کیلا سر اُٹھا کر سلامی دے رہا تھا ۔۔ اس کا شیپ دیکھ کر میری بے چینی میں اضافہ ہوگیا ۔اوور مجھے لگا جیسے میرا سینہ پھولنے لگا ہو اور میری براتنگ ہونے لگی ۔مجھے گرمی لگنے لگی تھی ۔کچھ دیر تک ہم خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے پھر میں نے تھوک نگلتے ہوئے اسے کہا فیصل یہ تم ہاتھا آگے پیچھے کیوں کر رہے ہو ؟کیا پہلے کبھی ایسے ہوا ہے ؟تو اس نے ہونٹوں پر زبان پھیر ی اور بولا ہاں یہ روز جب بھی سوتا ہوں تو ایسے ہی تنگ کرتا ہے پھر میں اسے تھپکیاں دے دے کر سلا دیتا ہوں ۔میں نے پوچھا ۔۔یہ تم نے کس سے سیکھا ؟ وہ بولا میرا دوست ہے ناں طفیل اس نے بتایا تھا کہ جب یہ تنگ کرے تو ایسے کر لیا کرو وہ بھی یوں ہی کرتا ہے بلکہ ۔۔۔۔۔اتنا کہہ کر وہ چپ ہو گیا تو میں نے پوچھا ہاں تو بتاﺅ ناں کیا بلکہ ۔۔۔۔۔آگے؟تو وہ بولا وہ تو ۔۔۔اتنا کہہ کر کچھ دیر کیلئے فیصل رکا پھر بولا وہ تو مجھ سے بھی پکڑواتا ہے اور میرا بھی پکڑتا ہے ۔۔۔اسکی بات سن کر مجھے تجسس ہوا میں بولی اچھا تو اس سے کیا فائدہ ملتا ہے تمہیں ۔۔تو وہ بولا بس کچھ دیر بعد وہ پھر کہتا ہے میں نے تیرا کیلا کھانا ہی وہ پھر اسے منہ میں لیتا ہے پھر مجھے اپنا کیلا کھلاتا ہے اور پھر ہم دونوں کو سکون ملتا ہے ۔اس کی باتیں سن کر مجھے لگا جیسے میری بلی کی رال بہہ رہی ہو ۔۔حالانکہ ایسا تب ہی ہوتا تھا جب میں کوئی گندی فلم دیکھتی ۔۔۔اور آج تو صرف اسکی باتیں سن کر میری بلی کی رال بہنے لگی تھی ۔میں نے پوچھا اچھا تو اب تم کیسے سکون حاصل کرو گے ۔ تمہارا دوست تو ہے نہیں ۔۔؟ وہ بولا بس میں ابھی واش روم میں جا کر سکون لوں گا ۔میں بولی کیوں یہاں میرے سامنے کیا ہے ؟۔۔۔وہ بولا۔۔نہیں یہاں نہیں ۔۔میں نے ای ک ادا سے ناراض ہوتے ہوئے کہا سوچ لو ۔۔؟ تو وہ بولا آپ کیوں دیکھ رہی ہیں یہ سب آپ کو کیا فائدہ ؟ میں بولی بس کچھ بھی نہیں تم میرے فرینڈ ہو ناں تو تم نے مجھ سے اپنی یہ بات کیوں چھپا رکھی تھی اب یہ سب میرے سامنے کروگے تب ہی مجھے تمہاری دوستی پہ یقین آئے گا ۔تو وہ بولا پلیز میں نہیں کر سکتا ۔میں نے کہا اوکے دوبارہ مجھ سے رابطہ مت کرنا ۔۔تو وہ جلدی سے ہاتھ کے اشارے سے منع کرتے ہوئے بولا ۔۔رکو سیما۔۔۔۔اچھا ایک منٹ میں ابھی آتا ہوں وہ پھر کچھ دیر کیلئے گیا واپس آیا تو اسکے ہاتھ میں ہینڈ واش کی بوتل تھی اس نے اسے اوپر سے پش کر کے اس میں سے لیکوئڈ نکالا اور اپنے کیلے پر لگادیا ۔اس نے بوتل سائید پر رکھی اور اپنے کیلے کو مٹھی میں پکڑا اور اسے آگے پیچھے کرنے لگا ۔۔اسکے کیلے پر جھاگ بننے لگی اور ہاتھ اس پر سلپ ہونے لگا ۔۔وہ اپنے ہاتھ کو کیلے کی جڑ تک لے کر جاتا اور پھر اسے تیزی سے نوک کی طرف لاتا ایسا کرنے سے اسکا کیلا لال سرخ ہو گیا تھا ۔۔وہ کافی بڑا تھا موٹا بھی ۔۔ میں غور سے اسے دیکھ رہی تھی ۔اور وہ اب آنکھیں بند کیئے تیزی سے ہاتھ چلا رہا تھا اب اسکے منہ سے آہیں بھی نکل رہیں تھیں ۔۔ وہآہ ۔۔آہ ۔۔۔اف۔۔۔۔۔اہ۔۔۔۔آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔ کرتے ہوئے سر کو ادھر اُدھر پٹخنے لگا ۔۔۔۔وہ میرے سامنے بیڈ پر بیٹھا ہاتھ چلا رہا تھا اور میں بھی سلگ رہی تھی ۔۔کچھ دیر بعد اس نے قدر ے زور سے سسکی بھر آہ ہ ہ ہ۔۔۔۔اور پھر اسکے جسم نے ایک جھٹکا لیا اور میں نے دیکھا اسکے کیلے کی نوک سے اچھل کر سفید گاڑھا جوس نکلا اور سامنے فرش پر
گرا پھر ایسے ہی اسکا کیلا الٹیاں کرنے لگا ۔۔۔۔جس سے فیصل کا ہاتھ بھی بھر گیا ۔فیصل اب پر سکون ہو گیا تھا ۔۔۔اتنے میں دروزے پر دستک ہوئی تو فیصل ایک دم چونک کر اٹھا اور جلدی سے اپنی شرٹ سے اپنے ہاتھ پر لگا سفید جوس صاف کیا اور انڈر ویئر کو اوپر کیا پینٹ کو جلدی سے اوپر کرتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔۔میں نے اپنی ویڈیو بند کردی مگر اسکی کال چل رہی تھی اور کیمرہ بھی آن تھا دروازے پر دوبار دستک ہو چکی تھی اتنے میں فیصل نے دروازہ کھولا اور اسکی بہن کی آواز سنائی دی ۔اتنی دیر سے کیا کر رہے تھے تم ؟ اور کنڈی کیوں لگائی تھی ؟۔۔ فیصل بولا آپی میں واش روم میں تھا اس لیئے دیر سے دروازہ کھولا۔۔اور اسکے ساتھ ہی فیصل کی بہن کیمرے کے سامنے آگئی اس نے تنگ ٹراﺅزر اور لانگ شرٹ پہن رکھی تھی وہ بھی اپنے بھائی ہی کی طرح کانگڑی تھی مطلب سلم تھی ۔وہ بیڈ کی طرف بڑھی تو ایک دم پیچھے ہٹتے ہوئے بولی یہ فرش کیوں گیلا ہے فیصل ۔۔۔۔۔؟ اسکی یہ بات سنتے ہی میں نے کال بند کر دی ۔۔۔۔نتاشا کا پیر فیصل کے کیلے والے جوس پر پڑ گیا تھا جبھی اس نے پوچھا تھا ۔۔۔
میں نے کال بند کی اور سوچنے لگی کہ اب پتا نہیں فیصل کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔یہی سوچتے سوچتے مجھے نیند آگئی ۔
ّّ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نتاشا کا پاﺅں کو عجیب سی چکناہت لگنے لگی اپنے پاﺅں پر تو وہ جلدی سے واش روم کی جانب بڑھتے ہوئے بولی پتہ نہیں کیا گرا ہواتھا فرش پر گیلا اُف میرا پاﺅں بھی گیلا ہو گیا ۔۔وہ واش روم میں جاکر پاﺅں دھونے لگی ۔ادھر فیصل نے جلدی سے اپنی شرٹ لی اور فرش پر گرے ہوئے گاڑھے جوس کو صاف کر کے شرٹ بیڈ نیچے پھینک دی اور الماری میں سے دوسری شرٹ نکال کر پہن لی ۔اتنے میں نتاشا بھی واش روم سے باہر آگئی ۔اور بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی خیر تو ہے فیصل تم کچھ پریشان لگ رہے ہو ؟ن نہیں آپی ۔۔۔ایسی تو کوئی بات نہیں بس وہ میرا دل گھبرا رہا تھا اور گرمی بھی لگ رہی تھی تو میں نے کہا شاور لے لوں مگر آپ آگئیں ۔نتاشا بولی اوہو تو بتا تے پاپا بھی ابھی آنے والے ہیں کلینک سے تم بیٹھو میں جوس لا دیتی ہوں تمہیں ۔یہ کہتے ہوئے نتاشا جوس لینے چلی گئی ۔اور فیصل سوچنے لگا شکر ہے یار بچ گیا ۔اگر آپ کو شک ہو جاتا تو پھر میری خیر نہیں تھی ۔اب پتا نہیں آپی کیا سوچ رہی ہو گی ۔ اچھا وہ جو بھی سوچے بس مجھ پر شک نہ ہو اسے ۔فیصل اٹھا اور اسنے لیپ ٹاپ بند کر دیا ۔اتنے میں نتاشا جوس لے آئی اور فیصل کو دیتے ہوئے بولی لو تم یہ پی کر لیٹ جاﺅ بس صبح نہا لینا ۔اس روم میں دو بیڈ تھے آمنے سامنے ایک پر نتاشا سوتی تھی اور دوسرے پر فیصل اور اسکا چھوٹا بھائی کبھی کبھار اکثر وہ اپنے مما پاپا کے ساتھ ہی سو جاتا تھا۔فیصل نے نتاشا سے جوس کا گلاس لیا اور اپنے بیڈ پر بیٹھ کر پینے لگا ۔اور نتاشا سامنے موجود اپنے بیڈ پر نیم دراز ہو گئی اور بولی فیصل مجھے نیند آرہی ہے تم بھی جوس پی لو تو نائٹ بلب جلا کر سو جانا ۔یہ کہہ کر اس نے منہ دوسری طرف کیا اور سو گئی ۔فیصل نے جوس پی کر گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور لائٹ بند کر کے نئٹ بلب جلا کر بست پر لیٹ گیا ۔وہ سوچ رہا تھا کہ سیما جس نے آج تک اسے اپنی فوٹو بھی نہیں دکھائی تھی پتہ نہیں کیسے اس نے ویڈیو پر بات کی اور یہ سب کچھ کیا میرے ساتھ ۔اور کیوں کیا ؟ اسے کیا ضرورت تھی ۔پھر سیما کا خیال آتے ہی اسکا دھیان سیما کے سڈول اباھروں پر چلا گیا ۔اُف یار بہت کمال کی چیز ہے سیما۔اسکے ابھاروں کا سوچا تو فیصل کا کیلا پھر سے سر اٹھانے لگا تھا ۔وہ برا حیران ہوا کہ ابھی کچھ ہی دیر پہلے تو میں پر سکون ہوا ہوں اور اب پھر سے مجھے بے چینی ہونے لگی ہے ۔اس نے بے اختیار اپنا ایک ہاتھ اپنے کیلے پر رکھا اور سہلانے لگا ۔وہ جیسے جیسے سیما کے بارے میں سوچتا اسکا ہتھیار اکڑتا جاتا ۔۔پھر اس کا خیال طفیل کی جانب چلا گیا ۔طفیل بے حد چالاک اور کمینہ لڑکا تھا وہ اپنی کئی کزنز کیساتھ عیاشی کر چکا تھا ۔وہ اکثر فیصل کو کہتا یار تیرے گھر میں تو سونے کی چڑیا ہے تو نہیں جانتا تیری بہن بے حد مزیدار آئٹم ہے قسم سے تو نے اگر ایک بار اسے چکھ لیا تو زندگی بھر کچھ اور نہیں سوچے گا ۔پر فیصل ہنسنے لگتا اس کی باتیں سن کر کہتا بکواس نہ کر یار وہ میری بہن ہے ۔میں کیسے اس کیساتھ کر سکتا ہوں ۔؟یہ باتیں ذہن میں آتے ہی فیصل نے اپنی بائیں جانب سامنے بیڈ پر سوئی ہوئی اپنی بہن کی طرف دیکھا ، نتاشا اب سیدھی سو رہی تھی ۔اور مکمل نیند میں تھی ۔فیصل کی نظریں بے اختیار اسکے سینے پر چلی گئیں ۔وہ چونک گیا یہ دیکھ کر کہ اسکی بہن جو کمزور سی تھی اسکے سےنے کے ابھار عموما کم ہی دکھتے تھے وہ کافی نمایاں ہو رہے تھے شاید نتا شا کا سونے کا انداز ہی ایسا تھا ۔یہ دیکھ کر فیصل کو تجسس ہوا کہ دیکھوں تو ریئل میں کیسے ہوتے ہیں ؟ موویز میں تو سب دیکھا ہے مگر حقیقت میں کبھی کسی کے نہیں دیکھے تو کیوں نا ں آج دیکھ ہی لوں ۔پھر اس کے ضمیر نے اسے ٹوکا نہیں فیصل یہ تم کیا کرنے لگے ہو وہ تمہاری بڑی بہن ہے ۔تم اسکے بارے ۔۔ایسا کیوں سوچ رہے ہو ؟ تو اس کے دل نے جواب دیا میں کونسا ایسا ویسا سوچ رہا ہوں میں تو صرف دیکھوں گا کہ لرکیوں کے سیب کیسے ہوتے ہیں
بس میں نے کچھ اور تو نہیں کرنا اور میں کسی اور کے نہیں اپنی ہی بہن کے دیکھ رہا ہوں ۔ویسے بھی تو میں دیکھتا ہی رہتا ہوں نا اسے ؟یی خیال آتے ہی وہ آہستگی سے اپنے بستر سے اترا اور نتاشا کے بستر کی جانب بڑھنے لگا اسے خوف بھی تھا کہ کہیں نتاشا اسے ایسا کرتے دیکھ نہ لے ۔اسی لیئے وہ کچھ زیادہ ہی محتاط ہو گیا ۔نیلے بلب کی ہلکی روشنی میں وہ نتاشا کے بستر کے قریب پہنچ گیا ۔نتاشا کا ایک بازو اسکی بکھری زلفوں کے نیچے تھا اور دوسرا پیٹ پر ناف سے کچھ اوپر وہ ٹیڑھی ہو کر سو رہی تھی فیصل کو اسکے گلے میں سے ابھاروں کی درمیان دراڑ ہلکی سی دکھائی دی تو فیصل کا سانس خشک ہونے لگا ۔فیصل نے غور سے نتاشا کے چہرے کو دیکھا وہ گہری نیند میں بے سدھ پڑی تھی ۔نیلی روشنی نے اس کے گورے جسم کو بھی نیلا نیلا کر دیا تھا ۔فیصل جھکا اور اور اس نے ہولے سے نتاشا کی شرٹ کے گلے کو اپنی انگلی اور انگوٹھے میں پکڑا اور اوپر کی چرف اٹھایا ۔۔۔نتاشا کی شرٹ جیسے ہی اسکے سینے سے کچھ اوپر ہوئی تو درمیانی خلا میں فیصل نے اسکے نوکیلے ابھاروں کو دیکھا تو دم بخود رہ گیا اس کے پورے بدن میں سنسی پھیل گئی اسکی زبان خشک ہو گئی اور اسکا ہتھیار
جھٹکے مارنے لگا ۔اس کا ہتھیار بہت سکت ہو چکا تھا ۔اندر ویئر میں اسے تکلیف ہو رہی تھی وہ پیچھے ہٹا اور اپنی پتلون اتار کر انڈر ویئر بھی اتار دیا اور کاٹن کا تراﺅزر پہن لیا ۔اسکا ہتھیار بھی قید سے آزاد ہو کر جھومنے لگا تھا اس نے اپنے ہاتھ سع ایک دو بار اپنے کیلے کو زور سے مرورا مگر وہ مزید اکڑ گیا ۔وہ دوبارہ نتاشا کے قریب آیا اور پھر سے اسکی شرت کے گلے کو کھلا کیا تو ااندرایک دم منفرد منظر تھا نتاشا کے سینے کے ابھار بڑے سائز کے ٹماٹر جیسے تھے اور انکے نپلز والی جگہ پر بڑے ؓرے گول دائرے تھے مگر نپلز نہیں تھے اور وہ پورے دائرے نوکیلے تھے ۔جیسے غبارے کا نیچلا حصہ ہوتا ہے ۔یہ سب دیکھ کر فیصل گرم ہو گیا اسکی سانس بھی تیز ہو گئی ۔وہ سوچنے لگا کہ ان ٹماٹروں کو چھو کر دیکھے مگر وہ ڈر رہا تھا کہ کہیں اسکی بہن جاگ نہ جائے وہ نتاشا کے بیڈ کے قریب جھکا ہوا اسکے خوبصورت نوکیلے ابھاروں دیکھے جا رہا تھا اور اپنی زبان بھی بار بار اپنے خشک ہونتوں پر پھیر رہا تھا ۔۔۔نتاشا نے شرٹ کے نیچے کچھ بھی نہیں پہنا تھا کیوںکہ اسکا سینہ تھا ہی اتنا سخت وہ اکثر ایسے ہی رہتی تھی ۔۔ابھی فیصل سوچ ہی رہا تھا کہ وہ نتاشا کے ابھاروں کو اوپر سے ہی پکڑ کر دبائے یا پھر گلے میں سے براہ راس پکڑ لے ۔۔کہ نتاشا کے موبائل پر کال آگئی اوراسکی گھنٹی بجنے لگی ۔گھنٹی سنتے ہی فیصل جیسے ہوش میں آگیا اور اس نے نتاشا کی شرٹ کو چھورا اور اپنے بستر پر آکر لیٹ گیا اس انداز سے جیسے وہ نیند میں ہو ۔۔۔اور آنکھیں بند کیئے وہ مسلسل متوجہ تھا کہ بس ابھی نتاشہ اٹھے گی ۔۔اورپھر۔۔۔۔
بیل مسلسل بج رہی تھی مگر نتاشا تو جیسے گھوڑے بیچ کر سوئی ہو ۔اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔بیل بجنا بند ہو گئی ۔مگر نتاشا ٹس سے مس نہ ہوئی ۔فیصل کا ہتھیار ڈھیلا ہو گیا تھا ۔ہتھیار سویا تو ضمیر جاگ گیا اور لگا فیصل کو سمجھانے کہ تو بے غیرت ہےتجھے شرم نہیں ہے اپنی سگی بہن کو کو یوں دیکھ کر شہوت پوری کر رہا ہے ۔یہ بہت بڑا گناہ ہے ۔تو اتنا ذلیل ہو گیا ہے تجھے رشتوں کی پہچان ہی نہیں رہی ۔بہن جیسے رشتے کا تقدس پامال کرنے پر تل گیا ہے ۔فیصل بھی خود کو مجرم سمجھنے لگا وہ اُٹھا اور باتھ روم میں جا کر نہایا پھر کمرے سے باہر نکل آیا اسے کا ضمیر اسے جھنجھوڑ رہا تھا ۔وہ باہر آیا اور اپنے پاپا کی میڈیسن میں سے نیند کی ٹیبلٹ لی اور کچن میں جا کر واٹر ڈسپنسر سے ٹھنڈاے پانی کا گلاس بھرا اور گولی منہ میں ڈالی اور پورا گلاس خالی کر دیا کچھ دیر بعد وہ واپس اپنے بستر پر آکر لیٹا تو اسے نیند آگئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں صبح اٹھی توفریش ہونے کے بعد مجھے رات والا واقعہ یاد آگیا کہ فیصل کی بہن نتاشا نے پتہ نہیں کیا کیا ہوگا فیصل کیساتھ۔ خیر میں نے فیس بک کھولی او ر دیکھا فرینڈ لسٹ میں کون کون آن لائن ہے ۔صدف نامی ایک لڑکی نے مجھے کئی بار میسج کیئے تھے مگر میں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا اسے وہ بھی آن لائن تھی۔ میری ذاتی تحقیق کے مطابق 90%فیصد لڑکیوں کے نام سے بنی آیئڈیز فیک تھیں۔ ان میں سے زیادہ
تر بیہودہ اورلوفر قسم کے ہی لڑکے لڑکیوں کے نام سے لڑکیوں کیساتھ ساتھ لڑکو ںکو بھی بیوقوف بناتے تھے۔تو میں نے صدف کو ہائے کا میسیج بھیجا تو فورا جواب میں ہائے کیسی ہو باجی لکھا ہوا آیا۔میں نے کہا دیکھو آپ پہلے سچ سچ بتا دو کہ آپ میل ہو کہ فیمیل ؟ اگر تم نے سچ بتایا تو چاہے تم میل ہی کیوں نہ ہو میں تم سے ضرور بات کرونگی پر بتاﺅ سچ اس نے کہا میں لڑکی ہی ہوں باجی آپ کال کر کے دیکھ لیں میں نے کال کی تو
مجھے کنفرم ہو گیا وہ واقعی لڑکی تھی ۔میں نے پوچھا کیم ہے تو بولی ہاں ہے ۔میں نے اسے ویڈیو کال کی تو جب اسے دیکھا وہ کافی موٹی لڑکی کم عورت دکھ رہی تھی مگر آواز سے وہ کم عمر لڑکی ہی لگتی تھی ۔وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی ۔میں نے پوچھا کہا ں سے ہو تو بولی اوکاڑہ سے ۔میں نے پوچھا تم شادی شدہ ہو ؟ کہنے لگی ہاں بہن میں شادی شدہ ہی ہوں قسمت ماری ۔۔ ارے میں نے کہا یہ کیا بات ہوئی شادی شدہ ہونے سے قسمت تھوڑی ماری جاتی ہے ۔وہ بولی باجی اور کیا بولوں میرا بندہ شادی کے دوسرے ہفتے ہی دوبئی چلا گیا تے مینوں اتھے ہی چھڈ گیا ۔۔تسی آپ ہی دسو فیر کی جندگی (زندگی) ہے اپنی ۔میں بولی ارے تو تم بھی ساتھ چلی جاتی۔۔تم کیوں نہیں گئیں ؟ وہ بپھڑ گئی اور بولی میرا سوہرا (سسر) وڈا مادر چود ہے گا ۔۔۔اپنی ووہٹی یہہ یہہ کے مار چھڈی ہن مینو مارن دے چکر اچ ہے گا ۔یہ سنتے ہی میرے اوسا ن خطا ہو گئے یہ کیا کہہ رہی ہے ایسا بھی ہوتا ہے کیا ۔۔ مجھے دلچسپی پیدا ہوئی کہ اس سے جانوں کہ یہ کیسے ممکن ہے ۔؟خیر میں نے حیرانی سے کہا ارے یہ کیا کہہ رہی ہو صدف تم ؟ وہ بولی باجی میں ٹھیک پئی بولدی آں ۔۔۔وہ ایکدم کھلنے لگی تو مجھے کچھ عجیب سا لگا ۔میں نے سوچا کیا اب زمانہ اتنا بدل چکا ہے کہ پہلی بار رابطہ ہو اور انسان اپنی نجی زندگی کی پوشیدہ باتیں بھی بتادے ۔خیر ۔۔ میں نے کہا چلو یہ بتاﺅ کوئی دوست ہے تمہارا ؟
وہ بولی ۔نہیں باجی اج دے منڈے کمجور ہے گے اناں وچ ساہ نئی اے۔۔یعنے آج کے لڑکے کمزور ہیں ان میں طاقت نہیں ہے ۔۔۔میں نے پوچھا صدف دوستی میں طاقت کا کیا کام ۔۔؟وہ بولی باجی تسی وی شاید حالے کجھ نئی ویکھیا ۔۔۔۔مینوں لگدے تہانوں بندیاں دی پچھان وی نئی ہے۔باجی اتھے فیش بک تے مینوں جیہڑا وی بندہ ملیا چار گلاں بعد ہی گیلا ہو گیا ۔۔۔کوئی مرد ملیا ای نئی اک میرا سوہرا ہے گا چڑھ جاوے تے چھٹدا ای نئی۔۔۔۔خبر اے کی کھوندا اے ۔۔۔کھوتے دا پتر ۔۔۔باجی میرا بندہ وی اچھا ٹھوک لیندا سی پر میرا سوہرا تو چیکاں کڈھوندا اے۔۔۔اس کی باتیں سن کر مجھے بھی کچھ لذت ملے لگی تھی مگر یہ بات سمجھ سے بالا تر تھی کہ سسر اور بہو میں بھی ایسا تعلق ہو سکتا ہے ۔۔میں کئی کہانیاں تو پڑھی تھیں مگر اس کے منہ سے حقیقت میں سن کر یقین نہیں آرہا تھ ا۔اور مجھے تجسس بھی ہو رہا تھا ۔کہ جانوں ایسے کیسے ممکن ہے ؟ اگر ہے بھی تو کس طرح ۔صدف کی چھاتیاں کافی بڑی بڑی تھیں مگر تھی سڈول ان کی اٹھان کسی پہاڑ کی مانند تھی ۔اس کے چہرہ بھی بھرا بھرا اور گول تھا۔وہ بولی کتھے گم ہوگئی او باجی ۔۔کی سوچدے پئے او۔۔۔ادھر میریاں گلاں تے حیران نہ ہوو تسی اپنا اکھاں نال ویکھ لینا آجائے گا کجھ دیر تک میرا سوہرا اودے کرتوت اگر تسی ویکھنا چاہو تے ویکھ لینا وڈا حرامی ہے گا ۔اتھے پنڈ وچوں کڑیاں لے کے اونداہیگا ۔۔انہاں وی ٹھوک دا ہیگا ۔۔۔میں نے کہا صدف تمہاری باتوں نے مجھے الجھا دیا ہے ۔میں صبح صبح سوچ رہی تھی کوئی اچھی سی فرینڈ سے باتیں کرونگی تاکہ کچھ ٹئم گزر جائے تم نے تو عجیب کہانی سنا دی
۔ویسے یہ سب مجھے بتانے سے تمہیں کیا فائدہ ملے گا یا میرا اس سے کیا لینا دینا۔۔؟تم یہ سب مجھے کیوں بتا رہی ہو یا دکھانا کیوں چاہتی ہو ؟تو اس نے ایک گہری سانس لیتی ہوئے مجھ پر ترس کرتے ہوئے کہا ۔۔باجی اتھے فیس بک تے سارے کڑیاں منڈے آندے ای صرف ٹائم پاس کرن لئی آ۔۔۔۔مینوں بڑا تجربہ ہے گا ۔۔۔اناں وچاریاں دا۔۔اس لئی میں تہاڈا ٹائم بچاون لی اے گلاں تہانوں دسیاں نیں
مینوں پتہ تسی وی آخراے سب پوچھنا سی ۔۔۔۔اگر یقین نئی آندا میریاں گلاں تے ۔۔۔تے فیر ایک منٹ زرا رکو ۔۔پھر وہ اٹھی اور اپنی قمیض اوپر کرنے لگی میں بولی یہ کیا کر رہی ہو صدف تم ؟پلیز بیٹھ جاﺅ
مگر اس نے میری بات جیسے سنی ہی نہ ہو اور اپنی قمیص اتار کر ایک طرف پھینک دی ۔۔۔۔اس نے قمیض کے نیچے کچھ بھی نہیںپہنا تھا ۔اسکے سینے کے مست ابھار بلکل ننگے ہو گئے ۔۔۔انکا سائز خربوزے جتنا تھا
اور اس کے گرد ڈارک براﺅن نپل ۔۔۔۔کیا دلکش کشش تھی ان میں۔۔۔ میں انہیں گھورنے لگی اتنے میں وہ کیمرے کے قریب آئی اور ۔۔۔۔۔
اور اس نے اپنی سرکش پہاڑیوں کو کیمرے کے قریب کیا تو ان پر مجھے چھوٹے چھوٹے دانتوں کے نشان دکھائی دیئے ۔۔۔میں بولی ارے صدف یہ کیا ہے بھئی ۔۔۔۔؟اس کے سینے کے دلکش ابھاروں پر نشان دیکھ کر میں نے اپنا ہاتھ منہ پر حیرانی سے رکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔تو وہ بولی ۔۔۔دیکھ لیا فیر وی دیکھ لو باجی ۔۔۔اے میرے سوہرے دا کم اے ۔۔۔وحشیاں دی طرح مینوں وڈدا اے (کاٹتاہے)
میری جنسی فیلنگ ان زخموں کو دیکھ کر معلوم نہیں کیوں بھڑک اٹھی ۔۔۔میں نے ٹائم دیکھا تو صبح کے ساڑھے دس بج رہے تھے ۔۔گیارہ بجے نوشی نے آنا تھا (نوشین میری کزن)نوشی میری بیسٹ فرینڈ تھی وہ کافی کھلی ڈھلی تھی ۔۔۔پٹاخہ تھی پوری ۔۔۔مجھے سوچتا دیکھ کر صدف بولی تسی فیر کسے خیالاں و گم گئے خیر تاں ہے کیڑی پریشانی ہے دسو ہاں مینوں ۔۔اس نے استفسار کیا ۔۔میں اس کے صحت مند ابھاروں کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔نہیں وہ در اصل میری کزن نے ابھی کچھ دیر میں آنا ہے میں اسی کے بارے میں سوچ رہی تھی تم سے بات بھی اسی لیئے کی تھی کہ ٹائم پاس ہو جائے مگر تم سے باتوں میں تو وقت گزرنے کا احساس بھی نہیں ہو ا۔۔میری نظریں پھر سے اسکے بوبز پر ثبت دانتوں کے گہرے نشانوں پر ٹک گئیں ۔۔اور میں چشم تصور میں دیکھنے لگی کہ اسکا بوڑھا سسر کیسے کاٹتاہوگا اسے ۔۔؟ میں نے بظاہر افسوس کرتے ہوئے صدف سے کہا ۔۔۔یار مجھے بے حد افسوس ہو رہا ہے تمہارے ساتھ تو تشدد ہوا ہے ۔۔۔ایسا تو جانوروں کیساتھ بھی سلوک نہیں ہوتا جیسا تمہارے ساتھ ہوا ہے ۔۔۔مگر اندر سے میری بے تابی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔میری ہمدردی دیکھ کر صدف کی آواز رندھا گئی وہ پیچھے ہوئی اور روہانسی آواز میں بولی باجی ۔۔۔مجھے بھی پیار کی چاہت ہے میرا بھی دل کرتا ہے کوئی مجھے دل سے چاہے پیار کرے لڈ کرے میری خواہشات کا احترام کرے مگر یہ تو ۔۔بس درندوں کی طرح بھنبھوڑتا ہے ۔۔میں نے پوچھا تم ناشتہ کر چکی ہو ؟ وہ بولی نئی باجی ۔۔میرا سوہرا کہندا کٹھے کیتا کرو ۔۔۔۔او صبح تڑکے ہی ٹر جاندا اے پنڈ واپسی تے دودھ لسی مکھن اتے بازاروں ناشتہ وی لے آندا اے ۔۔۔۔میں نے پوچھا تم اسے منع نہیں کرتی ایسا کرنے سے ۔۔۔؟ وہ بولی ۔۔۔لو باجی تسی وی سادے ہو ۔۔۔اس ڈنگر نوں پٹ پٹ کے تھک گئی آں ۔ہتھ جوڑے پیراں تے ہتھ رکھے کہ تو ۔۔اپنی اگ ای مارنی ہے تاں مار لیا کر ۔۔۔پر بندیاں دی طرح میں وی انسان آں ۔۔۔پر او کہندا مینوں مجا(مزا)ای تد(تب)آوندا اے جد توں روندی ہیگی ۔

Posted on: 06:32:AM 29-Jan-2021


0 0 235 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 75 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com