Stories


گھر کی مرغی از شازیہ خان

نامکمل کہانی ہے

یہ ٹھیک ہے کہ میں نے کچھ غلطیاں کی تھیں،مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں تھا کہ بغیر سوچے سمجھے مجھے کسی جہنم میں دھکیل دیا جاتا۔مانا کہ میں لذت کشی کے کسی بھی راستے کو اپناتے ہوئے ہچکچاتی نہیں تھی،پھر بھی یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ شوہر کی سیج پر میں بالکل کنواری تھی۔
    نصیب کا یہی لکھا تھا،اس کے علاوہ میں کیا کہہ سکتی تھی۔اس چھوٹے سے گھر میں تین بیٹے،ایک بیٹی اور ماں باپ رہتے تھے۔میں اس گھر کی بڑی بہو تھی۔مجھ سے چھوٹی ایک بہو تھی اور ایک دیور ابھی تک غیر منکوحہ تھا۔میری بڑی نند دوسرے شوہر والی تھی اور اپنی ہٹ دھرمی اور میری ساس کی بے جا طرف داری کی وجہ سے وہ اسی گھر میں بمعہ اپنے شوہر کے رہ رہی تھی جو پیشے سے ایک ڈرائیور تھا۔میری ساس کو وہ دونوں اپنے سبھی بچوں سے زیادہ پیارے تھے،یہی وجہ تھی کہ میرے سسر کے بعد وہاں سب سے زیادہ حکم میری اس نند کا چلتا تھا جسے سب باجی کہا کرتے تھے جب کہ اصل نام تو اس کا کچھ اور تھا۔
    میری ساس ایک زبان دراز اور اپنی دانست میں ایک تیزو طرار عورت تھی۔عمر اس کی ہوگی یہی کوئی پچپن کے قریب۔میرا سسر پیشے سے ایک مستری تھا اور اس کی شکل کسی کوے سے کم نہیں تھی۔یہ اونچا لمبا قد مگر بانس کی طرح دبلا پتلا۔
    اب کچھ ذکر ہوجائے میرے شوہر کا جو ایک گنوار اور بوجھ ڈھونے والے گدھے سے کم نہیں تھا۔ہر وقت ماں باپ کے سامنے بھیگی بلی بنا رہنا اس کی عادت تھی شائد۔میرے ماضی کے کچھ راز شادی سے پہلے ہی اس کے کانوں تک لعنتی رشتہ داروں نے پہنچادئیے تھے اسی لئے وہ ہر وقت ہی مجھے شک کی نگاہوں سے دیکھتا رہتا تھا،باقی قسم لے لیجئے جو شادی کے بعد میں نے اپنے ماضی کے کسی رشتے سے رابطہ بھی رکھا ہو۔اپنی دانست میں ایک طاقت ور مرد کا زعم رکھنے کے باوجود ہر وقت وہم کرتے رہنا اس کی فطرت تھی۔گھر میں ہر چیز کی کمی تھی اگر کسی چیز کی فراوانی تھی تو وہ تھا سیکس۔جی ہاں سیکس۔شائد آپ لوگوں کو یہ کچھ عجیب لگے مگر اس گھر میں ہر جمعرات کو ہر عورت چدتی تھی۔مجھے بہت شرم محسوس ہوتی جب جمعے کی صبح سب سے پہلے میری ساس،پھر میری نند،پھر میری دیورانی ایک دوسرے کے بعد نہانے کے انتظار میں غسل خانے کے باہر کھڑی ہوتیں ۔میں اسی شرم میں دیر سے نہاتی تھی۔
    قارئین !اس سارے منظر نامے سے آپ لوگوں کو آگاہ کرنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ آپ اس گھر کے ماحول کو سمجھ لیں۔میرے لئے وہ گھر گھٹن زدہ تھا۔مگر بعد میں میری زندگی میں جو تبدیلیاں آئیں اس کا بنیادی محرک اس گھر کا جنس زدہ ماحول ہی تھا جہاں رشتوں کی پامالی ایک عام سی بات تھی۔دن کے اجالے میں غیرت کے نام پر قتل و غارت کے دعوے کرنے والے گھر کے اندر موقع ملنے پر کس طرح جانور بن جاتے تھے ،یہی میری کہانی کا موضوع ہے۔اب آپ کچھ بھی کہہ لیں مگر اس ماحول کا حصہ بننے کے بعد میری پیچھے رہ جانے والی شہوت دوبارہ سے زندہ ہوگئی تھی اور مجھے اس پر اب کوئی شرمندی نہیں۔
    میرے خیال میں اتنی تمہید کے بعد اصل کہانی کی طرف رجوع کرنا آپ لوگو ں کا حق ہو جاتا ہے۔رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا جب مجھے محسوس ہوا کہ میرا شوہر اپنے بستر پر نہیں ہے۔مجھے یہی لگا کہ شائد وہ ٹوائلٹ کی طرف گیا ہے مگر جب آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت گزر گیا تو مجھے کچھ حیرت سی ہوئی اور کچھ جستجو بھی۔اسی جستجو کے زیر اثر میں بستر سے اتری ،صحن کی سبھی بتیاں بجھی ہوئی تھی۔ساس سسر کے کمرے کے لائٹ بھی بند تھی۔چھوٹا دیورتو چھت پر سویا کرتا تھا جب کے اس سے بڑا ایک اور چھوٹے سے کمرے میں اپنی بیوی کے ساتھ ہوتا تھا۔سبھی کے کمروں کی روشنیاں بند تھی۔ویسے بھی بچت کے بڑے پابند تھے یہ سبھی لوگ۔میں نے ٹوائلٹ کی طرف دیکھا تو اس کا دروازہ نیم وا تھا اور لائٹ بھی بند تھی۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ میرا شوہر ٹوائلٹ میں نہیں تھا۔اب میری حیرت بڑھ گئی۔کمرہ ایک ہی بچا تھا جہاں باجی رہائش پذیر تھی اور آج اس کا شوہر گھر میں نہیں تھا۔وہ ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا اس لئے اکثر دوسرے شہروں کو بھی جایا کرتا تھا۔جو بھی ہو رات کے اس وقت کم سے کم یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ میرا شوہر اپنی بہن کے کمرے میں گیا ہوگا۔
    باہر کا دروازہ بھی بند تھا۔اب نہ جانے کیوں مجھے وہم ہونے لگا کہ وہ باجی کے کمرے نہ ہو۔میں دبے قدموں اس کمرے کی طرف بڑھی۔اندر زیرو واٹ کابلب جل رہا تھا اور اس کی نیلگوں روشنی کھڑکی سے باہر جھانک رہی تھی،کمرے کا دروازہ بند تھا۔میں کھڑکی کے قریب ہوئی تو اندر سے باجی کی سسکیاں بھرنے کی آواز سنائی دی۔میرا تو دل اچھل کر حلق میں آگیا۔اس کا شوہر یہاں نہیں اور اس کی خاص سسکاریاں کچھ اور ہی سنا رہی تھیں۔میں نے بڑی آہستگی سے کھڑکی کی درز سے آنکھ لگا کر اندر جھانکا تو میری اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہی گئی۔
    سانولی سلونی باجی مکمل طور پر ننگی تھی اور اس کے پاؤں چھت کی طرف تھے۔میرا شوہر اس کے اوپر تھا،اس نے اس کا ایک نپل منہ میں لیا ہوا تھا اور بڑے زور دار انداز سے اس کی چوت بجا رہا تھا۔
    اف!میرے ماتھے پر پسینہ نمو دار ہو گیا تھا۔میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ دو سگے بہن بھائی جنسی عمل میں مشغول ہوں گے،اور وہ بھی دن کے اجالے میں بڑے پوتر بننے والے۔پر جو بھی ہو سچ یہی ہے کہ یہ منظر دیکھ کر مجھے اپنے بیتے ہوئے دن یاد آگئے اور پھدی نے گیلا ہونا شروع کردیا۔غیرت و حمیت کو ایک طرف رکھتے ہوئے میں نے اس منظر سے لطف اندوز ہونا شروع کردیا۔میرا شوہر کافی بھاری بھرکم سے جسم کا مالک ہے ،قد بھی کافی نکلا ہوا ہے،دوسری طرف میری نند بھی کسی سے کم نہیں ۔سانولی رنگت اور تیکھے نقوش کی مالک۔اس کے سراپے کے بارے میں ذکر کر ہی دوں تو بہتر کہ یار لوگوں کو کچھ مزہ تو تصور ہی تصور میں حاصل ہو جائے گا۔
    باجی کا جسم کافی گدرایا ہوا تھا۔چھاتیوں کا رنگ نسبتاً باقی جسم کے کچھ صاف تھا۔نپلز البتہ ڈارک براؤن تھے۔چھاتی کا سائز کم سے کم چھتیس ہوگا۔میں بڑی باریک بینی سے اس کا مشاہدہ کر رہی تھی۔اس کی رانیں کافی سڈول تھیں اور پیٹ بالکل ہموار۔اس کی سسکاریاں اسکے جسم کے اندر کی شہوت کا پتہ بتا رہی تھیں۔مجھے محسوس ہوا کہ وہ دونوں کچھ گفتگو بھی کررہے تھے ،شائد باجی اس سے کچھ فرمائش کر رہی تھی۔مگر فی الحال یہ گفتگو میرے کانوں کے لئے واضح ہرگز نہ تھی۔
    میرا شوہر پورے زور سے باجی کو چود رہا تھا۔اس بات کا ثبوت اس کے جسم پر چمکتا ہوا پسینہ تھا۔وہ اب تھک رہا تھا۔باجی بار بار اس کو جکڑ رہی تھی،یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بار بار پانی چھوڑ رہی ہے۔کچھ ہی دیر بعد میرا شوہر اس سے الگ ہوا۔باجی نے اسے اشارہ کیا اور وہ نیچے لیٹ گیا۔اب باجی اس کے اوپر آگئی اور اس نے لن ہاتھ میں پکڑ کر اپنی پھدی پر رکھا اور اس پر بیٹھ گئی۔اس کے ساتھ ہی اس کی سسکاری سی سنائی دی۔
    باجی چونکہ صحت مند عورت تھی اس لئے اس کے جھٹکے شاندار تھے۔وہ تیزی کے ساتھ اپنی گانڈ کو اوپر نیچے کر رہی تھی۔ساتھ ساتھ وہ دونوں بار بار ایک دوسرے کو چوم رہے تھے۔اس دوران میری پھدی بری طرح گیلی ہو چکی تھی،میں نا دانستہ طور پر ہی اپنا ہاتھ شلوار میں لے جا چکی تھی اور اپنے دانہء شہوت کو مسل رہی تھی۔
    اس سارے دورانئے میں میں دنیا و ما فیہا سے بے خبر ہو چکی تھی۔مجھے ہوش ہی نہیں تھا کہ کوئی بھی رفع حاجت کے لئے کسی بھی وقت باہر نکل سکتا ہے۔مگر اسے میری خوش نصیبی سمجھ لیجئے کہ کسی کو بھی اٹھنے کی توفیق نہیں ہوئی۔
    باجی کا پانی تھا کی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ویسے میں حیران تھی کہ میرے ساتھ ہوتے ہوئے تو میرا شوہر اتنا ٹائم نہیں لگاتا تھا آج اس کو کیا ہوا۔اب ان کا آخری سٹائل شروع ہوا ،میرے شوہر نے اپنی باجی کو گھوڑی بنا لیا ،باجی کے کولہے دیکھ کر تو میرے منہ بھی پانی آگیا۔سوچ رہی تھی مرد ہوتی تو مزہ چکھا دیتی باجی کو۔میرے سرتاج نے اپنی بہن کو کمر سے پکڑ لیا تھا اور زور دار چدائی کرنے لگا تھا۔اس پوز میں شائد اس کا لن اپنی باجی کے رحم تک پہنچ رہا تھا جس کی وجہ سے اس کی سسکاریاں بلند ہو رہی تھیں۔بس وہی وہ لمحہ تھا جب خود میری پھدی نے بھی پانی چھوڑ دیا۔چند سیکنڈز کی بات تھی کہ میرے شوہر نے لن باہر نکالا اور باجی کی کمر پر اپنی منی کی پھواریں مارنی شروع کردیں۔دونوں کا پیار منزل پا چکا تھا مگر میرے اندر کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔اب وقت آگیا تھا کہ میں فوراً ہی اپنے کمرے کی طرف چل دوں ،کہیں اور گل ہی نہ کھل جائے۔میں اسی طرح دبے پاؤں اپنے کمرے کی طرف لوٹ گئی۔میرے دل کی دھڑکن تیز تھی اور جسم گرم۔ایک زور دار چدائی کی خواہش کمر توڑ مقام تک جا پہنچی تھی۔اب جیسے ہی میرا شوہر واپس آئے اس سے خوب چدائی کرواؤں گی۔میں سوچ رہی تھی مگر وہ تو منزل ہو چکا تھا،ٹھنڈا ہو کر دبے پاؤں واپس آکر میرے پہلو میں لیٹ گیا تھا۔
    میں نے اس کی طرف پلٹ کر اسے بانہوں میں بھرنے کی کوشش کی تو وہ مجھ سے پرے ہٹ گیا،جنسی تسکین کے بعد فوراً ہی دوبارہ شروع ہونا اس کے بس کی بات ہی کہاں تھی۔میں نے کوشش کی مگر اس نے کوئی ریسپانس نہیں دیا۔اب مجھے خود ہی کچھ دیر چوت کھجا کر خود کو کسی حد تک ٹھنڈا کرنا تھا۔مگر وہ پاس ہی لیٹا ہوا تھا اور میں گرم ہو کر عام طور پر بے قابو ہو جایا کرتی تھی۔اس لئے خود پر بڑا جبر کیا اور سونے کی کوشش کرنے لگی۔
    ارے یہاں میں آپ لوگوں کو اپنے سراپے سے روشناس کرانا تو بھول ہی گئی۔لو سنو پھر دل تھام کر۔میں ایک گندمی رنگ کی بہت ہی سیکسی عورت ہوں۔قدپانچ فٹ چھ انچ،چھاتی کا سائز اڑتیس،کمر چونتیس اور کولہے اڑتیس کے۔ہونٹ بھرے ہوئے اور گردن درمیانی اور آنکھیں بڑی اور پر کشش۔کشادہ پیشانی اور کشیدہ ابرو،جس کی طرف مسکرا کر دیکھ لوں مرنے مارنے پر تل جائے۔اچھا اچھا اب اتنی تعریف کی بھی کیا ضرورت،آگے چل کر آپ لوگوں کو خودہی پتہ چل جائے گا کہ کیا قیامت ہوں میں۔۔
میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ آخر میرا سسر مجھ سے اتنی خار کیوں کھاتا ہے۔وہ ہمیشہ چھوٹی بہو کی تعریف کرتا رہتا تھا ،اور اکثر جب کام سے واپس آتا تھا تو کسی اور کو دے یا نہ دے مگر چھوٹی کو کچھ نہ کچھ روپے ضرور تھما دیتا تھا۔دوسری طرف میں تھی کہ دیکھ دیکھ کر کڑھتی رہتی تھی۔نہ جانے کیوں جب سے اپنے شوہر کو باجی کے ساتھ سیکس کرتے دیکھا تھا مجھے اس گھر کے ہر مرد و عورت پر شک سا ہونے لگا تھا۔اسی سوچ میں مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے سسر صاحب کا بھی کوئی ایسا ویسا تعلق چھوٹی بہو کے ساتھ ضرور ہے۔
اس سوچ کے زیر اثر اب میں نے غیر محسوس انداز میں ان دونوں کی نگرانی شروع کردی تھی۔اسی دوران مجھ پر یہ راز بھی کھلا کہ میری دیورانی ہمیشہ کھلے گلے کے کرتے پہنتی ہے،جس میں سے اس کی چھاتیوں کا نصف سے بھی زیادہ حصہ دیکھنے والے کی آنکھوں کو خیرہ کرنے کے لئے کافی ہوتا تھا۔بات کچھ کچھ سمجھ آرہی تھی ۔میری دیورانی نے جسم کے نظاروں کو دکھا دکھا کر سسر کو اپنی طرف مائل کیا ہوا تھا۔اب ان دونوں کے مابین جسمانی تعلق بھی تھا کہ یہ نہیں اس کا پتہ لگانا ضروری ہو گیا تھا۔کیوں کہ اگر ایسا تھا تو مجھے بھی سسر صاحب سے فیض یاب ہونے کا پورا حق تھا۔ویسے بھی میں اپنی دیورانی کے مقابلے میں کئی درجے زیادہ سیکسی جسم کی مالک تھی۔
لیکن اس کوے جیسی شکل والے مرد کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا بڑا ہی حیران کن تھا،کیوں کہ میری دیورانی میرے مقابلے میں خاصی گوری رنگت کی مالکن تھی۔پھر ایک روز یہ عقدہ مجھ پر کھل ہی ہو گیا۔ہوا یوں کہ ایک فوتیدگی کے سلسلے میں گھر کے سبھی افراد ما سوائے میرے اور میری دیورانی کے دوسرے شہر چلے گئے ۔سسر صاحب بہانہ کر کے رک گئے تھے۔مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کسی چکر میں ہیں۔بس اسی چکر کو معلوم کرنا تھا۔
یہاں یہ بتاتی چلوں کہ میری دیورانی سسر صاحب کی بہت خدمت گزار تھی ۔اس کی ٹانگیں دبانا،سر دبانا،سر کی مالش کرنا اور کبھی کبھی اس کی پنڈلیوں کی بھی مالش کرنا،الغرض وہ سب کچھ کرتی تھی اسے خوش کرنے کے لئے۔اب یہاں ایسی کون سی وجہ تھی جس کی بنا پر وہ یہ سب کرتی تھی،مجھے ہر صورت معلوم کرنا تھی۔دن کے گیارہ کا وقت ہوگا جب سسر صاحب گھر آگئے۔انہوں نے آتے ہی میری دیورانی کو آواز دی اور چائے بنانے کے لئے کہا۔میں اپنے کمرے میں موجود تھی ،اور میرے کان اور آنکھیں ان کی طرف متوجہ تھیں۔
میری دیورانی چائے لے کر سسر کے کمرے میں چلی گئی ۔میں انتظار کر رہی تھی کہ کب وہ باہر نکلتی ہے۔جب آدھے گھنٹے سے زیادہ کا وقت ہو گیا تو میں غیر محسوس انداز میں کمرے سے نکلی۔میری توقع کے عین مطابق سسر صاحب کے کمرے کا دروازہ لگاہوا تھا۔میں آہستگی سے چلتی ہوئی دیورانی کے کمرے کی طرف گئی تو وہ وہاں نہیں تھی۔اب مجھے فوراً خیال آیا کہ سسر صاحب کے کمرے کا منظر دیکھا جائے۔ان کا کمرہ باقی کمروں سے نسبتاً بڑا تھا،اور اک کھڑکی بھی موجود تھی۔کھڑکی سے جھانکنے کے لئے ضروری تھا کہ اس کا پٹ کچھ نہ کچھ کھلا ہو۔
میں ننگے پاؤں تھی تاکہ قدموں کی آواز بھی سنائی نہ دے۔سسر صاحب کے کمرے کا دروازہ بند ہونے کا مطلب تھا کہ میری دیورانی ان کو مزہ دے رہی تھی۔میں کھڑکی کے قریب گئی۔مگر کھڑکی بھی بند تھی ۔انہیں دیکھنا قریب قریب ناممکن ہو چکا تھا۔اچانک میری نظر دروازے میں موجود ایک سوراخ پر پڑی جو اتنا کشادہ تھا کہ آسانی سے اندر کے منظر کا نظارہ کیا جا سکتا تھا۔میں تیزی سے سوراخ کے قریب گئی اور آنکھ سوراخ سے ٹکا دی ۔اند رکے منظر نے نہ صرف یہ کہ میرے چہرے پر مسکراہٹ دوڑادی بلکہ ٹانگوں میں موجود چوت کو بھی فوراً گیلا کردیا۔
میری دیورانی کی شلوار اتری ہوئی تھی جب کہ قمیض چھاتیوں تک اٹھی ہوئی تھی۔سسر صاحب نے اس کی ٹانگیں کندھوں پر رکھی ہوئی تھیں اور بڑے ہی زور دار انداز میں اس کی چوت مار رہے تھے۔ان کا لن کالے رنگ کا تھا۔کافی موٹا تھا مگر فی الحال لمبائی کا اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا۔وہ پوری قوت سے میری دیورانی کی پھدی مار رہے تھے۔دیورانی کی آنکھیں نیم وا تھیں اور لذت کے ساتھ ساتھ کچھ تکلیف کا اثر بھی اس کے چہرے سے دکھائی پڑ رہا تھا۔وہ سسک رہی تھی ۔اس کا وجود بالکل ڈھیلا پڑ چکا تھا۔سسر صاحب اپنی من مانی کر رہے تھے۔پھر اچانک ہی انہوں نے اپنا لن اس کی پھدی سے باہر نکال لیا۔اف!حیرانی سے میری آنکھیں پھٹنے والی ہو گئیں۔میرے شوہر کو بمشکل پانچ انچ تک کا تھا۔مگر سسر صاحب کا بلا مبالغہ آٹھ نو انچ کا دکھائی دے رہا تھا،میری چوت یہ منظر دیکھ کر جلنے لگی۔میں اس طویل و عریض لوڑے کو اپنے وجود کا حصہ بنا دینا چاہتی تھی۔
سسر صاحب نے اب اپنی چھوٹی بہو کو گھوڑی بنا لیا تھا۔اس انداز میں ان کا دبلا پتلا جسم حیران کن طور پر لچک دکھا رہا تھا۔ان کی کمر کی حرکت اور لن کا میری دیورانی کی پھدی میں اندر اور باہر ہونا،میرے کانوں کو گرما گیا۔میرے گال تپنے لگے تھے۔چوت کا پانی بہہ بہہ کر ٹانگو ں کو گیلا کر رہا تھا۔میری دیورانی نہ جانے کیسے اس لن کو جھیل رہی تھی۔میری گیلی ہونے والی شلوار کہہ رہی تھی کہ میں بھی اندر جا گھسوں اور سسر صاحب کو بولوں کہ جلدی سے اپنی بڑی بہو کی گرم چوت میں اپنا کالا اور لمبا ناگ دھکیل دیں۔مگر فی الحال یہ میرے بس میں نہیں تھا۔اس منظر کو مزید برداشت کرنا بھی میرے لئے مشکل تھا،اس لئے میں فوراً ہی باتھ روم کی طرف بھاگی اور انگلی سے اپنی چوت کی گرمی کو کچھ کم کیا۔اتنی دیر میں میری دیورانی بھی چدوا کر باہر نکل آئی تھی۔اس کے نکلنے کے کچھ دیر بعد میں بھی باتھ روم سے نکلی اور اپنے کمرے کی طرف چل دی۔میں چوت مروانا چاہتی تھی اپنے سسر سے ۔اس کے لمبے اور صحت مند لن نے میری آنکھیں کھول دی تھیں۔میں کیوں ایک پانچ انچ کے لن پر گزارہ کرتی جب کہ گھر ہی میں ایک بڑا اور گرم لن موجود تھا،مجھے اپنے سسر کو اپنی مائل کرنے کے لئے اتنے وقت کی ضرورت نہیں تھی۔
میں سمجھ چکی تھی کہ میرے ساتھ اس کا رویہ صرف اس لئے برا ہے کیوں کہ میں نے انہیں اپنے بدن کی آنچ سے گرماہٹ پہنچانے کی کوشش نہیں کی۔مجھے یقین تھا کہ میرا ایک ہی قدم مجھے اس کی گود میں بیٹھنے کا موقع دے دے گا۔میرے پاس آج بہت اچھا موقع تھا،کیوں کہ گھر میں کوئی نہیں تھا،سب اگلے روز واپس آنے والے تھے۔میری دیورانی تو پھدی مروا چکی تھی اس لئے امید تھی کہ رات کو وہ دوبارہ سسر کی بانہوں میں نہیں جائے گی۔بس اسی موقع سے مجھے فائدہ اٹھانا تھا۔
میں نے خود کو تیار کیا کہ آج کی رات میں سسر صاحب کے توانا لوڑے سے مزہ ضرور لوں گی،جو مرد اپنی ایک بہو کی چوت اچھی طرح بجا رہا ہو اسے دوسری بہو کو ننگا کرنے میں کیا عار آئے گی۔مجھے بھروسہ تھا کہ انکار کسی صورت نہ ہوگا۔اب وقت آگیا تھا کہ نہ صرف سسر کے لن کو اپنی چوت کی راہ دکھاتی بلکہ اپنی دیورانی کے مقابلے میں سسر کی نظروں میں زیادہ مقام بناتی۔جب رات کے دس بجے تو میں نے اچھی سی چائے بنائی اور سسر صاحب کے کمرے کی طرف چل دی۔وہ بستر پر لیٹے اخبار پڑھ رہے تھے۔مجھے انہوں نے حیرانگی سے دیکھا۔
"وہ میںآپ کے لئے چائے لائی تھی۔۔"میں کچھ جھجکتے ہوئے کہا
"آج کیسے خیال آگیا سسر کی خدمت کرنے کا۔۔"سسر صاحب تیکھی آواز میں بولے۔
"مجھ سے بھول ہو گئی ابا جان۔۔۔معاف کر دیجئے۔۔۔"میں لجا کر کہا
"اچھا ۔۔اتنے دنوں سے یاد نہیں تھا کہ اس بوڑھے سسر کی سیوا کرنی چاہئے"
"جی بس غلطی ہو گئی ۔۔اب کمی نہیں کروں گی۔۔۔"میں نے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔
"تم خود ہی دیکھو چھوٹی بہو میرا کتنا خیال رکھتی ہے،،بدلے میں میں بھی کتنا اس کا خیال کرتا ہوں،ایک تم ہو تمہیں احساس ہی نہیں۔۔۔"ان کے لہجے میں ابھی بھی سختی تھی۔
"میں بھی آج سے وہ سب کروں گی جس کا حکم آپ دو گے۔۔"میں نے دو ٹوک سے انداز میں کہا
"نہیں تم وہ سب نہیں کر پاؤ گی۔۔مجھے راضی کرنا مزاق تو نہیں"سسر صاحب نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے جواب دیا
"آپ ایک بار حکم تو کریں ،جو بھی ہو میں تعمیل کروں گی۔۔"میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔میرے اس لہجے کو محسوس کرتے ہوئے سسر صاحب نے میرا جائزہ لینا شروع کیا۔وہ میرے پورے جسم کا مشاہدہ کررہے تھے اور ہوس ان کی آنکھوں میں دکھائی دینے لگی تھی۔
"اچھا ایسا کرو ذرا میری ٹانگیں تو دبا دو۔۔اور یہ دروازہ بھی ساتھ کردو۔۔"انہوں نے کہا تو میں نے کمرے کا دروازہ ساتھ کردیا۔وہ سیدھے لیٹے ہوئے تھے میں ان کی قدموں کی طرف آگئی اور ان کی پنڈلیاں دبانے لگی۔انہوں نے آنکھیں موند لیں۔
تھوڑی دیر تک پنڈلیاں دبانے کے بعد ان کو حکم یہ ہو اکہ اب ان کی ٹانگوں پر چڑھ جاؤں اور ٹانگیں دباؤں۔میں فوراً ہی ان کی ٹانگوں ہر سوار ہو گئی اور ان کی ٹانگیں دبانے لگی۔اب انہوں نے آنکھیں کھول لیں تھی اور میرا بھرپور جائزہ لینے لگے تھے،
"یہ دوپٹہ اتار دو۔۔مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔۔"انہوں نے اگلا حکم جاری کیا۔میں نے نیچے برا نہیں پہنی تھی ،مقصد یہی تھا کہ جسم کا یہ سب سے پر کشش حصہ نمایاں ہو جائے۔میں نے دوپٹہ اتار دیا اب میرے ابھار فخریہ انداز سے اپنی اٹھانوں کی نمائش کرنے لگے تھے۔سسر صاحب کی نگاہیں میرے مموں کو گھور رہی تھی۔میری آنکھوں کی لالی شائد بڑھ گئی تھی اور سسر صاحب کی زمانہ شناس نظروں نے شائد بھانپ لیا تھا کہ ان کی بہو پر مستی چڑھ رہی ہے۔
دوسری طرف مجھے سسر صاحب کی شلوار میں بھی ابھار نمایاں ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔میں کن انکھیوں سے اسے بھی دیکھ رہی تھی۔
"تھوڑا آگے آکر دباؤ۔۔"سسر صاحب نے کہا تو اب میں تھوڑا اور آگے کے حصے کی طرف آنے لگی۔یوں سمجھ لیجئے کہ اب ان کے لن کا ابھار میرے قدموں کے درمیان آ رہا تھا۔
"شاباش !اسی طرح دباؤ۔۔"سسر صاحب نے تعریف کی تو میری آنکھیں چمک گئیں۔مگر اس دوران ان کا لن اب نیم تناؤ میں آچکا تھا۔ابھار کافی واضح ہو چکا تھا۔میرے ہونٹ خشک ہونے لگے تھے۔سسر صاحب کی نظریں میرے چہرے کو بغور تک رہی تھیں۔
"اچھا اب میں الٹا لیٹتا ہوں ،ذرا میری کمر پر چڑھ جاؤ اب۔۔"سسر صاحب نے مجھے نیچے اترنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا
اب وہ الٹے ہو کر لیٹ گئے اور میں ان کی کمر پر سوار ہو گئی۔کچھ دیر اسی طرح دباتی رہی تو سسر صاحب نے کہا
"ایسا کرو میری کمر پر بیٹھ جاؤ اور ہاتھوں سے کندھوں کو بھی کچھ دیر دبا دو۔۔"
میں ان کی کمر پر اس طرح بیٹھ گئی کہ دونوں ٹانگیں ان کی کمر کے دونوں اطراف ہو گئیں،
"ہے۔۔چوت کے بال صاف نہیں کرتی ہو کیا۔۔۔"میرے کانوں کے قریب جیسے دھماکہ سا ہوا
"یہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ابا جان۔۔۔"میں اداکاری کرتے ہوئے پوچھا
"تمہاری پھدی کے بال میری کمر پر چبھ رہے ہیں۔۔صفائی نہیں کرتی ہو۔۔"وہ گندی زبان استعمال کر رہے تھے اور میں بے حال ہونے لگی تھی
"وہ جی پچھلے ہفتے تو کئے تھے،جلدی بڑھ گئے ہیں شائد۔۔"میں نے شرم سے سر جھکاتے ہوئے جواب دیا
"صفائی رکھا کرو کسی بھی وقت چدائی کا موقع بن سکتا ہے تو چوت کے بال تکلیف دہ محسوس ہوتے ہیں۔۔"وہ بڑے اعتماد سے بول رہے تھے۔میں نے تھوک نگلتے ہوئے جواب دیا
"جی میں تو ہر ہفتے کر لیتی ہوں ،بس اس دفعہ تھوڑے دن زیادہ ہو گئے ہیں۔۔:
"آئیندہ خیال رکھنا،تمہاری دیورانی تو چمکا کہ رکھتی ہے اپنی پھدی کو۔۔تم تو اس سے کہیں زیادہ سیکسی ہو ۔۔چمک کے رہا کرو۔۔"سسر صاحب پورے واہیات بن رہے تھے۔
"چلو اب نیچے اترو تمہیں ایک چیز دکھاؤں۔۔"انہوں نے کہا تو میں ان کی کمر سے نیچے اتر گئی۔جیسے ہی وہ سیدھے ہوئے ان کا بڑا سا لن پوری طرح کھڑا ہوا محسوس ہوا۔انہوں نے شلوار کا ازار بند کھولا اور اپنا لن باہر نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا۔میرے دل کی دھڑکنیں اتنی تیز ہو گئیں کہ کانوں میں سنائی دینے لگیں۔
ان کا لن بہت بڑا تھا،میرے شوہر کے مقابلے میں کم سے کم دوگنا دکھائی دے رہا تھا۔
"تم اسی کے لئے آئی تھی نا۔۔۔کیا یہ پورا اپنی چوت میں لے سکو گی میری بہو رانی۔۔"میرا بدن کانپ رہا تھا اور جواب دینا مشکل ہو رہا تھا۔
  جاری ہے

لکھاری نے کہانی یہاں تک لکھی ہے

Posted on: 04:39:AM 11-Feb-2021


1 0 228 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 59 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com