Stories


ساس بنی داماد کی دلہن از او ببلی

نامکمل کہانی ہے

نوٹ: ببلی کے کردار سے جتنی بھی کہانیاں اب تک پیش کی گئی ہیں ان میں سے کچھ نا کچھ سچ زور ہوتا ہے باقی سب ڈرامائی تشکیل کی وجہ سے شامل کیا جاتا ہے۔ سب کہانیوں میں کردار کا اصل نام بدل کر ببلی رکھا جاتا ہے تا کہ کسی کی پرائیویسی ڈسٹرب نا ہو۔ اس کہانی کا مصنف قاری کے فیڈبیک کا بھوکا ہوتا ہے چاہے وہ مثبت ہو یا منفی۔ لہذا آپ سب سے گذارش ہے کہ مجھے فیڈ بیک ضرور دیں تاکہ میں کہانی کو بروقت شائع کرتا رہوں۔ شکریہ۔
ساس بنی دلہن
ببلی کے شوہر کا تعلق ایک جاگیردار گھرانے سے تھا۔ وہ بہت سخت گیر اور ظالم انسان تھا۔ خاندان اور خاندان سے باہر بہت سے لوگوں کے ساتھ اسکی درینہ دشمنی تھی۔ اسکا ایک بھائی بیرون ملک اپنی فیملی کے ساتھ مقیم تھا۔ ببلی کے شوہر نے گذشتہ بیس سالوں سے اپنے سگے بھائی کے ساتھ جائیداد کے تنازعہ پر ہرقسم کی بول چال اور رابطہ ختم کر رکھا تھا۔
حتیٰ کہ نا وہ اس کے بھائی کی شادی میں شریک ہوا تھا اور نا ہی آج تک اسکے بیوی اور بچوں سے ملا تھا۔ ببلی کا شوہر عورتوں کو بھیڑ بکریوں کی مانند سمجھتا تھا۔ وہ عورت کی بالکل بھی عزت اور احترام نا کرتا تھا۔ حتیٰ کہ آج تک اس نے اپنی بیٹیوں کے سر پرباپ کی شفقت بھرا ہاتھ بھی نہیں رکھا تھا۔
اب کچھ تعارف ہو جائے اس کہانی کے بنیادی کردار کا۔ ببلی ایک چالیس سالہ شادی شدہ عورت تھی۔ وہ جسمانی لحاظ سے بالکل بھی چالیس سالہ عورت نہیں لگتی تھی۔ اسکی دو بیٹیاں تھیں۔ ایک عامنہ جس کی عمر لگ بھگ بیس سال تھی اور دوسری ابھی دس سال کی تھی۔ عامنہ اور ببلی کی شکل اور جسمانی خدوخال تقریباً ایک جیسے تھے۔ وہ دونوں جڑواں بہنیں لگتی تھیں اور ایک دوسرے کے کپڑے وغیرہ بھی استعمال کر لیا کرتی تھیں۔ عامنہ اپنے باپ کے غصے اور طبیعت کی وجہ سے تھوڑی سی خودسر اور باغی لڑکی بن گئی تھی۔ وہ اپنے باپ کو خاطر میں نا لاتی تھی۔ ببلی ہر وقت بیٹی کے رویے سے پریشان رہتی تھی۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں اسکا شوہرغصے میں اپنی بیٹی کو کوئی نقصان نا پہنچا دے۔
ایک دن ببلی کا شوہر گھر آیا تو اس نے بتایا کہ اسکا بڑا بھائی جو بیرون ملک رہتا ہے وہ آپسی دشمنی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتا ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ وہ اپنے بڑے بیٹے کی شادی میری بیٹی عامنہ سے کرکے رشتہ داری کو ایک دفعہ پھر مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ اس  نے اپنی بیٹی کا رشتہ اپنے بھائی کے بڑے بیٹے کے ساتھ طے کر دیا تھا اور اسے اپنی بیٹی کی فوٹو بھی بھیج دی تھی۔ ببلی کے جیٹھ اور اسکی فیملی کو عامنہ بہت پسند آئی تھی۔
مسلہ یہ تھا کہ عامنہ کسی اور کو پسند کرتی تھی۔ اس نے اپنی والدہ کے سامنے اپنے کزن کے رشتے کو رد کر دیا تھا۔ آمنہ کے انکار کا جب ببلی کے شوہر کو پتہ چلا تو اس نے اپنی بیٹی پر بہت تشدد کیا۔ اور ببلی سے کہا کہ عامنہ کو سمجھائو اورشادی کے لیے رضامند کرو ورنہ میں اسے گولی مار دوں گا۔ ببلی بہت زیادہ سہم گئی۔ اسے اپنے شوہر کی طبعیت کا پتا تھا وہ جیسا کہتا تھا ویسا ہی کرتا تھا۔
ببلی نے اپنی بیٹی کو بہت سمجھایا پر وہ اپنی ضد پراڑی رہی اور بار بار گھر سے بھاگ جانے کی دھمکی دیتی رہی۔ ببلی نے اپنی بیٹی کی دھمکی کے بارے میں اپنے شوہر کو کچھ نہیں بتایا اور اسے بار بار یہی تسلی دیتی رہی کہ سب ٹھیک ہے۔ شادی کی تیاریاں شروع کر دی گئی تھی۔ پروگرام کے مطابق ببلی کے شوہر کے بھائی کی فیملی پاکستان آ چکی تھی اور الگ گھر میں رہائش پذیر تھی۔ ببلی کی ابھی ان سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ شادی کی تقریب میں تین دن باقی تھے کہ ببلی کی والدہ وفات پا گئی۔ لہذا ببلی کو فوراً اپنے میکے روانہ ہونا پڑا۔ اس کے شوہر نے سختی سے منع کر دیا کہ کسی کو بھی اس فوتگی کے بارے میں مت بتایا جائے۔
ببلی کی عدم موجودگی میں شادی کی تیاریاں جاری رہیں۔ جس دن ببلی کی بیٹی کی رخصتی تھی اسی دن اسکی والدہ کا سوئم کا ختم تھا۔ لہذا ببلی نے ختم کے بعد نکاح کے وقت گھر واپس پہنچنا تھا۔ ببلی کی بیٹی کے سسرال والے  ان کے گھر دو تین مرتبہ چکر لگے چکے تھے اور سب سے مل چکے تھے۔ ببلی کی ابھی تک ان میں سے کسی سے بھی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ مہمانوں کوبہانا بنا کر یہ بتایا گیا تھا کہ ببلی اپنی بیمار ماں کے علاج کے سلسلے میں گھر پر موجود نہیں ہے۔
ببلی جب ںکاح سے کچھ دیر پہلے گھرواپس پہنچی اورجب عامنہ کو ملنے اس کے کمرے میں گئی تو وہ وہاں موجود نہیں تھی۔ ببلی کو آمنہ کا ایک رقعہ لکھا ہوا ملا جس میں اس نے تحریر کیا تھا کہ وہ ایک لڑکا جس سے وہ محبت کرتی ہے اس کے ساتھ گھر سے بھاگ کر جا رہی ہے۔ رقعہ پڑھ کر ببلی کے ہاتھ تھر تھر کانپنا شروع ہو گئے۔ بارات آچکی تھی اور دلہن غائب تھی۔ ببلی نے ہمت کر اپنے شوہر کو کمرے میں بلایا اور سب بتا دیا۔ اسکا شوہر غصے سے پاگل ہو گیا اور ببلی کو ہی اچھا خاصا پیٹ ڈالا۔ اس کی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ وہ فی الحال اس وقت کو ٹالنا چاہتا تھا۔ وہ اپنے بھائی کو دوبارہ ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ اچانک اس کے ذہن میں ایک شیطانی آئیڈیا آیا۔ اس نے اپنی بیوی ببلی کو غور سے سرسے لیکر پائوں تک دیکھا۔ وہ بھی کافی دفعہ اپنی بیوی اور بیٹی کو پہچاننے میں دھوکہ کھا جاتا تھا کیونکہ دونوں کی شکلوں میں مشاہبت بہت زیادہ تھی اور قد کاٹھ، رنگت اور آواز بھی تقریبا ایک جیسی تھی۔
اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ فوراً دلہن والے کپڑے پہن لے اور تیار ہو جائے۔ کسی کو بھی کانوں کان خبر نہیں ہونی چاہیے کہ آمنہ گھر سے بھاگ گئی ہے اور دلہن کے لباس میں ببلی ہے۔ ببلی کے سمجھ کچھ نا آیا تو اس نے شوہر سے پوچھا کہ آپ یہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔ میں دلہن کیسے بن سکتی ہوں۔ میری جگہ آپ کسی اور عورت کو دلہن بنا دے۔ ببلی کے شوہر نے کھا جانے والی نظروں سے اسکی طرف دیکھا اور غصیلے لہجے میں اسے اپنے منصوبے کہ بارے میں آگاہ کیا۔ یعنی جب تک آمنہ نہیں مل جاتی تب تک ببلی اسکی جگہ دلہن بن کر آمنہ بننے کا ناٹک کرتی رہے گی۔ اور ببلی اپنی ہر ممکن کوشش کر کے دلہے کو اپنے قریب نہیں آنے دے گی۔
ببلی کی سمجھ میں اپنے شوہر کی بات آگئی تھی۔ اور اسے یہ بھی تسلی ہو گئی تھی کہ اس کا شوہر آمنہ کو ڈھونڈ کر گولی نہیں مارے گا بلکہ اسے زندہ اس کے سسرال لا کر مجھ سے بدل دے گا۔
منصوبے کے مطابق سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہو گیا تھا اور ببلی اپنی بیٹی کی جگہ رخصت ہو کر اسکے دلہے کے ساتھ بیٹی کے سسرال آ گئی تھی۔ ابھی تک کسی کو بھی ببلی پر شک نہیں ہوا تھا۔ سب لوگ بشمول دلہا اسے آمنہ ہی سمجھ رہے تھے۔ ببلی بہت زیادہ گھبرائی ہوئی تھی۔ وہ ڈر رہی تھی کہ کہیں اسکا جھوت پکڑا ہی نا جائے۔ ببلی دلہن کے لباس اور میک اپ میں بہت زیادہ خوبصورت اور سیکسی لگ رہی تھی۔ دلہا صاحب بار بار چور آنکھوں سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔ دلہا کا نام عامر تھا اوروہ بہت دراز قد اور کثرتی جسم کا مالک خوبصورت لڑکا تھا۔ گو کہ عامر کی پرورش مغربی ماحول اور کلچر میں ہوئی تھی لیکن وہ اپنے والدین سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا۔ اس لیے اس نے اپنے والد کے کہنے پر اس شادی کے لیے رضامند ہو گیا تھا۔ لیکن بعد میں جب اس نے عامنہ کی فوٹو کو دیکھا تو اسکا مشرقی حسن اسے بہت بھایا۔ وہ بہت خوش تھا۔ وہ بے چینی سے اپنی سہوگ رات کا انتظار کر رہا تھا۔ حالانکہ اس سے پہلے عامر کی بہت سی مغربی گرل فرینڈ رہ چکی تھیں اور سب کے ساتھ اسکا جسمانی تعلق بھی رہا تھا۔ لیکن مشرقی لڑکی کی شرم و حیا آج کل اسے بہت اٹریکٹ کر رہی تھی۔ جب سے اس نے آمنہ کو دیکھا تھا اسکا تجس بہت زیادہ بڑھ چکا تھا۔ وہ اس مشرقی حسن کو جلد از جلد بے نقاب کرنا چاہتا تھا تا کہ اس کے تجسس کو تشنگی مل سکے۔
ببلی اپنی زندگی میں دوسری دفعہ دلہن بنی تھی۔ بیٹی کی جگہ دلہن بن کر اسے بہت عجیب لگ رہا تھا۔ وہ بہت زیادہ پریشان تھی۔گھر میں ہرطرف لوگ جمع تھے اور اس کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے۔ پتہ نہیں کون کون اسے مخاطب کر رہا تھا مبارکباد دے رہا تھا اور اسے ڈھیروں سلامیوں کی شکل میں پیسے دے رہا تھا۔
آخر کار ببلی کو دلہن کے کمرے میں پہنچا دیا گیا۔ کمرہ بہت بڑا تھا اور ہر سوں غلاب کے پھول ہی پھول اور اسکی خوشبو دونوں پھیلے ہوئے تھے۔ بیڈ پر خوبصورت مسہری سجائی گئی تھی۔ ببلی پریشانی کے عالم میں پورے کمرے کو دیکھ رہی تھی اور اپنی بیٹی کو کوس رہی تھی۔ کہ اگر وہ انتہائی قدم نا اٹھاتی تو اس وقت وہ یہاں بیٹھی ہوتی اور سب لوگ اپنے اپنے گھر سکون سے بیٹھے ہوتے۔ ببلی سوچ رہی تھی کہ پتا نہیں اسکا شوہر آمنہ کو ڈھونڈ پائے گا یا نہیں۔ وہ دل ہی دل میں دعائیں بھی کر رہی تھی کہ اسکی بیٹی جلد مل جائے اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے۔  ببلی اپنی سوچوں میں گم تھی کہ عامرکمرے میں داخل ہوا۔ ببلی فوراً گھونگھٹ نکال کر بیٹھ گئی۔ ببلی کا دل اتنا زور سے ڈھڑک رہا تھا کہ شاید ابھی سینے سے نکل باہر آجائے۔ عامر پاس آکر بیٹھ گیا۔ اس نے دھیرے سے ببلی کا گھونگھٹ اٹھایا۔ اس کی ٹھوڑی سے پکڑ کرچہرے کو تھوڑا اوپر کیا۔ ببلی کی آنکھیں شرم و حیا سے جھکیں ہوئی تھیں۔ عامر کو اپنی دلہن پر بہت زیادہ پیار آیا اور اس نے آگے بڑھ کر ببلی کے رس بھرے ہونٹوں پر اپنے پیار کی پہلی مہر ثبت کر دی۔ ببلی کے پورے جوسم میں سنسنی سی دوڑ گئی۔ اسکا پورا جسم لرز اٹھا۔ عامر اپنی دلہن کا یہ نظار دیکھ کر جھوم اٹھا۔ اس  نے اپنی جیب سے ایک سونے کی انگھوٹی نکالی اور ببلی کا ہاتھ پکڑ کر اس کی انگلی میں ڈال دی۔ جیسے ہی اس نے ببلی کا ہاتھ پکڑا ببلی کے پورے جسم میں مزید سنسناہٹ سی دوڑ گئی۔ اسکے پورے جسم میں  دوبارہ لرزش شروع ہو گئی۔ عامر نے اسکی پریشانی کو محسوس کر لیا اور اسکے ہاتھوں کو چومتے ہوئے ریلکس ہونے کو کہا۔  ببلی کی گھبراہٹ اور شرم عامر کے جنسی ہیجان کر بڑھا رہی تھی۔ ویسے بھی اس نے ایک نفیس سی ولایتی شراب بھی نوش کی ہوئی تھی۔ شہوانیت اس پر پوری طرح حاوی ہو چکی تھی۔
ببلی گھبراہٹ میں اپنے داماد سے ابھی تک مخاطب نہیں ہو پائی تھی۔ اسکی زبان اسکا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ گھبراہٹ اور کپکپاہٹ کے باوجود ببلی کی چوت میں گیلا پن محوس ہو رہا تھا اور اسکی چھاتیاں اور اسکے نپل اکڑ گئے تھے۔ گناہ اور انجانے خوف سے اسکی آنکھوں سے آنسوں بہنا شروع ہو چکے تھے۔
عامرببلی کی گھبراہٹ اور شرمیلے پن سے بہت زیادہ محظوظ ہو رہا تھا۔ وہ مزید انتظار نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لہذا اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ببلی کے کندھوں کو پکڑا اور تھوڑا اپنی طرف کیا۔ ببلی گھبرائی ہوئے اپنے دماد کے چہرے کو دیکھے جا رہی تھی۔ اس کی تمام سوجھ بوجھ جواب دے چکی تھی۔ عامر نے چند لمحے توقف کے بعد ببلی کے نرم ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے اور ان کا جام پینا شروع کر دیا۔ ببلی کو جب موقع کی نزاکت کی سمجھ آئی تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ عامرنے ببلی کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کردیا۔ ببلی اپنے دماد کی گرفت میں مچل کر رہی گئی۔ اس نے کئی بار عامر کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی پر وہ ٹس سے مس نا ہوا۔ جب جب ببلی عامر سے خود کو آزاد کروانے کی کوشش کرتی تب تب عامر کی رفتار میں اضافہ ہو جاتا۔ عامر اب دیوانوں کی طرح ببلی کے ہونٹوں کو چوم رہا تھا۔ کبھی وہ اوپر والے ہونٹ کو چوستا تو کبھی نیچے والے کو اور کبھی اپنی زبان کو ببلی کے منہ میں گہرائی تک لے جاتا۔ ببلی کے منہ کا ذائقہ اسٹرابری جیسا تھا۔ اسٹرابری عامر کا پسندیدہ پھل تھا۔
ببلی بھی آخر عورت تھی۔ ایک ایسی عورت جسے آج تک اپنے شوہر کی طرف سے بھرپور توجہ نہیں ملی تھی۔ سیکس یا جنسی تسکین تو اس کے لیے شجر ممنوع تھا۔ اپنی بیس سالا شادی شدہ زندگی میں اسے صرف تیس یا چالیس دفعہ اپنے شوہر کی قربت نصیب ہوئی تھی۔ جس میں سے دو دفعہ وہ حملہ ہوئی اور اپنی دو خوبصورت بیٹیوں کو جنم دیا تھا۔ ببلی کا شوہر ایک عیاش جاگیردار تھا جس کا بیسیوں پیشہ وار عورتوں کے ساتھ جسمانی تعلق تھا اس کے علاوہ گھر میں کام کرنے والی گھریلو ملازمائیں بھی اسکی عیاش کی بھیڑ چڑتی تھیں۔ یہں وجہ تھی کہ وہ اپنی بیوی ببلی کی طرف دھیان بہت کم دیتا تھا۔ ویسے بھی جاگیرداروں کی بیویاں صرف بچے پیدا کرنے کے لیے ہوتی تھیں۔
اپنے دماد کی مسلسل پیار بھری کسنگ نے اسے بھی گرم کر دیا تھا۔ ببلی کی چوت مکمل گیلی ہو گئی تھی۔ اس کی چھاتیوں کے نپل اکڑ چکے تھے۔ ببلی نے صدیوں بعدملنے والی جنسی لذت کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور خود کو مکمل طور پر اپنے دلہے یعنی دماد کے سپرد کر دیا۔ اسکا دماد مست ہو کر اپنی ساس کو اپنی دلہن سمجھ کر چوما چاٹی کر رہا تھا۔
لمبی کسنگ کے بعد عامر اٹھا اور اپنی شیروانی اور شلوار کو اتار کر وارڈروب میں رکھ دیا۔ ببلی زندگی میں پہلی بارکی جانے والی کسنگ کے نشے میں دھت بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے انجانی نظروں سے اپنے دماد کو دیکھ رہی تھی۔ ببلی کی ذہن میں اس وقت سوائےشہوانی خیالات کے اور کچھ نا تھا۔ وہ بھول چکی تھی کہ وہ یہاں کس مقصد کے تحت آئی تھی۔
الف ننگا عامر اپنی دلہن بنی ساس کی طرف آیا۔ ببلی نے جب اپنے ننگے دماد کو دیکھا تو اس نے شرمیلے پن کی وجہ سے اپنے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے چھپا لیا۔ عامر کو ببلی کا شرمیلہ پن بہت بھایا۔ اس نے آج تک جتنی بھی خواتین کے ساتھ ہم بستری کی تھی وہ سب لبرل اور بولڈ تھیں۔ اس نے آج تک شرم و حیا کا پیکر لڑکیاں یا عورتٰیں نہیں دیکھیں تھیں۔ لہذاببلی کی شرم و حیا عامر کے شہوانی جذبات کو لو دے رہی تھی۔ اسکا جیسنی ہیجان بلندی کو چھو رہا تھا۔
عامر نے ببلی بیڈپرلیٹا دیا اور اسکے خوبصورت بلائوز کےاندر چھپے چھاتیوں کے ابھاروں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے سہلانے لگا۔ ببلی نے اپنی آنکھوں کو لطیف احساس کی وجہ سے بند کر لیں۔ عامر نے بلائوز کوکھول دیا۔ بلائوز کے نیچے سکن کلر برا میں ببلی کی گول اور سڈول چھاتیاں مخفی تھیں پر ان کے خدوخال برا کے بریک کپڑے میں سے صاف دیکھائی دے رہے تھے۔ ببلی کی آنکھیں بند تھیں پر اسکے چہرے کے ایکسپریشن بتا رہے تھے کہ وہ اس وقت اپنے دماد کے ہاتھوں کے لمس کومحسوس کرتے ہوئے خوب لطف لے رہی ہے۔
عامر نے ببلی کا برا بھی اتار دیا۔ جیسے ہی اسکی نطر دو دوھییا رنگ کی گول اور سڈول چھاتیوں اور اسکے اکڑے ہوئے چوکلیٹی رنگ کے نپلوں پر پڑی تووہ مدہوش ہو گیا۔ اس نے آج تک چھوٹی چھوتی چھاتیاں اور ان پر موجودہلکےغلابی رنگ کے چھوٹے چھوٹے نپل ہی دیکھے تھے۔ ان کے مقابلے میں ببلی کے چوکلیٹی رنگ کے نپل اور چھاتیوں کی گولائی اسے بہت پسند آئی ۔ انکا طلسم عامر پر چھا گیا تھا۔ عامر ایک دم پاگل ہو کر دونوں چھاتیوں پر ٹوٹ پرا۔ جیسے ہی اس نے چھاتیوں کو چومنا چاٹنا شروع کیا تو ببلی کا جنسی ہیجان بھی بلند ہو گیا۔ اس کے منہ سے پہلی دفعہ سسکیاں جاری ہوئی۔
عامر مسلسل آدھا گھنٹا ببلی کی چھاتیوں میں مصروف رہا۔ اسکے بعد اس ایک دفعہ پھر ببلی کو کسنگ شروع کر دی۔ اس دفعہ ببلی نے بھی مدہوشی کے عالم میں اپنے دماد عامر کو خوب رسپونس دیا۔ چنانچہ عامر نے کسنگ کا دورانیہ بڑھا دیا۔ کبھی وہ ببلی کے ہونٹوں اور اسکی زبان کا چوستا تو کبھی ببلی اسکے ہونٹوں اور زبان کو چوستی۔ حالانکہ ببلی زندگی میں پہلی بار کسنگ کر رہی تھی۔ لیکن بہت عمدگی کے ساتھ کسنگ کر رہی تھی۔ حالانکہ وہ کنسگ کا ہنر عامر سےابھی ہی سیکھی تھی۔
عامر نے ببلی کا لہنگا اتار دیا۔ اس نے سر سے لیکر پائوں تک ببلی کے جسم کو سہلایا اور چوما۔ پھر ببلی کی رانوں پر اپنا دیاں ہاتھ بار بار پھیرا۔
اچانک عامر نے اپنی ساس کی برائون چوت پر اپنا ہاتھ پھیرا۔ ببلی کو زور کا جھٹکا لگا۔ ببلی کی چوت گیلے پن کی وجہ سے چمک رہی تھی۔ عامر نے اپنے دیائیں ہاتھ کی درمیانی انگل کے ببلی کی چوت کے اندر داخل کیا تو۔ ببلی کی ہلکی سی سسکی نکل گئی۔ آج بہت عرصے بعد ببلی کی چوت کا کسی نے دروازہ کھولا تھا۔ وہ تو اس احساس کو ہی بھول گئی تھی۔
عامر نے اپنے لنڈ کو ہاتھ میں لیکر سہلایا اور ببلی کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔ ببلی نے شرما کر اپنے ہاتھ کو پیچھے کر لیا۔ اس نے آج تک اپنے شوہر کے لنڈ کو ٹچ کر کے نہیں دیکھا تھا ہاتھ میں اسے پکڑنا تو بہت دور کی بات تھی۔
عامر نے مسکراتے ہوئے ببلی کو ریلکس کیا اور ایک دفعہ پھر اپنا لنڈ ببلی کے ہاتھ میں دے دیا۔ ببلی شرماتے لچاتے ہوئے اپنے دائیں ہاتھ سے کن آنکھیوں سے آہستہ آہستہ عامر کے لنڈ کو سہلا رہی تھی۔ عامر کا لنڈ کافی موٹا اور لمبا تھا۔ ببلی اپنے شوہر کے لنڈ کے سائز کے بارے میں نہیں جانتی تھی۔ کیونکہ اس نے آج تک اپنے شوہر کے لنڈ کو نظر بھرکر دیکھا ہی نہیں تھا اور دوسرا یہ کہ اسکا شوہر سیکس ہمیشہ بتی گل کر کے اندھیرے میں کرتا تھا۔
عامر نے ببلی سے اپنا لنڈ چومنے کو کہا۔ ببلی کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئی۔ پاکستانی معاشرےمیں لنڈ یا چوت کو ناپاک اعضا تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ببلی عامر ڈیمانڈ پر حیرت زدہ ہو گئی۔ کچھ دیر توقف کے بعد عامر نے ببلی کو سمجھایا کہ یہ سب میاں بیوی کے درمیان جائز ہوتا ہے۔ ایسا کرنے سے بہت مزہ ملتا ہے۔ پر ببلی کچھ نا سمجھ پائی۔ عامر نے ببلی کو سمجھانے کے لیے ببلی کی چوت کو چاٹنے کا پروگرام بنایا۔ وہ فوراً ببلی کی ٹانگوں کے درمیاں آیا اور اسکی دونوں ٹانگوں کو اٹھا کر اپنے کندھوں پر اس طرح رکھا کہ ببلی کی چوت بالکل اس کے منہ کے سامنے آگئی۔ عامر نے اپنی زبان باہر نکالی اور ببلی کی چوت کو چاٹنا شروع کردیا۔ جیسے ہی عامر کی زبان نے ببلی کی چوت کو ٹچ کیا تو ببلی نے ایک لطیف سرور محسوس کیا اور غیر ارادہً انگڑائی لی۔ عامر نے اچانک ہی برق رفتاری سے ببلی کی چوت کو چاٹنا شروع کردیا۔ ببلی مچل کر رہ گئی۔ اس بہت زیادہ مزہ آ رہا تھا۔ ببلی کی چوت کو زندگی میں پہلی بار کسی زبان نے ٹچ کیا تھا۔ ببلی کی سسکیاں بڑھ گئی تھی۔
سسکیاں سن کر عامر نے بھی اپنی رفتار مزید بڑھا دی۔ چنانچہ پورے کمرہ ببلی کی سسکیوں میں ڈوب گیا۔ ببلی جنسی ہیجان خیز عروج کو پہنچ چکی تھی اور وہ کسی بھی وقت اپنے زندگی کی پہلی آرگنزم کو پہینچنے والی تھی۔
دس منٹ کی شدید چوت چٹوائی کے بعد ببلی اچانک ڈسچارج ہو گئی۔ اس کی چخیں پورے کمرے میں گونج اٹھیں۔ اسکا پورا جسم پسینے میں بھیگ گیا۔ جنسی لذت کیا ہوتی ہے اسکا ببلی کو آج پتہ چلا تھا۔ عامر ببلی کو سمجھانے میں کامیاب ہو گیاتھا۔ ببلی کوتسلی ہو گئی تھی کہ لنڈ اور چوت کی چٹائی میں بہت مزہ چھپا ہوا ہے۔ چنانچہ ببلی نے پہلی دفعہ اپنی شرم و حیا کو بلائے طاق رکھتے ہوئے عامر کے لنڈ کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور اسے چومنا شروع کر دیا۔ عامر بیڈ پر لیٹ گیا تا کہ ببلی آسانی سے اس کے لنڈ کو چوپا لگا سکے۔ ببلی ابھی چوپا لگانے میں انجان تھی۔ لیکن عامر اسے بتا رہا تھا کہ وہ لنڈ کو کیسے چوپے۔ ببلی عامر کی تمام ہدایات پر ایک اچھی طالبہ کی طرح سمجھ کر عمل کر رہی تھی۔ لنڈ کی ٹوپی بہت بڑی تھی لیکن جیسے تیسے ببلی نے اسے اپنے منہ ڈال لیا۔ پھر عامر کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ببلی نے لنڈ کو اپنے منہ کے اندر گہرائی میں لیجانے کی کوشش کی۔ پہلی دفعہ تو اسےاپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا پر ۔ ایک دو بار کوشش کرنے کےبعد وہ عامر کے لنڈ کو اپنے منہ کے اندر ایڈجسٹ کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ شروع میں ببلی کو تھوری سی کراہیت محسوس ہوئی پر جنسی لذت اور سرور ہر بات پر ہاوی ہو چکی تھی۔ پونے گھنٹے کی انتھک کوشش کے بعد آخرکار ببلی عامر کو ڈسچارج کروانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ عامر نے ببلی کے منہ کے اندر گہرائی میں ہی اپنا گرم پانی چھوڑ دیا تھا۔ عامر کر مادہ منویہ اتنا زیادہ تھا کہ ببلی کا منہ بھر گیا اور تنفس میں رکاوٹ کی وجہ سے اسکی آنکھوں سے پانی باہر نکل آیا تھا۔ ببلی کو عامر کے گرم پانی کو اپنے منہ محسوس کر کے بہت کراہت محسوس ہوئی لیکن پانی کے نمکین ذائقہ اور جنسی سرور نے اسکی سوچ کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ چنانچہ وہ زندگی میں پہلی دفعہ کیس مرد کا مادہ منویہ مزے لے کر پی گئی تھی۔
وہ دونوں اپنے بیڈ پر سیدھے لیٹ گئے تا کہ تھوڑا سا ریلکس کیا جا سکے۔ کمرے میں لگا ہوا کلاک پونے چار کا ٹائم بتا رہا تھا۔ حالانکہ وہ ابھی تک چودائی نہی کر پائے تھے لیکن پھر بھی پچھلے چند گھنٹوں سے مسلسل فور پلے سیکس میں مصروف ہونے کی وجہ سے انہیں ٹائم کا بالکل بھی پتہ نہیں چلا تھا۔ ببلی کی پہلی سہاگ رات بہت ذیادہ مختصر تھی۔ اسکا شوہر اور وہ صرف آدھا گھنٹا ہی ہم بستری کر پائے تھے۔ ببلی آج بہت حیران تھی کہ کیسے وہ چودائی کیے بنا ابھی تک سیکس کے مزے مسلسل لوٹ رہے تھے اور اتنا وقت گذر چکا تھا۔
کچھ دیر عامر نے مشن چودائی کو مکمل کرنے کے لیے اپنے لنڈ کو ببلی کے حوالے کیا اور اسے چوپا لگا نا بولا۔ ببلی نے اب بنا کسی ہچکچاہٹ کے عامر کے لنڈ کو ماہر گشتی عورت کی طرح چوپا لگانا شروع کر دیا۔ عامر نے ببلی کو 69 پوزیشن میں کیا اور خود اسکی چوت کو چاٹنا شروع کر دیا۔ 15 منٹ ایک دوسرے کو چوپا چٹائی کے بعد عامر نے ببلی کو مشنری پوزیشن میں بیڈ پر لیٹایا اور خود اپنے کھڑے لند کو لیکر اس کی چوت کے سامنے آگیا۔ ببلی کے دونوں ٹانگوں کو اپنے کندھوں پر رکھا اور اپنے تنے ہوئے موٹے اور لمبنے لنڈ کو ببلی کی چوت کے اندر داخل کر دیا۔ جیسے ہی اسکی ٹوپی ببلی کی چوت میں داخل ہوئی تو ببلی کو زور کا جھٹکا لگا۔ ایسا اسے پہلی دفعہ ہوا تھا۔ اس پہلے جب جب اس کے شوہر نے اسکے اند ر اپنا لنڈ داخل کیا تھا اسے اتنی درد محسوس نہیں ہوئی تھی۔ عامر نے ببلی کی چیخون کو ان سنا کرتے ہوئے اپنے پورے لنڈ کو آہستہ آہستہ ببلی کی چوت کی گہرائی میں آخر تک اتار دیا۔ ببلی کی آنکھوں سے پانی رواں ہو چکا تھا۔ ببلی کی چوت عامر کے موٹے اور لمبے لنڈ کو برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔
عامر ببلی کی چیخوں پکارسن کر شہوانی پن سے پاگل ہو گیا ۔ اور برق رفتاری سے مشنری پوزیشن میں ببلی کو چودنا شروع کر دیا۔ ببلی روتے ہوئے درد سے عامر سے التجا کر رہی تھی کہ وہ اپنا لنڈ باہر نکال لے۔ لیکن عامر نے اسکی ایک نا سنی اور دیوانہ وار اپنے تیز رفتار جھٹکے جاری رکھے۔ ببلی کی چوت زیادہ سٹریچ نا کر پائی جس کی وجہ سے اسکی چوت میں تھوڑا سا خون بہہ کر بیڈ کی شیٹ پر گر گیا تھا۔
عامر چھوٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ البتہ ببلی کی درد آہستہ آہستہ شہوانی لطف میں تبدیل ہوگئی۔ کوئی پونا گھنٹا شدید چودائی کے بعد آخر کار عامر اپنے ساس کی چوت کے اندر چھوٹ گیا۔ وہ ہانپتا ہوا ببلی کے اوپر ہی لیٹ گیا۔ ببلی نے اس کو اپنی باہنوں میں لے لیا۔
چودائی اتنی شدید تھی کہ وہ دونوں تھکاوٹ میں وہیں ڈھیر ہو گئے۔رات تقریباً بیت چکی تھی اور صبح صادق کا وقت ہونے والا تھا ۔وہ دونوں ابھی تک صرف ایک دفعہ ہی چودائی کرپائے تھے۔ ولیمہ کی تقریب بھی دوپہر میں تھی۔ عامر اپنی سہارگ رات کو بھرپور انجوائے کرنا چاہتا تھا لہذا اس نے ابھی تک سہاگ رات ختم ہونے اندیہ نہیں دیا تھا بلکہ اس نےدوسری شفٹ کے لیے ببلی کی طرف پیار بھری نظروں سے دیکھا۔ ببلی کی حالت خراب تھی۔ جتنا سیکس وہ گذشتہ چند گھنٹوں میں کر چکی تھی اتنا تو اس نے اپنی ساری شادی شدہ زندگی میں بھی نا کیا ہو گا۔ اور ابھی بھی اسکا دماد مزید سیکس کے لیے تیار تھا۔
دماد کی ہدایت پر ببلی نے ایک دفعہ پھر اسکے لنڈ کا چوپا لگانا شروع کیا۔ اس دفعہ ببلی نے بھرپور مست ہو کر اسکے لنڈ کو چوپا لگایا۔ جب اسکا لنڈ اچھی طرح تن گیا تو پھر اس نے ببلی کو لیٹا دیا اور اسکی چوت کو چکنا کرنے کےلیے اسکی چاٹنا شروع کر دیا۔ ببلی شروع میں جن دو چیزوں کو برا سمجھ رہی تھی اب انہی دونوں چیزوں یعنی لنڈکو چوپا اور چوت کی چٹائی میں اسے سب سے زیادہ لطف آ رہا تھا۔ عامر کو سیکس میں تکسانیت پسند نہیں تھی لیکن ببلی کو مشنری پوزیشن میں چود کر اسے بہت مزہ آیا تھا۔ اور وہ اب بھی اسے اسی سیکس پوزیشن میں چودنا چاہ رہا تھا۔ لہذا اس نے ایک دفعہ پھر ببلی کی چودائی شروع کی۔ ببلی ٹانگیں اوپر اٹھی ہوئی تھیں اور اس کے پائوں چھت کی طرف تھے۔ عامر نے اپنا پورا لنڈ ببلی کی چوت میں داخل کیا اور تیز رفتار جھٹکوں سے اپنے لنڈ کو اندر باہر کرنے لگا۔ ہر جھٹکے پر وہ اپنے لمبے اور موٹے لنڈ کو ٹوپی تک باہر نکالتا اور ایک زوردار جھٹکے سے ببلی کی چوت کی گہرائی تک اتار دیتا۔ ببلی کی درد ناک چیخ کمرے میں گونج اٹھتی۔ گو کہ اس دفعہ ببلی کو درد نسبتاً کم تھا اور لطف زیادہ محسوس ہو رہا تھا۔
تقریباً پونے گھنٹے سے زیادہ ہو گیا تھا لیکن عامر ابھی تک زوردار جھٹکوں سے ببلی کو چود رہا تھا۔ ببلی ایک ہی پوزیشن میں چودائی کروا کر تھک گئی تھی۔ اس کی ٹانگوں کے درمیان تھکاوٹ سے درد شروع ہو گئی تھی۔ ببلی نے عامر سے کچھ دیر رکنے کو کہا لیکن اس نے ایک نا سنی اور پوری لگن کے ساتھ اپنی ساس کی چودائی میں مگن رہا۔ پچھلی بار کی نسبت اس دفعہ عامر کو ڈسچارج ہونے میں کچھ زیادہ وقت لگ رہا تھا۔ روشن دان سے روشنی کی کرنیں کمرے میں داخل ہو رہی تھیں۔ صبح ہو گئی تھی اور چند لمحوں تک سورج طلوع ہونے والا تھا۔ ببلی چودائی کروانے کے ساتھ ساتھ یہ سوچ رہی تھی کہیں گھر میں سب اٹھ ہی نا گئے ہوں اور کوئی کمرے میں ہمیں جگانے کے لیے نا آجائے۔ ببلی کا جنسی ہیجان خیزی عروج پر پہنچ رہی تھی اور وہ کسی بھی وقت فارغ ہو سکتی تھی۔ وہ مدہوشی میں اپنے دماد کو چودتا ہوا دیکھ رہی تھی۔ ببلی جیسے فارغ ہوئی تو عامر کی رفتار میں بھی اضافہ ہو گیا اور کچھ لمحوں بعد اس نے اپنے مادہ منویہ کو اپنی ساس کی چوت کے اندر ہی ڈسچارج کر دیا۔ عامر ببلی کے الف ننگے جسم کے اوپر ہی لیٹ گیا۔ دونوں بری طرح ہانپ رہے تھے جیسے تیز رفتاری سے بھاگ کر آئے ہوں۔
ببلی نے اپنے دماد کو ریسٹ کرنے کو کہا۔ کیونکہ چند گھنٹوں بعد ولیمہ کی تقریب تھی۔ اسکی تیاری بھی کرنی تھی۔ عامر نے ببلی کی نشیلی آنکھوں میں دیکھا اور اسے ایک لمبنی فرنچ کس کی اور اس نے مسکرارے ہوئے کہا کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔ ببلی یہ سن کر پریشان ہو گئی۔ اس چودائی کروا کر مزا آہ رہا تھا لیکن وہ دن چڑھ جانے اور گھر میں سب لوگوں کے جاگ جانے سے پریشان تھی۔ ویسے بھی اسکے گھر سے ان کے لیے ناشتہ بھی کسی نے لیکر آنا تھا۔ بحرحال عامر اپنی ضد پر قائم رہا اور کچھ دیر ریسٹ کرنے کے بعد اس نے اپنی تیسری شفٹ شروع کر دی تھی۔ ببلی سوچ رہی تھی کہ پہلی شفٹ سے زیادہ وقت دوسری شفٹ میں لگا اور اب تیسری میں تو اس سے بھی زیادہ وقت لگے گا۔
عامر نے ببلی کی چودائی شروع کر دی تھی۔ نو بجے کے قریب ان کے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی۔ عامر کی والدہ دلہے اور لہن کو جگانے آئی تھی اور ناشتے کا کہنے آئی تھی۔ پر ببلی اور عامر خاموش رہے اور چودائی کے عمل کو جاری رکھا۔ گھنٹے کے بعد عامر اپنی تیسری باری کو ختم کرنے میں کامیاب ہوا۔ اس دوران کوئی تین دفعہ ان کے کمرے پر دستک دی گئی۔
اتنی لمبی چودائی کروانے کے بعد ببلی کا اور اسکی چوت کا برا حشر ہو چکا تھا۔ اسکی چوت سوج کر آٹے کی طرح پھول گئی تھی۔ اس سے ہاتھ تک نہیں لگایا جا رہا تھا۔ ببلی جب واش روم گئی تھی اسے بیشاب کرنے میں بھی کافی دقت ہوئی۔ ببلی کی چھاتیوں پر جگہ جگہ عامر کے دانتوں کے نشان تھے جو اس نے جوش اور پیار میں لگائے تھے۔ ببلی کے دونوں نپل بھی بہت زیادہ درد کر رہے تھے۔
ببلی جب نہا کر کمرے میں واپس آئی تو اسے چکرآگیا اور نیچے گر گئی۔ ڈاکڑ کو بلوایا گیا۔ ببلی کو بخار ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر نے ببلی کو آرام کا مشورہ دیا اور عامرکو علیحدگی میں جا کر کہا کہ وہ ہم بستری میں ہاتھ تھوڑا ہلکا رکھے۔
ولیمہ کی پوری تقریب میں ببلی کی طبیعت خراب رہی جب تقریب ختم ہوئی تو ببلی کے شوہر نے اسے رواج کے مطابق اپنے ساتھ لیجانے کا کہا۔ عامر نے اپنے والدین سے کہا کہ وہ بھی ساتھ جانا چاہتا ہے۔ ببلی عامر کی بات سن کر پریشان ہو گئی تھی۔ وہ گھر جا کر ریسٹ کرنا چاہتی تھی۔ اس کےپورے جسم اور چوت میں ابھی تک رات کی چودائی کی وجہ سے درد محسوس ہو رہی تھی۔ وہ آج کی رات عامر کی چودائی کو برداشت کرنے سے قاصر تھی۔ عامر اپنی بات اڑا ہوا تھا۔
رواج کے مطابق ببلی نے ولیمے تقریب کے بعد اپنے میکے واپس جانا تھا اور اگلے دن دلہے نے اسے لینے آنا تھا۔ پر دلہے میاں یعنی عامر کو سہاگ رات پر ببلی کی شاندار چودائی کا اتنا مزہ آیا تھا کہ وہ ببلی کے بغیر آج رات اکیلے نہیں گزارنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنے سسر سے درخواست کی کہ وہ بھی اپنی دلہن کے ساتھ آنا چاہتا ہے۔ ببلی کی توجان کوبن آئی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ عامر ان کے ساتھ جائے۔ ایک تو ببلی کی رات والی چودائی سے بہت زیادہ طبعیت خراب تھی اور دوسرا یہ کہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کے شوہر زرا سا بھی شک ہو کہ اس نے اپنے دماد سے چودائی کروا لی ہے۔
ببلی کے شوہر نے ریت رواج کا بہانا بنا کر عامر کو ساتھ آنے سے منع کر دیا۔ عامرکا چہرہ اتر سا گیا۔ ببلی کو اس پر بہت ترس آیا ۔ اسکا دل بھی عامر سے دور جانے کو نہیں کر رہا تھا۔ صرف ایک رات میں عامر نے ببلی کو اپنا دیوانا بنا لیا تھا۔ ببلی کو اس سے پہلے اتنی جنسی آسودگی اور پیار اپنے شوہر سے نہیں ملا تھا لہذا یہ ایک فطرتی عمل تھا کہ ببلی کے دل میں عامر کے لیے انس پیدا ہو گیا تھا۔
گھرپہنچتے ہی ببلی کے شوہر نے اسے الگ کمرے میں لیجا کر رازداری سے رات کے بارے میں پوچھا تو ببلی نے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئےکہا کہ رات بچت ہو گئی اور اس نے عامر کو اپنے قریب نہیں آنے دیا۔ ببلی نے مزید بتایا کہ اس نے اپنی طبعیت خراب ہونے کا بہانا بنایا تھا۔  ببلی نے اپنے شوہر سے آمنہ کے بارے میں پوچھا تو اس نے غصے دیوار میں مکا مارتے ہوئے کہا کہ پتہ نہیں وہ کہاں دفعہ ہو گئی ہے اسے آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی۔ ببلی نے پریشان ہوتے ہوئے شوہر سے کہا کہ آمنہ کو جلد از جلد ڈھونڈنا ہوگا ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔ میں زیادہ دیر عامر کو قریب آنے سے نہیں روک سکتی۔
ببلی کا شوہر یہ سن کر بہت زیادہ پریشان ہو گیا تھا۔ گو کہ وہ اپنی بیوی کو زیادہ وقت نہیں دیتا تھا لیکن تھی تو وہ اسکی بیوی اور وہ اپنی عزت کو خود اپنے ہاتھوں سے برباد نہیں کرنا چاہتا تھا۔ باتوں کے دوران ہی ببلی کے شوہر کوکسی کا فون آیا ۔ اس نے ببلی کو بتایا کہ آمنہ کے ٹکھانے کا پتہ چل گیا ہے۔ وہ دوسرے شہر ہے۔ میں اپنے بندے لے کر وہاں جا رہا ہوں۔ ببلی یہ سن کر بہت خوش ہوئی لیکن جیسے ہی اس کے ذہن میں کل رات والی حسین یادیں آئیں تو وہ اداس ہو گئی۔ اس دل میں خواہش جاگی کہ کاش آمنہ ابھی نا ملتی کچھ دن بعد ہی مل جاتی۔ یہ سوچتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو دھلک کر اسکے گالوں پر آگائے۔ وہ اپنے رویے پر بہت زیادہ حیران ہوئی۔ کہاں وہ ایک گھریلو، ڈری سہمی سی عام سی روایتی عورت تھی اور کیسے صرف آیک رات نے اس کی شخصیت کو بدل کے رکھ دیا تھا۔
گھر پر اس کے شوہر نے اپنی پرانی ملازموں کو تبدیل کر دیا تھا تا کہ راز کہیں فاش نا ہو جائے۔ ببلی چونکہ میڈیسن لی ہوئی تھی لہذا وہ اپنے کمرے میں آکر لیٹ گئی۔ وہ عامر کو مسلسل یاد کرتی کرتی سو گئی۔
ببلی گہری نیند سو رہی تھی کہ اسے محسوس ہوا کہ کوئی اسکی قیمض میں ہاتھ ڈال رہا ہے۔ وہ اچانک ہڑبڑھا کراٹھ گئی۔ اسکا دل زور سے ڈھڑکا رہا تھا۔ جب اس نے اپنی آنکھیں مل کر دیکھیں تو اس کے ساتھ بیڈ پر عامر لیٹا ہوا مسکرا رہا تھا۔ وہ اسے دیکھ کر پہلے تو حیران ہوئی پھر کچھ یاد آنے بعد مسکرا دی۔ عامر باوجود کوشش کے رہ نہیں پایا تھا اور اپنے سسرال اس وقت دھوڑا آیا جب اسے علم ہوا کہ اسکا سسر کسی اہم کام کے سلسلے سے شہر سے باہر جا رہا ہے ۔
ببلی نے سوچا کہ شاید یہ آخری چانس ہے عامر سے چودائی کروانا کہ لہذا وہ خوش ہو گئی۔ عامر نے ببلی کو اپنی باہنوں میں لے لیا اور اسے اپنے اوپر پیٹ کے بل لیٹا کر اسے زبردست سی کسنگ شروع کردی۔ ببلی اس کی جارحانہ کسنگ سے مدہوش ہو گئی اور اسے نے بھی اپنا ردعمل جارحانہ انداز میں دیا۔ عامر ببلی سے ایسے لپٹا ہوا تھا کہ جیسے صدیوں بعد ملا ہو۔ عامر نے جی بھر کر ببلی کے ہونٹوں کا رس پیا پھر اس کے گالوں کو چوما پھر اسکی صراحی دان گردن کو چومتے چومتے اسکی چھوتیوں تک پہنچ گیا۔ عامر نا صرف چوم رہا تھا بلکہ پیار کے ساتھ ہر جگہ پرہلک ہلکہ کاٹ رہا تھا۔ جسکے نشان ببلی کے جسم پر بنتے جا رہے تھے۔ عامر جب جب کاٹتا ببلی کی ہلکی سی سسکی نکلتی۔ اسے درد کے ساتھ ساتھ مزا بھی آرہا تھا۔
عامر نے ببلی کی پھولدار پرنٹڈ قمیض اور براکو اتار دیا۔ ببلی کی گول مٹول اور سڈول چھاتیاں اسکے سامنے تھیں۔ اس نے دونوں چھاتیوں کو ایک ایک کر اچھی طرح سہلایا اور پھر ان کو اوپر سے لیکر نیچے تک ساری گولائی کو خوب چوما اور ہلکا ہلکا کاٹا۔ ببلی کے چوکلیٹی رنگ کے نپل جوش سے تن کر کھڑے ہوگئے تھے۔ عامر نے دونوں نپلز کو خوب چوسا اور کاٹا۔ نپلوں پر دانت سے کاٹنے پر ببلی کو زیادہ درد ہوا ۔ ایک دفعہ تھا اسکی شدید چیخ نکل گئی۔ ببلی نے عامر کو فوراً اپنی ممے سے دور دھکیل دیا۔ لیکن عامر ضدی تھا وہ جھٹ سے واپس پہنچ گیا۔ درد سے ببلی کی آنکھوں میں پانی بھر گیا۔ عامر نے ببلی سے سوری کیا اور اب آرام سے چومنے کا وعدہ کیا۔
عامر سیکس میں کچھ کچھ تشدد پسند انسان تھا۔ عورت کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اور اسکی سسکیاں سن کر اس کا جنسی ہیجان خیزی عروج پرپہنچ جاتی تھی۔ عامر ببلی کے پستانوں سے کھیلنے کے بعد اب اپنی اصل منزل کی طرف رواں دواں تھا۔ اس نے ببلی کی شلوار کو اتار دیا۔ جیسے ہی اس نے ببلی کی چوت کو چھوا تو ببلی کی درد سے چیخ نکل گئی۔ ببلی کی چوت کل کی لمبی چودائی سے پھول کر بھوسا بنی ہوئی تھی۔ عامر نے بھی ببلی کو سوجی ہوئی چوت پر نگاہ دوڑائی تو وہ بہت مایوس ہوا۔ اسکا دل ایک اور شاندار چودائی کرنے کو کر رہا تھا۔ ببلی نے اس کے اترے ہوئے چہرے کو دیکھا تو اس نے کہا کہ میں تمہارے لنڈ کو چوپا لگا کر ڈسچارج کروا دیتی ہوں۔ عامر نے کچھ دیر سوچنے کے بعد اپنے کپرے اتار دیے اور اپنا لنڈ کو ببلی کی کسٹڈی میں دے دیا۔ ببلی نے کل رات کی سیکھیں ہوئی باتوں کو ذہن میں دہرایا اور لنڈکو ایک ماہر گشتی عورت کی طرح چوپا لگانا شروع کر دیا۔
کل رات سے پہلے ببلی کو چوپا لگانا نہیں آتا تھا۔ بلکہ وہ لنڈ یا چوت کو ناپاک سمجھتی تھی۔ لیکن عامر نے ببلی کی چوت کو چاٹ چاٹ کر اسے اس بات پر قائل کر لیا تھا کہ ان ناپاک عضووں میں ہی بہت مزہ چھپا ہوا ہے۔ عامر ابھی بھی ببلی کو چوپا لگانے کی مزید تکنیک سمجھا رہا تھا۔ اس نے ببلی سے کہا کہ اپنی زبان کو کچھ دیر کے لیے لنڈ کی ٹوپی کی اوپر گول دائرے میں مس کر کے گھمائے۔ ببلی نے ویسے ہی کیا۔ اس نے مزید کہا کہ ببلی اپنی زبان کو باہر نکال کر برش کی طرح پورے لنڈ پر اوپر سے لیکر نیچے تک زبان کو پھیرے۔ ببلی ہر بات کو اچھی طرح سمجھ رہی تھی اوراس پر عمل کر رہی تھی۔ کچھ دیر بعد عامر نے ببلی سے کہا کہ وہ اس کے لند کے ساتھ لگی گولیوں کو بھی چومے اور منہ میں لیکر چوپا لگائے۔
گو کہ عامر کو آج چوت کی چودائی کا مزہ نہیں ملنا تھا لیکن وہ ببلی کو نت نئے طریقے بتا کر اپنے لنڈ کا چوپا لگوا رہا تھا اور خاصہ محظوظ ہو رہا تھا۔ شادی سے پہلے اس نے پاکستانی خواتین کے بارے بہت کچھ سنا اور پڑھا تھا۔ کسی حد تک وہ مایوس ہوا تھا کہ پاکستانی خواتین زیادہ تر روایت پسند اور رجعت پسند ہوتی ہیں۔ چونکہ وہ ایک لبرل انسان تھا اور سیکس کا دلدادہ تھا۔ اسکا نظریہ تھا کہ سیکس میں کوئی حد مقرر نہیں ہونی چاہیے۔ ببلی کی بیٹی کی جب اس نے فوٹو دیکھی تو وہ مشرقی حسن کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا تھا اور اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ نا صرف اس مشرقی حسن کو حاصل کرے گا بلکہ اسے سیکس کے حوالے سے ہر بات سیکھائے گا اور کرنے پر مجبور کرے گا۔
ببلی چوپا لگاتے ہوئے یہ سوچ رہی تھی کہ اسے جو سیکس کی لت لگ گئی ہے اس کی بیٹی جب واپس آجائے گی تو وہ کیا کرے گی۔ مزے کے ساتھ ساتھ وہ غمزدہ بھی تھی۔ اسے پتہ تھا کہ اس کے پاس بس آج کی رات ہے۔ اس کے بعد شاید اسے زندگی بھر دوبارہ سیکس کا مزہ نصیب نا ہو۔
تقریباً پونے گھنٹے بعد عامر نے ببلی کو کہا کہ وہ فارغ ہونے والا ہے لہذا وہ چوپے کی رفتار تیز کر دے۔ ببلی نے زور زور سے لنڈ کو اپنے منہ کے اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔ چند لمحوں بعد عامر کا لنڈ ببلی کے منہ کے اندر ڈسچارج ہو گیا۔ آج بھی عامر کی لنڈ سے نکلنے والی منی کی مقداربہت زیادہ تھی اور ببلی کا سارا منہ مکمل بھر گیا۔ ببلی ساری منی کو ایک ہی گھونٹ میں پی گئی۔ آج اسے زیادہ کراہت محسوس نہیں ہوئی تھی۔ بلکہ نمکین لیس دار مادہ اسے اچھا لگا تھا۔
عامر کا لنڈ ڈسچارج ہونے کے بعد شانت ہو گیا تھا پر ببلی ابھی بھی لنڈ کے دہانے سے نکلنے والے منی کے قطروں کو چوس رہی تھی۔ عامر مدہوش نظروں سے ببلی کو دیکھ رہا تھا اور مسکرا رہا تھا۔ وہ خوش تھا کہ اس نے اپنی رجعت پسند اور شرمیلی بیوی کو صرف ایک رات میں ہی اپنے لنڈ کا دیوانا بنا دیا تھا۔
ببلی نے جب اپنا کام مکمل کر لیا تو وہ عامر کے اوپر سینے کے بل لیٹ گئی۔ عامر نے اسے اپنی باہنوں کے مضبوط شکنجے میں لے کر اسے ایک زبردست سا کس کیا۔ وہ دونوں کچھ دیر خاموشی سے اسی طرح لیٹے رہے۔ کچھ دیر بعد ببلی کی ران سے ایک چیز ٹچ ہوئی اس نے دیکھا تو عامر کا لنڈ کھڑا ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ ببلی نے لنڈ کے بعد عامر کی طرف دیکھا تو مسکر ا دیا۔ ببلی نے شرماتے ہوئے کہہ کہ دوسری باری کا وقت آگیا۔
ببلی نے اپنی ایک دفعہ اپنی پوزیشن سنبھالی اور چوپے کے بارے میں سیکھیں ہوئے اپنے تمام اسباق کی عملی مشقیں دہرانا شروع کر دیں۔ ببلی جانتی تھی کہ دوسری باری میں لنڈ کو کھڑا کرنے اور ڈسچارج کروانے میں زیادہ وقت لگے گا۔ لہذا اس نے ہمت اکٹھی کی اور اپنے کام پر لگ گئی۔
تقریبا ً ایک گھنٹے سے زیادہ کا وقت گذر چکا تھا لیکن عامر ڈسچارج نہیں ہو رہا تھا۔ چوپا لگا لگا کر ببلی نا صرف تھک گئی تھی بلکہ اسے جبڑے درد کر رہے تھے۔ ببلی نے مسکین سی شکل بنا کر عامر کی طرف دیکھا۔ عامر نے کچھ توقف کے بعد ببلی کو کمرے کے بل لیٹنے کو کہا اور خود اس کے پیٹ کے اوپر اس طرح چڑھ گیا کہ ببلی عامر کے دونوں گھٹنوں کے درمیان میں آگئی اور عامر کا لنڈ ببلی کی چھاتیوں کے درمیاں میں آ گیا۔ ببلی کچھ سمجھ نہیں آئی کہ عامر کیا کرنا چاہا رہا تھا۔ عامر نے ببلی کو بتایا کہ وہ اس کی چھاتیوں کو چودنا چاہ رہا ہے۔ ببلی نے حیرانی سے پوچھا کہ چھاتیوں کو کیسے چودتے ہیں۔ چنانچہ عامر نے اپنے تنے ہوئے لنڈ کو ببلی کی دونوں گول اور سڈول چھاتیوں کے درمیان میں رکھا اور اسے کہا کہ وہ اپنی دونوں چھاتیوں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دے۔ جب ببلی نے عامر کی ہدایت پر عمل کیا تو اس کی دونوں چھاتیوں کے درمیان عامر کر لنڈ پھنس گیا۔ عامر نے لنڈ کو آہستہ آہستہ جھٹکے مارنا شروع کر دیے۔ اسکا لنڈ ببلی کی چھاتیوں کو درمیان سے چیرتا ہوا اوپر نیچے ہو رہا تھا۔ ببلی کو اب پتہ چل گیا تھا کہ چھاتیوں کو کیسے چودا جاتا ہے۔ ببلی کی چھاتیاں مزید تن گئی تھیں اور اسکے چوکلیٹی نپل بھی جوش سے کھڑے ہو گئے تھے۔
عامر نے اپنی رفتارکو بڑھا دیا تھا۔ اب ببلی کو چھاتیوں کے درمیان درد محسوس ہونا شروع ہو گیا تھا۔ لیکن وہ عامر کو مایوس نہیں کرنا چاہتی تھی۔ جب لنڈ کی پھسلن کم ہو جاتی تو عامر اپنے لنڈ کو ببلی کے منہ میں ڈال دیتا تاکہ اسکا لنڈ ببلی کی تھوک سے چھاتیوں کے درمیان رواں رہے۔ کم از کم آدھے گھنٹے بعد عامر کلائمیکس پر پہنچ گیا اور اس نے ببلی کے چہرے اور اسکی گول چھاتیوں پر اپنی تازہ منی کا چھڑکائو کر دیا۔ ببلی کے گندمی جسم پر عامر کی سفید منی چمک رہی تھی۔
ببلی نے عامر کے اس نئے انداز کو بھی بہت زیادہ پسند کیا۔ ببلی کی سہلیوں اور رشتہ دار خواتین نے کبھی بھی مخصوص انداز کے علاوہ سیکس کرنے کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔ لیکن ببلی صرف دو دن میں ہی سیکس کے بارے میں بہت کچھ جان کر حیران ہو رہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ ابھی پتہ نہیں کتنے راز اور اس پر افشا ہونے والے تھے۔
ببلی کا شوہر دوسرے شہر گیا ہوا تھا لہذا عامر ببلی کے ساتھ اپنے سسرال میں ہی سو گیا۔ سونے سے پہلے عامر نے ببلی کی چھاتیوں کو ایک دفعہ پھر جم کر چودا تھا۔ اگلے دن جب ببلی کا شوہراکیلا واپس آیا تو  اس کے چہرے پر چھائی ہوئی مایوسی سے صاف دیکھائی دے رہا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو نہیں ڈھونڈ پایا تھا۔ ببلی کے شوہر نے جب عامر کو اپنے گھر میں دیکھا تواس کی مایوسی اورغصے میں مزید اضافہ ہو گیا۔ وہ اپنے دماد کو بس تھوڑا سا سلام دعا کرنے کے بعد اپنے کمرے میں آگیا۔ ببلی نے عامر سے کہا کہ شاید اسکے والد صاحب کچھ پریشان ہیں آپ پلیز ناراض مت ہونا۔ عامر نے ببلی کو مسکرا کر کہا کہ میں کسی بات پر ناراض نہیں ہوں۔ تم اپنے والد کے پیچھے جائو اور ان سے وجہ دریافت کرو۔
چنانچہ ببلی اپنے شوہر کے کمرے میں آگئی۔ اس کے شوہر نے اس ساری تفصیل بتا دی کہ ان کی بیٹی اپنے آشنا کے ساتھ ملک سے باہر فرار ہو گئی ہے۔ ببلی نے یہ سن کر مصنوعی پریشانی کو اپنے چہرے پر تاری کر لیا اور اپنے شوہر سے کہنے لگی کہ اب کیا ہوگا۔ آمنہ کا شوہر تو بہت زیادہ ضدی ہے میں خود کو اس سے کیسے بچا پائوں گی۔ حالانکہ ببلی کے دل میں خوشی کے لڈو پھوٹ رہے تھے۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ابھی عامر کے ساتھ اسکی بہت ساری چودائیاں ہونے والی تھیں۔ ببلی کا شوہر کافی دیر خاموشی سے سوچتا رہا۔ ببلی اپنے شوہر کی خاموشی سے بہت زیادہ پریشان ہو گئی تھی اور سوچ رہی تھی کہ پتہ نہیں اس کا شوہر اب کیا منصوبہ بنا رہا ہے۔

جاری ہے

لکھاری نے کہانی یہاں تک لکھی ہے

335

Posted on: 01:20:AM 11-Feb-2021


0 0 190 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 75 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 59 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com