Stories


ٹین ایج سے لے کر جوانی تک سیکس کا سفر از کامران ٹرپل ایکس

نامکمل کہانی ہے

دوستوں میرا نام کامران شاہ ہے میں وہ شاہ نہیں ہو ں جو بہت معروف لکھاری ہیں رومانٹک کہانیوں کے اور اپنی ملازمت کا اکثر اوقات ذکر بھی کرتے رہتے ہیں وہ میرے  لیے بہت قابل احترام  اور بڑے رائیٹر ہیں میں تو ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہوں ۔میری یہاں پہ یہ پہلی کہانی ہے لیکن اس سے قبل میں دیگر جگہوں پہ لکھتا رہا ہوں اس کہانی کو شروع کرنے سے پہلے ایک تحمید ہے جس کو پڑھنا (برداشت کرنا ہوگا) کیونکہ جب تک میں آپکو پوری آگاہی نہیں دونگا میری اس کہانی کا مکمل مزہ نہیں مل سکے گا اس لیئے  میں امید کرتا ہوں کہ آپ میری کہانی کی چند اقساط پڑھنے کے بعد ہی رائے دیجئے گا  ویسے اس سے پہلے بھی دینے پہ پابندی نہیں ہے اس کہانی سے یہ امید وابستہ مت کیجئے گا کہ شروع کیا اور  چند سیکس کے الفاظ استعمال کیئے فارغ ہوئے کہانی ختم
یہ ایک پوری یاد داشت پہ مبنی  طویل کہانی ان باذوق قارئین کے لیئے ہے جو سیکس کو حقیقت کے روپ میں پڑھنا سننا پسند کرتے ہیں  جس میں  حقیقت زیادہ بناوٹ کم ہو  بس ایک بات  کہانی میں دلچسپی بڑھانے اور چند دوستوں کی خواہش کے پیش نظر شامل کی ہے جو پڑھ کے آپ کو بھی اندازہ ہو جائے گامیں نے ایک بار پڑھا تھا کہ پیٹ کی بھوک اور جنس کی بھوک کبھی ختم نہیں ہوتی اور اگر پیٹ میں اناج ہو تو  جنس کی بھوک اور بھی بڑھ جاتی ہے اس بات کی صداقت کا احساس نوجوانی میں اچھی طرح سے ہوا میری سیکس کی زندگی کا آغازاور اس کو بیان کرنے سے قبل ایک بات میں آپکو بتانا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ  میری بات کو آپ اچھی طرح جان سکیں  راج کپور انڈین   اداکار جو ور سٹائل تھا میرا پسندیدہ رہا ہے اس نے جو بھی فلم بنائی بیشتر فلموں میں سیکس کو اس کے قدرتی انداز اور حقیقت کےقریب تر پیش کیا
اس کی مشہور لازوال فلم میرا نام جوکر میں اس نے جس طرح سیکس اورجذبات  کوعمدہ طریقے سےپیش کیا اپنی مثال آپ ہے اس نے اپنے ہی خاندان کے بیٹے رشی کپور کو جب وہ کوئی دس بارہ سال کا تھا اس فلم میں پیش کیا اور اس میں رشی کپور اس کم سنی میں ہی اپنی سکول ٹیچر کو ننگے نہاتے ہوئے دیکھتا ہے بعد میں وہ بڑا ہو کے خود راج کپور فلم میں جوکر کا رول نبھاتا ہے سیکس ایک حقیقت ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا
میری اس کہانی میں بھی آپکو میری کم سن عمر کے بھولے اور معصوم دور سے لیکر نوجوانی تک کے سفر میں پیش آنے والے سیکس کے واقعات اپنی اصل حالت میں  پڑھنے کو ملیں گے شائد میرے کئی واقعات آپکی زندگی سے بھی ملتے جلتے ہوں اور ایسا ممکن ہے کیونکہ بچپن کے کئی واقعات اکثر ملتے جلتے ہوتے ہیں آج میں پچاس برس کا مرد ہوں میری تاریخ پیدائش انیس سو پینسٹھ ہے اب میں سیکس کا ماسٹر سمجھتا ہوں اپنے آپ کو بہت ایکسپرٹ خیال کرتا ہوں
 لیکن میں نے ہر بار کچھ نیاسیکھا نیا پڑھا اور اپنے آپکو کم تر ہی پایا
لیکن ہماری فطرت ہے کہ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں  اب اس عمر میں مجھے کچھ سیکس بارے معلوم ہے لیکن بچپن میں بالکل اناڑی تھا مجھے سوائے  عورت کے ننگے بدن کو دیکھنے کے علاوہ کسی مزے کا معلوم ہی نہیں تھا اور نا اندازہ تھا کہ سیکس کمال کی چیز ہوتی ہے میں اس وقت پانچویں کلاس میں پڑھتا تھا پہلے میں آپکو بتا دو کہاں رہتا تھا میں اس وقت پاکپتن میں رہتا تھا ہمارا خاندان مڈل کلاس سے تعلق رکھتا تھا اور عام طور پہ لوگ ہمیں امیر ہی خیال کرتے تھے لیکن حقیقت میں ہم نارمل لیکن رکھ رکھاو والے لوگ تھے اور بھرم کبھی نہیں جانے دیا
ہمارا اچھا مکان تھا صاف ستھرا لیکن کلچر وہی تھا کہ رات کو گرمیوں میں چھتوں پہ سونا دوپہر کو گرمی کے باوجود پتنگ اڑانا اور پاس والی چھت پہ جب کوئی لڑکی کپڑے ڈالنے والی آتی تو اس کو چوری چوری شرماتے ہوئے دیکھناا ور جب کبھی سامنے آئے تو ایکدم سے باجی کہنا بعد میں پچھتانا کہ باجی نا کہتا شائد کبھی اس کو سیکس کر لیتا لیکن ابھی میں آپکو اس سے بھی قبل کی بار بتا رہا ہوں تب میں بہت معصوم ہوتا تھا لیکن سیکس کے بارے قدرتی طور پہ  کریز تھا مجھے ان دنوں جب میں پانچویں جماعت کا طالب علم تھا ہمارے ہمسائے میں ایک خالی مکان تھا
اس میں نئے کرایہ دار جو آئے تھے وہ ہیڈ ماسٹر صاحب تھے جو دوسرے ضلع سے یہاں ٹرانسفر ہو کے  آئے تھے نہائت شریف آدمی ان کی فیملی بھی شریف تھی لیکن ان کی ایک بیٹی بہت سیکسی اورٹین ایج تھی وہ چنچل بھی تھی اور اس سے مل کے مجھے پہلی بار پیار ہوا اس کو دیکھا تو میرے اندر کا ٹین ایج  لڑکا ایک دم سے مرد بن گیا
مجھے اس روز محسوس ہوا کہ لڑکی کیا ہوتی ہے اور اس کے سیکسی   جنسی اعضا کیا کمال کے پیارے ہوتے ہیں وہ جب بھی تیز تیز چلتی تو اس کے نمایاں ممے جن کا اب مجھے اندازہ ہے کہ وہ اس وقت چونتیس سائز کے ہونگے بعد میں مزید بڑے ہوئے ان کو بھی میں نے ہپی بڑا کیا تھا چھتیس سائز کر دیا تھا چوس چوس کے لیکن ان دنوں مجھے سائز سے کوئی سروکار نہیں  تھا مجھے ممے دکھائی دئے بس اور میرا  قد نکالتا ہوا کنوارا لن تھوڑ ا سا مچل گیا اور دوستوں پہلی بار میری ٹین لن میں ہلچل ہوئی اور وہ اوپر نیچے ہونے لگا کیا مزیدار فیلنگ تھی بیان نہیں کر سکتا
مجھے بس اتنا معلوم ہوا کہ یہ لڑکی ہے خوبصورت ہے اس کی ابھری ابھری چھاتیاں ہیں اس کی گانڈ کسرتی تھی لیکن جب چلتی تو کچھ ہلتی تب میرا دل کرتا اس کی گانڈ پہ دانت گاڑ دوں لن ڈالنے کا اتنا معلوم نہیں تھا بس دل کرے اس کی گانڈ پہ کاٹو ا سکی سی سی کی آواز سنائی دے یہ سوچ سوچ کے میرا ننھا منا سے لن اور بھی سیدھاہو گیا اور بیٹھ نہیں رہا تھا
میری شلوار سے وہ نمایاں ہونے لگا تو میں پریشان ہو گیا کیونکہ میرا لن نظر آرہا تھا ابھار سے مجھے شرم آنے لگی اور فکر بھی ہوئی کہ اس کو کیسے بٹھایا جائے میں نے  ذہن کو بدلنے کی کوشش کی لیکن نہیں بیٹھ رہا تھا میں اس وقت اس کے گھر میں ہی تھا کیونکہ ہم چور سپاہی اس کے گھر میں ہی کھیلتے تھے تب اس کی بڑی بہن بھی ہماری ساتھ کبھی کبھی شامل ہو جایا کرتی تھی اس کی بڑی بہن دسویں کی طالبہ تھی وہ لڑکی جو مجھے اچھی لگنے لگی تھی وہ بھی مجھ سے بڑی تھی وہ آٹھویں کلاس میں تھی اب اس دور میں  تو اتنی عمر کی لڑکیاں کم ہی لڑکوں کے ساتھ کھیلتی  ہیں
  لیکن جس  دور میں کہانی میں آپ سے شیئر کر رہا ہوں تب ایسا ہوتا تھا اور کبھی کبھار بڑی عمر کا لڑکا یا بڑی عمر کی لڑکی اپنے سے کم عمر کے ساتھ کھیل کود کے دوران چھیڑ خوانی کر کے مزہ لیا کرتی تھی اور اس بات کا کسی کو معلوم نہیں ہوتا تھا بہت کم پورا سیکس یعنی چوت لینے کا کام مکمل ہوتا تھا زیادہ تر چوما چاٹی  لڑکی کا لن کو ہاتھ لھگا کے انجوائے کر لینا لڑکا یا پھدی میں انگلی سے چھیڑنا یا گانڈ کو لن لگانا شامل ہوتا تھا یہ بات میں بالکل سچ بتا رہا ہوں اس میں ایک بھی جھوٹ نہیں ہے
مجھے اپنے کھڑے لن کو بٹھانا تھا ورنہ میری چوری پکڑی جانی تھی اور اگر ایک بار ان کو معلوم ہوجاتا کہ میں ٹین ہونے کے باوجود بھی مرد  بن چکا ہوں تب کبھی بھی انہوں نے مجھے اپنے ساتھ کھیل کود میں شامل نہیں کرنا تھا میں جلدی سے پانی پینے کا بہانہ کر کے اپنے گھر کو دوڑا تاکہ جلدی سے گھر جاوں لن کوئی دیکھ نا لے لیکن میری قسمت ہی خراب تھی دوپہر کا وقت تھا میں جلدی سے گھر میں  داخل ہوا سب سو رہے تھے
 سوائے میری بڑی آپی کے وی رسالہ پڑھ رہی تھی اس کی عمر لگ بھگ تیرہ چودہ سال رہی ہو گی
ہمارے ڈرائنگ روم کے ساتھ باہر والی جگہ پہ باتھ روم تھا میں اس میں گھنے لگا تو اسی دوران میری آپی باہر نکل رہی تھی میں اس سے ٹکرا گیا اور کیا بتاوں کیا ہوا
اس وقت میرا ننھا منا لن جو ابھی پوری طرح نہیں بیٹھا تھا اس کے ٹوپے کی نوک سیدھی سامنے  آپی کی چوت کے عین اوپر لگی ہم دونوں کو ایک دم سے جھٹکا لگا آپ کی ریشمی باریک قمیض تھی وہ تازہ تازہ نہا کے نکل رہی تھی اس نے بالوں پہ تولیہ باندھ رکھا تھا  اور وہ پوری طرح باہر نکل کے سنبھلی نہیں تھی کہ میں اس سے ٹکا چکا تھا ور لن کی نوک سیدھی آپی کی چوت کے اوپر لگ کے پھسلی تھی مجھے ہوش نہیں رہا  کیونکہ میرے گال پہ جو آپی کا تھپڑ پڑا تھا
اس نے مجھے دن میں تارے دکھا دیئے تھے ایی تو مجھے شرمندگی تھی اوپر سے اچانک گال پہ پڑنے والے تھپڑ نے مجھے پریشان کر دیا تھا آپی نے کہا اندجھے ہو کیا دیکھ کے نہیں چلا جاتا اور یہ جو تو دوپہر کے وقت سارا وقت ہمسائے کے گھر گزارتا ہے بتاتی ہوں اماں کو مجال ہے جو تو ایک منٹ بھی دوپہر کو سوتا ہو مجھے تو اب بے شرم لگنے لگا ہے دوستوں آپی کے ایک تھپڑ اور شرمندگی نے میرا لن جھاگ کی طرح بٹھا دیا تھا وہ واپس اپنی جگہ میں سر  جھکائے بیٹھ چکا تھا آپی نے مجھے ایک ہلکا سا دھکا دیا اور کہنے لگی اب کیا بے شرموں کی طبرح یہاں کھڑا ہے جا باتھ روم میں
  تب میں باتھ روم میں چلا گی میں شلوار نیچے کیئے بیٹھ چکا تھا لیکن پیشاب کرنے کی بجائے ابھی تک میں اپنی اس ہونے والی تازہ بے عزتی کو نہیں  بھول پایا تھا پیشاب کرنے کی بجائے میں سوچوں میں گم تھا آئندہ کا لائحہ عمل سوچ  رہا تھا ہمسائی لڑکی کو پیار کیسے کروں اور آپی سے بدلہ کیسے لوں دوستوں اس دور میں بھائی بہن مصوم حرکتوں سے ایک دوسرے کو تنگ کرنے کو بدلہ سمجھتے تھے وہ ہی سوچ رہا تھا
میں نے اب پیشاب کر لیا تھا اور اب میرا لن نارمل حالت میں آچکا تھا جیسے کبھی تنا ہی نہیں تھا میں نے باہر نکل کے پانی پیاا ور دوبارہ اس نئی ہمسائی کے گھر چلا گیا میں دوستوں آپکو بتانا ہی بھول گیا کہ اس لڑکی کا نام  شکیلہ تھا اور ا سکی بڑی بہن کا نام  شبنم تھا دونوں ہی خوبصورت اور شریف لڑکیاں تھیں لیکن شریف لڑکی کے اندر بھی دل اور جنس بارے  فطری ضرورت ہوتی ہے ہم روز ہی دوپہر کے وقت ان کے گھر میں کھیلتے تھے اکثر چور سپاہی، لڈو اور کبھی کبھی ان کے گھر میں پڑا بے کار سا کیرم بھی کھیلتے تھے جب بھی جوڑی بنا کے کھیلتے وہ ہی میری پارٹنر بنتی اس کی بڑی بہن کا پارٹنر اس کا  چھوٹا بھائی بنتا کل یہ تین بھائی بہن تھے ماں ان کی اچھی تھی بلاوجہ روکتی ٹوکتی نہیں تھی

جب میں ان کے گھر گیا تو  شکیلہ ٹینس بال کو دیوار پہ مار کے واپس کیچ کرنے میں لگی ہوئی تھی ایک طرح سے کھیل رہی تھی میں نے ایک لمحہ میں اس کو دیکھا کہ جب وہ بال کیچ کرنے کے لیے ہاتھ اوپر کرتی تھی تو اس کے ممے واضح طور پہ دکھائی دینے لگتے تھے میں نے اپنی زندگی میں ایک طرح سے وہ پہلا سیکسی منظر دیکھا تھاجب میں نے غور کیا  چونکہ گرمیوں کے دن تھے اس نے کاٹن کی سبزی مائل قمیض پہن رکھی تھی اور نیچے برا نہیں  پہنی ہوئی تھی قمیض گہرے رنگ کی تھی اور اس نے  شائد سوچا ہو گا دوپہر کا وقت ہے گھر میں کوئی نہیں ہے  یا کوئی بھی اور وجہ  بھی ہو سکتی تھی

اس نے بہرحال برا نہیں پہنی ہوئی تھی دھوپ اور چھاوں کا امتزاج تھا  وہ صحن میں تھی وہ اور دیوار کے سامنے کھڑی تھی دھوپ چھاوں کا ایک زاویہ ایسا بن رہا تھا کہ اس کی بغلوں والی سائڈ سے جب وہ بازو اوپر کرتی ممے کی جھلک کا نظارہ دکھائی دے رہا تھا او میرے خدایا میری جان نکلنے لگی اس سیکسی منظر کو دیکھ کے میرا لن پھر سر اٹھا چکا تھا بغلوں کی سائڈ سے ممے نظر آئیں تو کبھی آپ بھی نوٹ کریں زیادہ اتیجیت کرتے ہیں
 اس نے اچانک میری طرف دیکھا اور بولی تم کو بھی دوپہر کو  نیند نہیں آتی نا میری طرح سارا دن جاگتے رہتے ہو اچھا یہ بتاو اچانک گھر کیوں بھاگ گئے تھے میں اس کو کیا بتاتا کہ لن کھڑا ہو گیا تھااس کو بٹھانے گھر گیا تھا جو کہ اب پھر کھڑا ہو چکا تھا اس دور میں کپڑے قدرے کھلے پہننے کا رواج تھا میں کچھ بینڈ ہو کے کھڑا ہو گیا اس سے لن کا ابھار کم دکھائی دینے لگا تھا میں نے کہا پیاس لگی تھی پانی پینے گیا تھا کہنے لگی وہ تو یہاں بھی پی سکتے تھے میں نے کہا پیشاب بھی کرنا تھا کہنے لگی وہ بھی ہمارے باتھ روم میں کر لیتے

دوستوں ایک بات بتاتا چلو اس دور میں سادہ لیٹرین ہوا کرتی تھی فلش سسٹم زیادہ چھوٹے یا قصباتی شہروں میں نیا نیا آیا تھا میں نے جوا ب دیا کہ ہمارا فلش سسٹم لگ گیا ہے آپ کے گھر سادہ  لیٹرین ہے پہلے سے موجود گندگی سے مجھے اب اچھا نہیں  لگتا وہیں بیٹھ کے پیشاب کروں وہ شرمندہ سی ہو کے مسکرائی ا ور کہنے لگی آیندہ اگر پیشاب کی جلدی  ہو تو ہمارے نہانے والے  غسل خانے میں تم کر لینا چوری چوری امی کے سامنے مت کرنامیں نے کہا ٹھیک ہے اب ایسا ہی کرونگا پھر ہم دونوں بال ایک دوسرے کی طرف پھینکتے اور کیچ کرنے کا کھیل کھیلنے لگے

اس دوران جب میرا دھیان اس کے مست  ٹین سڈول بوبز کی طرف جاتا تو میرا لن یکدم اور بھی ٹائیٹ ہو جاتا میں خیال میں سوچ رہا تھا کہ اس کے مکمل ننگے ٹین بوبز کیسے ہونگے مجھے شروع سے ہی بوبز کے نپلز کا رنگ دیکھنے کا کریز رہا ہے ہر رنگ اچھا لگتا ہے لیکن میراے اندر ایک سسپنس ہوتا ہے کہ ہر لڑکی کے بوبز کے نپلز کا رنگ دیکھوں کیسا ہے اس خصلت کی بنا پہ میں اس کے ٹین بوبز کا رنگ دیکھنے بارے سوچتا رہا اور ساتھ ساتھ کھیل جاری رہا
پھر ہم تھک گئے اور مجھے دوبارہ پانی پینے کی طلب ہوئی میں نے کہا پانی پلاو گی کہنے لگی ابھی لاتی ہوں اور میں اس کو جاتے ہوئے پیچھے سے دیکھ رہا تھا اس کی پیاری پیاری گانڈ بہت خوبصورت سیکسی اور ہاٹ کرنے والی تھی

اس نے اچانک ایک بار پیچھے مڑ کے مجھے دیکھا ناجانے کیوں اور میں مسلسل اس کو پیچھےسے دیکھ رہا تھا میں کچھ شرما گیا اور وہ بھی کچھ حیران اور کچھ سمائل دینے والے انداز سے  دیکھتے ہوئے پانی لینے آگے چلی گئی میرا لن اور بھی اوپرنیچے ہونے لگا تھا سمجھ نہیں آ رہی  تھی کہ کیا کروں مکمل ٹرینڈ نہیں تھا لیکن دل بھی کچھ کرنے کو کر رہا تھاخیر وہ پانی لیکر واپس آ گئی اور میں نے گلاس منہ کو لگا لیا اس دوران میں نے بھی ایکدم سے گلاس منہ سے ہٹایا اور اس کی طرف دیکھا وہ میری شلوار کو گھور رہی تھی اور اس کی نگاہیں عین میرے لن کے ابھار والی جگہ پہ تھیں

میرے یوں اچانک اس کو دیکھنے سے اور اس کی چوری پکڑے جانے سے وہ بھی شرمندہ ہو گئی اور بات بدلنے کے لیے بولی یہ تیری شلوار پہ کیا لگا ہوا ہے کوئی داغ ہے کیا اصل میں دوستوں وہ میری سکول کی وردی تھی اور ایک معمولی داغ لگا ہوا تھا لیکن ایسی بات نہیں تھی اور نا وہ میری ماں تھی جس کو میرے کپڑوں کے داغ اور صفائی کی ذمہ داری کا احساس تھا اس نے بات بدلنے کی کوشش کی تھی جو میں بھی  سمجھ گیا تھا میرا لن جب اوپر نیچے ہو رہا تھا قمیض کا سامنے والا وہ حصہ بھی اوپر نیچے کچھ ہوتا تھا

مجھ سے ایک غلطی اور ہو گئی جو بعد میں رحمت ثابت ہوئی میں نے اچانک گھبرا کے اس داغ والے حصے پہ ہاتھ مارا گویا انجان بن کے اس کو دیکھا ہو کہ یہ کیا ہے تب اس طرح کرنے سے میرا لن ایک سپرنگ کی طرح اچھلا اوپر نیچے ہوا اس وقت اب کوئی جھوٹ بولنے کا امکان نہیں رہا تھا اس نے بھی اور میں نے بھی واضح طور پہ دیکھ لیا تھا کہ میرا لن تنا ہوا ہےاس کو حیرت کا جھٹکا لگا ایک لمحہ یونہی گزر گیا پھر اس نے مجھ سے زیادہ دلیری کرتے ہوئے کہا میں تم سے ایک بات پوچھنا چاہتی ہوں کیا سچ سچ بتاو گے

مجھے دیکھنا ہے کہ تم لڑکے پیشاب کس طرح کرتے ہو اور تمہارا پیشاب کیسے نکلتا ہے میں نے جواب دیا جیسے تمہارا نکلتا ہے ویسے ہی میرا نکلتا ہے کہنے لگی بڑی آہستگی سے بولی  ارے نہیں میرا مطلب ہے تم یہاں سے اور طرح ہو (میرے لن والی جگہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)میرا جسم اور ہے دیکھنا چاہتی ہوں تم لڑکوں کا پیشاب کیسے باہر نکلتا ہے میں سمجھ گیا وہ بہانہ بنا رہی تھی ورنہ لڑکی نے کبھی نا کبھی چھوٹے بچے کو پیشاب کرتے دیکھا ہوتا ہے وہ انجان بن رہی تھی اس کو اصل میں میرا لن دیکھنے کا شوق پیدا ہو چکا تھا

تب میں نے کہا پھر کیا کروں کہنے لگی کیا تم مجھے پیشاب کر کے دکھا سکتے ہو کیسے ہوتا ہے میں نے جواب دیا کیسے اور کہاں دکھاو اور ابھی مجھے پیشاب نہیں آیا کہنے لگی زور لگانا نکل آئے گا میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے کہنے لگی میں سب کو دیکھ کے آتی ہوں اگر سب سوئے ہیں تو ہم غسل خانے میں جاتے ہیں وہاں مجھے تم پیشاب کر کے دکھانا میں نے کہا ٹھیک ہے وہ واپس دیکھنے چلی گئی کہ سب سو ئے تو ہیں نا اور میں کسی اور تصوراتی دنیا میں  پہنچ کے ہوا میں اڑ رہا تھا کیا زبردست ٹین دور کا پہلا سیکس ہونے والا تھا۔۔۔
جب وہ واپس آئی تب تک میں نا جانے کتنے ہی تصوراتی سپنے دیکھ چکا تھا اور اندازہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس کا پیشاب کرنے والا حصہ کس شکل و صورت کا ہوگا اس سے قبل میں نے کسی لڑکی ٹین ہو یا مکمل جوان ننگی نہیں دیکھی تھی مجھے اس کو ننگا دیکھنے کی بہت شدید خواہش تھی اور خاص طور پہ جو پہلے بتایا ہے کہ مجھے عورتوں کے بوبز سے خاص دلچسپی رہی ہے ان کو دیکھتے ہی میں مچلنے لگتا ہوں جیسے ہی کسی ٹین کے بڑے ممے دیکھے ایک دم سے لن کھڑا ہو جاتا ہے اور اس لڑکی کے بوبز کے نپلز کا دائرہ اس کا رنگ اور نپلز کا سائز دیکھنے کی بہت آرزو تھی

آپ جانتے ہونگے کہ ہر عورت کے نپلز رنگ سائز مختلف ہوتے ہیں لیکن عام طور پہ نپلز کا سائز سفید چنے جو قدرے چھوٹا ہو اس کے قریب عورتوں کے نپلز کا تو سائز یہی ہوتا ہے اور ٹین لڑکی زیادہ تر چھوٹے سائز کے نپلز جیسے کالے چنے کا یا مٹر کے دانے کا سائزہوتا ہے اس کے قریب قریب ہوتا ہے
ایک اور دلچسپ بات بتاتا چلو بہت زیادہ ایکسٹرا  گوری لڑکی کے بوبز کے نپلز کا رنگ گلابہ ہوتا ہے جو اندرونی اور حقیقت میں گوری ہو گی جس لڑکی نے صفائی ستھرائی کریموں کے استعمال سے اپنے آپکو گورا بنایا ہوتا ہے اس کے بوبز کے نپلز بروان کلر کو ہوتے ہیں

 اور گو لڑکی سانولی ہو اس کے بوبز کے نپلز گہرے براون ہوتے ہیں ایک اور حیرت انگیز انکشاف کرتا چلوں جس لڑکی کے مسوڑھے براون ہوتے ہیں اس کے بوبز کے نپلز لازمی براون ہوتے ہیں اور ساتھ یہ بھی بتا دوں کہ بوبز چھوٹے ہونگے تو حساس بھی زیادہ ہونگے بڑے بڑے ممے کچھ ڈھلکے ہوئے یا جس لڑکی نے حمل گرائے ہونگے اس کے ممے حساس بہت کم ہوتے ہیں اور اس کے ممے چوسنے پہ شروع میں اس کو الجھن ہوتی ہے پھر جب ا سکی چوت مکمل اتیجیت ہو چدائی کے لیے تب اس کے ممے حساس ہو جاتے ہیں تب الجھن کم اور مزہ شروع ہو جاتا ہے

بات کہاں سے کہاں چلی گئی میں بتا رہا تھا کہ شکیلہ جب واپس آئی تو کچھ خوش دکھائی دے رہی تھی کہنے لگی سب سوئے ہوئے ہیں جلدی کرو مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کس طرح  اور کیسے جلدی کرو مجھے کہنے لگی چلو غسل خانے میں اور یہ کہہ کر وہ چل دی میں اس کے پیچھے پیچھے چل دیا سخت دوپہر تھی  جون کے دن تھے ہر چیز انسان تو کیا جانور بھی سر چھپائے سائے میں نڈھال تھے  شائد اس طرح کے موس بارے ہی کہتے ہیں کہ ا س  وقت چیل بھی انڈے چھوڑ دیتی ہے اور ہم دونوں کو سیکس کو جنون ہوا تھا خیر ہم غسل خانے پہنچ گئے

اس نے جاتے ہی کہا چلو اپنی شلوار نیچے کرو اور شروع ہو جاو اس دور میں مائیں اپنے بچوں کی شلواروں میں چاہے وہ دس بارہ سال کے بھی ہوتے تھے الاسٹک ڈال دیتی تھی اب اس دور میں صرف چھوٹے بچوں کے ساتھ ایسا کیا جاتا ہے اس دور میں  ریڈی میڈ نیکر پینٹ کا بھی رواج کم تھاا ور ویسے بھی ہم اس دور کے پاکپتن میں رہتے تھے جب وہ ضلع نہیں  بنا تھامیں نے شرماتے ہوئے اپنی شلوار نیچے کی وہ برابر ہدایات دے رہی تھی چلو اب پیشاب کر کے دکھاو یہاں ایک اور حیران کن بات ہوئی میرا چند لمحے پہلے تنا ہوا لن اب راکھ کا ڈھیر ہو چکا تھا

وہ اٹھ ہی نہیں رہا تھا مجھ سمجھ نہیں آ رہی تھی ایسا کیوں تھا شائد پہلی بار کا ڈر کوئی اچانک دیکھ نا لے یا شرم فطری بات تھی میں نے کوشش کی اور لن کو پیچھے سے ہلایا لیکن وہ کھڑا نہیں ہو رہا تھا مجھے کہنے لگی اس کو کھڑا کرنے کی بجائے پیشاب کرو مجھے دیکھنا ہے میں نے ایک ترکیب سوچی میں نے پیشاب کرنے کی جان بوجھ کے کوشش نہیں کی اور اس کو کہا جب تک یہ کچھ سیدھا نہیں ہو گا پیشاب نہیں نکلے گا اس کو کسی نا کسی طرح کھڑا کرنا ہوگا میں کوشش کرتا ہوں اور پھر سے اس کو ہلایا لیکن لن کھڑا نا ہوا میرا ٹین ایج کا لن دھوکہ دے رہا تھا چند منٹ مزید انتظار کے بعد وہ تنگ آگئی اور کہنے لگی ادھر کرو میں کوشش کرتی ہوں اور وہ میرے سامنے ٹانگوں کے برابر نیچے بیٹھ گئی

اس نے میرے ٹین ایج کے درمیانے سائز کے لن کو ہاتھ میں لیا اور ایک دو بار مسلا مجھے سرور کا ریلا بہانے لگا اور میرے لن میں حرکت ہوئی اس نے میرے لن کے ہیڈ کو بھی مسلا مجھے اور سرور ملا میں نے کہا ہاں اس طرح کرو کھڑا ہو رہا ہے اور اس کے ہاتھ لگ رہے تھے تو میں جنت میں جا رہا تھا مجھے کہنے لگی تم کم نہاتے ہو کیا میں نے کہا نہیں  تو روز نہاتا ہوں کہنے لگی تمہاری اس جگہ سے کھٹی کھٹی بو آ رہی  ہے اور منہ قریب کر کے  لن کو اور بھی سونگھا میں نے کہا بو آرہی ہے تو دور رہو پھر منہ پاس کر کے خود ہی سونگھ رہی ہو کہنے لگی تمہاری بو زیادہ بری نہیں ہے لیکن زیادہ نہایا کرو میری طرح میں نے کہا مجھے کیا معلوم تم کتنا نہاتی ہو کہنے لگی مجھ سے بو نہیں  آ رہی پسینے کی یہ اس بات کی نشانی ہے کہ میں زیادہ نہاتی ہوں

میں نے کہا مجھے بھی سونگھنے دو پھر بتاونگا تم سچ کہہ رہی ہو یا جھوٹ کہنے لگی وہ بعد کی بات ہے پہلے پیشاب تو نکالو اپنے اس سے میں نے کہا اس کا نام لو کیسے لو گی ؟کہنے لگی اس کو پھولو کہتے ہیں میں نے کہا تم کو میری پھولو کیسے لگی کہنے لگی اچھی ہے پر کرونا پیشاب کوئی آ جائے گا مجھے نہیں معلوم لیکن اچانک غیر ارادی طور پہ پیشاب کی دھار نکلی اور سیدھی اس کی مست ٹین ایج چھاتی کی بیچ کی لائن کو جوبوبز کے عین درمیان بن جاتی ہے  ا سکو انگریزی  میں کلیوز لائن  کہتے ہیں  وہاں لگی کچھ پیشاب اس کے ہاتھوں میں بھی لگا وہ غصے سے بولی پینڈو  کیا بتانہیں  سکتے تھے کہ کرنے والے ہو

 میں نے کہا قسم سے مجھے خود بھی پتہ نہیں چلا ایک دم سے نکل گیا ہےخیر وہ پیشاب نکلتا ہوا دیکھتی رہی پیشاب ختم ہونے پہ آخری قطرے نکلے تو لن ایک دو بار اوپر نیچے ہوا اوپر نیچے ہوا عام طور پہ لن آخری قطرے نکالتے وقت ایک دو بار اس طرح ہوتا ہے کہنے لگی ارے یہ تو اوپر نیچے ہو رہا ہے کتنا اچھا لگتا ہے اوپر نیچے ہوتا اس کو اور نیچے کرو پھر اوپر کرو میں نے کہا پہلے مجھے تم کو چیک کرنا ہے کہ تم سے بو آتی ہے یا میری طرح کم نہاتی ہو اور مجھے بھی دیکھنا ہے کہ لڑکی کیسے پیشاب کرتی ہے تم بھی دکھاو نا

کہنے لگی پھر کبھی دکھاونگی ا اس وقت کوئی آجائے گا وہ بہانہ بنا رہی تھی مجھے سمجھ آ گئی میں نے کہا مجھے ابھی دکھاو نہیں تو میں اپنی ماں کو بتادونگا کہ تم نے میری پھولو دیکھی ہے وہ گھبرا گئی اور کہنے لگی اگر کسی کو بتایا تو میں بھی کہہ دونگی اس نے جان بوجھ کے میرے سامنے شلوار اتاری ہے اور پھر میں کبھی تم سے دوستی بھی نہیں رکھونگی دوستوں وہ تو مجھ سے بھی زیادہ چالاک نکلی تھی اس کو انجوائے کرنا تھا اور اپنی آپی سے بے عزتی کا بھی بدلہ لینا تھا میں نے کہا  اچھا پھر تم بھی وعدہ کرو ہم اس بارے کسی کو نہیں بتائیں گے

 اس نے وعدہ کیا تب میں نے کہا اچھا مجھے تم اب سونگھنے دو کہنے لگی اس وقت نہیں پرسوں امی ابو ساہیوال جا رہے ہیں اس دن ہم کرینگے اب تم گھر جاو میں نے اس سے وعدہ لیاا ور سوچا چلو اب اپنی آپی سے بدل لیتا ہوں اور گھر آگیا میری آپی سوئی ہوئی تھی پہلو کے بل اور میں سوچنے لگا کیا کروں ا سکے ساتھ ۔۔۔
دوستوں جب میں گھر پہنچا تو میری آپی سوئی ہوئی تھی ہمارا مکان ہندووں کے زمانے کا تھا اور کئی کمرے تھے ایک حویلی نما لیکن بہت شاندار نہیں البتہ مناسب سا تھا آپی کا کمرہ الگ سائڈ پہ تھا وہ پڑھائی کے بہانے اس کونے والے اچھے کمرے میں رہتی تھی اس کے ساتھ ہی باتھ روم بنا ہوا تھا میں اب کچھ کچھ لڑکیوں کے جنسی حصوں بارے جان چکا تھا ٹین ایج میں تھا لیکن اب جنس کی خوشبو مجھ تک پہنچ چکی تھی میں نے جب اپنی آپی کو سوئے ہوئے دیکھا تو پلان کرنے لگا کیا کروں اس سے بدلی بھی لو اور ڈڑ بھی جائے یا اس کی کوئی کمزوری میرے ہاتھ آئے جس سے میں بھی اس کو دھڑلے سے ڈرا سکوں اس کو آج کل بلیک میل کہا جاتا ہے اس وقت ہم کہتے تھے اس کو نیچا دکھانا

میں سوچنے کے ساتھ ساتھ اپنی ٹین آپی کو بھی دیکھ رہا تھا میں کمرے میں چپکے سے داخل ہوا تھا دروازہ اسی طرح بند کر دیا تھا میری آپی اگر انصاف سے بتاوں تو خوبصورت تھی اس کا کھلتا ہوا رنگ تھا گال پہ خون کی سرخی اس کو اور بھی خوبصورت بناتی تھی وہ لمبے قد کی سمارٹ لیکن بھرے بھرے بدن کی دوشیزہ تھی لیکن اچانک اک دم سے میں نے دیکھا اور حیران رہ گیا یہ کیا سین ہے آپی کا ایک ہاتھ اس کی الاسٹک والی شلوار میں تھا اور وہ ہاتھ اپنی شلوار میں ڈالے سوئی ہوئی تھی اس نے اپنا ہاتھ کیوں شلوار میں ڈال رکھا تھا یہ میرے لیے حیرت کی بات تھی میں دھیرے سے ا سکے اور بھی قریب ہو گیا میں نے بغور دیکھنے کی کوشش کی

آپی کی لان کی سفید شلوار تھی اور پیلی شرٹ تھی جس میں وہ معصوم پری لگ رہی تھی میں جیسے ہی اس کے قریب گیا مجھے چنبیلی کی خوشبو کا ایک معطر جھونکا  سانسوں میں بس گیا میں نا جانے کیوں اپنی آپی کو غور سے اس کے ہر ایک اعجا کو دیکھنے لگ گیا تھا جو کہ عام طور پہ میں نے کبھی نہیں کیا تھا پھر اس وقت کیوں اس بات کی وجہ سمجھ نہیں آرہی تھی
بس میں تو اس کو دیکھنا چاہتا تھا اچھی طرح سے گویا اس کے سارے بدن کا معائنہ کرنے لگا گیا تھا میں نے سوچا کہیں آپی اندر سے جاگ نا رہی ہو اورس ونے کا بہانہ ہو جیسے ہی میں قریب جاوں ایک زور دار تھپڑ میرا استقبال کرے کیونکہ ایک بار میں نے پہلے اسی طرح آپی کے قریب ہو کے اس کو چیک کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ سوئی ہوئی ہے یا سونے کی ایکٹنگ کر رہی ہے  کیونکہ جب وہ سوتی تھی تو میں سوتا تھا اور وہ مجھے سلا کے خود ریڈیو پہ گانے لگا کے سنتی تھی میں اس کو تنگ کرتا تھا وہ پھر مجھے پاس سلا کے ایکٹنگ کرتی تھی کہ وہ سو گئی ہے تاکہ میں سو جاوں اسی طرح ایک دن میں نے بات کو سمجھتے ہوئے اس کو دوران ایکٹنگ چیک کرنے کی کوشش کی تو اس نے تھپڑ جڑ دیا تھا اب اس وقت بھی میں ڈر ڈر کے اس کے پاس جا رہا تھا کہیں دوبارہ تھپڑ سے سواگت نا ہو جائے

میں اچھی طرح اطمینان کرنا چاہتا تھا اور اس کے منہ کے قریب اپنے چہرے کو کیا خوشبو ارو بھی تیز آنے لگ گئی اس کے بال ابھی بھی گیلے تھے اور وہ کچھ دیر ہی پہلے میرا خیال تھا نہائی ہے اور نہا کے اس کو نیند آ چکی تھی اوہ میرے خدا میں نے پہلی بار دیکھا کہ میری آپی کے ٹین بوبز کے درمیان پاوڈر لگا ہوا تھا اور اس کی بھینی بھینی خوشبو موتے کے پھولوں جیسی آ رہی تھی اس دور میں  زیادہ تر پھولوں کی خوشبو سے ملتے جلتے پاوڈر یا سینٹ ہوا کرتے تھے یعنی آپی نے نہانے کے بعد بوبز کے درمیان پاوڈر لگایا تھا میں سوچ میں پڑ گیا کہ اس نے بوبز کے درمیان پاوڈر کیوں لگا یا ہے

 ان کو دیکھتا ہوں تھوڑا ور قریب ہو گیا بوبز پہلو کے بل لیٹنے کی بنا پر ایک طرف زیادہ جھکے ہوئے تھے اور برا بھی جو کہ کالے رنگ کی تھی ایک طرف ہو گئی تھی میں نے کھلے گلے والی قمیض کو ایک ہاتھ سے دھیرے سے ایک طرف کیاا ور دیکھ کے حیران رہ گیا میری آپی کے بوبز کا ہلکے براون کلر کا دائرہ واضح طور پہ نظر آرہا تھا اور نپلز کی نوک اس کی برا کو چیرتی ہوئی لان کی قمیض سے بھی باہر نکلی ہوئی تھی میرا خیال تھا کہ آپی کے بوبز کا نپل مٹر کے دانے برابر تھا درمیانہ اور پیارا سا اس دوران مجھ میں شیطان پورا داخل ہواا ور میں نے سوچا کیا ہی اچھا ہو اگر میں شکیلہ کے ساتھ ساتھ اپنی ٹین آپی کے ممے بھی پورے ننگے دیکھ سکوں پھر معلوم ہو جائے گا کس کے ممے زیادہ خوبصورت ہیں

میں اپنی آپی کو تنگ کرنے آیا تھا بدلہ لینے لیکن یہاں تو اس کے حسن میں گم ہو گیا تھا اور بوبز سے نکلنے والی خوشبو مجھے یہاں سے اٹھنے نہیں دے رہی تھی میرا چہرہ اس کے چہرے کے عین اوپر پاس ہی تھا مجھے اس کی ہلکی ہلکی سانسیں سنائی دے رہی تھی وہ واقعی سو چکی تھی اور اس کی سانس  لینے سے جو اوپر نیچے چھاتی ہو رہی تھی وہ زیرو بم اور بھی ہاٹ کرنے والے منظر تھا اس کو دیکھ دیکھ کے پھر حد ہی ہوگئی یہ کیا میں نے غور کیا میرا تو لن کھڑا ہو چکا تھا مجھے اپنے آپ پہ افسوس اور شرمندگی ہونے لگی کہ اپنی آپی کو سیکسی دیکھ کے یوں میں نے گندے خیالات من میں بسائے لیکن اس وقت دل اور دماغ کی جنگ شروع ہو چکی تھی دماغ مجھے روک رہا تھا مزید نا دیکھو لیکن وہ منظر بدلہ کا جنون اور سیکسی سین  دل کہہ رہا تھا یہ بھی تو لڑکی ہی ہے اس کو بھی دیکھنے میں کیا حرج ہے

اور دل جیت گیا شائد شیطان بھی اس وقت جیت گیا تھا میں مسلسل اس کو پہلو کے بل لیٹے دیکھ رہا تھا تبھی میں نے اس ساری ٹین آپی کو غور سے دیکھنے کا ارادہ کیا بلکہ دیکھنا شروع کر دیا تھا اس کے بھرے بھرے سدول چوتڑ گول رانیں کسرتی باریک شلوار کے اندر سے گورا گورا بدن دکھائی دے رہا تھا چکنی رانیں تھی قمیض سائڈ پہ ہو چکی تھی صرف شلوار باریک تھی اس میں سے بدن چکمدار نظر آرہا تھا اب میری آپی گہری نیند میں چلی گئی تھی اور اس کے ہلکے ہلکے خراٹے نکل رہے تھے ابھی بھی اس کا ایک ہاتھ شلوار کے اندر عین چوت والی جگہ پہ تھا میں خود سے سوال کر رہا تھا کہ اس کا ہاتھ  چوت کے عین اوپر کیوں تھا وہ ہاتھ وہاں کیا کر رہا تھا میں سوچنے کے ساتھ ساتھ اس کے سارے بدن کو دھیرے دھیرے سونگھنے کی کوشش کر رہا تھا اس دوران میں نے ایک بڑا فیصلہ کرنے کا سوچاا ور اب اس پہ عمل کرنا تھا۔۔۔

میں اپنی ٹین ایج آپی سے بے عزتی کابدلہ لینے گیا تھالیکن یہاں معاملہ الٹ نکلا تھا میں اس کے حسن کے سحر میں کھو گیا تھا حالانکہ اس سے قبل کبھی ایسے نہیں ہوا تھا کہ میں نے اپنی آپی کے بدن کو سیکس کی نظر سے دیکھا ہو مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس وقت میری عمر کوئی پانچ سال رہی ہو گی یہ بات بھی اب یاد آ رہی ہے جب مجھے کچھ کچھ سیکس اور جنس کے فرق کا اندازہ  اب جا کے ہوا ہے لیکن اس وقت  پانچ سال کی عمر میں اندازہ نہیں تھا
میری آپی کبھی کبھی جب امی مصروف ہوتی تھی یا بیمار تب مجھے نہلا دیا کرتی تھی اور مجھے اچھی طرح  صابن لگا کے گورا چٹا کر دیتی تھی مجھے امی کی بجائے اپنی آپی سے نہانا شروع شروع میں پسند نہیں تھا کیونکہ آپی کے نہلانے سے صابن میری آنکھوں میں چلا جاتا تھا اور اس سے آنکھوں میں جو جلن ہوتی تھی وہ مجھے آپی کو کبھی کبھی گالیاں دینے پہ مجبور کر دیتی تھی اس دور  میں گالی دیتا تو وہ ہنستی تھی بچہ تھا نا اس لیئے  وہ ہنستی اورساتھ ساتھ پانی کے چھینٹے میرے منہ پہ مارتی تھی
پھر ایک دن دوبارہ میری ٹین آپی مجھے نہلانے باتھ روم میں لے گئی تھی اور نہلانے کے دوران اس نے میری پھولو کو بھی صابن سے دھویا اچھی طرح سے تب نا جانے کیوں اس کے بار بار رگڑنے سے یا صابن کی جھاگ نے نرمی اور لمس دیا تھا میری پھولو کچھ کھڑی ہو گئی تب میرا خیال ہے میں چھ سال کا ہو چکا تھا اور میری ٹین پھولو کے کھڑے ہونے سے وہ آپی کے ہاتھ سے پھسل پھسل جاتی تھی وہ سین  اب مجھے ایک خواب کی طرح لگتا ہے کہ آپی کے چہرے پہ سرخی اور شرم کی لہر تھی میری چکنی چکنی اور کھڑی  پھولواس کو بھی حیران کر رہی تھی یا شائد وہ کچھ جانتی تھی
پھر ایک دن جب دوبارہ امی نے اسے کہا کہ کامی کو نہلا دو کامی میرا بچپن کا نک نیم ہے تو آپی نے جواب دیا مجھ سے نہیں نہلایا جاتا یہ بہت بدتمیز ہو گیا ہےا ور بڑا بھی امی آپ اس کو خود ہی نہلا دیا کرو ابو یہ بات سن رہے تھے امی آٹا گوندھ رہی تھی میرا گرمی سے برا حال دیکھ کے ابو بولے چلو آج میں اپنے بیٹے کو نہلاتا ہوں اور انہوں نے مجھے نہلایا ان کے کھردرے ہاتھ تھے مجھے نہلاتے ہوئے کہنے لگے یار ساتھ ساتھ خود بھی جسم کو ملا کرو اب تم بڑے ہو رہے ہواور تین منٹ میں مجھے نہلا دیا اس دن میری پھولو کھڑی تو کیا ایک دم اندر گھسی ہوئی تھی
خیر تو باتیں تو ٹین ایج  بلکہ کم سنی کے دور کی تھیں جو مجھے یاد آ گئیں اور شیئر کرنا اچھا لگا ہے مزید بھی شیئر جکرتا رہونگاٹین ایج تو ابھی شروع ہوئی تھی اور اس وقت میں اپنی آپی جو سوئی ہوئی تھی خراٹوں کے ساتھ کے سونگھ رہا تھا اس کے گورے گورے ممے اور نپلز نظر آ رہے تھے پاوڈر کی خوشبو مہکا رہی تھی میرے من کو اور شیطان غالب تھا میں نے ایک بڑا فیصلہ کیا اور سوچا کہ اگر میں آپی کا ہاتھ ان کی شلوار سے ہٹا لو یعنی نکال لوں اور اس کی بجائے اپنا ہاتھ عین اسی جگہ رکھ دوں تو کیا آپی کی آنکھ کھلے گی یا نہیں  اور مجھے بھی تو معلوم ہو گا کہ یہاں آپی نے ہاتھ کیوں رکھا ہوا ہے
میں نے ایک بار پھر اطمینان کیا کہ وہ واقعی مکمل گہری نیند میں سوئی ہوئی ہے کوئی شک نہیں تھا کہ وہ سوئی ہوئی تھی میں نے اس کا ہاتھ دھیرے سے اس کی سیکسی الاسٹک والی شلوار سے نکالنا شروع کیا اس کو ہاتھ کے پیچھے سے پکڑاا ور دھیرے سے نکالنے کی کوشش کرنے لگا کافی حد تک ہاتھ شلوار سے باہر آچکا تھا کہ اچانک آپی کو نا جانے کیا ہوا اس نے نیند میں  جیسے کوئی سرگوشی کرتا ہے اور ساتھ ہی میں اس نے باقی ہاتھ کی انگلیاں غیر محسوس انداز سے خود ہی باہر نکالی اور میں جلدی سے دور ہوا ورنہ ٹکراو ہو جانا تھا کیونکہ آپی ایک دم کروٹ بدل کے اب سیدھی لیٹ چکی تھی
اس کے ٹین نوکدار بوبز کے تیکھے کانٹے دار نپلز اوپر ؤسمان کی طرف تھے اور ابھرے ہوئے بہت زیادہ اب اس عمر میں جا کے اندازہ ہوا ہے کہ میری آپی کے ممے اس وقت چھتیس لازمی تھےکوئی پانچ منٹ مزید میں نے انتظار کیا تاکہ تسلی ہو جائے تو اگلا مرحلہ مکمل کروں میری ٹین آپی کا وہ ہاتھ ابھی اس کی ناف والی جگہ کے اوپر تھا اور قمیض  ایک سائڈ کو کچھ تھی شلوار پہلے ہی نیچے تھے آپی کی گہری الف شکل کی ناف لمبی نظر آ رہی تھی مجھے الف شکل کی گہری لمبی ناف شروع سے ہی پسند رہی ہے اس جگہ ہاتھ رکھا ہوا تھاا ور مدہوش سوئی ہوئی تھی جیسے اب ہم سیکس کرنے اور فارغ ہونے کے بعد مستی بھری گہری نیند میں گم ہو جاتے ہیں وہ کچھ اس طرح کی نیند میں تھیمیں نے اس کا ہاتھ پکڑ کے نیچے کرنے کے لیے پکڑا تو مجھے اس کے ہاتھ کی انگلیاں تھوڑی نمی اور چکنائی والی لگیں
میں نے ہاتھ کو غور سے دیکھا انگلیوں کو خاص طور پہ تو اس کی انگلیاں نا صرف گیلی بلکہ ان پہ لیسدار کوئی مواد بھی تھا مجھے سمجھ نہیں تھی کہ وہ کیا ہے اب تو مجھے سب معلوم ہے اب میں سمجھا ہوں کہ میری آپی نے باتھ روم میں جا کے نہانے کے دوران اپنی چوت میں انگلی ڈال کے خود کو فارغ کیا تھا پھر نہائی تھی اور جب سونے لگی فارغ ہونے کے بعد ایسی ہی گہری نیند ملتی ہے تب اس کو محسوس ہوا ہو گا کہ اس کی چوت سے ابھی بھی گیلا مواد بہہ رہا ہے رس رہا ہے تو اس نے چیک کرنے کے لیے ہاتھ اندر شلوار کے ڈالا ہو گا اور نیند نے جکڑ لیا تھا تو ہاتھ اندر ہی رہ گیا تھاا ور انگلیوں پہ منی اس کی کنواری چوت کی لگی ہوئی تھی
لیکن اس وقت ٹین ایج میں مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ کیا لگا ہے ان انگلیوں پہ میں نے اس کو سونگھا تو مجھے ناگوار کسیلی سے باس ملی میں نے اس کے ہاتھ کو پرے کیاا ور اپنا ہاتھ دھیرے دھیرے اندر کرنے کا آغاز کیا ڈھیلے الاسٹک والی شلوار تھی میرا ہاتھ رینگ رہا تھا اور اس کے چہرے کو میں غور سے دیکھ رہا تھا وہ اب بھی پرسکون سوئی ہوئی تھی میرا ہاتھ رینگتا  رینگتا اس کی شلوار کے اندر کافی جا چکا تھاا ور اب مجھے سسپنس تھا اس مقام کا جہاں آپی نے اپنا ہاتھ رکھا ہوا تھا میں وہاں پہنچ ہی چکا تھا جب مجھے محسوس ہوا کہ اس حصے سے شلوار بھی گیلی تھی اور کچھ حصہ جو شلوار کا خشک ہو چکا تھا اکڑا ہوا تھا  ارے یہ کیا میرا ہاتھ اچانک ایک چکنی کھائی میں پہنچ گیا
میرا ہاتھ سفر کرتا ہوا آہستگی کے ساتھ ٹین ایج آپی کی شلوار میں گھس گیا تھا اور اب عین اس جگہ پہ تھا جہاں اس کا ہاتھ چند لمحے پہلے موجود تھا آپی گہری نیند میں بالکل سیدھی لیٹی ہوئی تھی دنیا سے بالکل بے خبر نا جانے اس کو کونسی ایسی نیند کا خمار تھا جو اس کو معلوم نا ہو سکا اگرچہ میں نے دھیرے سے کام کیا تھا لیکن کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے معمولی ہاتھ لگ جائے یا شور ہو جائے ان کی آنکھ ایکدم سے کھل جاتی ہے لیکن یہاں معاملہ الٹ تھا وہ سکون کے ساتھ لیٹی تھی میں ٹٹولنے کے انداز سے ہاتھ سے اس مقام کو چیک کر رہا تھا جہاں اس کا اپنا ہاتھ تھا کہ وہ وہاں کیوں تھا تبھی مجھے اچانک یوں لگا کہ ایک ایسی جگی ہے جہاں لیسدار پانی کی کچھ مقدار ہے اور چکنی چکنی جگہ ہے اور میرے ہاتھ کی انگلیاں اس گھاٹی میں پھسل گئی نرم و ملائم جگہ تھی گداز اور اس کو بار بارنرمی سے چھیڑنے کو دل کر رہا تھا

Posted on: 02:26:AM 11-Feb-2021


0 0 349 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 11 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 74 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com