Stories


گائوں کی لڑکی شہر میں از رابعہ رابعہ 338

نامکمل کہانی ہے


ٹرین سے اترتے ہی سیتا کی جان میں جان آ گئی. وہ خدا کا شکریہ ادا کیا. بہار کی ٹرین میں بھیڑ نہ ہو یہ کبھی ہو نہیں سکتا. اسی بھیڑ میں گاؤں کی بیچاری سیتا کو اپنے شوہر شیام کے ساتھ آنا پڑا. شیام جو کہ T.T.E. ہے. حالانکہ وہ بھی گاؤں کا ہی ہے مگر نوکری لگنے کے بعد اسے شہر رہنا پڑا. 6 مہینے پہلے دونوں کی شادی ہوئی تھی. شادی کے بعد شیام زیادہ دن تک اکیلا نہیں رہ پایا. کام کے دوران وہ کافی تھک جاتا تھا. پھر گھر آکر کھانا بنانے کا جھنجھٹ. من نہیں کرتا کھانا بنانے کا پر کیا کرتا؟ ہوٹل میں اچھا کھانا ملتا نہیں. کبھی کبھی تو بھوکا ہی رہ جاتا. ایسا نہیں ہے کہ وہ مہنگے ہوٹل میں نہیں جا سکتا تھا. مگر صرف پیٹ کی بھوک رہتی تب نا. اسے تو نئی نویلی بیوی سیتا کی بھی بھوک لگ گئی تھی. آخر کیوں نہیں لگتی؟ سیتا تھی ہی اتنی خوبصورت. پورے گاؤں میں تو اتنی خوبصورت کوئی تھی ہی نہیں. تبھی تو اس کی شادی ایک کام والے لڑکے سے ہوئی. شیام جب سیتا کو پہلی بار دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا. ایکدم چاند کی طرح چمکتی گوری رنگ، نشیلی آنکھیں، گلابی ہونٹ، کمر تک لمبے لمبے بال، ناک میں لونگ، کان میں چھوٹی چھوٹی بالی، گلے میں پتلی سی Necklace جس رنگ لٹکی تھيسپھےد رنگ کی سميج-سلوار میں سیتا پوری حسن کی ملکہ لگ رہی تھی. دونوں کے خاندان والے دیکھ چکے تھے، پر سب کی خواہش تھی کہ یہ دونوں بھی ایک دوسرے کو دیکھ لیں تو اچھا رہے گا. سیتا اپنے بھیا-بھابھی کے ساتھ شیام کو دیکھنے گاؤں سے 5 کلومیٹر دور ایک مندر میں گئی تھيگاو میں شادی سے پہلے لڑکے کا گھر پر آنا تو دور، بات کرنا بھی نہیں ہوتا ہے. پر شیام کے خاندان والے کی ضد کی وجہ سے ایک ملاقات ہو سکی.
طے وقت پر شیام اپنے ایک دوست کے ساتھ سیتا سے ملنے گاؤں کے باہر مندر پر پہنچ گیا تھا. ابھی تک سیتا نہیں پہنچی تھی. دونوں وہیں باہر بنے چبوترے پر بیٹھ کر سیتا کے آنے کا انتظار کرنے لگے. شیام کے ذہن میں کافی سوال پیدا ہو رہے تھا. عجیب کشمکش تھی، پتہ نہیں گاؤں کی لڑکی ہے کیسی ہوگی؟ رنگ تو ضرور سانولی ہوگی. خیر رنگ کو گولی مارو، اگر جسمانی ساخت بھی اچھی ملی تو ہاں کر دوں گا. پر اب جی ہاں یا نہ کرنے سے کیا فائدہ. جب ماں بابوجی کو رشتہ منظور ہے تو مجھے بس ایک فرمانبردار بیٹا کی طرح ان کی بات ماننی تھی. سب کہہ رہے ہیں اچھی ہے تو اچھی ہی هوگيچچھا
وہ آئے گی تو میں بات کیا کروں گا؟ ساتھ میں اس کے بھیا-بھابھی بھی ہوں گے تو زیادہ بات بھی نہیں کر پاوگاگر پسند آ بھی گئی تو بات نہیں کر پاوگاپھر تو شادی تک انتظار کرنا پڑے گا. شہر میں ہی ٹھیک تھا. آرام سے مل سکتے تھے، بات کرتے، date پر جاتے وغیرہ وغیرہ. پر یہاں بدنامی کی وجہ سے کچھ نہیں کر سکتے اگرچہ آپ اس سے شادی کیوں نہ ہو رہی ہو.
تبھی موٹرگاڑي کی تیز آواز سے شیام هڑبڑا گياسامنے دیکھا سیتا اپنے بھیا-بھابھی کے ساتھ پہنچ گئی سيتا کو دیکھتے ہی شیام کو جیسے کرنٹ چھو گیا ہو. اس کے دل میں اب ایک ہی سوال رہ گیا تھا، "گاؤں کی لڑکی اتنی خوبصورت کیسے؟ میں تو بیکار میں ہی اتنا سوچ رہا تھا"
تبھی اسے اپنے دوست کا خیال آیا. اس کی طرف دیکھا تو اسے تو ایک اور جھٹکا لگا. سالا منہ پھاڑے ایکٹک دیکھ رہا تھا، دل تو کیا دوں سالے کو ایک جمع کے. پر چوری سے ہی ایک كےهني دے دیا تو لگا وہ بھی سو کے اٹھا ہو. پھر میری طرف دیکھ کے شیطانی مسکراہٹ دے رہا تھا سالا. خیر ہم نے اسے ایک طرف کر کے بھیا بھابھی کو سجدہ کیا. پھر بھیا کچھ بہانے سے گاڑی سے 5 منٹ میں آ رہا ہوں دھن کے چلے گئے.
"آپ کا نام؟" بھابھی میرے دوست کی طرف دیکھتے ہوئی پوچھی
"جيمے ... میں ... رمیش. شیام کی دوست." امید کے برعکس ہوئے سوال سے سالا اپنا Gender بھی بھول گیا.
پر بھابھی مسکراتی ہوئی بولی،
"رمیش جی، انہیں کچھ دیر کے لئے اکیلے بات کرنے دیں گے تو اچھا رهےگاتب تک ہم دونوں کہیں تنہائی میں چلتے ہیں."
رمیش خاموشی بھابھی کی طرف بڑھنے لگا.
"اور ہاں شیام جی ... اب صرف بات کرنا اور کچھ نہیں. میں نے پاس میں ہی ہوں، باتیں نہیں سن سکتی پر دیکھ ضرور رهگي هيهي ... ہی" بھابھی هستي ہوئی رمیش کے ساتھ مندر کے باہر نکل گئی .
اب میں بھلا کیا بات کرتا؟ سامنے ساكشات پری جیسے لڑکی کھڑی جو تھی. میں صرف نام ہی پوچھ سکا. آواز بھی اتنی میٹھی کہ کوئل بھی شرما جائے. باقی کے 10 منٹ تو بس سیتا کو دیکھتا ہی رہا. غضب کی تھی سیتا. اوپر سے نیچے تک دیکھا پر کہیں سے بھی مجھے کمی نظر نہیں ايوو اپنی نظریں نیچی کیے ہوئے دھیما دھیما مسکراتی رہی. کبھی کبھی جب میری طرف دیکھتی تو لگتا اپنے آنکھوں سے ہی مجھے زخمی کر دے گی.
تبھی مجھے بھابھی اور رمیش آتے ہوئے نظر آئے. مجھے تو امید نہ کی ہی تھی، پھر بھی فون کے لئے پوچھ لیا. وہ نہ میں گردن نچا دی. پر میں پھر بھی بہت خوش تھا.
"کیوں شیام جی، بات تو کچھ کئے نہیں! لگتا ہے آپ کو ہماری سیتا پسند نہیں آئی. گھر جا کر بابوجی کو منع کر دوں کیا؟" بھابھی آتے کے ساتھ ہی پوچھ بیٹھی.
"نهينهي .. بھابھی جی. مجھے تو پسند ہے باقی ان سے پوچھ لو" هڑبڑاتے ہوئے میں نے کہا جیسے کسی بچے سے ٹپھي مانگنے پر بچہ هڑبڑا جاتا ہو.
میری بات سنتے ہی سب ٹھهككا لگا کر ہنسنے لگے. مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا تو میں بھی شرما کے مسکرا دیا.
"تب تو لگتا ہے کہ جلد ہی آپ دونوں پھسوگے کیونکہ سیتا کو بھی آپ کو پسند آ گئے" بھابھی بولی
"پر بھابھی جی آپ نے تو ان سے پوچھا ہی نہیں پھر آپ کس طرح سمجھ گئی؟" تبھی رمیش بول پڑا.
"کیوں؟ آپ کے دوست کے پاس کیا کمی ہے جو پسند نہیں آئیں گے؟ اچھے خاصے گبر جوان لگ رہے ہیں. باڈی بھی کافی اچھا ہے. دیکھنے میں بھی اچھے ہیں. سرکاری نوکری کرتے ہیں. میں اگر كواري رہتی تو میں ہی شادی کر لیتی ان سے. "ایک بار پھر ہم سب کو ہنسی آ گئی بھابھی کی بات پر. تبھی موٹرگاڑي کی آواز سنائی دی. بھیا بھی اس وقت تک آ گئے. ہمیں ایک اچھے لڑکے کی طرح گھر جانا ٹھیک لگا اب. میں نے ان سے اجازت لے کر رمیش کے ساتھ نکل گیا.
دونوں کی شادی بڑے ہی دھوم دھام سے ہوئی. شیام اپنے سہاگرات کو لے کافی پریشان تھا. آخر کیوں نہ ہو اتنی خوبصورت بی بی جو ملی لال جوڑوں میں تو سیتا اور بھی قہر ڈھا رہی تھی. سہاگرات کے لئے سیتا کوئی خاص سوچی نہیں تھی.
تھوڑی سی ڈر ضرور تھی کہ پہلی بار سیکس کروں گی تو پتہ نہیں کتنا درد ہو گا. بھابھی کہتی تھی کہ پہلی بار درد ہوتی ہے، میں شریک بھی پاوںگی یا نہیں. اگر نہ سہ پائی تو کہیں ناراض ہو گئے تو کیا كروگيهمے تو ٹھیک سے منانا بھی نہیں اتاسي ادھیڑ بن میں کھوئی سیتا پلنگ پر بیٹھی تھی.
تبھی ہلکی آہٹ سے دروازہ کھلا اور شیام اندر آ گےسيتا دیکھتے ہی اٹھ کے کھڑی ہو گئی.
"ارے! کھڑی کیوں ہو گئی؟" شیام پیار بھری سکویڈ سے سیتا سے پوچھا.
کچھ سوچنے کے بعد سیتا دوبارہ بیٹھ گئی اور شیام کو ہلکی نظروں سے دیکھنے لگی.
شیام تو بیسبر تھا ہی اپنے ملن کو لے کر، پر سیتا کو محسوس نہیں ہونے دینا چاہتا تھا کہ میں پریشان ہوں. اس نے ایک گنجی اور تولیہ پہن رکھا تھا. وہ سیتا کے پاس آکر بیٹھ گیا اور سیتا کو دیکھنے لگا. سیتا اپنے طرف دیکھتے دیکھ شرما کر اپنی نظریں دوسری طرف کر لی.
"کیا ہوا؟ ڈر لگ رہا ہے کیا؟" شیام آہستہ سے پوچھا
کوئی جواب نہ پا کر شیام بولا، "میڈم، ہم دونوں شادی کئے هےكوي پریمی نہیں ہیں جو ڈر رہی ہیں. آج ہماری پہلی رات ہے تو تھوڑی شرم ہمیں بھی آ رہی. اگر آپ کی اجازت ہو تو ہم یہ شرم دور کر لیں . "شیام نے مشورہ اور سوال دونوں ایک ساتھ کر دئے.
اب بیچاری سیتا کیا کہتی؟ شیام کچھ جواب نہ پا کر سیتا کے اور قریب ہو گیا اور گلے سے لگا لیا. سیتا کا چہرہ شرم کے مارے سرخ ہو گیا تھا. آج زندگی میں پہلی بار کسی مرد نے چھوا تھا. مرد کی باهے عورت کو کتنا لطف دیتی ہے، بے چاری سیتا کو کیا معلوم؟ ابھی تو وہ بس شیام کے سینے میں سہمی ملحق ہوئی تھی.
سیتا کی طرف سے کوئی Response نہ پا کر شیام تھوڑا پریشان ہونے لگا، مگر آج پہلی ملاقات کی وجہ سے زیادہ کچھ کرنا ٹھیک نہیں سمجھا. اس نے سیتا کے دونوں کندھے پکڑ کر ہلکے سے الگ کیا. پھر اپنا چہرہ سیتا کے کافی قریب لے جا کر سست آواز میں کہا، "I Love you سیتا! معلوم ہے پہلی بار تمہیں دیکھتے ہی مجھے پیار ہو گیا تھا. اس دن سے میں تمہارا پل پل انتظار کر رہا هوپنے دل کا حال کہنا تھا تمسےڈھےر سارا پیار کرنا چاہتا ہوں تم سے اور تمہاری ڈھیر ساری باتیں سننی تھی ہمیں. "
سیتا نظریں نیچی کئے خاموش بنی بیٹھی تھی

سیتا کے سوا بیٹھا شیام کندھوں پر ہاتھ رکھ کر سیتا کے گالو کو سہلانے لگا. ٹچ پاکر سیتا عجیب مہم جوئی سے بھر گئی. شیام اب اپنا چہرہ سیتا کے کندھوں پر رکھ دیا جو کہ سیتا کے گالو سے چپک رہی تھی. سیتا کا روم روم شیام کے گرم ساسو سے سہر گیا. سیتا کے جسم کی خوشبو شیام کو مدہوش کر رہی تھی. شیام اپنا دوسرا ہاتھ بڑھا کر سیتا کے چہرے کو اپنی طرف کیا جس سے سیتا کے ہونٹ شیام کے ہونٹ کے کافی قریب ہو گئے. دونوں کی گرم سانسیں ٹکرا رہی تھی. سیتا آگے ہونے والی کا عکاسی کو یاد کر تیز سانس لینے لگی اور اس کے ہونٹ کںپکںپانے لگے. شیام زیادہ دیر کرنا مناسب نہیں سمجھا اور ہونٹ سیتا کے تپتے ہونٹوں سے چپکا دیے.
شیام تو جیسے جنت میں پہنچ گیا سیتا کے انچھي هوٹھو کا رس پا کر. سیتا کے تو اںگ اںگ سہر گئے آپ کی زندگی کی پہلی چوببن سے. اندر سے وہ بھی کافی اتیجت ہو گئی تھی مگر شرم کی وجہ سے برداشت کر رہی تھی. مگر بکرا کب تک اپنی زندگی کی خیر مناتي. شیام جیسے ہی سیتا کے چونچی پر اپنا ہاتھ رکھا، سیتا چهك کے شیام کو دونوں ہاتھوں سے جکڑ لیا. شیام تو اب اور کس کے هوٹھو کو چسنے لگا اور چونچی کو دھیمے دھیمے دبانے لگاكچھ ہی دیر میں زور دار بوسہ سے سیتا کی ساںسے اكھڑنے لگی تھی. مگر شیام ان سب سے ناواقف مسلسل چوسے جا رہا تھا. بالآخر سیتا برداشت نہیں کر پائی اور اپنے ہونٹ پیچھے کھینچنے لگی تب شیام کو محسوس ہوا. شیام کے ہونٹ الگ ہوتے ہی سیتا جور جور سے سانس لینے لگی اور عام ہونے کی کوشش کرنے لگی. شیام کے ہاتھ اب بھی سیتا کے چونچی کو سہلا رہا تھا.
کچھ عام ہونے پر شیام نے سیتا کو پیار سے پوچھا، "جان، آپ اتنی میٹھی ہو کہ ہمیں پتہ ہی نہیں چلا کہ اب زیادہ ہو گیا ہے اور تمہیں دقت ہو رہی ہے."
اب تک شاید سیتا میں بھی کچھ ہمت آ گئی تھی. وہ شرماتي ہوئی بولی، "کم سے کم سانس بھی تو لینے دیتے."
"اوہ جان ساری! آگے سے خیال رکھوں گا." کہتے ہوئے سیتا کو اپنی باهو میں سمیٹ لیا. سیتا بھی مسکراتی ہوئی شیام کے سینے سے چپک گئی.
"جان! جب ہونٹ اتنے رسیلے ہیں تو اور چیز کتنی رسیلی ہوگی." شیام تھوڑا مذاق موڈ میں پوچھا
سیتا شرم سے کچھ بول نہیں پا رہی تھی، صرف مسکرا رہی تھی.
کچھ دیر چپکی رہنے کے بعد شیام ہٹا اور اپنا گنجی کھولتے ہوئے کہا، "جان اب ان کپڑوں کا کوئی کام نہیں ہے سو اب تم بھی ہٹاؤ اپنے کپڑے." شیام اب صرف انڈرویر میں تھا جس میں اسکا لنڈ اگراي لے رہا تھا. سیتا ترچھی نظروں سے دیکھی تو ایک بارگي ڈر گئی مگر چہرے پر بھاو نہیں آنے ديشيام سیتا کے پاس آ کر ساڑی کے پلو کھینچ دیا. سیتا کی تو سسکاری نکل گيگلے ہی پل ساڑی زمین پر بکھری پڑی تھیں. سیتا کی پیٹھ پر ایک ہاتھ رکھ اپنے سے چپکا لیا اور بلاج کے ہک کھولنے لگا. بلاج کھلتے ہی درمیانے سائز کی چونچی باہر آ گئی جو کہ سفید رنگ کی بر میں قید تھيشيام بر کے اوپر سے ہی چونچی زور سے مسل دیا. سیتا کی اپھپھ نکل گئی.
اگلے ہی لمحے تیزی سے شیام نے پیٹیکوٹ کا ناڑا بھی کھول دیا. سیتا تو شرم سے مری جا رہی تھی. شیام شوہر ہے مگر پہلی بار شوہر کے ساتھ بھی لڑکی کو کافی شرم آتی ہے. یہی حال سیتا کی بھی تھی. بیچاری شرم سے شیام کے سینے سے چپک گئی. شیام نے بھی موقع ملتے ہی بر بھی الگ کر دیا. اب دونوں صرف پینٹی میں چپکے تھے.
سیتا تو ساكشات کام دیوی لگ رہی تھی. پیروں میں پازیب، ہاتھ میں مےهدي کلائی میں چوڑی، گلے میں مگلسوتر جو چونچی تک لٹک رہی تھی، ناک میں چھوٹی سی انگوٹی، کان میں جھمكا، پیشانی پہ ماگٹيكا، کپڑوں میں صرف ایک چھوٹی سی پینٹی. مجموعی طور اس وقت سیتا کسی مردے کا بھی لنڈ کھڑا کر دیتی. شیام تو زندہ تھا. اسے تو لنڈ کے درد سے حالت خراب تھی. اب انڈرویر کے اندر رکھنا مشکل تھا تو اس نے باہر کر دیا اور سیتا کے نرم ہاتھوں میں تھما دیا. سیتا تو چونک پڑی لنڈ کی گرمی سے. اسے تو لگ رہا تھا کہ ہاتھ میں چھالے پڑ جائیں گے.
"جان، اپنا ہاتھ آگے پیچھے کرو نا." گالو کو کاٹتے ہوئے شیام بولا
سیتا تو ان سب سے انجان تھی تو بھلا وہ کیا کرتی. پھر بھی انمنے طریقے سے کرنے لگی.
کچھ ہی لمحات میں لنڈ کے درد سے شیام كلبلانے لگا. سیتا کا ہاتھ ہٹا دیا اور گود میں اٹھا بیڈ پر سلا دیا. بیڈ کے نیچے سے ہی شیام نے پینٹی کو نکالا. اوپھپھ! چوت دیکھتے ہی شیام کو نشہ لگ گیا. ایکدم ہموار گلابی رنگ، ہلکی ہلکی بال، کسی ہوئی پھاكے، مکمل مدہوش کرنے والی تھيےك زوردار بوسہ جڑ دیا شیام نے. سیتا تڑپ اٹھی. شیام نے بوسہ کے ساتھ ہی اپنا زبان چلانے لگاسيتا اپنا سر بائیں دائیں کرکے تڑپنے لگی. شیام کے بال پکڑ کے ہٹانے لگی مگر شیام تو مقناطیس کی طرح چپکا تھا. اس کی چوت پانی چھوڑنے لگی تھی. نمکین پانی ملتے ہی اور زور زور سے چسنے لگا. سیتا زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکی.
چند منٹ میں ہی سیتا کی چیخ نکل گئی اور جھڑنے لگی. شیام سارا پانی جلدی جلدی پینے لگا. جیبھ سے پانی کی ایک ایک بوند شیام نے چاٹ کے صاف کر دیا. سیتا بدحواس سی آنکھیں بند کر زور زور سے ساںسے لے رہی تھی. شیام مسکراتا ہوا اس کے سوا آ کے لیٹ گیا اور سیتا کو اپنی باهو میں بھر کے اس کی پیشانی کو چومنے

شیام کا لنڈ ابھی بھی مکمل تنا ہوا تھا. اس نے ایک ٹانگ سیتا کے پیروں پر چڑھا دیا، جس سے لنڈ سیدھا سیتا کی گلابی چوت پر دستک دے رہی تھی. شیام سیتا کو چومتے ہوئے کہا، "جانو، تم تو اتنی جلدی كھللاس ہو گئی. ابھی تو اصلی مجا تو باقی ہی ہے."
سیتا بس مسکرا کر رہ گئی.
شیام اٹھ کے سیتا کے منہ کے پاس بیٹھ گیا جس سے اس کا تنا لنڈ سیتا کے ہونٹ کے کافی نزدیک ٹھمکے لگا رہا تھاپر سیتا آنکھیں بند کی ابھی بھی پڑی تھی.
شیام، "جان، اب میں آپ کو ایک مکمل طور عورت کا احساس دلانا چاہتا ہوں، اپنی آنکھیں کھولو اور اس سے محبت کرو."
سیتا سنتے ہی ایکبارگی تو چونک پڑی. پھر آنکھیں کھولی تو سامنے لنڈ دیکھ جلدی سے اپنا منہ دوسری طرف کر لی.
شیام، "ارے! کیا ہوا؟ جب تم میرے لنڈ کو محبت نہیں کرو گی تو میں اسے تمہاری چوت میں کیسے ڈالوںگا اور تمہیں پوری عورت کیسے بناوگا."
سیتا شرماتي ہوئی بولی، "گندا مت بولو نا اور آپ نیچے ہو جاؤ میں ہاتھ سے کر دیتی ہوں."
شیام، "ہاتھ سے نہیں ڈرلگ منہ سے محبت کرنا ہے اور گندا کیا ہے لنڈ کو لنڈ نہ بولوں تو کیا بولوں؟"
سیتا کے جسم میں تو مانو 1000 وولٹ کا کرنٹ لگ گيااج تک بیچاری ایک کس تک نہیں کی تھی اسے منہ میں لنڈ لینے کو کہا جو جا رہا تھاسيتا سكچاتے ہوتے ہوئے بولی، "چھي! منہ میں گندا نہیں لوں گی."
"کچھ گندا نہیں ہے میری رانی. منہ میں لوگي تو اور مست ہو جاؤ گی. آج انکار کر رہی ہو اگلی بار خود ہی لپک کر لوگي."
"نہیں آج نہیں پليجور جو کرنا ہے کر لیجئے مگر یہ نہیں کر سکتی" سیتا بولی.
اب شیام زیادہ دباؤ نہیں دینا چاہتا تھا کیونکہ آج پہلی رات تھی دونوں کی.
"OK. بس ایک کس ہی کر دو اور زیادہ کچھ نہیں پلیج" شیام اب اور زیادہ پیار سے کہا.
سیتا بھی شیام کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھيهلكي مسکراہٹ کے ساتھ بولی، "صرف ایک کس."
شیام کو تو جیسے دماغ کی ساری خواہش اتنی میں ہی پوری ہو گئی مکمل چهكتے ہوئے بولا، "ہاں ہاں ڈرلگ بس ایک کس."
"ٹھیک ہے تو اپنی آنکھیں بند کیجئے .مجھے شرم آئے گی" سیتا بولی.
شیام اب یہ موقع جانے نہیں دینا چاہتا تھا تو اس نے جلدی سے اپنی آنکھیں بند کر لی. سیتا اب بھی لنڈ کو منہ سے نہیں لگانا چاہتی تھی مگر ہاں کر دی تھی تو کیا کرتی؟ اب اگر منع کرتی ہے تو کہیں شیام ناراض ہو گئے تو؟ پھر بھی کافی ہمت کرکے ایک ہاتھ سے لنڈ پکڑی اور اپنے ہونٹ لنڈ کے قریب لے جانے لگی. شیام کی تو صرف چھونے سے ہی سسکاری نکل رہی تھی. جیسے ہی سیتا کے ہونٹ لنڈ کو چھوا شیام کی آہ نکل پڑی. سیتا شیام کو مستی میں دیکھ کچھ دیر تک اپنا ہونٹ لنڈ پر چپكاے ركھيسيتا کو اچھا نہیں لگ رہا تھا مگر وہ شیام کے لیے کر رہی تھيكچھ دیر بعد سیتا ہٹنے کی سوچی تو اس نے مکمل سپاڑا اپنے هوٹھو میں لے کس کی آواز کے ساتھ ہٹا لی اور جلدی سے اپنا چہرہ ہاتھ سے ڈھك لی.
شیام کو تو ایسا لگ رہا تھا کہ اس کا لنڈ اب پانی چھوڑ دے گا. کسی طرح روک کے رکھا اور سیتا کی گالو پر بوسہ کے ساتھ شکریہ ادا کیا.
شیام اب اٹھا اور سیتا کے شررنگار باکس میں سے کریم نکالا اور اپنے لنڈ پے ملنے لگا. پھر وہ سیتا کی چوت کو چومتے ہئے اسکی چوت میں بھی کریم لگانے لگا. سیتا کو سردی محسوس ہوئی تو ہلکی نجرو سے دیکھنے لگی کہ کیا لگا رہے ہیں. اپنی طرف دیکھتی پاکر شیام بولا، "ڈرلگ، کریم لگا رہا ہوں تاکہ آپ کو درد کم ہو." اور شیام مسکرا دیا.
سیتا شرماتي ہوئی ایک بار پھر چہرہ ڈھك لی.
شیام نے سیتا کے دونوں پیروں کو موڑ کر سینے سے سٹا دیا. اب سیتا کی پھاكے کافی حد تک کھل رہی تھی کافی کسی چوت کی وجہ پوری نہیں کھلی تھی ورنہ اس کرنسی میں تو اکثر کی چوت کھل جاتی هےسيتا کی تو سانس اب رک رہی تھی آگے ہونے والے حالات کو سوچكرشيام نے اپنی انگلی سے چوت کی درار کو پھیلا کر اپنا لنڈ ٹکا دیا اور ہلکا دھکا لگایا. مگر لنڈ پھسل گیا. دوبارہ اس نے چوت اور زیادہ سے کھول کر تھوڑا جور کا دھکا لگایا.
سیتا زور سے اپنی آنکھیں بھيچتے ہوئے چلا پڑی، "ااااااههههه ..... اوہ اوهوپھپھ اوپھپھ ای ای ييييييي مر گيييييي پلیج نكاليے باهرررر اهاه ..."
"بس رانی تھوڑا برداشت کر لو پھر مزہ آئے گا" شیام پچكارتے ہوئے کہا.
شیام کا لنڈ 2 انچ تک گھس گیا تھا.
شیام نے اپنا لنڈ کھینچتے ہوئے ایک اور جھٹکا دے دیا. اس بار 4 انچ تک گھس گیا.
"اوپھپھ .... ماااااييييييي مرررر گيييييييي اب اور نہیں سہ پاوںگی. پلیج باہر نكاليےےےے" سیتا رونی صورت بناتے ہوئے بولی.
"اچھا اب نہیں کروں گا." شیام کہتے ہوئے سیتا کی ہونٹ چسنے لگے اور چونچی مسلنے لگے. کچھ دیر چسنے کے بعد جب سیتا تھوڑی نارمل ہوئی تو شیام نے سیتا کے هوٹھو کو کس کے چستے ہوئے اپنا لنڈ پیچھے کھینچا اور بغیر کہے پوری قوت سے دھکا دے مارا.
"ااااااا ممی مر گييييييي آہ آہ اوپھپھ اوہ پلیج میں آپ کے پاؤں پكڑتي ہوں باہر نکال لیجئے ااااسس" سیتا کی آنکھیں آنسو سے بھر گئی تھی اور چھوٹنے کی کوشش کر رہی تھيجدگي میں پہلی بار اسے اتنا درد ہوا تھا وہ بھی چدائی میں، تصور بھی نہیں کی تھی بیچاری. ایسا لگ رہا تھا گویا چاقو سے کسی نے اس کی چوت چیر دیا هوشيام کا پورا لنڈ سیتا کی چھوٹی سی چوت میں سما گیا تھا اور اس کے بال سیتا کی گاںڈ کے پاس ٹکی تھيشيام سیتا کے ہونٹ چومتے ہوئے کہا، "مبارک ہو سیتا رانی. اب آپ لڑکی سے پوری عورت بن گئی ہیں. "
سیتا بیچاری کچھ نہ بول سكيشيام لنڈ پےلے ہی سیتا کی چونچی مسل رہا تھا اور ہونٹ مسلسل چوسے جا رہا تھا. کافی دیر بعد جب درد تھوڑی کم ہوئی تو شیام نے اپنا پورا لنڈ باہر نکالا اور زور سے پیل دیا.
"اهههههه امممممم" سیتا ایک بار پھر کراہ اٹھی.
"بس رانی. آج پہلی بار ہے نا اس لئے درد زیادہ ہو رہا هےاج سہ لو پھر پوری زندگی مزے لیتی رہنا." شیام نے کہا اور کہہ کر سیتا کو پیلنے لگا.

لنڈ اب مسلسل سیتا کی چوت کو چیر رہی تھی. سیتا اب بھی درد سے بے حال تھيوو مسلسل کراہ رہی تھی مگر شیام تو اب اور زور زور سے پیلنے لگا. اپنا لنڈ پورا باہر نکالتا اور ایک ہی جھٹکے میں جڑ تک گھسیڑ دیتا. وہ سیتا کی کنواری چوت کی مسلسل دھججيا اڑا رہا تھا.
کچھ پلو میں شیام کی رفتار تیز ہو گيسكي منہ سے بھی آوازیں نکل رہی تھی اب.
"آہ سیتا اوههههه میری جان. کتنی پیاری ہو تم. اوپھپھ اوہ کتنا مجا آ رہا ہے تمہیں چودنے مےكيا رسیلے ہوںٹھ پائی ہے ایکدم میٹھی. اهاه آہ آہ میں تو مبارک ہو گیا تمہیں پا کر." شیام ایسے ہی بولتے ہوئے سیتا کو اب تیز تیز دھکے لگا رہا تھا.
اچانک شیام کی چیخ نكلني شروع ہو گئی. شیام اپنے گرم گرم پانی سے سیتا کی چوت کو بھر رہا تھا. اس پانی کی گرمی کو سیتا برداشت نہیں کر سکی اور وہ بھی شیام کو زور سے گلے لگاتی ہوئی پانی چھوڑنے لگی. سیتا کو لگ رہا تھا جیسے اس کی چوت میں پچکاری چھوڑ رہا ہو کوئی. دونوں جھڑنے کے کافی دیر بعد تک یوں ہی پڑے رہے. پھر شیام اٹھ کر باتھ روم میں صاف کرنے چلا گیا. سیتا اٹھ کے اپنی چوت کی طرف دیکھیں تو بے ہوش ہوتے ہوتے بچيپوري طرح سوج گئی تھی اور اس میں سے خون اور لنڈ کے پانی کا مرکب ٹپک رہی تھی. بےڈسيٹ بھی خون سے مکمل طور پر سرخ ہو چکی تھی. بیچاری سیتا کو اپنی اس حالت کو دیکھ کر رونا آ گیا اور سبكنے لگی. سیتا کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا کرے؟ اتنے میں شیام باتھ سے واپس آ گیا. شیام کا لنڈ سکڑ گیا تھا پھر بھی سیتا کو ڈر لگ رہا تھا. سیتا کو سبكتي دیکھ پوچھے، "جان، درد تیز ہو رہی ہے کیا؟ پہلی بار چدائی میں اتنا ہی درد ہوتا ہے. میرا لنڈ بھی دیکھو چھل گیا ہے. چلو باتھ صاف کرتے ہیں."
شیام نے سیتا کی بازو پکڑ اٹھنے میں مدد کی. پھر گود میں اٹھا کر باتھ روم میں لے جا کر ایک ٹیبل پر بیٹھا دئے. پھر پانی سے سیتا کی چوت کو اچھی طرح صاف کیا. بیچاری سیتا تو سوچی بھی نہیں تھی کہ کوئی اس کی چوت کو اتنا پیار دے گا. وہ تو شرم سے مری جا رہی تھی. پھر تولیہ سے چوت کو اچھی طرح پوچھا. پھر سہارا دے کر بیڈروم تک لے اياسيتا کی ٹانگ جواب دے چکی تھی. کوئی دیکھتا تو ضرور کہتا کہ اس کی طبیعت سے چدائی ہوئی ہے. اندر آکر شیام نے سیتا کو سلا دیا. سیتا ساڑی اٹھا کر پہننا چاہ رہی تھی مگر شیام نے روک دیا، "جان، آپ ایسے ہی کافی خوبصورت لگ رہی ہو تو کپڑے پہننے کی کیا ضرورت؟"
سیتا شرما کر رہ گئی اور پھر دونوں ننگے ہی سو گئے.

صبح 5 بجے میری نیند کھلی تو اپنی حالت دیکھ خود شرما گئی. میں پوری مادرجات نںگی شیام کے ننگے جسم سے چپکی تھی. میں اٹھی تو میری نظر بےڈسيٹ پڑی، بےڈسيٹ پر خون اور ویرے کے کافی گہری داغ بن چکی تھی. میں نے اپنے کپڑے پهنےپھر شیام کو نیند سے جگائی تو وہ بھی دیکھ مسکرا دیئے. میں نے جلدی سے بےڈسيٹ بدلی اور دوسری بچھا دی. تب تک شیام بھی اپنے کپڑے پہنے اور پھر سو گئے. نیند تو ہمیں بھی آ رہی تھی لیکن نئی جگہ تھی تو دیر تک سوتی تو پتہ نہیں سب لوگ کیا سوچتے؟
کچھ دیر بعد گھر کے سارے رکن بھی جگ چکے تھے. میں بھی نہا-دھو کر فریش ہو گئی اور ناشتا کر اپنے روم میں آ گئی.
صبح 11 بجے تک شیام سوتے رہے. پھر اٹھ کر پھریش ہوئے اور باہر اپنے دوستوں کے ساتھ نکل گئے. ان کے جاتے ہی ہماری نند عبادت آ دھمکی. صبح سے تو شیام تھے تو شاید اسی لیے نہیں آئی.
"بھابھی، بھیا کو سونے نہیں دیا کیا رات میں جو اتنی دیر تک سوتے رہے؟" عبادت هستي ہوئی بولی.
اس کی بات سن کر مجھے بھی ہنسی آ گئی.
عبادت سب کی لاڈلی تھی گھر میں. اب وہ 12 ویں کے امتحان دی تھيدكھنے میں بھی خوبصورت تھی کافی. ہمیشہ هستي ہوئی رہتی تھی. جسمانی ساخت بھی اچھی تھی.
پوجا اب بیڈ پر چڑھ کر مجھے پیچھے سے باںہوں میں بھر لی. پھر اپنی گال میری گال سے سٹاتے ہوئے بولی، "بھابھی بتاو نا پلیج، رات میں کیا سب کی؟"
"آپ اپنے بھیا سے پوچھ لیجئے کہ رات میں کیا سب کئے؟" میں هستي ہوئی کہ دی
"کیا ... بھابھی ....؟ بھیا سے کیسے پوچھ سكتيبتاو نہ پلیج."
"نہیں پوچھ سکتے تو رہنے دیجئے. آپ کی بھی شادی ہو گی تو خود جان جاےگا."
"1 منٹ بھابھی. یہ آپ آپ کیا لگا رکھی ہے. میں اپنی بھابھی سے دوستی کرنے آئی ہوں اور آپ ہیں کہ ....؟"
"اوکے عبادت."
"Thanks بھابھی. اچھا یہ تو بتاؤ میری بےڈسيٹ کہاں ہے جو کل بچھائی تھی"
"کیا؟ وہ تمہاری بےڈسيٹ تھی."
"جی ہاں میری سیتا ڈرلگ. ذرا دکھائیں تو کیا حالت کر دی." کہتے ہوئے عبادت میری گالو کو چوم لی
"نہیں، ابھی وہ دیکھنے کے قابل نہیں ہے. میں نے صاف کر دوں گی تب دیکھنا"
"سیتا بھابھی، آپ تو ابھی کپڑے صاف کرو گی نہیں. اگر جلدی صاف نہیں ہوگی تو داغ زیادہ آ جائیں گے. سو پلیج ہمیں دے دو میں صاف کر دونگی. پلیج نکالو."
"ٹھیک ہے مگر کسی کو دکھانا نہیں ورنہ سب هسےگے." میں نے خود کو عبادت کی باںہوں سے الگ ہوتے ہوئے کہا.
"کیا؟ دیکھیں گے نہیں تو کیسے سمجھیں گے کہ دلہن سسكاري ہے."
"پاگل کہیں کی مرواےگي همےجاو ہمیں نہیں صاف کروانی." میں پلنگ پر بیٹھتے ہوئے بولی.
"ہی ہی ہی ہی ہی. مذاق کر رہی تھی بھابھی. وہ سب کو دکھانے والی چیز ہوتی ہے کیا. اب دو" عبادت زور سے هستي ہوئی بولی.
میں نے اپنی اٹیچی کھول کے جيوهي بےڈسيٹ نکلی، عبادت لپک کے لے لی اور پھورت سے بےڈسيٹ پلنگ پر پھیلا دی اور چللا پڑی.
"ہاے! میری پیاری بھابھی کی کتنی دھنائی ہوئی ہے پوری رات. بےڈسيٹ دیکھ کر تو ہم جیسی تو ڈر سے شادی بھی نہیں کروں گی ...... بھابھی، رات میں زیادہ پھٹی تو نہیں نا."
میں شرم سے سرخ ہو گئی اور پھر جلدی سے بےڈسيٹ سمیٹنے کی کوشش کرنے لگيپوجا تیزی سے میرے دونوں ہاتھ پکڑ لی اور مجھے پلنگ کی دھکا دیتی ہوئی خود بھی میرے جسم پر گر پڑی. میں نیچے پڑی تھی اور عبادت اوپر سے دبایے تھی.
"بھابھی، رات میں جب مزے لے رہی تھی تب تو شرم نہیں آئی، پھر اب شرم کیوں آ رہی ہے." پوجا اپنا چہرہ میرے چہرے سے تقریبا سٹاتي ہوئی بولی.
"پاگل مرواےگي ہمیں اگر آپ کے بھیا کو معلوم پڑے گی تو پتہ ہے کیا ہو گا؟" میں بھی آرام سے عبادت کو سمجھانے کی کوشش کی.
"کچھ نہیں ہوگا کیونکہ ہم دونوں میں سے کوئی بھیا کو کچھ نہیں کہنے والے ہیں. ویسے بھابھی آپ کی ہونٹ کافی مست ہیں. دل تو ہوتی ہے چپکا دوں .."
عبادت آگے کچھ کرتی اس سے پہلے ہی میں نے دھکا دیتے عبادت کو اپنے سے دور کیا. پوجا الگ ہوتے ہوئے زور سے ہنسنے لگی. میں نے بھی مسکرا دی.
پھر پوجا بےڈسيٹ سمیٹ لی اور اپنے ساتھ لائی بیگ میں ڈال لی.
"بھابھی، اپنے دوست کے یہاں جا رہی ہوں. وہیں کو یہاں صاف کر دوں گی. فکر مت کرنا کسی کو نہیں دكھاوگي. شام تک آ جاؤنگی." عبادت بیگ کندھے پر ٹكاتي ہوئی بولی.
میں نے بھی مسکرا دی اور بولی، "ٹھیک ہے. جلدی آنا، اکیلے بور ہو جاوںگی."
پھر پوجا بائی کہہ کر نکل گئی.
11 بج گئے تھے. اب ہمیں بھی نیند آنے لگی تھی. بیڈ پر پڑتے ہی مجھے نیند آ گئی اور میں سو گئی ......

رات کی تھکاوٹ سے میں سوئی تو بےسدھ سوتی رہی. اچانک مجھے اپنے ہونٹ پر کچھ گیلا سا محسوس ہوا مگر میری نیند نہیں کھلی. تبھی میری ہونٹ میں تیز درد ہوئی جس میں هڑبڑا کے نیند سے جاگی.
اوہ .... گاڈ، ایک لڑکی مجھے اپنی بانہوں میں جكڑي ہونٹ چس رہی تھی. میں شناخت نہیں ہوسکی. کسی طرح اسے دھکا دے کر اپنے سے علیحدہ کیا. الگ ہوتے ہی وہ اور عبادت زور سے ہنسنے لگی. مجھے تو غصہ بھی آ رہی تھی مگر عبادت کو دیکھ اپنے آپ پر کنٹرول کی.
"بھابھی، یہ لو بےڈسيٹ. مکمل طور پر صاف ہو گييے میری دوست ہے، اسی کے یہاں صاف کرنے گئی تھی. کافی محنت کرنی پڑی ہم دونوں کو تب جا کر صاف ہوئی ہے." عبادت هستي ہوئی بولی.
"وہ تو ٹھیک ہے مگر یہ گندی حرکت کیوں کی تم دونوں." میں نے تقریبا ڈاٹتے ہوئے پوچھا.
"بھابھی، اتنی محنت سے صاف کی آپ کی بےڈسيٹ تو کیا بغیر کچھ لئے تھوڑے ہی چھوڑ دوں گی. پكي تو اپنا حصہ لے لی، اب ہمیں بھی جلدی سے دے دو." عبادت میری پلنگ پر چڑھتے ہوئے بولی.
میں نے کچھ بولتی اس سے پہلے ہی پكي بول پڑی، "بھابھيجي، سوتے ہوئے آپ اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ میں برداشت نہیں کر سکی اور چسپاں ڈالی. وہ تو عبادت ہی لینے والی تھی مگر میں نے ہی روک دی ورنہ اور بری حالت کر دیتی یہ "
دونوں کی چهلباجي سن کے میری بھی غصہ ٹھنڈا ہو گیا.
"تم دونوں پاگل ہو گئی ہو. کم سے کم جگا تو دیتی." میں نے ہنستے ہوئے دونوں سے ایک ساتھ سوال کر دی.
اتنا سنتے ہی عبادت جھٹ سے میری طرف لپکی. میں نے کچھ سمجھتی یا کرنے کی سوچتی، تب تک میں پلنگ پر پڑی تھی اور عبادت میرے دونوں ہاتھ جكڑي چڑھی تھی مجھ پر. ہم سب کو ہنسی آ گئی عبادت کی اس حرکت سے. عبادت کی هركتے اچھی لگنے لگی تھی ہمیں سو میں نے بھی بغیر کچھ کئے عبادت کے نیچے پڑی تھی.
عبادت کی چونچی میری چونچی کو دبا رہی تھی. پھر پوجا میری گالو کو چومتے ہئے بولی، "سیتا ڈرلگ، آپ منع بھی کرتی تو میں لے ہی لیتی مگر مان گئی یہ آپ کے لئے اچھی بات ہوئی ورنہ وہ حال کرتی جو بھیا بھی نہیں کئے ہیں ....."
"چل چل ... بڑی آئی حالت خراب کرنے والی. آپ کے بھیا بھی اسی طرح بولتے تھے مگر تھوڑی تکلیف کے بعد سب ٹھیک ہو گئی." میں نے بھی تانے دیتے ہوئے بولی.
ہم دونوں کی باتیں سن پكي بھی هستي ہوئی پاس آئی اور بولی، "بھابھيجي، اب تو آپ کی خیر نہیں. عبادت وہ سب کرتی ہے جس کی آپ تصور بھی نہیں کر سکتی اور آپ کی ایسی حالت کر دے گی کہ آپ تڑپ تڑپ کے چھوڑنے کی بھیک ماگوگي . "
تبھی باہر سے ممی جی کی آواز سنائی دی. عبادت جلدی سے اٹھی، میں بھی جلدی سے اٹھی اور اور اپنے کپڑے ٹھیک کی.
"عبادت، صرف بات ہی کرو گی. ملٹی صبح ہی کھائیں تھی، ابھی کچھ ناشتا بنا دو اور پكي کو بھی کھلا دوكاپھي دن بعد آئی ہے." ممی آتی ہوئی دھن پڑی.
"ٹھیک ہے ممی." پوجا بولی
اتنا حکم دے کر ممی جی چلی گيشايد انہیں کہیں جانا تھا.
"عبادت، میں اب لیٹ ہو جاوںگی. میں بھی چلتی ہوں" پكي بھی ہم دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولی.
"کیوں، اتنی جلدی کیا ہے؟ ناشتہ کر لیجئے پھر چلے جاےگا." میں نے پكي سے پوچھ بیٹھی.
"نہیں بھابھيجي، پھر آؤں گی تو کھانا ہی كھاوگي آپ کے ساتھ. آج ممی کو کچھ کام ہے اس لئے جانا هوگاپوجا سے پوچھ لیجئے." پكي اپنی صفائی دیتے ہوئے بولی. میں عبادت کی طرف دیکھنے لگی. پوجا بھی ہاں بولی اور پكي کو چھوڑنے باہر نکل گئی.
کچھ دیر بعد عبادت کے بیگ سے موبائل کے کمپن کی آواز آنے لگی. میں نے پوجا کو بلانے گیٹ کی طرف لپکی مگر تب تک دونوں باہر نکل چکی تھی. میں باہر جا نہیں سکتی تھيكھڑكي سے باہر دیکھی تو دونوں سڑک کنارے بات کر رہی تھی. اب تو میری آواز نکل بھی نہیں سکتی تھی. ادھر تب تک موبائل کٹ چکی تھی. میں بیگ سے موبائل نکالی اور دیکھنے لگی کہ کس کا فون تھا. کوئی نیا نمبر تھا. تبھی پھر سے فون آنے لگيباهر عبادت کو دیکھی تو وہ اب بھی بات کر رہی تھی. میں سوچی اٹھا کر دیکھتی ہوں کہ کون ہے اور کہہ دوں گی کہ کچھ دیر بعد بات کر لینا عبادت سے.
میں نے فون رسيو کی اور کان میں لگائی.
"کیوں شالي، فون کیوں نہیں اٹھاتی ہو"
میں تو حیران رہ گيكسي مرد کی آواز تھی. مرد تک تو برداشت کرنے کے قابل تھی مگر اس کی ایسی زبان. سے تو میری گلے سے نیچے نہیں اتر رہی تھيپھر میں نے تھوک نگلتے ہوئے پوچھی، "آپ کون بول رہے ہیں اور کہاں فون کئے ہیں؟"
"تم عبادت ہی ہو نا؟" ادھر سے آواز آئی.
اب تو میرا دماغ کام کرنا تقریبا بند ہو چکی تھيمےنے عبادت کو دیکھی تو وہ اب وہاں پر نہیں تھی. شاید باتیں کرتے ہوئے آگے نکل گئی. میں نے اپنے آپ پر قابو پانے کی کوشش کی اور سوچنے لگی کہ کیا کہوں؟ کچھ دیر سوچنے کے بعد میں نے فیصلہ لے لی اور فون کو کان میں سٹا لی.
"ہاں میں عبادت ہی ہوں، مگر آپ کو شناخت نہیں پا رہی."
"شالي ڈرامہ مت کر ورنہ تیرے گھر آکر اتنا چودوگا کہ نانی یاد آ جائے گی"
میں تو اتنا سن کے پانی پانی ہو گئی. پھر بھی ہمت کر بولی، "سچ کہہ رہی ہوں، آپ کی آواز چےج ہے سو نہیں پہچان پا رہی ہوں." میں اس کا نام جاننے کی کوشش کر رہی تھی.
"جی ہاں رات میں کچھ زیادہ ہی شراب پی لیا تھا تو آواز تھوڑی بھاری ہو گئی."
اب میری تیر نشانے پر لگ رہی تھی. میں نے تھوڑی رکویسٹ کرتے ہوئے بولی، "جی ہاں تبھی تو نہیں پہچان رہی ہوں کہ کون بول رہے ہیں."
"شالي لنڈ تو اندھیرے میں بھی شناخت لیتی ہے اور لپک کے چسنے لگتی ہے. آواز کیوں نہیں پہچان رہی ہے."
میں تو ایسی باتیں سن کے شرم کے مری جا رہی تھی مگر کچھ کچھ مزے بھی آنے لگی تھی. ہلکی مسکراہٹ آ گئی میرے چہرے پر.

"پلیج بتا دیجئے نا!"
"بتا دوںگا مگر میری ایک شرط ہے. وہ ماننی پڑے گی تمہیں"
"کیسی شرط؟"
"کل شام میں میں گھر آ رہا ہوں تو تم اپنے دوست پكي کے ساتھ میرا لنڈ لینے کے لئے تیار رہے گی."
میری تو حلق سوکھ گييے عبادت اور پكي کیا کیا گل کھلاتی ہے. مجھے تو غصہ بھی آ رہی تھی. مگر میں نام جاننا چاہتی تھی اور تھوڑی تھوڑی مزے بھی آ رہی تھی.میں زیادہ رسک نہیں لینا چاہتی تھی،
"میں تو تیار ہوں مگر پكي سے پوچھ کے کہوں گی."
"تو ٹھیک ہے اس رڈي سے جلد پوچھ کے بتانا."
"اب تو نام بتا دیجئے."
"شالي چوت مروانے کے لیے ہاں کیسے کہہ دی بغیر پہچانے. ایک نمبر کی رڈي ہو گئی ہے."
مجھے بھی ہنسی آ گئی اس بات پركيو نہیں آتی آخر وہ صحیح ہی تو کہہ رہے تھے. ہنستے ہوئے میں نے دوبارہ رکویسٹ کی نام بتانے کی.
پھر انہوں نے اپنا نام بتایا. نام سنتے ہی میں تو بیہوش ہوتے ہوتے بچيمے تو عبادت کو دل ہی دل گالی دینا شروع کر دی تھی. شالي پورے گاؤں میں اور کوئی نہیں ملا اپنی چوت مروانے کے لئے. میں نے فون کاٹ دی. مگر فون دوبارہ بجنے لگی. میں اٹھا نہیں رہی تھی. فون مسلسل آ رہی تھی. میں باہر کی عبادت کو دیکھی تو ابھی بھی عبادت کہیں نہیں دکھائی دے رہی تھی. کچھ دیر بعد میں نے دوبارہ فون رسيو کی

"کیوں رڈي، فون کیوں کاٹ دی؟"
فون اٹھاتے ہی ناگےشور انکل کی تیز آواز میری کانوں میں گونج پڑی.
ناگےشور انکل جو کہ ہمارے سسر جی کے کزن ہیں. ان کی عمر تقریبا 45 ہے. وہ 3 پنج سالہ سے اس گاؤں کے سربراہ ہیں. اب سن رہی ہوں کہ وہ رکن اسمبلی کا الیکشن لڑےگے. ان کو میں نے صرف ایک بار ہی دیکھی ہوں. اونچا قد، گٹھيلا بدن، لمبی موچھے، گلے میں سونے کی موٹی چین، ہاتھ کی ساری انگلی میں رنگ. جب میں پہلی بار دیکھی تو ڈر ہی گئی تھی.
ان کے ساتھ 12 ویں کی عبادت. اوپھپھ! میں تو حیران تھی کہ بھلا عبادت کیسے شریک پاتی ہوگی انكوتبھي میرے کانوں میں دوبارہ زور کی "ہیلو" گونجی.
"ہاں انکل سن رہی ہوں" هڑبڑاتي ہوئی بولی.
"چپ کیوں ہو گئی؟"
"وہ ممی آ گئی تھی نا اس لیے" اب میں مکمل طور پر پوجا بن کے بات کرنے لگی.
"وو شالي بہت ڈسٹرب کرتی ہے ہمیں. ایک بار تم ہاں کہو تو اس کو بھی چود چود کے شامل کر لیں. پھر تو مزے ہی مزے."
اوہ گاڈ! مجھ پر تو مسلسل حملہ ہوتی جا رہی تھيمممي کے بارے میں اتنی گندی ...... میں سبھلتي ہوئی بولی، "پلیج ممی کے بارے میں کچھ مت کہیے."
"اچھا ٹھیک ہے نہیں کہوں گا."
پھر انہوں نے پوچھا، "اچھا وہ تیری نئی بھابھی کی کیا نام ہے؟"
میں اپنے بارے میں سن کے تو حیران رہ گيمےرے ہاتھ پاؤں کانپ گئی. پھر کسی طرح اپنا نام بتایا.
"ہاں یاد آیا سیتا. شالي کیا مال لگتی هےگوري چمڑی، رس سے بھری ہونٹ، گول و سخت چونچی، چوتڑ نکلی ہوئی، سیاہ اور لمبے بال، اوپھپھ شالي کو دیکھ کے میرا لنڈ پانی چھوڑ لگتا ہے."
میں اپنے بارے میں ایسی باتیں سن کے پسینے چھوٹ رہے تھےمه سے آواجیں نكلني بند ہی ہو گئی تھی. بس سنتی رہی.
"عبادت، پلیج ایک بار تم سیتا کو میرے لنڈ کے نیچے لا دو. میں تمہیں روپیوں سے تول دوگاشيام تو اس کی صرف سیل توڑا ہوگا، اصلی چدائی کے مزے تو اسے میرے لنڈ ہی آئے گی. جب اس کی کسی چوت میں تڑاتڑ لنڈ پےلوگا تو وہ بھول جائے گی شیام کو. جنت کی سیر کروا دوں گا. بولو پوجا میرے لنڈ کے اتنا نہیں کرو گی؟ "
میں تو اب تک پسینے سے بھيگ گئی تھيكيا بولوں کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی. کچھ دیر تو خاموش بنی رہی، پھر جلدی سے بولی، "ٹھیک ہے، میں کوشش کروں گی. ممی آ رہی ہے شاید میں رکھتی ہوں، بعد میں بات کروں گی."
صرف اتنی باتیں ہی بول پائی اور جلدی سے فون کاٹ دی. میری ساںسے کافی تیز ہو گئی تھی گویا دوڑ کے آ رہی هومےري تو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی. اچانک مجھے چوت کے پاس کچھ گیلی سی محسوس ہوئی. میں نے ہاتھ لگا کر دیکھی تو اپھپھ! میری چوت تو مکمل طور پر بھيگي ہوئی تھی.
اے خدا! یہ کیا ہو گیا؟
انکل کی باتیں سن کے میں گیلی ہو گئی. میں بھی کتنی پاگل تھی جو آرام سے سن رہی تھی. ایک بات تو تھی کہ انکل کی باتیں اچھی لگ رہی تھی تبھی تو سن رہی تھی. عبادت کی باتیں تک تو نارمل تھی پر جب اپنی باتیں سنی تو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہمیں. ایک مختلف سی نشہ آ گئی مجھ میں. میں مدہوش ہو کر سن رہی تھی اور نیچے میری چوت جھرنے چھوڑ رہی تھی. اتنی مدہوش تو رات میں چدائی کے وقت بھی نہیں ہوئی تھی.
عبادت تو جانتی ہوگی کہ انکل مجھے چودنا چاہتے ہیں. جانتی ہو گی تبھی تو وہ ہم سے دوستی کی ورنہ آج کے زمانے میں نند-بھابھی میں کہیں دوستی ہوتی ہے. اگر ہوتی بھی ہوگی تو اتنی جلدی نہیں ہوتی.
اگر عبادت اس بارے میں کبھی بات کی تو کیا کہوں گی؟ نا .. نہ .. میں یہ سب نہیں کروں گی. میری شادی ہو چکی ہے، اب تو شیام کو چھوڑ کسی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی.
میں یہی سب سوچ رہی تھی کہ دروازے پر کسی کے آنے کی آہٹ ہوئی. سامنے پوجا آ رہی تھی.میں تو ایکٹک دیکھتی ہی رہ گئی. کتنی معصوم لگ رہی ہے دیکھنے میں مگر کام تو ایسا کرتی ہے جس میں بڑی بڑی کو مات دے دے. اوپر سے نیچے غور سے دیکھنے لگی عبادت کو. میں تو تصور بھی نہیں کر پاتی تھی کہ اتنی پیاری اور چھوٹی لڑکی بھلا ایک 45 سال کے مرد کو چڑھا سکتی ہے اپنے اوپر.
"کیا ہوا سیتا ڈرلگ، کس سوچ میں ڈوبی ہوئی هےڈرے مت، میں اپنی محنتانہ لئے بغیر چھوڑوگي نہیں." کہتے ہوئے کھل کھلا کر ہنس پڑی. میں بھی ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اس کا ساتھ دیا.
"آتی ہوں ناشتہ بنا کر پھر لوں گی." پوجا اپنا اٹھا کے جانے کے لئے مڑی.
"عبادت، تمہاری فون!"

Posted on: 11:01:AM 17-Feb-2021


0 0 181 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 59 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com