Stories


انوکھا رشتہ انوکھی چاہت از پنک بے بی۔اینیمل سیکس

کتے سے سیکس

جمال خان ایک بہت بڑا اور کامیاب بزنس مین تھا۔ اسکی عمر40 سال تھی۔ اسکی بیوی سیما اس سے قریب 17 سال چھوٹی تھی۔ 23 سالہ سیما بے حد جوان اور خوبصورت تھی۔ مکھن کی طرح نرم، دودھ کی طرح سفید گوری چٹی اور چھوئی موئی کی طرح نازک جسم کی مالک تھی۔ وہ اپنی جوانی اور حُسن کا خُوب خیال رکھتی تھی۔ اپنے جسم پر ایک بھی غیر ضروری بال نہ رہنے دیتی۔ روزانہ امپورٹڈ بےبی لوشن کے ساتھ اپنے جسم کا مساج کرتی۔ باقاعدگی کے ساتھ بیوٹی پارلر جاتی اور اپنے حسن کو چار چاند لگواتی۔ وہ جانتی تھی کہ اگر وہ اپنی جوانی اور خوبصورتی کا خیال نہ رکھے گی تو جمال خان جیسا مالدار آدمی اسے چھوڑ کر کسی اور کے پاس بھی جا سکتا ہے۔ اپنی اداؤں کے جلوے جمال خان کو دکھاتی رہتی اور وہ بھی ایک بھرپور اور وجیہہ مرد تھا ہر طرح سے سیما کا خیال رکھتا اسکی مالی اور جسمانی ضرورتوں کو نہائیت ہی اچھے انداز میں پورا کرتا سیما کی مکمل تسلی تک۔ پارٹیز میں ہمیشہ ہی انکی جوڑی کی تعریف ہوتی تھی۔ دونوں ہی ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے تھے اور ایکدوسرے سے بہت پیارک کرتے تھے۔ سیما جمال خان کے ساتھ باہر کے ملکوں کے بزنس ٹور پہ بھی جاتی۔ اور تمام قسم کی بزنس پارٹیز میں بھی شامل رہتی۔ مگر انکے علاوہ اسے گھر پے ہی رہنا پڑتا۔ گھر ۔۔۔۔۔۔ گھر کیا تھا ایک بہت بڑا بنگلہ تھا۔ نوکر چاکر، کاریں، ڈرائیور، سب کچھ تھا۔گھر پہ کام کاج کوئی کرنے کو تھا نہیں۔ نوکر ہی سارا کام کرتے تھے۔ کھاناپکانے کے لیے بھی خانساماں تھا جو کھانا بنانے کے بعد اپنے کوارٹر میں چلا جاتا تھا جہاں وہ اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ اس طرح وہ گھر کے اندر زیادہ تر اکیلی ہی ہوتی تھی۔ سیما کا جہاں دل کرتا وہ ڈرائیور کے ساتھ جا سکتی تھی اور جاتی بھی تھی۔ مگر زیادہ تر گھر پہ ہی رہتی تھی۔ جمال خان بھی زیادہ تر شہر میں ہی رہتا تھا۔ ایک بار جب جمال خان اور سیما امریکہ کے ٹور پر گئے تو وہاں انکا میزبان رابرٹ تھا ۔ اسنے انکو ہوٹل مین ٹہرانے کی بجائے اپنے گھر میں ٹھرایا۔ رابرٹ اور اسکی خوبصورت بیوی جولیا بہت ہی اچھے اور ملنسار لوگ تھے۔ انھوں نے انکی خوب آو بھگت کی۔ انکے گھر میں دو کتے بھی تھے۔ جو کہ انکے گھر میں ہی پل کے جوان ہوے تھے۔ سفید رنگ کے جسم پر کالے رنگ کے بہت خوبصورت دھبے دھبے بنے ہوے تھے۔ قریب 4 فٹ لمبا اور ڈھائی فٹ اونچا قد تھا۔ بھاری مگر بہت مضبوط ۔ بےحد چست اور پھرتیلا جسم تھا انکا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ دونوں کتے بلکل ایک جیسے تھے۔ یعنی وہ دو جڑواں کتے تھے۔ جمی اور ٹامی ۔ سیما کو بھی وہ کتے بہت اچھے لگے تھے۔ دونوں ہی بہت اچھے سُدھائے ہوئے تھے۔ اپنے مالکوں سے بہت پیار کرتے تھے۔ سیما نے دیکھ کے دونوں کتے رابرٹ اور جولیا کے آگے پیچھے پھرتے ۔ اپنی دُم ہلاتے انکے حکم کا انتظار کرتے ہوے۔ دونوں کتے گھر کے اندر پھرتے تھے مگر سیما کو کہیں بھی کوئی اُنکی پھیلائی ہوئی گندگی نظر نہیں آئی۔ رابرٹ نے جب اپنے مہمانوں کی پسندیدگی اور دلچسپی اپنے کتوں میں دیکھی تو اُسے اور بھی اچھا لگااور اُس نے اُنکو اپنا ایک کتا تحفے میں دینے کی آفر کر دی۔جمال خان اور سیما اس آفر پہ بہت حیران اور خوش ہوئےاورسیما نے جمال خان سے وہ کتا اپنے ساتھ لے جانے کی فرمائش کی۔ کتا تو جمال کو بھی پسند آیا تھا چنانچہ انھوں نے رابرٹ کی آفر کو شکریہ کے ساتھ قبول کر لیا۔ سیما کو خوش ہوتے ہوئے دیکھ کر رابرٹ نے معنی خیز نظروں سے اپنی بیوی جولیا کی طرف دیکھا اور دونوں مسکرا دیئے۔ سیما: جولیا آپ لوگوں کا بہت بہت شکریہ۔۔۔ یہ تو سارا سارا دن گھر سے باہر رہتے ہیں اور میں گھر میں بور ہوتی رہتی ہوں اب آپ نے ایک ڈوگی ہمیں دیا ہے تو چلو اسکے ساتھ میری کچھ مصروفیت بنی رہے گی اور وقت بھی پاس ہو جائے گا۔ جولیا مسکرا کے بولی۔۔۔ یس۔ ٹامی کے ساتھ آپ کا وقت سچ میں بہت اچھا گزرے گا اور آپ ہمیشہ ہمیں یاد کرو گی۔ ٹامی میرا پسندیدہ کتا ہے۔ اسکی بہت اچھی تربیت کی ہوئی ہے ہم نے۔ آپ لوگوں کو کبھی بھی اس سے کسی قسم کی کو شکائیت نہیں ہو گی۔ سیما خوش اور پُرجوش ہوتی ہوئی بولی۔۔۔ مجھے بہت اچھا لگے گا جب یہ میرے اشاروں پہ چلے گا۔ رابرٹ ہنستے ہوئے۔۔۔ یہ اشاروں پہ چلتا بھی ہے اور اپنے اشاروں پہ چلاتا بھی ہے۔ اسکی بات پہ جولیا ہنسنے لگی اور سیما بھی بنا کچھ سمجھے اُنکے ساتھ ہنسنے لگی۔ جب امریکہ سے دونوں واپس آئے تو ٹامی بھی انکے ساتھ تھا اور دونوں بہت خوش تھے۔ ٹامی نے جمال خان کے گھر میں رہنا شروع کر دیا وہ سچ میں ہی بہت شاندار جانور تھا بہت ہی مہذب اور تربیت یافتہ۔۔۔ بلکل امریکی عوام کی طرح۔ شروع شروع میں وہ نئے ماحول میں آ کے گھبرایا ہوا تھا۔ تھوڑا تنگ کیا۔ وہ بھی ڈرا ہوا تھا اور جمال خان اور سیما بھی اس سے تھوڑا دور دور رہتے۔ مگر آہستہ آہستہ اُنکا خوف جاتا رہا اور وہ اُسکے قریب آنے لگے اور وہ بھی بہت جلد جمال خان اور سیما کے ساتھ مانوس ہوگیا۔ گھر کے اندر ہی رہتا اور سیما کے آگے پیچھے پھرتا رہتا۔ سیما خود اسے اپنے ہاتھوں سے کھلاتی۔ اسے واک کرواتی۔ شروع میں تو اسکے گلے میں پٹہ ڈالاگیا تھا مگر آہستہ آہستہ وہ سیما نے اُتار پھینکا اور اب ٹامی گھر کے اندر بنا روک ٹوک اور بنا کسی رکاوٹ کے پھرتا تھا۔ اُسکی دیکھ بھال کے لیے ایک خاص نوکر رکھا تھا مگر ٹامی تو زیادہ وقت سیما کے ساتھ ہی گزارتا اور سیما کے ساتھ ہی خوش رہتا۔ سیماکو بھی اپنا فارغ وقت گزارنے کا ایک شغل مل گیا تھا۔ ٹامی سیماکے ساتھ کھیلتا اسکے پیروں کو چاٹتا اپنا منہ اور سر اسکے پیروں سے رگڑتا اور سیمابھی اسکے سر پہ اور جسم پہ ہاتھ پھیر کے اسکے جسم کہ سہلاتی اور اسکی محبت کا جواب محبت سے دیتی۔ شروع میں جب ٹامی نے سیما کے پیروں کو چاٹنے کے لیے اپنا منہ اسکے پیروں پر رکھنا چاہا تو وہ ڈر کے مارے اٗچھل ہی پڑی تھی اور اسکے قریب بیٹھا ہوا جمال خان بھی ہنسنے لگا تھا۔۔ مگر دھیرے دھیرے وہ اسکی عادی ہو گئی تھی اور اب اسے اچھا لگتا تھا جب ٹامی کی زبان اسکے پیروں پر سرکتی تھی ۔۔ اسے چاٹتی تھی ۔۔۔۔ اب تو اسکا اپنا بھی دل چاہتا تھا کہ وہ اسکے پیروں پہ اپنی زبان پھیرتا رہے۔ ۔۔۔ شام میں ٹامی سیما کے ساتھ لان میں کھیلتا ۔۔۔۔ سیما آگے آگے بھاگتی اور وہ اسکے پیچھے پیچھے بھاگ کر اسے پکڑنے کوشش کرتا ۔۔۔۔ کبھی کبھی سیما نیچے گھاس پر بیٹھ جاتی تو وہ اس پر چڑھ جاتا ۔۔۔ اسے نیچے گرانے کی کوشش کرتا ۔۔۔۔ اور سیما بھی ہنستی ہوئی نیچے اسکے سامنے لیٹ جاتی ۔۔۔۔ اور وہ پھر اسکے پیروں کو چاٹنے لگتا ۔۔۔۔ اور کبھی اپنا سر اسکے منہ کے ساتھ رگڑنے لگتا ۔۔۔۔۔ اس سب سے سیما خوب انجوائے کرتی ۔۔۔۔۔ سیماایک ماڈرن اور آزاد خیال لڑکی تھی۔ وہ ہر طرح کے ماڈرن لباس پہننا پسند کرتی تھی ۔ مگر گھر کے اندر وہ اور بھی آزادی کے ساتھ رہتی تھی۔ اکژ گھر کےاندر اسکا لباس بہت بولڈہوتا۔ ٹی شرٹ اور شارٹس پہننا تو اسکا معمول تھا نا۔ ایسے ہی ایک روز وہ ٹی وی لاؤنج میں صوفے پہ لیٹی ہوئی ایک انڈین مووی دیکھ رہی تھی اور ٹامی بھی وہیں بیٹھا ہوا تھا۔ سیمانے شارٹس اور ٹی شرٹ ہی پہنی ہوئی تھی۔ شارٹس اسکے گھٹنوں سے اوپر تک تھی اور اسکی گوری گوری اور چکنی ٹانگیں ننگی ہو رہی تھیں۔ ٹی شرٹ بھی اسکے جسم کے ساتھ چپکی ہوئی تھی جس میں اسکے سیینے کے ابھار قیامت لگ رہے تھے۔ ٹامی نے سیماکے قریب آکر اسکے پیروں میں اپنا سر رگڑنا شروع کر دیا۔ اپنے سر کے ساتھ وہ سیماکے پیر کہ سہلانے لگا۔ سیمانے بھی اپنے دوسرے پیر کے ساتھ کُتے کے سر کو سہلانا شروع کردیا۔ بڑے ہی پیار سے اسکے سر پہ اپنا پیر پھیرنے لگی۔ ٹامی نے اسکے پیار بھرے انداز کو دیکھا تو خوش ہو کر وہ سیماکے پیر کو اپنی لمبی گلابی زبان نکال کر چاٹنے لگا۔ سیما کے پیر کے تلوے کو جب ٹامی نے اپنی زبان سے چاٹنا شروع کیا تو سیماکو ہلکی ہلکی گُدگُدی ہونے لگی اور اُسکے ساتھ ہی مزہ بھی آنے لگا۔ ٹامی کی نرم نرم زبان کبھی سیما کے تلوے کو چاٹتی تو کبھی پیر کے اوپر کے حصے کو چاٹنے لگتی۔ بڑے ہی پیار اور جوش کے ساتھ ٹامی سیماکے پیر کہ چاٹ رہا تھا جیسے کے اسکے پیر پہ کوئی شہد لگا ہو جسے چاٹنے میں اسے مزہ آرہا ہو۔ لذت کے مارے سیماکی توجہ بھی اب ٹی وی پر سے ہٹ چکی تھی اور وہ بھی ٹامی کہ ہی دیکھ رہی تھی اور اسکے سر کہ سہلارہی تھی اپنے پیر کے ساتھ۔ ٹامی بھی کبھی سیماکے ایک پیر کو چاٹتا اور کبھی دوسرے پیر کہ چاٹنے لگتا۔ دھیرے دھیرے اسکی زبان سیماکے پیر سے اوپر کوجاتی ہوئی اسکی گوری گوری ٹانگ کے نچلے حصے کو چاٹنے لگی۔ وہاں اس نے اپنی زبان پھیرنی شروع کر دی۔ ٹامی کی لمبی کھردری گلابی زبان جیسے جیسے سیما کے پیروں اور ٹانگ کے نچلے حصے کو چاٹتی جاتی تو ویسے ویسے ہی اٗسے مزہ آنے لگا۔ پہلے پہل تو وہ اسے ٹامی کا روز کا کام ہی سمجھ رہی تھی اور اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی تھی مگر دھیرے دھیرے سیما کو بھی مزہ آنے لگا ۔۔۔۔۔ اچھا لگنے لگا۔ ۔۔۔ اسکی توجہ ٹی وی کی طرف سے ہٹ کہ اب صرف اپنے کُتے کی زبان سے ملنے والی لذت کی طرف ہی تھی۔ اسکا دل چاہ رہا تھا کہ ٹامی کی زبان اور اوپر کو آتی جائے اسکے جسم کو چاٹتی ہوئی۔ ۔۔ ٹامی بھی آہستہ آہستہ سیما کے جسم کے ننگے حصوں کو چاٹتے ہوے آگے بڑھ رہا تھا۔ ۔۔ اسکی لمبی گیلی زبان اپنے تھوکے کے ساتھ سیما کی ٹانگوں کو گیلا کر رہی تھی۔۔۔ جہاں جہاں سے وہ چاٹتا جاتا تھا وہاں وہ اسکے جسم کو گیلا کرتا جا رہا تھا۔۔۔۔ سیما کو بھی برا نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔ بلکہ اس طرف تو اُسکا دھیان ہی نہیں تھا کہ کُتے کے منہ کا تھوک اسکے جسم کو گیلا یا گندہ کر رہا ہے۔۔۔ اسے تو بس اپنے مزے کا ہی احساس تھا بس۔۔۔۔۔۔ جو اس کتے کی زبان سے مل رہا تھا۔۔۔۔۔ ٹامی کا منہ اب سیما کی ننگی رانوں تک پہنچ رہا تھا۔۔ اس نے اپنی لمبی زبان کے ساتھ سیما کی گوری گوری چکنی ننگی ران کو چاٹنا شروع کردیا۔۔۔۔ سیما نے خود ہی اپنی شارٹس کو اپنی ران پہ تھورا اوپر کو سرکا لیا ۔۔۔۔۔ اپنی گوری گوری رانوں کو اور بھی ننگا کرتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے اس کُتے کے لیے ۔۔۔۔۔ جیسے جیسے ٹامی نے سیما کی ننگی رانوں کو چاٹنا شروع کیا ویسے ویسے سیما لذت کے مارے تڑپنے لگی ۔۔۔۔ لذت کے مارے اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں۔۔۔۔۔ کتے کا جسم اب سیما کے قریب تھا۔۔۔۔ اسکے ہاتھ کے قریب۔۔۔۔ سیما نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اسکے جسم پہ رکھا اور اسکے جسم کہ سہلانے لگی۔۔۔۔۔ اسکا ہاتھ تیزی کے ساتھ ٹامی کے جسم پہ حرکت کر رہا تھا ۔۔۔ اور وہ اسے سہلاتی ہوئی اپنی طرف کھینچ رہی تھی ۔۔۔ جمال خان نے بھی کئی بار اسکے جسم کو چوما اور اپنی زبان سے چاٹا تھا ۔۔۔ مگر جو مزہ سیما کو ٹامی کی زبان سے مل رہا تھا وہ لذت اسے آج پہلی بار مل رہی تھی ۔۔۔۔ سیما کا ایک ہاتھ اب ٹامی کے سر کو سہلا رہا تھا اور دوسرا ہاتھ اپنی ران پہ تھا ۔۔۔۔۔۔ ٹامی کی زبان سیما کی رانوں کو چاٹتی ہوئی کبھی اسکے ہاتھ کو بھی چاٹنے لگتی۔۔۔ سیما کو عجیب سا احساس ہو رہا تھا۔۔۔ اسے اپنی چوت کے اندر سرسراہٹ سی محسوس ہونے لگی تھی ۔۔۔ ہلکا ہلکا گیلا پن اپنی چوت کے اندر بھی محسوس کر رہی تھی وہ ۔۔۔۔۔ اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ ایک کتے کی زبان اس قدر لذت دے سکتی ہے ۔۔۔۔ اسے تھورا خوف اور ڈر بھی لگ رہا تھا اس کتے سے کہ کہیں وہ اسے کاٹ نہ لے ۔۔۔۔۔۔۔ مگر اسکے ساتھ ساتھ ۔۔۔ اسکی زبان سے ملنے والی لذت اسے سب کچھ بھول بھال کہ اسی مزے میں کھو جانے کو کہہ رہی تھی ۔۔۔۔۔ آج سے پہلے بھی ٹامی نے کئی بار سیما کے پیروں کو چاٹا تھا مگر وہ کبھی بھی اسکے پیروں سے آگے نہیں بڑھا تھا پر آج اسکی زبان اسکے پیروں سے آگے اسکی ننگی ٹانگوں سے ہوتی ہوئی اسکی ننگی گوری چکنی رانوں تک پہنچ چکی تھی ۔۔۔۔ اور اسکے ساتھ ہی سیما لذت کی بلندیوں کی طرف جا رہی تھی ۔۔۔۔ کُتے کی زبان سیما کی رانوں کے اوپری حصے کو چاٹ رہی تھی ۔۔۔۔ اسکی چوت کے اردگرد ۔۔۔۔ جیسےابھی کے ابھی اسکی چوت تک پہنچ جائے گی ۔۔۔ مگر اسکی چوت کو تو اسکی پینٹی اور شارٹس نے کوور کیا ہوا تھا ۔۔۔۔۔ اور ان دونوں چیزوں کو اُتارے بنا وہ اپنی چوت کو ٹامی کے سامنے ننگی نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔۔ سیما کی آنکھیں بند تھیں ۔۔۔ ٹانگیں پوری کُھلی ہوئی تھیں ۔۔۔۔ منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں ۔۔۔۔۔ پورے کا پورا جسم جھٹکے کھا رہا تھا ۔۔۔۔ کُتے ٹامی کی زبان اسکے پورے جسم میں آگ لگا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ اسکا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اپنے جسم پر موجود سارے کے سارے کپڑے اُتار پھینکے ۔۔۔ اور ٹامی کی زبان کے لمس کو اپنے پورے جسم پر محسوس کرے ۔۔۔۔۔۔ پورے جسم پر اسکی زبان کو پھروا کرمزے لے ۔۔۔۔۔ ابھی وہ اپنے دماغ میں پیدا ہونے والی اس خواہش کو پورا کرنے یا نہ کنٹرول کرنے کے بارے میں فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ گھر کے اندر کے دروازے کی بیل بج اُٹھی ۔۔۔۔۔ سیما جیسے ہوش میں آگئی ۔۔۔ اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔۔ ٹامی کو اپنے جسم پر سے پیچھے ہٹایا ۔۔۔۔ وہ بھی بیل کی آواز سے چونک کر چوکنّا ہو چُکا ہوا تھا۔۔۔ سیما نے شرمندہ نظروں سے ٹامی کی طرف دیکھا اور پھر صوفے پر سے اُٹھ کر دروازہ کھولنے کے لیے بڑھ گئی۔۔۔ اسکا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ اور چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔۔ منہ خشک ہو رہا تھا ۔۔۔۔ دروازہ کھولا تو سامنے خانساماں تھا ۔۔۔۔ جو کہ کھانا پکانے کے لیے آیا تھا ۔۔۔۔ سیما نے واپس آتے ہوے اسے ٹھنڈا پانی لا کے پلانے کو کہا ۔۔۔۔ اور واپس جا کر صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔۔ اور اپنے سے کچھ دور بیٹھے ہوے ٹامی کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔ خانساماں پانی دے گیا تو وہ آہستہ آہستہ پانی پیتی ہوئی ٹامی کے بارے میں ہی سوچتی رہی ۔۔۔۔ کہ کسقدر عجیب بات ہے ۔۔۔ کسقدر عجیب لذت اور مزہ تھا اسکی زبان میں ۔۔۔۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اگر ۔۔۔۔ اگر ۔۔۔ اگر ٹامی کی زبان اسکی ننگی چوت کو چاٹتی تو اسے کتنا مزہ آتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بات ذہن میں آتے ہی اسکے پورے جسم میں ایک جھرجھری سی پھیل گئی ۔۔۔۔ اور چہرہ ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سُرخ ہو گیا ۔۔۔ ٹامی بھی اپنی جگہ پہ نیچے قالین پر بیٹھا اپنی بڑی بڑی آنکھوں کے ساتھ اپنی مالکن کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ جیسے اپنے کام کی تعریف چاہتا ہو ۔۔۔۔۔ جیسے کچھ انعام چاہتا ہو۔ ۔۔ اپنے سامنے بیٹھے ہوئے کتے اور اپنے بارے میں ایسا سوچتے ہوے سیما کو تھوری شرم سی آرہی تھی ۔۔۔ مگر کوئی غلطی ہونے کی شرمندگی نہیں تھی۔۔۔۔ وہ مسکرائی اور ٹامی کی طرف دیکھتی ہوئی اپنے بیڈروم کی طرف بڑھ گئی۔۔ جیسے ہی ٹامی نے اپنی خوبصورت مالکن کو اُٹھ کر اپنے بیڈروم کی طرف جاتے ہوئے دیکھا تو وہ بھی فورا" اپنی جگہ سے اُٹھا اور اسکے پیچھے پیچھے چل پڑا۔۔۔ سیما نے جیسے ہی اپنے پیچھے مڑ کر دروازہ بند کرنے کا ارادہ کیا تو ٹامی دروازے کے بلکل سامنے کھڑا تھا ۔۔۔۔ بڑی ہی عجیب نظروں سے وہ سیما کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اسکی لمبی گلابی زبان باہر لٹک رہی تھی ۔۔۔ اور بڑی بڑی آنکھیں سیما کی خوبصورت آنکھوں سے ملی ہوئی تھیں ۔۔۔۔ ٹامی سیما کی طرف ایسے دیکھ رہا تھا جیسے کہ وہ اپنی مالکن سے اُسکے کمرے کے اندر آنے کی اجازت طلب کر رہا ہو۔۔۔ آج تک سیما نے یا جمال خان نے ٹامی کو اپنے بیڈروم میں آنے سے منع نہیں کیا تھا وہ جیسے چاہتا تھا اندر آجاتا تھا۔۔۔ مگر آج سیما اسے اندر آنے دینے کے لیے سوچ رہی تھی کہ آنے دے یا نہ۔۔۔۔ مگر پھر جیسے اُسے اس بے زبان پر ترس آگیا ہو ۔۔۔۔۔ وہ اُسے راستہ دیتی ہوئی بولی۔ ٹھیک ہے آجاؤ اندر ۔۔۔۔ لیکن یاد رکھنا کوئی شرارت نہیں چلے گی۔۔۔ سمجھے۔۔۔ ٹامی یہ سُن کر جلدی سے اندر کو بڑھا جیسے اٗسے اپنی مالکن کی شرط منظور ہو۔۔۔۔۔۔۔ کمرے کے اندر آکر اب سیما سوچنے لگی کہ وہ جس کام کےلیے اپنے کمرےمیں آئی ہے وہ اب ٹامی کے سامنے کرے یا نہ کرے ۔۔۔۔ یعنی اب وہ ٹامی کے سامنے ہی اپنے کپڑے تبدیل کرے یا پھر باتھ روم میں جا کر تبدیل کرے ۔۔۔۔۔۔ سیما نےکُتّے کی طرف دیکھا جو کہ ایک طرف نیچے کارپٹ پہ بیٹھا ہوا تھا بڑے ہی آرام سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اپنی بڑی بڑی آنکھو کے ساتھ اپنی مالکن سیما کی طرف ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ سیما نے باتھ روم کے اندر جا کر ہی کپڑے تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی الماری کی طرف جا کر اپنے کپڑے نکالنے لگی ۔۔۔ تبھی اُسے خیال آیا کہ ۔۔۔۔ ایک سوچ اسکے اندر پیدا ہوئی کہ وہ آخر ٹامی کے ساتھ ایسا کیوں کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کیا وہ اس سے ڈر رہی ہے ۔۔۔۔ ٹامی ایک جانور ہی تو ہے ۔۔۔۔۔۔ کوئی انسان تو نہیں ہے نا کہ وہ اسکے سامنے اپنے کپڑے تبدیل نہیں کر سکتی ۔۔۔۔ اُتار نہیں سکتی۔ ۔۔۔۔۔ اسکے سامنے ننگی نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔ وہ خود کو سمجھا رہی تھی کہ اس بے چارے بے زبان جانور کے سامنے اپنے کپڑے اتارنے میں کوئی حرج تو نہیں ہے ۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ اسے کوئی نقصان تو نہیں پہنچا سکتا ۔۔۔۔ کیونکہ وہ ایک اچھا تربیت یافتہ جانور ہے ۔۔۔۔۔ اپنے مالکوں کا بہت زیادہ خیال رکھنے والا ۔۔۔۔۔ اور اُن سے بہت زیادہ پیار کرنے والا ۔۔۔۔۔۔۔ اور ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو ٹامی نے اپنی محبت اور وفاداری کا ثبوت دیا تھا ۔۔۔۔ اسکے پیروں اور پیروں سے اوپر اسکے ننگے جسم کو چاٹ چاٹ کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیما کو یاد آیا کہ جب ٹامی اسکی ٹانگوں اور رانوں کو چاٹ رہا تھا تو اسے کتنا مزہ آ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ کچھ دیر پہلے کہ ٹامی کے ساتھ گزرے ہوے وقت کو یاد کر کے سیما کے جسم میں ایک بار پھر سے سنسنی کی لہر دوڑ گئی۔ ۔۔۔۔ ایک لذت آمیز لہر۔۔۔۔۔۔ اور ہونٹوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔۔ سیما نے ٹامی کے سامنے ہی اپنے کپڑے تبدیل کرنے کا ارادہ کر لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سیما نے بیڈ کے قریب کھڑی ہوتے ہوے ایک نظر دوبارہ سے ٹامی پہ ڈالی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اسکی طرف ہی دیکھتے ہوے اپنی ٹی شرٹ کو نیچے سے پکڑ کر اوپر کو اُٹھا نا شروع کر دیا ۔۔۔۔ دونوں کی نظریں ایک دوسرے سے ملی ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے سیما کی ٹی شرٹ اسکےجسم سے اُتر چکی تھی ۔۔۔ اب سیما اپنے کمرے میں اپنے پالتو کتے کے سامنے صرف ایک کالے رنگ کی بریزیئر اور شارٹس میں کھڑی تھی۔۔۔ ٹامی بھی بجائے ادھر اُدھر دیکھنے کے بڑے ہی شوق سے اپنی مالکن کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ سیما نے جب کتے کو اپنی ہی طرف دیکھتے ہوئے دیکھا تو مسکرائی ۔۔۔ اور اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی شرٹ کو گول مول کر کے زور سے کتے کے منہ پہ پھینکا ۔۔۔۔ اور پھر خود ہی زور زور سے ہنسنے لگی ۔۔۔۔۔۔ سیما کی شرٹ کتے کہ منہ پر ٹکرا کر اسکے سامنے گر گئی ۔۔۔۔ ٹامی نے فوراََ اسے سونگھنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔۔ سیما بھی اسکی حرکتوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ ٹامی نے سیما کی شرٹ کو اپنے منہ میں اُٹھایا اور اُٹھ کر چلتا ہوا صوفے پر چڑھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔ سیما کے جسم سے اُتری ہوئی شرٹ اپنے اکلے پیروں کے بیچ میں رکھی اور اسے سونگھتے ہوے سیما کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔۔ سیما بھی اسکی حرکتوں کو بڑی ہی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ اور مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔ پھر سیما نے اپنی نازک نازک انگلیاں اپنی شارٹس کے الاسٹک میں پھنسائیں اور اپنی نظریں ٹامی کی نظروں سے ملاتے ہوئے اپنی شارٹس بھی اتارنے لگی ۔۔۔۔ اور پھر نیچے اپنے پیروں کو باری باری اُٹھا کر اپنے پیروں سے نکال دیا ۔۔۔ مگر اس بار اپنی شارٹس کو ٹامی کی طرف پھینکنے کی بجائے اسے وہیں نیچے قالین پر پڑا رہنے دیا ۔۔۔۔۔ اب سیما اپنے بیڈروم میں صرف انڈرویئر اور بریزئر میں کھڑی تھی ۔۔۔ پتہ نہیں کیوں اب اسے خود بھی اپنے جسم کی اپنے پالتو کتے کے سامنے اس طرح نمائش کرنے میں مزہ آ رہا تھا ۔۔۔۔۔ عجیب سا بھی لگ رہا تھا اور اچھا بھی ۔۔۔۔ سامنے صوفے پر اپنی ٹانگیں پھیلائے ہوے ٹامی ایسے بیٹھا ہوا سیما کو دیکھ رہا تھا کہ جیسے اسکے سامنے کوئی سٹیج ڈانسر سٹرپ ٹیز ڈانس کر رہی ہو اور وہ اسکے مزے لے رہا ہو ۔۔۔۔ سیما کو بھی آج پہلی با ر اس طرح کی بے شرمی کرتے ہوے اچھا لگ رہا تھا ۔۔۔۔ اس نے تھوڑی دیر کے لیے ٹامی کے سامنے اسی حالت میں رہنے کا سوچا ۔۔۔۔ وہ آگے بڑھی اور جا کر اپنے بیڈروم کا دروازہ لاک کر دیا ۔۔۔۔۔ اور واپس آکر بیڈ کی بیک سے ٹیک لگا کر ترچھی لیٹ گئی ۔۔۔۔ سیما کا گورا گورا چکنا جسم صرف بریزئر اور اندرویئر میں بیڈ پہ لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ ٹامی کی طرف دیکھتے ہوئے اسکا اپنا ہاتھ خود بخود ہی اپنے گورے گورے جسم کو سہلانے لگا ۔۔۔۔ اپنے ننگے پیٹ پر پھسلنے لگا ۔۔۔ اسکی کالے رنگ کی بریزئر میں سے اسکے خوبصورت اور گورے گورے ممے آدھے بریزئیر میں سے باہر کو نکل رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ پیٹ پر سے اسکا ہاتھ پھسلتا ہوا آہستہ آہستہ اپنے مموں کی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔۔ اور پہلے اپنے مموں کو اپنی بریزئیر کے اوپر سے سہلانے لگا ۔۔۔۔ اور پھر اس پر سے سرکتا ہوا اپنے مموں کے ننگے حصوں کو سہلانے لگا ۔۔۔۔ کبھی بھی سیما نے خود لذتی اپنے ہاتھ سے حاصل نہیں کی تھی ۔۔۔۔ مگر اس وقت پتہ نہیں کیوں اسے خود بھی اچھا لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔ اور ایسے اپنے جسم کو سہلاتے ہوئے بھی اسکی نظریں ٹامی کو ہی دیکھ رہی تھیں ۔۔۔۔ دونوں کی آنکھیں پتہ نہیں ایکدوسرے کو کیا کیا پیغام دے رہی تھیں ۔۔۔۔ لیکن یہ بات ضرور تھی کہ دونوں میں سے کوئی بھی دوسرے کو ناپسند نہیں کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ بلکہ ایکدوسرے کی موجودگی کو وہ انجوائے کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ کُتّے کی سیما میں دلچسپی اور پسندیدگی اسکے منہ سے باہر لٹک رہی ہوئی گلابی زبان سے ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ جو اسکے جسم کی حرکت کے ساتھ ساتھ ہل رہی تھی ۔۔۔۔ جسے وہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد اپنے منہ کے اندر کرتا اور اس پر بہہ نکلنے والے تھوک کو اپنے منہ کے اندر کر لیتا ۔۔۔۔ دوسری طرف سیما کو اپنی کیفیت کا اندازہ اپنے جسم کے ہولے ہولے گرم ہونے ۔۔۔ اور اسکی چوت کے اندر پیدا ہونے والے ہلکے ہلکے گیلے پن سے ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔ اُسے اسطرح نیم برہنہ حالت میں اپنے شوہر کے علاوہ پہلی بار کسی دوسرے کے سامنے اپنے خوبصورت جسم کی نمائش کرنا اچھا لگ رہا تھا ۔۔۔۔ اسے اس بات سے کوئی فرق محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ اسکے اس خوبصورت جسم کا نظارہ کرنے والا کوئی انسان نہیں بلکہ ایک جانور ۔۔۔۔ ایک کتا تھا ۔۔۔۔۔ اسے تو بس یہی پتہ تھا کہ اسے یہ سب کچھ اچھا لگ رہا تھا ۔۔۔۔ اور اسکا جسم ایک بار پھر سے ٹامی کی زبان کو محسوس کرنا چاہتا تھا ۔۔۔ پھر سے اسکی زبان سے ملنے والے مزے کو حاصل کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ مگر کیسے ۔۔۔۔ کیسے وہ ٹامی کہ دوبارہ بلاے ۔۔۔۔ اسکی اس میں ہمت نہیں پیدا ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ لیکن سیما کو زیادہ دیر انتظار اور فکرنہیں کرنی پڑی کیونکہ بےزبان مگر سمجھدار ٹامی شائد اپنی مالکن کی خواہش اور جھجھک کو سمجھ گیا تھا ۔۔۔۔ اسی لیے وہ اپنی جگہ پہ اُٹھ کہ کھڑا ہوا ۔۔۔۔ صوفے پر ہی ۔۔۔۔۔ اپنے جسم کو کھینچتے ہوئے ایک انگڑائی لی اور پھر صوفے سے نیچے اُتر آیا ۔۔۔۔ اور اپنی چاروں ٹانگوں پر آہستہ آہستہ بیڈ کی طرف چلنے لگا ۔۔۔۔۔ یہ دیکھ کر سیما کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا ۔۔۔ اسے تھوڑی گھبراہٹ سی ہونے لگی ۔۔۔ مگر پھر بھی وہ بنا کوئی حرکت کیے بیڈ پر اپنی جگہ لیٹی رہی ۔۔۔۔ ٹامی کی طرف ۔۔۔ اسکی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی ۔۔۔۔ سیما سارا دن گھر پر رہتے ہوئے اپنے انٹرنیٹ بھی استعمال کرتی رہتی تھی ۔۔۔۔ اور اپنے وقت گزاری کے لیے انٹرنیٹ پر ننگی فلمیں بھی دیکھتی تھی ۔۔۔۔ اور کئی بار تو جمال بھی اسکے ساتھ یہ سب کچھ دیکھتا تھا ۔۔۔۔۔ اور یہ بات بھی نہیں تھی کہ سیما کو انسانوں کے جانوروں کے ساتھ سیکس کرنے کا علم نہیں تھا ۔۔۔۔ بلکہ وہ خود بھی انٹرنیٹ پر کئی بار خوبصورت لڑکیوں کو کتے سے چدواتے اور اسکا لوڑا چوستے ہوئے دیکھ چکی تھی ۔۔۔۔ لیکن اسے یقین تھا کہ یہ کتا اسکے ساتھ ویسا کچھ نہیں کرے گا ۔۔۔۔۔۔ اور نہ ہی خود اس نے ایسا کچھ کرنے کا سوچا تھا کہ وہ کتے کے ساتھ اس حد تک جا ئے گی ۔۔۔۔ وہ تو بس اپنے جسم پر ٹامی کی کھردری زبان کی رگڑ کا مزہ لینا چاہتی تھی ۔۔۔۔ اور اس سے آگے کچھ نہیں ۔۔۔۔ سیما کی نظریں ٹامی کی نظروں سے ملی ہوئی تھیں ۔۔۔۔ اور وہ اسے اپنی طرف آتا ہوا دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ ۔۔۔ ٹامی سیما کے بیڈ کے قریب آکر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔۔ سیما کا پیر بیڈ کے کنارے پر تھا ۔۔۔۔۔ ٹامی نے اپنا بڑا سا منہ آگے لا کر اسکے پیر کو اپنی ناک کے ساتھ زور زور سے سونگھا ۔۔۔ سیما کے پورے جسم میں سنسناہٹ پھیل گئی ۔۔۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے ٹامی نے اپنی زبان باہر نکالی اور اپنی لمبی زبان سے سیما کے پیر کو ایک بار لمبا چاٹا ۔۔۔۔ سیما کا پورا جسم کانپ سا گیا ۔۔۔۔ اس نے اپنا پیر تھوڑا پیچھے کھینچ لیا ۔۔۔۔ بیڈ کے کنارے سے دور ۔۔۔۔ جیسے ہی سیما کا گورا گورا پیر ٹامی کے منہ سے دور ہوا تو اس نے ایک بار سیما کی طرف دیکھا ۔۔۔۔ اسکے منہ سے ہلکی سی غراہٹ نکلی ۔۔۔۔ جیسے اسے سیما کی یہ حرکت پسند نہ آئی ہو ۔۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے ٹامی نے ایک چھلانگ لگائی اور سیما کے بیڈ پر چڑھ گیا ۔۔۔ ٹامی سیما کے نرم نرم بستر پہ چڑھا ہوا تھا ۔۔۔۔ اسکا بھاری بھرکم جسم جیسے پورے بیڈ کو کوور کر رہا تھا ۔۔۔۔ اسکے سامنے بیڈ پر لیٹی ہوئی ۔۔۔۔ صرف بریزیئر اور انڈرویئر میں لیٹی ہوئی سیما کو اپنا جسم اسکے مقابلے میں بہت چھوٹا لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔ سچ مانو تو سیما کو اب ٹامی سے تھوڑا تھوڑا خوف محسوس ہونے لگا تھا ۔۔۔۔۔ خوف آتا بھی کیوں نہ ۔۔۔۔ ایک تو وہ جانور تھا ۔۔۔ اتنے نوکیلے لمبے لمبے دانتوں والا ۔۔۔۔ اور پھر اسکا جسم بھی سیما کے نازک جسم سے زیادہ طاقتور اور وزنی تھا ۔۔۔۔۔
 سیما ہولے سے آواز نکالتی ہوئی کسمسائی ۔۔۔۔ ٹاٹاٹا۔۔۔ٹامی ی ی ی ی ۔۔۔۔ کیا کر رہے ہو ۔۔۔ چلو نیچے اترو بیڈ سے ۔۔۔۔ سیما کی آواز میں اپنے پالتو جانور کے لیے حکم نہیں تھا ۔۔۔۔ بلکے اسکی آواز تو ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ ٹامی کی منت کر رہی ہو بستر سے نیچے اترنے کی ۔۔۔۔ مگر وہ درندہ تو اس وقت اپنی مالکن کی کوئی بھی بات سننے اور ماننے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔۔۔ اس نے دوبارہ سے اپنا منہ نیچے کیا اور اپنی زبان باہر نکال کر سیما کے پیر کو چاٹنے لگا ۔۔۔۔۔ کبھی اسکے تلوے کو چاٹتا ۔۔۔ اور کبھی پیر کے اوپری حصے کو ۔۔۔۔ آہستہ آہستہ ٹامی کی زبان سیما کے پیر سے اوپر کو آنے لگی ۔۔ اسکی ٹانگ کے نچلے حصے کو چاٹنے لگی ۔۔۔۔ ٹامی کی زبان تیزی کے ساتھ اسکے منہ کے اندر باہر ہو رہی تھی اور وہ تیزی سے سیما کی ٹانگ کو چاٹ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ آہستہ آہستہ وہ اور اوپر کو جانے لگا ۔۔۔۔ اسکے گھٹنے کو چاٹتے ہوئے اسکی ننگی گوری ران پر آگیا ۔۔۔۔ اور اسکی زبان اب سیما کی رانوں کا چاٹنے لگی ۔۔۔۔ کبھی ایک تو کبھی دوسری کو چاٹتی ۔۔۔۔ اب ٹامی کی آواز میں کوئی غراہٹ نہیں تھی ۔۔۔۔ بلکہ وہ تو بہت ہی پیار کے ساتھ سیما کی رانوں کو چاٹ رہا تھا ۔۔۔۔ سیما کو جو تھوڑی دیر پہلے خوف محسوس ہو رہا تھا ٹامی سے وہ بھی جاتا رہا تھا ۔۔۔۔ بلکہ اب اسکے منہ سے ہلکی ہلکی سسکاریاں نکل رہی تھیں ۔۔۔ اسکی ٹانگیں خود بخود ہی کھلتی جا رہی تھیں ۔۔۔ ٹامی کی زبان کو اپنی رانوں کے درمیان کا حصہ دکھانے کے لیے ۔۔۔۔ کہ وہ وہاں بھی اپنی زبان کا جادو چلائے۔۔۔۔ اور ٹامی نے بھی اپنی پیاری سی ۔۔۔۔ خوبصورت سی مالکن کو مایوس نہیں کیا تھا ۔۔۔۔ وہ اب سیما کی رانوں کا اندر کا حصہ بھی چاٹ رہا تھا ۔۔۔۔ اسکی زبان سیما کی چوت کے قریب قریب حرکت کر رہی تھی ۔۔۔ مگر ایک بار بھی اسکی زبان سیما کی چوت سے نہیں ٹکرائی تھی ۔۔۔۔ سیما کی چوت نے گرم ہوتے ہوئے تھوڑا تھوڑا پانی چھوڑنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔ اسکی چوت کے پانی کی مخصوص مہک ٹامی کو بھی آرہی تھی ۔۔۔۔ اور پھر اس نے اپنی تھوتھنی سیما کے انڈرویئر کے اوپر سے اسکی چوت پہ رکھی اور سیما کی چوت کو سونگھنے لگا ۔۔۔۔۔ جیسے ہی ٹامی کا منہ سیما کی چوت سے ٹکرایا تو سیما کو بہت ہی عجیب سا مگر بہت ہی اچھا لگا ۔۔۔۔ اسکا دل چاہا کے جیسے ٹامی اپنا منہ اسکے پیروں پر رگڑتا ہوتا ہے ویسے ہی یہاں اسکی چوت کو بھی اپنے منہ سے زور زور سے رگڑدے ۔۔۔۔ ٹامی نے اپنا منہ سیما کی چوت کے اوپر اسکی پینٹی کے اوپر سے ہی رگڑا ۔۔۔۔ اپنی لمبی سی زبان باہر نکالی اور پینٹی کے اوپر سے ہی اسکی چوت کے پھولے ہوئے حصے کو دو تین بار چاٹا ۔۔۔۔ اور پھر اسکے ننگے پیٹ کی طرف بڑھا ۔۔۔ سیما کی چوت اسکی موٹی زبان کے چاٹنے سے پھڑکنے لگی تھی ۔۔۔۔ اسکے اندر جیسے پانی پانی سا ہونے لگا تھا ۔۔۔۔ جیسے ہی ٹامی نے اپنا سر ہٹایا تھا تو سیما کا دل چاہا کہ وہ اسکی چوت کو اور بھی کچھ دیر کے لیے چاٹے ۔۔۔ ۔ مگر ٹامی نے اس بار اپنی مالکن کی خواہش کا احترام نہیں کیا ۔۔۔۔ اور اپنے منہ کو سیما کی چوت پر سے ہٹا کر آگے ۔۔ اوپر کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔ ٹامی اب بیڈ پر ہی چلتا ہوا سیما کے منہ کے قریب آچکا تھا ۔۔۔۔ اس نے اپنی زبان باہر نکالی اور سیما کے گال کو چاٹ لیا ۔۔۔۔ آج پہلی بار جمال کے علاوہ کسی دوسرے نے اسکی گوری گوری گال کو چاٹا تھا ۔۔۔۔ اور وہ بھی ایک کتے نے ۔۔۔۔ ٹامی نے آج تک صرف سیما کے پیروں کو ہی چاٹا تھا ۔۔۔۔ مگر آج وہ اسکے پیروں سے آگے بڑھ آیا تھا ۔۔۔۔ اور اسکے چہرے ۔۔ اسکے گالوں تک پہنچ گیا تھا ۔۔۔ اپنی لمبی گلابی کھردری زبان سے سیما کے گال کو چاٹ رہا تھا ۔۔۔۔ اور سیما بھی کوئی مزاحمت نہیں کر رہی تھی ۔۔۔ اسے روکنے کی کوئی کوشش نہیں کر رہی تھی ۔۔۔ پتہ نہیں کیوں ۔۔۔ شائد اسلیئے کہ اسے خود بھی مزہ آرہا تھا ٹامی کی زبان کو اپنے گالوں پر محسوس کرتے ہوئے ۔ ٹامی نے اپنی زبان کو سیما کے ہونٹوں پر پھیرتے ہوئے اسکے ہونٹوں کو چاٹنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔ ۔۔۔۔۔ آج پہلی بار ایسا ہو رہا تھا کہ ٹامی اسکے ہونٹوں کو چاٹنا چاہ رہا تھا ۔۔۔۔ جو کہ سیما کے لیے نئی بات تھی ۔۔۔۔ اور تھوڑی مشکل بھی ۔۔اسی لیے ۔۔۔ سیما اسکا منہ پرے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔ تاکہ ٹامی کی زبان اسکے ہونٹوں کو نہ چاٹے اور وہ اپنا تھوک اسکے ہونٹوں پر نہ لگا دے ۔۔۔ مگر ٹامی کہاں ماننے والا تھا ۔۔۔ اس نے اپنے انداز میں ہی سیما کے ساتھ کھیلتے کھیلتے اپنی پوزیشن تبدیل کی اور سیما کے نازک سے جسم کو اپنی ٹانگوں کے درمیان لے لیا ۔۔۔۔ وہ ایسے کے اب سیما کا جسم ٹامی کی دونوں طرف کی ٹانگوں کے بیچ میں تھا ۔۔۔۔ ٹامی کی اگلی ٹانگیں سیما کے سینے اور اسکی دونوں بازوؤں کے درمیان تھیں ۔۔۔ اور پچھلی ٹانگیں اسکے گورے گورے چوتڑوں کے گرد ۔۔۔۔۔ ٹامی اب پوری طرح سے سیما کے جسم پر چھایا ہوا تھا ۔۔۔۔ بلکل ایسا نظر آرہا تھا کہ جیسے کوئی مرد سیما کے جسم پر سوار ہو اسے روندنے کے لیے ۔۔۔۔ اسکا ریپ کرنے کے لیے ۔۔۔۔ اب دوبارہ سے ٹامی نے اپنی منہ نیچے لا کر سیما کے ہونٹوں کو چاٹنا چاہا ۔۔۔۔۔ سیما ٹامی کی اس پوزیشن سے گھبرا گئی تھی ۔۔۔۔ ڈر بھی گئی تھی ۔۔۔۔ کہ ٹامی جیسے صحتمند اور بھاری جسم کے کتے کے نیچے تھی وہ۔۔۔ اسے ڈر لگنے لگا کہ کہیں ٹامی اسے کوئی نقصان ہی نہ پہنچا دے ۔۔۔ کہیں اپنے بڑے بڑے نوکیلے دانتوں کے ساتھ اسے کاٹ ہی نہ دے ۔۔۔۔۔ اسی لیے وہ تھوڑی سہم سی گئی ۔۔۔۔۔ اور اب کی بار جب ٹامی نے اپنا منہ نیچے لا کر سیما کے ہونٹوں کو چاٹنے کی کوشش کی تو سیما اپنا منہ اسکے آگے سے نہ ہٹا سکی ۔۔۔۔ اور اپنے چہرے کو ٹامی کے سامنے بلکل ایک ہی جگہ پر رکھتے ہوئے خوف زدہ نظروں سے اسکی آنکھوں میں دیکھتی رہی ۔۔۔۔ ٹامی نے جب دیکھا کہ اسکی مالکن اب کو ئی مزاحمت نہیں کر رہی ہے تو اس نے اپنی لمبی سی زبان نکالی ۔۔۔۔ اور سیما کے گلابی پتلے پتلے ہونٹوں کو چاٹنے لگا ۔۔۔۔ اسکی لمبی کھردری گلابی زبان ایک ہی بار میں اسکے دونوں ہونٹوں کو اور پورے منہ کو چاٹ لیتی ۔۔۔۔۔ اور اسکے ہونٹوں کو اپنے تھوک سے گیلا کرنے لگا ۔۔۔۔ سیما کو بھی محسوس ہونے لگا کہ ٹامی کے انداز میں کوئی غصہ یا وحشیانہ پن نہیں ہے ۔۔۔۔ بلکہ وہ اب اپنی روز کی روٹین کی طرح ہی سیما کو چاٹ رہا ہے ۔۔۔ تو سیما بھی تھوڑا ریلیکس ہونے لگی ۔۔۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو نیچے سے اُٹھایا اور ٹامی کی کمر کو سہلانے لگی ۔۔۔ کبھی اسکے پیٹ کو سہلانے لگتی ۔۔۔ تاکہ ٹامی بھی کچھ اور خطرناک حرکت کرتے ہوے اسے کوئی نقصان نہ پہنچائے ۔۔۔۔۔ ٹامی بھی جیسے اس کھیل میں مزہ لینے لگا ۔۔۔ وہ بار بار اپنی زبان سے سیما کے چہرے اور اسکے ہونٹوں کو چاٹ رہا تھا ۔۔۔۔۔ ایک بار سیما نے ٹامی کو پچکارتے ہوئے اسے روکنے کے لیے اسکا نام لینے کے لیے اپنا منہ کھولا ۔۔۔۔ تو جیسے ہی سیما کا منہ کھلا ٹھیک اسی وقت ٹامی کی زبان سیما کے ہونٹوں پر آئی اور منہ کھلا پاتے ہوئے سیدھی اسکے منہ کے اندر گھس گئی ۔۔۔۔۔ جیسے ہی ٹامی کی زبان سیما کے منہ کے اندر داخل ہوئی تو بے اختیاری طور پر اسے روکنے کے لیے سیما کا منہ بند ہو گیا ۔۔۔۔ لیکن اس سے پہلے کافی دیر ہو چکی تھی ۔۔۔۔ اور جو ہونا تھا ۔۔۔۔ یا جو ٹامی کرنا چاہتا تھا وہ ہو چکا تھا ۔۔۔۔ بلکہ اس سے کچھ زیادہ ہی ہوا تھا ۔۔۔۔ اور وہ یہ کہ جیسے ہی سیما نے اپنے منہ کو بند کیا تو ٹامی کی لمبی زبان جو کہ پہلے ہی سیما کے منہ کے اندر داخل ہو چکی تھی اب سیما کا منہ بند ہونے کی وجہ سے اسکے ہونٹوں کے بیچ میں جکڑی گئی۔۔۔۔۔ ایک جانور ۔۔۔ ایک کتے کی زبان ایک انسان ۔۔۔ ایک انتہائی خوبصورت لڑکی کے منہ کے اندر ۔۔۔۔۔ اُف ف ف ف ۔۔۔۔۔۔ کیا منظر تھا ۔۔۔۔ سیما خود بھی حیران رہ گئی کہ یہ کیا ہو گیا ہے ۔۔ ۔۔ مگر اب تو وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔۔ ٹامی کی زبان ابھی بھی سیما کے منہ کے اندر تھی ۔۔۔۔ اور ابھی بھی وہ اسے حرکت دے رہا تھا ۔۔۔۔ اور اب اس جانور کی زبان سیما جیسی خوبصورت لڑکی کی زبان سے رگڑ کھا رہی تھی ۔۔۔۔ اسکے منہ کو اندر سے جیسے چاٹ رہی تھی ۔۔۔۔۔ سیما نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اسکے بڑے سے منہ پر رکھتے ہوئے اسے پیچھے کرنے کی کوشش کی اور اپنا منہ کھول کر دوسری طرف کیا ۔۔۔ اور ٹامی کی زبان اپنے منہ سے نکالی ۔۔۔۔ ٹامی نے بھی کو ئی مزاحمت نہیں کی ۔۔۔ نہ کوئی زبردستی کرنے کی کوشش کی ۔۔۔ سیما اپنی جگہ سے اُٹھنے لگی ۔۔۔ تو اب کی بار ٹامی سیما کے اوپر سے اُتر گیا ۔۔۔۔ اور سیما جلدی سے اُٹھ کر بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔ ٹامی ابھی بھی اسکے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔۔ ابھی بھی جیسے اسکے اوپر ہی چڑھا ہوا تھا ۔۔۔ مگر اب پھر سے اسکا انداز پیار اور لاڈ بھرا تھا ۔۔۔۔۔ کھیلنے کے انداز میں ۔۔۔ اور اب بھی وہ بار بار سیما کے گالوں کو اپنی زبان سے چھونے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔ اور اس میں وہ کامیاب بھی ہو جاتا تھا ۔۔۔ سیما: بس ۔۔۔ بس ۔۔۔ اٹس اینف ٹامی ۔۔۔۔ گو ۔۔۔ گو ناؤ ۔۔۔۔۔ ٹامی بھی سیما کی بات سمجھ گیا ہمیشہ کی طرح ۔۔۔ اور سیما کے پاس ہی بیڈ کے اوپر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ سیما کے پیروں کے قریب ۔۔۔۔ اور اسکے پیروں کو چاٹنے لگا ۔۔۔۔ اپنا سر اور منہ سیما کے پیروں پر رگڑنے لگا ۔۔۔۔ سیما بھی آہستہ آہستہ ٹامی کے جسم پر ہاتھ پھیرنے لگی ۔۔۔۔ اسکی فر کو سہلانے لگی ۔۔۔۔ آج ایک بار تو ٹامی نے سیما کو ڈرا ہی دیا تھا ۔۔۔ مگر اسکے ساتھ ساتھ جو اس نے مزہ دیا تھا وہ بھی الگ ہی تھا ۔۔۔۔ یہ اسی لذت اور مزے کا ہی نتیجہ تھا کہ سیما ابھی بھی نیم برہنہ حالت میں ۔۔۔۔ صرف بریزئیر اور انڈرویئر پہنے ہوئے اپنے ٹامی کے پاس بیڈ پہ لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ اور وہ بھی بار بار اپنا منہ اور جسم سیما کے ننگے جسم سے رگڑ رہا تھا ۔۔۔۔ دونوں کی ہی سانسیں تیز تیز چل رہی تھیں ۔۔۔ سیما کو اپنا منہ ابھی بھی ٹامی کے تھوک سے گیلا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔ اور اپنے منہ کے اندر اسے ابھی بھی ٹامی کی زبان کا لمس محسو س ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔ اور سیما مسکراتی ہوئی ٹامی کے جسم کو سہلا رہی تھی ۔۔۔۔ یہی سب سوچتے ہوئے ۔ کچھ دیر کے بعد سیما نے اپنے بیڈ سے اُٹھ کر کپڑے پہنے ۔۔۔۔ اور دروازہ کھول کر باہر نکلنے لگی ۔۔۔ ٹامی نے اپنی مالکن کو باہر جاتے ہوئے دیکھا تو وہ بھی بیڈ سے نیچے اُترا اور اپنی دُم ہلاتا ہوا سیما کے پیچھے پیچھے چل پڑا ۔۔۔۔ کچن میں سیما نے جا کے خانساماں کے ساتھ کچن کا کام دیکھا ۔۔۔ اور ٹامی لاؤنج میں ہی تھا ۔۔۔۔۔ سیما کو بس یہی ڈر تھا کہ ٹامی جمال کے سامنے کو ئی ویسی حرکت نہ کر دے جیسی وہ اسکے ساتھ کمرے میں کرتا ہوا آیا ہے ۔۔۔۔ مگر شکر ہے کہ ٹامی بلکل اپنی روز کی روٹین کی طرح رہا ۔۔۔۔ اپنے انداز میں کوئی بھی تبدیلی ظاہر نہیں ہوئی اسکے اندر ۔۔۔۔۔۔ جس سے سیما بھی خوش اور مطمئن ہوئی ۔ ۔۔۔ لیکن یہ بات ضرور ہے کہ اسکی نظریں ساری شام ٹامی پر ہی ٹکی رہیں ۔۔۔۔ وہ اسکے اندر آج پیدا ہونے والی تبدیلی اور اسکے اس نئے انداز پر غور کرتی رہی ۔۔۔۔۔ جیسے جیسے وہ اسکے بارے میں سوچتی جاتی ۔۔۔ ویسے ویسے ہی اسے اچھا لگنے لگتا ۔۔۔۔ کچھ بھی برانہیں لگتا ۔۔۔۔ تبھی اسے یہ بھی یاد آیا کہ اس نے اُٹھ کر اپنا منہ بھی نہیں دھویا تھا اور نہ ہی کلّی کی تھی ۔۔۔ اور ابھی تک وہ ٹامی کا تھوک ویسے ہی اپنےچہرے اور منہ کے اندر لیے ہوئے پھر رہی تھی ۔۔۔ لیکن اس بات کے یاد آنے پر بھی وہ بس مسکرا ہی دی ۔۔۔ بنا خود سے یا ٹامی سے نفرت کیے 

Posted on: 12:28:PM 08-Jan-2021


112 3 3984 2


Total Comments: 2

Asad: Ager koi girl ya aunty mujh se apni felling share karna chahti hai.ya Good Friendship Love and Romantic Chat Phone sex Ya Real sex karna chahti hai to contact kar sakti hai 0306_5864795


Asad: Ager koi girl ya aunty mujh se apni felling share karna chahti hai.ya Good Friendship Love and Romantic Chat Phone sex Ya Real sex karna chahti hai to contact kar sakti hai 0306_5864795



Write Your Comment



Recent Posts


Thomas Bryton heard the bell ring sounding.....


3 0 56 4 0
Posted on: 05:33:AM 21-Jul-2021

Summary: MILF Mom catches nerdy son masturbating.....


0 0 51 2 0
Posted on: 05:28:AM 21-Jul-2021

I was 18 years old and had.....


0 10 33 5 0
Posted on: 05:18:AM 21-Jul-2021

The fair grounds were packed for the.....


0 0 39 1 0
Posted on: 11:16:AM 18-Jul-2021

The warm, gentle wind swept playfully through.....


0 1 67 9 0
Posted on: 11:03:AM 18-Jul-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com