Stories


میں اور میری کزن عائشہ از نومی سیالکوٹین

میرا نام نومی ہے اور اس وقت میری عمر 29 سال ہے اور جو کہانی میں آپ لوگوں کو بتانے والا ہو وہ آج سے تین سال پہلے شروع ہوئی جب میری عمر 26 تھی تو بات اس وقت کی ہے جب میں دبئی سے چھٹی آیا تھا اور ان۔ دنوں میں بہت پریشان تھا کیوں کوئی ایک مہینہ پہلے اس لڑکی کی کہیں اور شادی ہو گئی تھی جس سے میں بے انتہا پیار کرتا تھا غلطی میرے گھر والوں کی انہوں نے وہاں رشتہ کرنے سے انکار کر دیا تھا اس لیے میں گھر والوں سے بھی کٹا کٹا رہتا تھا اور اداس رہتا تھا اور اپنا زیادہ تر وقت گھر کے باہر ہی گزارتا تھا تھوڑا دوستو کے ساتھ زیادہ طرح وقت سیالکوٹ کے فاطمہ جناح پارک میں تنہا بیٹھ کے میری ایک خالہ ہیں جن سے گھر والوں کا جگڑا ہے اور وہ ہم کو ملتی ہیں نا ہم تقریباًٗ جب سے میں نے ہوش سمبھالہ ہے یہ سب ایسے ہی چل رہا تھا لیکن جب میں دبئی تھا ان سے میرا فیس بک کے ذریعے رابطہ ہوا اور بات ہونی شروع ہو گئی سہی سے وہ کافی بولڈ لیڈی تھی میں ان سے ہلکی پھلکی ڈبل مینیگ باتیں بھی کر لیتا تھا تو ایک دن میں ایسے ہی صبح اٹھا تو واٹسایپ پے ان کے مسجز آئے ہوئے تھے کہ تم ملنے آؤ وہ گوجراوالہ رہتی ہیں تو میں اس دن اٹھا تیار ہو کے گوجراوالہ ان سے ملنے نکل گیا بائک پے ہی مجھے ان کے گھر کا بلکل بھی پتا نہیں تھامیں سیالکوٹ بائے پاس پے جا کے ان کو کال کی تو انہوں نے مجھے رستہ سمجھایا تو میں ان کے گھر جا پہنچا خالہ کی عمر کو 43 تک ہو گی انکی تین بیٹیاں اور دو بیٹھے ہیں ان کے شوہر کام کے لیے لاہور رہتے تھے اور ہفتے بعد واپس آتے تھے ایک بیٹی کی شادی ہو چکی تھی اور ایک میٹرک میں تھی باقی بچے دو دو سال کے فرق سے چھوٹے تھے خالہ کو میں پہلے فیملی فنگشنز میں دیکھا ہوا تھا لیکن آج میں ان کو سہی سے دیکھا میری خالہ کیا کمال کا مال تھی سہی اونچی لمبی اور بڑے بڑے دودھ اور باہر کو نکلی ہوئی سکسی گانڈ آپ ان کے فیگر اور خوبصورتی کا اندازہ ایسے لگا سکتے ہیں جیسے پاکستانی ایکٹریس صبا فیصل خیر انہوں نے مجھے دیکھتے ہی گلے لگا لیا اور زور کی جھپی ڈالی تو ان کے اکڑے ہوئے دودھ میری چھاتی پے محسوس ہوئے وہ دودھ فل گرم تھے انہوں نے یہ ہگ آپنے بچوں کے سامنے ہی کیا تھا میں بھی کوئی اتنا نروس نہیں ہوا کیوں کے ان کے بارے سوچ کے میں پہلے بھی بہت بات گرم ہو کہ مٹھ مار چکا تھا اور نا ہی یہ میری زندگی کا پہلا تجربہ تھا میں اس سے پہلے دو تین پھدیاں مار چکا تھا علیک سلیک کے بعد سب بیٹھے باتیں ہوئی کھانا کھایا اور باتوں میں انہوں نے بتایا میری ایک اور خالہ کی بیٹی کے بارے کہ اس کی شادی ہوئی دو بار پہلے اس کا ہسبنڈ فوت ہو گیا اور اس سے ایک بچہ ہے اور پھر دوبارہ شادی کی اس کی گھر والوں نے ایک بڈھے ساتھ تو اس کے ساتھ اس کی نبھ نا سکی اس میں سے بھی ایک بچہ ہے اور وہاں سے بھی طلاق ہو گئی اب وہ سیالکوٹ میں رنگ پورہ میں ایک کرایہ کے مکان میں رہتی ہے خالہ نےمجھے بتایا کہ انہوں نے کچھ دن تک سیالکوٹ اس کے گھر جانا ہے وہاں جا کہ وہ مجھے کال کرے گی تو میں وہاں ملنے آؤں۔ ( نوٹ : یہاں یہ بات بتا دوں میں دوسری خالہ کی اس بیٹی کو زندگی میں پہلے کبھی نہیں تھا دیکھا ہوا اور میں سمجھ رہا تھا وہ بھی کوئی آنٹی ٹائپ ہو گی) خیرخالہ کے گھر تھوڑا اور ٹائم گزار کے اور خالہ کی چھاتی تو بنڈ کو کو دیکھ دیکھ کے آنکھیں ٹھنڈی کر کے میں واپس سیالکوٹ کے لیے نکل آیا واپس سیالکوٹ آ کے میں اپنی اس کزن کے بارے سوچا کہ وہ بچاری کتنی بد قسمت ہو گی جس کا گھر دو بار اجڑ گیا کچھ دنوں بعد خالہ سیالکوٹ اس کے گھر آئی اور مجھے کال کی میں یہاں آئی ہوں آؤ ہم سے ملنے سردیوں کے دن تھے میں اٹھا نہا دھو کے دن 12 بجے ان کے محلے جا پہنچا فون کر کے گھر کی لوکیشن پتا کی جو سمجھ نہیں تھی آ رہی کیونکہ گھر کافی اندر تھا گلیوں میں تو کزن کا بیٹا مجھے لینے آ گیا اس کے بیٹھے کی عمر کو 14 ، سال ہو گی مجھے ابھی تک بھی لگ رہا تھا وہ کوئی آنٹی ہی گی جس کا بیٹا اتنا بڑا ہے میں جب اس کے گھر پہنچا تو اس لڑکے نے بتایا خالہ چھت پے دھوپ میں تو میں اس کے ساتھ چھت کی طرف ہی چل دیا( اس کے گھر کا نقشہ سمجھا دوں کہ اس کا گھر کرایہ کا تھا اور نیچے کوئی اور کرایہ دار رہتے تھے باہر سے لوہے والی سیڑھی تھی جو اوپر جاتی تھی اور یہ لوگ اوپر رہتے تھے مین دروازہ ایک لوہے کی گرل تھی اس کے آگے ایک کمرہ تھا جہاں بیڈ بھی رکھا تھا اور اسی کا ساتھ واش روم تھا یہ کمرہ بیڈ روم اور ڈرائنگ روم دونوں ہی تھا اس آگے چھوٹا سا ہال تھا جس میں اوپن کچن تھا اور اس سے آگے ایک اور کمرہ تھا اور اسی میں سے سیڑھیاں اوپر جاتی تھی ) میں جب کچن کے پاس سے گزر کے اوپر جا رہا تھا تو وہاں میں ایک لڑکی نظر آئی جس پے میں اتنا غور نا کیا اور اوپر خالہ پاس چلا گیا خالہ نے پہلے کی طرح مجھے جھپی ڈالی اور مجھے مل کی نیچے چٹائی پے بیٹھ گئی جہاں کپڑے سلائی کرنے والی مشین پڑی تھی آج خالہ نے ڈوپٹہ نہیں تھا لیا ہوا جس سے خالہ کے آدھے آدھے دودھ صاف نظر آ رہے تھے جن کو دیکھ کے پینٹ میں ہی میرا لن ٹائیٹ ہونا شروع ہو گیا اس سے پہلے کہ میں کچھ اور سوچتا مجھے سرپرائز ملنے کا ٹائم تھا خالہ کی بیٹی جس سے میں ملنے آیا تھا وہ چھت پے آئی جس کو دیکھ کے میرے ہوش اڑ گے جس کو میں آنٹی خیال کر رہا تھا وہ ایک 30 سال خوبصورت اور اونچی لمبی لڑکی تھی جو بلکل خالہ کی جوانی کی کاپی لگتی تھی بیٹھے باتیں شروع ہوئی تو پتا چلا کہ اس کی پہلی شادی تب ہو گئی تھی جب اس کی عمر کو 15,16 تھی اور اس میں سے پہلے سال ہی بیٹا ہو گیا خالہ سمینہ کی نسبت عائشہ مجھے شریف اور آچھی لڑکی لگی کیوں کہ اس نے اپنے سارے جسم کو آچھے سے کور کیا ہوا تھا اور اسکی نظریں بھی جھکی رہی جس کی وجہ سے میرے دل میں اس کے لیے کوئی غلط خیال نا آیا اس نے بتایا کہ وہ ایک پرائیوٹ سکول میں جاب کرتی ہے تعلیم میٹرک تھی اس لیے چھوٹے بچوں کو سمبھالتی تھی اور کچھ اس کے ابو اس کی ہیلپ کرتے ہیں تو اس کا گزارہ ہو رہا ہے اس کے علاوہ وہ لوگوں کپڑے بھی سلائی کرتی ہے اس ساری ملاقات میں خالہ سمینہ نے مجھے اپنے دودھ دیکھا دیکھا کے گرم کیے رکھا دل تو کر رہاتھا ابھی اس پے چڑھ جاؤں لیکن صبر کرنا پڑا وہاں بیٹھے بیٹھے باتیں کرتے کرتے میں عائشہ سے کافی فرینک ہو گیا تھا وہ ایک آچھی لڑکی تھی اس نے کسی قسم کی کوئی فضول بات نا کی یہاں وقت گزارتے گزارتے میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا وہ یہ تھا کہ میں عائشہ کے ساتھ اپنی دوستی بڑھاؤں اور اپنی جو ایک دو گرل فرینڈ تھی جن کی چودائی کے لیے جگہ کا نا ہونا بڑا مسلہ ہے تو ان کو اس کے گھر لا کہ چودہ جا سکتا تھا یہ ایک سیو اور مناسب جگہ تھی اور لایا بھی اس وقت جائے جب عائشہ اور اس کے بچے سکول ہوتے ہیں لیکن وہاں بیٹھے نمبر مانگنے کی میری ہمت نا ہوئی شام ہوئی توخالہ نے بھی واپس گوجراوالہ جانا تھا ان کا چھوٹا بیٹا جو 9,10 سال کا ہے وہ بھی ساتھ تھا تو خالہ نے کہا کہ ہم کو بھی لاری اڈے سے گاڑی پے بیٹھا آؤ میں نے ہاں کر دی اور ان کے بیٹے کو بائک پے آگے بیٹھایا اور خالہ میرے پیچھے جڑ کے بیٹھ گئی خالہ سمینہ کےٹائیٹ دودھ میری بیک پے سہی سے فیل ہو رہے تھے میرے لیے یہ سفر کافی مزے کا تھا مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ خالہ پے اگر میں ٹرائی کروں تو وہ مجھ سے چودوا لے گی کچھ وہ لالچی سی عورت بھی تھی اور میں باہر سے آیا تھا آچھے پیسے تھے میرے پاس اور اس کے علاوہ میرے جیسے جوان لڑکے سے چودوانا آج کل کی آنٹیوں کا مشغلہ بن گیا ہے ۔ جب میں نے اسےلاری اڈے جا کے اتارا تو خود ہی ٹکٹس لے کے دیے گاڑی نکلنے میں ابھی تھوڑا ٹائم تھا میں ان کے لیے جوس لایا اور اپنے لیے بھی باتوں باتوں میں خالہ سے عائشہ کا نمبر مانگا جو خالہ نے ججکتے ہوئے دے دیا اور سحت تاکید کی کہ ایسی ویسی کوئی بات نا کرنا وہ سیریس لڑکی ہے میں ان سے کہا خالہ آپ بے فکر رہیں اور ان کو گاڑی پے بیٹھا کہ گھر آ گیا اور پھر رات کو میں نے عائشہ کو ہیلو کا مسج کیا لیکن کافی انتظار کے بعد بھی جب آگے سے جواب نا آیا تو میں نے کال ملا دی عائشہ نے کال پک کی عائشہ : ہیلو جی کون میں: اسلام علیکم کزن کیسی ہیں عائشہ : واعلیکم اسلام جی آپ کون۔۔؟ میں: آپ تو بڑی جلدی بھول گئی میں نومی ہوں آج ہی تو ہماری ملاقات ہوئی ہے ۔ عائشہ : اوہ آچھا تم ۔نمبر کہاں سے لیا ہے تم نے میرا ؟ میرا موبائل پکڑا تھا تم نے اس میں سے نکالا تھا۔۔؟ میں: ارے ارے نہیں نہیں ایسی عادت نہیں ہے میری میں نے خالہ سمینہ سے لیا تھا آپکا نمبر اگر آپ کو آچھا نہیں لگا میرا کال کرنا تو میں بند کر کے نمبر ڈیل کر دیتا ہوں عائشہ: نہیں ایسی بات نہیں بس میں کم لوگوں سے رابطہ رکھتی ہوں ۔خیریت سے لیا تم نے نمبر ۔؟ میں: جی جی خیریت ہے بس آپ سے مل آج بہت آچھا لگا اور تھوڑا دکھ بھی ہوا کہ آپکی لائف میں اتنی تکلیفیں آئیں ایسے ہی میں کافی تعریفیں کی عائشہ کی کہ وہ آچھی ہے پیاری ہے نیچر آچھی ہے اس کی اور آپ لوگوں کو تو پتا ہے عورت چاہے کوئی بھی ہو کیسی بھی ہو تعریفیں کرنے والے مرد ان کو آچھے لگتے ہیں اس کے بعد تھوڑی مزید بات چیت ہوئی اور فون بند ہو گیا اس کے بعد روزانہ میں رات کو عائشہ کو کال کرتا اور بات کرتا کوئی غلط بات نا ہوتی بس کچھ اس کے دکھڑے سنتا کچھ اپنی محبت کے قصے سناتا۔ تقریباً ایک ہفتے بعد اس نے اپنے گھر کے دروازے بھی میرے لیے کھول دیے ہم آچھے دوست بن چکے تھے پھر ایک دن میں اس کے گھر گیا تو بچوں کے لیے پیزہ لے گیا جو بچوں کو بھی پسند آیا اور عائشہ کو بھی فون پے میں اس سے سہی کھل کے بات کر لیتا تھا لیکن سامنے جا کے میری ہمت جواب دے جاتی تھی انہی دنوں اس نے ایک گورمنٹ کا ادرہ جائن کیا تھا پارلر کا کورس کرنے کے لیے تو میری روٹین بن گئی کہ میں اس کو روزانہ وہاں سے لیتا اور گھر چھوڑتا تھوڑی دیر بیٹھ کے گھر آجاتا اور اس وقت میرے اور عائشہ کے علاوہ گھر پے کوئی نہیں تھا ہوتا کیونکہ بچے ٹیوشن جا چکے ہوتے تھے ابھی تک بھی میرے ذہن میں اس کے لیے کوئی غلط بات نہیں تھی میں اس کو کورس کی جگہ سے پک کرنے بھی صرف اس لیے جاتا تھا کہ وہاں اور لڑکیاں بھی ہوتی تھی جو فل لائن دیتی تھی ان میں سے ایک لڑکے ماہم نے عائشہ سے دوستی صرف اس چکر میں کی میں عائشہ کا کزن ہوں ماہم عائشہ سے میرے بارے پوچھتی رہتی اور اس کا گھر بھی اسی طرف تھا جس طرف عائشہ کا تھا ایک دن اس نے عائشہ سے کہا کہ میرا رکشہ نہیں آیا مجھے بھی ساتھ لے چلو تو عائشہ نے اوکے کر دیا اور وہ بھی ہمارے ساتھ آگئی رستے میں پل ایک سے ماہم نے اے ون دہی بھلے کھانے کی فرامائش کی جو ہم نے قبول کی اور کھانے چلے گے آج میں نے ماہم کو پہلی دفعہ بغیر نکاب کے دیکھا تھا بلاشبہ وہ ایک حسین لڑکی تھی میں محسوس کر رہا تھا وہ مھ پے لائن مار رہی تھی جو کہ عائشہ کو بلکل آچھا نہیں تھا لگ رہا گھر آئے تو عائشہ شرارتی انداز میں مجھے کہنے لگی آج تو بڑی لائن ماری جا رہی تھی نمبر دے دوں اس کا تو میں نے کہا نہی نہی وہ ہی مار رہی تھی میں نہیں اور میں نے سوچا نمبر لے لیا تو اس کو برا نا لگ جائے اور دوستی نا ختم ہو جائے تو میں نےکہا نہیں مجھے نہیں چاہیے اور آئندہ سے آ پ اسے ساتھ مت لانا اس دن کے بعد سے میں نے عائشہ میں بڑافرق محسوس کیا وہ میرے لیے فکر مند ہوتی میں اس کو لینے جاتا تو اس کی سہیلیاں اشارے اشارے سے اسے میری طرف سے چھڑتی تھی اور مجھے بھی اب وہ آچھی لگنے لگی تھی اس سارے معاملے کو ایک مہینہ ہی ہوا ہو گا اب میں بھی اس کو پرپوز کرنے کا سوچ لیا روزانہ ملاقات کے باوجود روزانہ فون کال ہوتی تھی میں کال پے اس سے سے کھل کے بات بھی کر لیتا لیکن سامنے جا کے نا ہو پاتی پھر ایک دن میں نے سوچا اس کو باہر کہیں لے جاتا ہوں وہیں پرپوز کروں گا ہم لوگ آئس ٹیک گے آئس کریم کھائی لیکن میری ہمت بات کی نا ہوئی تو ہم گیریزن پارک چلے گے وہاں تھوڑی دیر ٹہلتے رہے میں نے بھی محسوس کیا کہ اب وہ بھی اسی انتظار میں ہے کہ میں اسے پرپوز کر دوں لیکن اس کی پرسنلٹی کے آگے میری ہمت ہی نا ہوئی اور ہم گھر آ گے ان دنوں میرا ایک لڑکی انم سے بھی افئیر تھا وہ الگ کہانی ہے اور اکثر وہ مجھے رات کو 10 بجے اپنے گھر بلاتی تھی اس کا گھر سیالکوٹ سویٹس کے پاس تھا میں وہاں بائیک کھڑی کرتا اور اس سےمل آتا ۔ پارک جانے کے اگلے میری انم سے ملاقات فکس ہو گئی لیکن میں اس دن رات دس بجے سپیشل گھر سے نہی تھا آسکتا تو میں گھر سے مغرب کے وقت آ گیا اور عائشہ کے گھر ٹائم سپینڈ کرنے لگا اور سوچا کے دس بجے گے تو انم طرف چلا جاؤں گا ہم لوگوں نے 8,9 بجے تک کھانا کھایا اور ٹی وی دیکھنےلگے اور باتیں کرنے لگے ٹی وی دیکھتے دیکھتے اس کے بچے سو گے میں اور عائشہ آمنے سامنے کرسیوں پے بیٹھے تھے اور ہمارے پاس ہیٹر چل رہا تھا رات کی تاریکی میں بات کرنا آسان ہوتا ہے میں اس سے بات کرنا شروع کی اور کہا کہ عائشہ میں تو کو پیار کرتا ہو۔ محبت ہو گئی ہے تم سے تو وہ کہنے لگی کیسی بہکی بہکی باتیں گھر رہے ہو میرے بچے جوان ہو رہے ہیں میں بدنام نہیں ہونا چاہتی اس سب میں پڑ کے اب مجھے پتا تھا وہ یہ باتیں اوپر اوپر سے کہہ رہی اندر سے اس کی بھی مرضی ہے تو میں اس کے تھوڑا قریب ہو گیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کے اسے اپنی محبت کا یقین کروانے لگا اس کے دونوں ہاتھ میرے ہاتھوں میں جنہیں اس نے چھڑوانے کی کوشش نا کی پھر میں اس کو یقین دلوایا کہ مجھے واقعی اس سے محبت ہو گئی ہے اور یہ بی یقین دلوایا کے میری وجہ سے کبھی اس کی عزت پے بات نہیں آئے گی اور اگر کبھی ایسا ہونا کا حدشہ بھی ہو گا تو تمہاری عزت کے لیے میں پیچھے ہٹ جاؤں گا میری ان بات سے مجھے وہ زرا نرم ہوتی دیکھائی دی تو میں اس کا ہاتھ پکڑا اور اٹھا آؤ میرے ساتھ میں اس کا جواب سنے بغیر اس کو لے کے بیڈ والے کمرے میں چلا گیا سائڈ سے ہی اس کو بیڈ پے دھکا دے کے لٹا دیا مجھے خود اندازہ نہیں تھا کہ میں اتنی جلدی اتنا آگے بڑھ جاؤں گا پھر میں نے سوچا جو ہونا تھا ہو گیا اب ہمت کرو اور کام کو ادھورہ مت چھوڑوں اس کو بیڈ پے ابھی لیٹایا ہی تھا تو وہ کہنے لگی یہ کیا کرنے لگے ہو چھوڑ دو مجھے۔اس نے مجھے چھوڑنے کی بات کہی تو تھی لیکن جھے پیچھے کرنے ی کوشش نا کی اور بار بار کہہ رہی تھی ایسا نا کرو میں اس کے اوپر جھکا اور اس کے لپس پے کس کرنے لگا مجھے بھی کچھ انکمفرٹ ایبل فیل نا ہوا تو میں روم کی لائٹ آف کر دی اور اور اس کو کسینگ کرنے لگا اسی کی ٹانگیں بیڈ سے نیچے تھی اور باقی جسم اوپر تھوڑی دیر کس کرنے کے بعد اس نے بھی میرا ساتھ دینا شروع کر دیا اور ہم دیوانہ وار کسنگ کرنے لگے اس کے بعد میں نے اپنی ہونٹ اس کی گردن پے رکھے اور چومنے لگا ساتھ میں اپنی زبان بھی اس کی گردن پے لگا کہ اس کو چاٹ رہا تھا وہ فل مدہوش ہو رہی تھی میرے نیچے ہونٹو اور گردن پے کس کرتے کرتے میں اس کی قمیض میں ہاتھ ڈالا اور قمیض اوپر کرنا چاہی جس میں عائشہ نے میرا پورا ساتھ دیا اور اپنی کمر اٹھا کے قمیض اوپر کرنے میں میری مدد کی میں نے اس کی قمیض اس کے برسٹ سے اوپر کر دی تھی اور اب سے کے دودھ سفید رنگ کے برا میں قید میرےہاتھوں میں تھے میں ان کو دبا رہا تھا اور اپنے ہونٹوں سے اس کے لپس کا رس پی رہا تھا وہ بھی اس سیچوشن کو خوب انجوائے کر رہی تھی اس بات کا اندازہ مجھے اس کی سسکیوں سے ہو رہاتھا پھرجوں ہی میں اس کی برا اوپر کی عائشہ کے موٹے اور فل تنے ہوئے دودھ میرے سامنے آگئے میں نے اس کے ہونٹوں کو چھوڑا اور اس کے دودھ پے لپکا اور نپلس منہ میں لے کے چوسنےلگا اور ہاتھ سے عائشہ کی ممے دباتا رہا نپلز سک کرنے سے وہ زیادہ ہاٹ ہو چکی تھی میں نے کوئی 10 منٹ اس کے ممے چوسے اور پھر میں آہستہ سے نیچے کو آیا اب میں اس کے پیٹ اور کمر پے زبان پھیر رہا تھا پھر جو ہی میں اس کی شلوار کو ہاتھ ڈالا اس نے ایک دفعہ پھر مجھے روکنے کی کوشش کی عائشہ: بس کر دو پلز اس سے زیادہ نہیں اس نے یہ بات التجایا لہجے میں کہی تھی لیکن میں کہا ماننے والا تھا میں نے سوچا اب اگر اتناکر کہ چھوڑ دیا تو کل کو مجھے گھر ہی نا گھسنے دے گی ایک دفعہ پھدی مار لوں گا تو کانی ہو جائے گی پھر منع نہیں کر سکے گی میں نے اس کی شلوار نیچے کھنچی جو آرام سے ہی اتر گئی میں نے اس کی دونوں ٹانگیں کھول کے اندھیرے میں ہی اس کی پھدی پے منہ رکھا اور اس کو چاٹنے لگا وہ اس وقت بھی فل گیلی تھی لیکن میری زبان کا لمس ملتے ہی وہ بن ہانی کے مچھلی کی طرح تڑپنے لگی میں بھی فل جوش سے اس کی پھدی چاٹتا رہا اور پھر پھدی میں فنگر کرنے لگا اب لن لینے کے لیے فل تیار ہو چکی تھی میں نے عائشہ کی پھدی چاٹتے چاٹتے ہی اپنی پینٹ کھولی اور انڈر وئیر نیچے کر لیا میری اس کاروائی کااس کو علم نہیں تھا میں پھر اچانک سے اپنامنہ پھدی سے ہٹایا اوراس کی گیلی پھدی میں ایک ہی جٹکے میں لن ڈال دیا اس سرپرائز سے وہ ایک دم تڑپ اٹھی اور اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا”ہائی میں مر گئی”پھر اسے احساس ہوا کہ لن اندر جا چکا ہے کیا بتاؤ یار بہت ٹائٹ پھدی تھی اس کی شائد پچھلے 8,10 سال سے کوئی لن نہیں تھا گیا اس لیا اس کے دونوں بچے بھی اپریشن سے ہوئے تھے ٹائٹ پھدی کی ایک وجہ یہ بھی تھی جب میرا پورا چھے انچ کا لن اندر چلا گیا تو میں جٹکے مارنے شروع کیے بہت ہی زیادہ مزہ تھا اس کی پھدی مارنے کا تھوڑی دیر گزری ہو گی مجھے جٹکے مارتے ہوئے کہ اس نے بھی گانڈ اٹھا اٹھا کہ میرا ساتھ دینا شروع کر دیا اس کو بھی بہت مزہ آ رہا تھا میرے ہر جٹکے پے وہ ہائے اور آہ کی آواز نکال رہی تھی جس سے میرے جوش میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا عائشہ کی چودائی کرتے ہوئے دس منٹ گزرے ہو ں گے کہ میرے جسم کا سارا خون لن کی طرف جمع ہونے لگا اب میں تیز تیز اور فل جوش سے دھکے مار رہا تھا اور ایسے ہی تیز جٹکے مارتے ہوئے میں اس کے اندر ہی فارغ ہو گیا اور بے سد ہو کے ایسے ہی اس کے اوپر گر گیا اور تیزتیز سانس لینے لگا عائشہ کی سانسیں بھی تیز تھی تب میں نے اسے کہا I love u عائشہ لیکن اس نے کوئی جواب نا دیا تو میں نے اسے کہا مجھے چھپی ڈالو تو بھی وہ چپ رہی دوبارہ کہا تو اس نے اپنے بازو میری کمر پے کس لیے اور کہنے لگی نومی جو بھی ہوا ہے غلط ہوا ہے لیکن میں نے اسے سمجھایا کہ میں پیار کرتا ہوں تم سے پیار میں سب جائز ہے تھوڑی دیر ہم ایسے لیٹے رہے پھر میں اٹھا اور لائٹ آن کی وہ بھی مجھ سے شرما رہی تھی میں بھی اس شلوار ابھی اتری ہوئی تھی اور قمیض اوپر تھی اب روشنی میں میری نظر اس کے مموں پے پڑی تو میں پھر سے ہاٹ ہونے لگا پھر میں نے اس کو بیڈ پے سیدھا لیٹنے کا کہا اس وقت رات کے دس بج چکے تھے اور مجھے انم کی کال انا شروع ہو گئی جو میں موبائل سائڈ پے رکھ کے اگنور کی اور اسی وقت عائشہ کے ساتھ پھر سے کسنگ شروع کر دی اب کی بار اس نے مجھے ذرا بھی نا روکا اور میں دوسری میں اس کی پھدی ڈوگی سٹائل میں بھی لی اور ٹانگیں اٹھا کہ بھی. دوسری بار میں میری ٹائمنگ اور جوش زیادہ ہوتا ہے اب کی بار میں اس کو پورا گھنٹہ چودہ اس دوران وہ تین بار فارغ ہو گئی تھی اس بار جب میں اندر فارغ ہوا تو وہ مجھے دیوانہ وار چومنے لگی ہونٹوں سے لپس سے گالوں سے ماتھے سے جس سے مجھے محسوس ہو گیا کہ یہ بہت خوش ہوئی ہے مجھ سے اس کے بعد اس نے بھی اپنے کپڑے پہنے اور میں نے بھی اپنے کپڑے پہنے اور پانی پی کے گھر آ کے مزے کی نیند سویا

ختم شد

Posted on: 12:33:PM 14-Dec-2020


7 1 1361 1


Total Comments: 1

samina: behtreen story.



Write Your Comment



Recent Posts


Thomas Bryton heard the bell ring sounding.....


3 0 56 4 0
Posted on: 05:33:AM 21-Jul-2021

Summary: MILF Mom catches nerdy son masturbating.....


0 0 51 2 0
Posted on: 05:28:AM 21-Jul-2021

I was 18 years old and had.....


0 10 33 5 0
Posted on: 05:18:AM 21-Jul-2021

The fair grounds were packed for the.....


0 0 39 1 0
Posted on: 11:16:AM 18-Jul-2021

The warm, gentle wind swept playfully through.....


0 1 67 9 0
Posted on: 11:03:AM 18-Jul-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com