Stories


باغ میں لاک ڈائون از ڈاکٹر لونڈے باز

سب سے پہلے تو ہم کے دوستوں کو سلام۔ دوستو! یہ ایک فرضی کہانی ہے ۔اور صرف آپ لوگوں تفنن طبع کے لئے تخلیق کی گئی ہے ۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اس کہانی کی کوئی اپڈیٹ نہیں آئے گی۔ اب آتے ہیں کہانی کی طرف ۔ جیسا کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں آجکل کرونا وائرس کی وجہ سے تقریباً ساری دنیا جزوی یا مکمل لاک ڈاؤن ہے ۔اور صرف ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف ہی ہر جگہ جا سکتا ہے ۔اور انہیں کوئی روک ٹوک بھی نہیں ہے کہیں آنے جانے کی۔ تو قصہ کچھ یوں ہے کہ میرے ایک دوست کی سالی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی اور اس نے مجے فون کیا اور کہا کہ انجکشن تو ان کے پاس ہیں لیکن لگانے والا کوئی نہیں ۔ تو میں جا کر اس کے سسرال انجیکشن لگادوں اس کی سالی کو ۔ تو دوستو میں نے بھی بائیک نکالی اور اس کے سسرال چلا گیا ۔اس کے سسرال میرے گھر سے کوئی پانچ چھ کلومیٹر دور تھے ۔گھر سے نکلتے ہوئے میں نے اپنی بیگم کو بھی بتا دیا کہ میں اگر جلدی فارغ ہوگیا تو گھر آجاؤں گا ورنہ وہیں سو جاؤں گا۔ خیر میں جب اپنے دوست کے سسرال پہنچا تو اس کی سالی جس کو ہم سب بڑی آپا کہتے ہیں ۔ان کی طبیعت واقعی خراب تھی خیر میں نے انہیں ڈاکٹر کے دئیے ہوئے انجکشن لگا دیئے اور آپاکی طبیعت بہتر ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ کافی دیر کے بعد جب آپا کی طبیعت بہتر ہوئی تو میں نے اپنے گھر واپس آنے کا اردہ کیا ۔ آپا نے مجھے کافی روکا لیکن جب میں گھر جانے پر بضد رہا تو آپا کی چھوٹی نند جو کہ ان کی تیمارداری کے لئے ان کے ہاں گئی ہوئی تھی ۔اسے بھی میرے ساتھ کردیا ۔اور کہا کہ میں اس کو ان کے سسرال چھوڑ دوں جو کہ میرے گھر کے رستے میں پڑتا تھا ۔ آپا کی نند جس کا نام نمو تھا ابھی تک کنواری تھی ۔اور میرا چونکہ آپا کے سسرال بھی کافی آناجانا تھا ۔تو نمو بھی میرے ساتھ کافی فری تھی ۔ نمو درمیانے قد کی ایک خوبصورت لڑکی تھی ۔اور میں اکثر نمو سے ہنسی مذاق بھی کر لیا کرتا تھا ۔تو دوستو ۔ہم جیسے ہی آپا کے گھر سے نکلے تو نمو بھی میرے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار ہو گئی ۔تو دوستو اب آتے ہیں کہانی کی طرف۔ اور میں اور نمو ان کے گھر کی طرف چل پڑے ۔جب کچھ رستہ طے ہوا تو نمو کہنے لگی کہ ڈاکٹر جی آپ مجھے موٹر سائیکل چلانا سکھاؤ جس پر میں نے نمو سے کہا ۔کچھ ہوش کرو رات کا وقت ہے اگر کہیں گر گئے تو مفت میں گوڈے گٹے رگڑے جائیں گے ۔میری بات سن کر نمو نے مجھے پیچھے سے زور سے جپھی ڈالی اور بولی کہ آپ جیسے استاد کے ہوتے ہوئے کوئی کیسے گر سکتا ہے ۔ دوستو ! جیسے ہی نمو نے مجھے جپھی ڈالی تو اس کے نرم گرم مموں کے لمس نے میرے لوڑے میں سنسنی دوڑا دی اور وہ اکڑ کر کھڑا ہو گیا۔ خیر جب نمو نے زیادہ اصرار کیا تو میں مان گیا اور میں نے کہا کہ جب باغ کے قریب جائیں گے تو باغ کے اندر سیکھ لینا ۔کیونکہ رستے میں نمو لوگوں کا کنو اور آموں کا باغ بھی آتا تھا ۔ تو جیسے ہی ہم باغ کے قریب پہنچے ۔تو نمو پھر ضد کرنے لگی۔ خیر میں نے بھی منع ناں کیا اور نمو کو آگے بٹھاکر اس کے پیچھے بیٹھ گیا اور نمو کو موٹر سائیکل کے کلچ گیر اور بریک کے بارے میں بتایا ۔اور پھر موٹر سائیکل کی ریس پر نمو کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور بالکل اسی طرح کلچ والی گرہ ہر بھی نمو کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔اور اسے بتایا کہ گئیر لگا کر ریس تھوڑی سی بڑھا کر آہستہ آہستہ کلچ چھوڑ دے نمو نے بھی میری ہدایت پر منوعن عمل کیا اور موٹر سائیکل چل پڑی ۔لیکن نمو کے کنوارے بدن کی گرمی اور لمس سے میرا لؤڑا بھی اکڑ گیا اور پیچھے سے نمو کی گانڈ کے ساتھ لگنے لگا ۔ جب نمو نے کوئی ردعمل ناں دیا تو میں بھی نمو کے ساتھ جڑ گیا۔ باغ میں بنے ٹریک پر دو چکر لگانے کے بعد ہی میرا تو لؤڑا آؤٹ آف کنٹرول ہوگیا اوپر سے نمو میرے بالکل ساتھ جڑ کر بیٹھی ہوئی تھی۔ خیر جب معاملہ میرے کنٹرول سے باہر ہونے لگا تو میں نے سے کہہ کر موٹر سائیکل رکوادی۔ اور موٹر سائیکل کے سوئچ سے چابی نکال لی اور نمو کو پیچھے سے اپنے بازوؤں میں جکڑ لیا اور اس کے ہونٹوں پر کسنگ شروع کردی ۔اور اس کے ساتھ ہی اس کی قمیض کے اوپر سے ہی اس کے ممے مسلنے لگا۔ پہلے پہل تو نمو نے کچھ مزاحمت کی لیکن پھر وہ بھی گرم ہو گئی۔ اور میرا ساتھ دینےلگی۔ جب نمو گرم ہوگئی تو میں نے اس کی قمیض اوپر اٹھا کر اس کے ممے ننگے کر دیے اور انہیں اپنے ہاتھوں سے مسلنے لگا ۔پھر میں نے اپنا ایک ہاتھ نمو کی شلوار میں ڈال دیا ۔اور اس کی پھدی کے دانے کو مسلنا شروع کر دیا۔ میرے ایسا کرنے سے پہلے تو نمو تھوڑا سا اچھلی لیکن جلد ہی پر سکون ہوگئی۔ اب صورتحال کچھ یوں تھی کہ پیچھے سے میرا لؤڑا نمو کی گانڈ کی دراڑ میں تھا اور میرا ایک ہاتھ نمو کی پھدی مسل رہا تھا اور دوسرا ہاتھ اس کا مما اور اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں میں جکڑے ہوئے تھے ۔اور ہم دونوں تھری سائیڈڈ مزے میں مست تھے ۔ پھر میں نے نمو کو موٹر سائیکل کے ہینڈل پر جھکا کر اس کی شلوار اس کی گانڈ سے نیچے کر دی اور اور اپنے لوڑے کو پیچھے سے اس کی پھدی کے سوراخ پر رگڑنا شروع کر دیا اور اب تو نمو کی پھدی بھی دھڑادھڑ پانی چھوڑ رہی تھی ۔ خیر میں نے اپنے لوڑے کو اس کی پھدی کے سوراخ پر سیٹ کرکے اسے نمو کی پھدی کے اندر دھکیلنا چاہا لیکن کنواری ہونے کی وجہ سے وہ نمو کی تنگ پھدی میں ناں جا سکا ۔نمو نے بھی کہا کہ ڈاکٹر جی آپ اوپر اوپر سے مزا لے لیں ۔لیکن میرے سر پر تو منی سوار تھی ۔میں نے نمو کو موٹر سائیکل سے اتارا اور اس کی اور اپنی شلواریں اتار کر موٹر سائیکل پر رکھ دیں اور نمو کی قمیض بھی اتار دی ۔پھر اس کا دوپٹہ اتار کر اسے زمین پر بچھا کر نمو کو اس پر لٹا دیا اور خود اس کی ٹانگیں کھول کر ان کے درمیان بیٹھ گیا اور اپنے لوڑے کو نمو کی پھدی کے سوراخ پر رگڑنا شروع کر دیا۔ کچھ دیر کے بعد میں نے اپنے لوڑے کا ٹوپا اس کی پھدی کے سوراخ پر سیٹ کیا اور پھر اسے نمو کی پھدی کے اندر دھکیلنا شروع کردیا ۔لیکن ابھی میرے لوڑے کا ٹوپا تھوڑا سا ہی نمو کی پھدی کے اندر گیا ہو گا کہ نمو درد سے سسکنے لگی ۔اب میں نے بھی فیصلہ کن راؤنڈ کھیلنے کا فیصلہ کیا اور نمو کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کر ایک زوردار دھکا مارا ۔ابھی نمو میرے پہلے دھکے سے بھی ناں سنبھلی تھی کہ میں نے اپنے لوڑے کو اس کی پھدی سے تھوڑا سا باہر نکال کر ایک اور دھکا مارا اور اس طرح میرا لن نمو کی کنواری پھدی کو پھاڑتا ہوا پورا اس کی پھدی میں گھس گیا جبکہ نمو درد سے بن جل کی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی ۔لیکن میں نے اس کے ہونٹ ناں چھوڑے اور انہیں چوستا رہا۔ جب نمو تھوڑی سی پر سکون ہوئی تو پھر میں نے اپنا لؤڑا اس کی پھدی میں اندر باہر کرنا شروع کر دیا ۔جو کہ اس کی کنواری تنگ پھدی میں پھنس پھنس کر آگے پیچھے ہو رہا تھا ۔کچھ دیر کے بعد نمو بھی نیچے سے اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر میرا ساتھ دینے لگی ۔ تقریباً دس منٹ کی زور دار چودائی کے بعد اچانک نمو کی پھدی نے میرے لوڑے کو اپنی گرفت میں مضبوطی سے جکڑ لیا اور جھٹکے کھاتے ہوئے فارغ ہونے لگی ۔میرا لؤڑا بھی اس کی پکڑ برداشت ناں کر سکا اور وہ بھی نمو کی پھدی کے اندر ہی چھوٹ گیا ۔ اس کے بعد کچھ دیر ہم ایسے ہی لیٹے رہے پھر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور نمو کے کپڑے پہننے میں اس کی مدد کی۔ کیوںکہ اب اس سے ہلا بھی نہیں جا رہا تھا ۔اور وہ پیٹ کے نچلے حصے میں درد کی شکایت بھی کر ہی تھی خیر میں نے اس موٹر سائیکل پر بٹھایا اور اس کے گھر کی طرف روانہ ہو گئے ۔جب اس کی گھر پہنچے تو نمو سیدھی باتھ روم میں بھاگ گئی ۔اور میں اس ابا کے پاس بیٹھ گیا ۔تںوڑی دیر کے بعد ان باتھ روم سے کسی چیز کے گرنے اور نمو کے چیخنے کی آواز آئی ۔جب ہم باتھ روم کے دروازے تک پہنچے تو نمو باتھ روم سے لڑکھڑاتی ہوئی نکلی ۔ہمارے استفسار پر اسنے بتایا کہ وہ باتھ روم میں پ ہو کر گر گئی تھی اور اس کے گھٹنے پر چوٹ لگ گئی تھی۔ میں نے اسے ایک پین کلر انجکشن لگایا ۔اور کپڑے بدل کر سونے کی تلقین کی۔ اتنی دیر میں چائے بھی بن چکی تھی ۔چائے پی کر میں نے اپنا بیگ اٹھایا اور موٹر سائیکل پر سوار ہو کر اپنے گھر آگیا ۔ پھر نمو کی گانڈ میں نے کیسے ماری۔ یہ پھر کبھی بتاؤں گا ۔تب تک کے لئے رب راکھا۔

Posted on: 12:38:PM 14-Dec-2020


5 1 950 1


Total Comments: 1

Asad: Ager koi girl ya aunty mujh se apni felling share karna chahti hai.ya Good Friendship Love and Romantic Chat Phone sex Ya Real sex karna chahti hai to contact kar sakti hai 0306_5864795



Write Your Comment



Recent Posts


Thomas Bryton heard the bell ring sounding.....


3 0 56 4 0
Posted on: 05:33:AM 21-Jul-2021

Summary: MILF Mom catches nerdy son masturbating.....


0 0 51 2 0
Posted on: 05:28:AM 21-Jul-2021

I was 18 years old and had.....


0 10 33 5 0
Posted on: 05:18:AM 21-Jul-2021

The fair grounds were packed for the.....


0 0 39 1 0
Posted on: 11:16:AM 18-Jul-2021

The warm, gentle wind swept playfully through.....


0 1 67 9 0
Posted on: 11:03:AM 18-Jul-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com