Stories


حقیقی لیسبیئن سہیلیوں کی کہانی از مریم عزیز۔لیسبو سیکس

ہائے دوستو کیسے ہو ؟ دوستو میں کوئی لکھاری نہیں ہوں کہ جو آپ کو بہترین کہانی دے سکوں مگر کچھ باتیں ہیں جن کا میں شاہد ہوں وہ آپ تک پنہچانی ہیں ۔۔۔۔۔ دوستو اردو فنڈا اور نیٹ کی دنیا میں آکر پتہ چلا کہ جنسی تسکین حاصل کرنے کے لئے صرف لڑکے ہی ہم جنس کا سہا را لیتے بلکہ اب اس میدان میں لڑکیاں بھی آ گئی ہیں ۔۔۔ کہایوں میں پڑھنے اور فلموں میں دیکھنے کے بعد میں سوچتا تھا کہ پتہ نہیں حقیقت میں بھی لڑکیاں آپس میں سیکس کرتی ہیں یا پھر صرف فلموں کی حد تک محدود ہے مگر چند دن پہلے یہ حقیقت میرے اوپر آشکارا ہوئی کہ ہمارے ارد گرد ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں تو دوستو آتے ہیں اصل واقعہ کی طرف جو میں آپ سے شئیر کرنا چاہتا ہوں (کہانی کے کرداروں کے نام میں نے بدل دئیے ہٰیں) چند دن پہلے میری اپنی 1 رشتہ دار سے گپ شپ ہوئی جس کی عمر تقریبا 20 سال ہے میں نے 1 فرضی نام سے اس سے دوستی کی اور کچھ ہی دنوں میں خوب دوستی ہوئی یہاں تک کہ ہم سیکس کے موضوع پہ بات کرنے لگے 1 دن دوپہر کے وقت میں اس سے بات کر رہا تھا تو گلشن ( فرضی نام) نے کہا کہ عادل( میرا فرضی نام جو میں نے اسے بتایا تھا) مجھے نیند آ رہی میں سونے لگی ہوں پھر بات ہو گی میں نے کہا گلشن مجھے بھی اپنے ساتھ سلا لو ۔۔۔ وہ بولی ۔۔ سلا تو لوں مگر تم نے نہ خود سونا ہے نہ مجھے سونے دینا ہے ۔۔ میں کہا وعدہ ہے یار میں تنگ نہیں کروں گا اس نے کہا کہ ٹھیک ہے آجاؤ۔۔ تو میں خیالوں میں گلشن کے پاس اس کے بستر پر پنہچ گیا۔۔ میں نے کہا گلشن تھوڑا پیار کرنے دو نا ۔۔ گلشن ۔ اسی لئے تو میں تمھین نہیں بلا رہی تھی مجھے پتہ تھا تم فرمائش کرو گے بہر حال میں اس سے سیکس کی بات کرنے لگ گیا جس سے وہ کافی گرم ہو گئی میں نے اس سے پوچھا گلشن 1 بات سچ سچ بتاؤ ؟ ہاں پوچھو ۔۔ میں نے کہا کہ کبھی کسی نے تمہارے مموں کو چھوا ہے ؟ پہلے تو وہ چپ رہی پھر بولی تم کیا کرو گے جان کر ۔۔ میں نے کہا یار بتا دو ناں پلیز اس نے کہا ہاں چھوا ہے ۔۔ میں نے کہا کہ کون خوش نصیب ہے ذرا بتاؤ۔۔ اس نے پھر جو بتایا وہ آپ اسی کی زبانی سنئیے۔۔ گرمیوں کا موسم تھا میری کزن کرن ہمارے گھر آئی ہوئی تھی ہماری بہت دوستی تھی اس کے آنے پر میں بہت زیادہ خوش تھی دن میں اکھٹے رہنا کھانا پینا اور رات کو اکھٹے سونا ۔۔ مگر کبھی بھی نہ کرن نے اور نہ میں کبھی بھی ہم سے سیکس کے بارے کو بات نہیں کی تھی مگر 1 دن میرے موبائل میں ایک رانگ نمبر سے سیکسی میسج آیا ( گلشن نے وہ بھی سنایا) کہ 1 سردار کی طبیعت خراب ہوئی تو اس کی بیوی نے اس کے لئے چاول ابالے۔۔۔۔۔۔ اور چاولوں کا پانی ( پچھ) لوٹے میں ڈال دیا اور اسے گرانا بھول گئی۔۔۔ رات کو دونوں کو مختلف ٹائم پہ پیشاب آیا تو وہی پانی استعمال کیا۔۔ صبح بیوی کو اپنی چوت پہ چِپ چِپ محسوس ہوئی ۔۔ بیوی: مینوں اے دسو راتی کس وقت تسی میری چوت ماری سی؟ سردار:بس چپ کر جا کوئی میری گانڈ وی مار گیا اے یہ پہلا ددن تھا جب میں نے اور کرن نے سیکس کی کوئی بات کی او اس کے بعد تو سلسلہ چل نکلا جب بھی کوئی ایسا میسج آتا ہم دونوں اسے پڑھ کر خوب تبصرے بھی کرتیں۔ پھر ہم کیبل پہ انگلش چینل دیکھنے لگ لگ گئے انگلش موویز میں ہلکے پھلے سیکس سین دیکھتے تو اس پر تبصرہ کرتے یوں ہماری سیکسی گپ شپ کا سلسلہ چل نکلا ایک رات سب گھر والے صحن میں سو رہے تھے کہ بارش آگئی سب لوگ اٹھ کے کمروں میں چلے میں امی اور کرن ایک کمرے میں گئے اس کمرے میں 2 چارپائیاں تھیں 1 پہ امی سو گئیں اور دوسری پہ میں اور کرن لیٹ گئے بارش کی وجہ سے موسم میں کچھ تبدیلی آ گئی تھی باہر کافی تیز بارش ہو رہی تھی جس کی وجہ کمرے کا ماحول بھی کچھ ٹھنڈا سا ہو گیا تھا ۔ مجھے نیند نہیں آرہی تھی کافی دیر میں ایسے ہی لیٹی رہی پھر اچانک کرن نے کروٹ بدلی اور میری طرف منہ کر لیا جس کی وجہ سے اس کے ممے میرے ہاتھ کے ساتھ ٹچ کرنے لگے پہلے تو میں نے غور نہیں کیا پھر جب اس کے مموں کی گرمی مجھے محسوس ہوئی تو میرے ذہن میں اچانک خیال آیا کہ میں دیکھوں تو سہی اس کے ممے کیسے ہیں اسی خیال کے تحت میں نے آہستہ سے اپنا ہاتھ اس کے مموں پہ رکھ دیا میرا دل تیز تیز دھڑکنے لگ گیا کہ کہیں کرن جاگ نہ جائے مگر وہ نہیں جاگی کچھ دیر بعد میں اپنے ہاتھ سے اس کے مموں کو ٹٹولنا شروع کر دیا پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ میں نے کسی کے مموں کو دیکھا یا ٹچ کیا ہو جیسے جیسے میں اس کے مموں پہ ہاتھ پھیرتی گئی مجھے عجیب سا مزہ آنے لگا تھوری دیر میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا تو مجھے آہستہ سے کرن کی آواز سنائی دی گلشن کیوں رک گئی ہو ہاتھ پھیرو نا بہت مزہ آ رہا ہے پہلے تو مجھے اس کی آواز سن کے جھٹکا سا لگا پھر میں نے کہا منحوس تم جاگ رہی تھیں کیا ۔ اس نے کہا یار یہ کیسے ہو سکتا ہے کوئی تمہارے مموں کے ساتھ کھیل رہا ہو اور آنکھ نہ کھلے ۔۔۔۔ پھر اس نے کہا گلشن پکڑو نا میرے ممے یا ر بہت مزہ آرہا تھا مجھے اف کیا بتاؤں پلیز پھر سے ہاتھ پھیرو۔۔۔۔ میں نے کرن کے مموں پہ ہاتھ پھیرنا شروع کرد یا اب کی بار کرن کافی گرم جوشی دکھا رہی تھی اس کی گرم سانسیں مجھے بھی گرم کر رہی تھیں میں نے کہا کرن یار جو ہم نے کل مووی دیکھی تھی اس میں کتنی زبردست کس ہوئی تھی ناں ۔۔ ہاں گلشن یار میں تو بہت گرم ہو گئی تھی اس سین کو دیکھ کر ۔۔ اس کی بات سن کے میں نے اپنے ہونٹ کرن کے ہونٹوں پہ رکھ دیئے یہ میری زندگی کی پہلی کس تھی اگرچہ تجربہ نہیں مگر پھر بھی میں نے کافی گرمجوشی سے کس سٹارٹ کی کرن کے ہونٹ چوسنے لگی اور میرا ہاتھ کرن کے مموں کی گولائیوں کو ناپ رہا تھا کس کرنے کے بعد میں نے کہا کرن اپنی قمیض اوپر کرو میں تمہارے مموں کو بنا قمیض کے چھونا چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔۔ کرن نے کہا کیوں جی کبھی اپنو مموں کو نہیں چھوا تم نے بنا قمیض کے ۔۔۔ یار اپنے تو چھوؤئے ہیں مگر کسی اور کے نہیں چھوئے ۔۔۔ یہ سن کر کرن نے اپنی قمیض اوپر کر دی ہم یہ سب بہت آہستہ آواز میں بڑی احتیاط کے ساتھ کر رہے تھے کیوں کہ دوسری چارپائی پر امی سو رہی تھیں اگرچہ درمیان میں فاصلہ کافی تھا اور کمرے میں پنکھا بھی چل رہا تھا پھر بھی میں اور کرن کافی احتیاط برت رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔ کرن نے قمیض اوپر کی تو میں نے کہا برا بھی اوپر کرو تو وہ بولی سارے کام میں نے ہی کرنے ہیں کیا تم بھی کچھ کر لو میں نے کہا میں تو تمہیں پورا ننگا کرنا چاہتی ہوں مگر امی پاس ہیں میں نے اس کی برا بھی اوپر کر دی اب اس کے ننگے ممے میرے ہاتھوں میں تھے آج پہلی بار میں کسی کے ننگے جسم کو چھو رہی تھی کرن کے ممے بہت زبردست تھے اس کے مموں پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کے نپل کو میں نے اپنی انگلیوں میں لے کر دبایا تو اس کی ہلکی سی سسکی نکل گئی ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا کرن کیا محسوس کر رہی ہو اس نے کہا : گلشن بہت مزہ آ رہا ہے دل چاہ رہا ہے کہ کوئی میرے مموں کو اپنے گرم ہونٹوں میں لے اور خوب چوسے اور ان پر کاٹی کرے ۔۔۔۔ میں کہا واقعی اس نے کہا ہاں گلشن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا چلو میں چوسنے کی ٹرائی کرتی ہوں یہ کہ کر میں نے اپنے ہونٹ اس کے ممے پر رکھ دئیے اور آہستہ آہستہ اپنی زبان اس کے ممے پر پھیرنے لگے پھر میں نے اس کے نپل کو منہ میں لیا اور چوسنے لگی جس سے کرن بہت ہی گرم ہو گئی اس کی سانسیں تیز ہو گئیں میں نے اس کے دونوں مموں کو خوب چوسا۔۔۔۔۔ اسی دوران کرن کافی زور سے پلنے لگ گئی اور اس کا ہاتھ اس کے ٹانگوں کے درمیان تھا پھر کرن نے ایک جھٹکا لیا اور تیز سانس خارج کر دی اگرچہ میرا یہ پہلا سیکس تھا مگر اتنا تو میں جانتی تھی کہ کرن فارغ ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا چلو اب میری باری تم بھی مجھے پیار کرو۔۔۔۔۔ اتنے میں امی جاگ گئیں واش روم جانے کے لئے کرن نے جلدی سے اپنی قمیض صحیح کی اور کروٹ بدل لی اور میں بھی کروٹ بدل کے سو گئی ۔۔۔۔۔ صبح اٹھے تو ہم ایک دوسرے سے نظریں نہ ملا پائیں کہ ہم نے رات کو کیا کیا ہے بہت شرم محسوس ہو پورا دن ہم نے آپس میں بات تک نہ کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب دوسری رات ہوئی تو میں نے کہا کرن میں نے تو کمرے میں سونا ہے باہر نہیں موسم چونکہ ٹھیک ہو چکا تھ سب گھر والے باہر سونے لگے تھے تو امی نے کہا کہ تم دونوں اندر سو جاؤ ہم دونوں اندر چلے گئے اور ایک ہی چارپائی پر لیٹ گئے پہلے تو کافی دیر کرن اور میں شرماتے رہے اور بالکل خاموش لیٹے رہے پھر میں نے پہل کی اور کرن کے مموں پہ اپنا پاتھ رکھ دیا اوہ آہستا سے دبا دیا کرن کے منہ سے ہلکی سی سسکی خارج ہو ئی اور اس نے اٹھ کر میرے ہونٹوں پہ ہونٹ رکھ دئے۔ اور ساتھ ساتھ میرے مموں کو دبانے لگ گئی پہلی رات میں نے کرن کو مزہ دیا تھا اور خود مزہ نہ لی سکی تھی آج میرا پورا مزہ لینے کا ارادہ تھا۔۔ کرن میری زبان کو چوس رہی تھی اور ساتھ میرے ممے مسل رہی تھی اور میں مزے کی دنیا میں گم تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر کرن نے کہا گلشن اپنی قمیض اتار دو میں نے کہا نہیں صرف اوپر کرتی ہوں ۔۔۔ نہیں گلشن آج تو ہم اکیلے ہیں آج ڈر کس چیز کا تم اتارو ۔۔۔۔۔۔۔ تو میں نے اپنی قمیض اتار دی اور اپنی برا بھی اتار دی ۔۔۔۔۔۔۔ کرن نے جیسے ہی میرے ننگے ممے کو ہاتھ لگایا مجھے کرنٹ سا لگا آج پہلی بار کسی کا ہاتھ میرے مموں کو چھو رہا تھا ۔۔۔۔۔ میں فل مستی میں کہا کرن : چوسو نا میرے مموں کو کرن میرے مموں کو چوسنے لگ گئی ۔۔۔۔۔۔۔ اففففف کیا بتاؤں میں آج اور ہی دنیا میں تھی ایک عجیب سا نشہ تھا جو میرے حواس پر چھا رہا تھا ۔۔۔۔۔ میں مزے کی ایسی دنیا میں تھی کہ جس سے آج تک میرا وجود نا آشنا تھا ۔۔۔۔ کرن کے ہونٹوں کے لمس نے تو مجھے پاگل کر دیا تھا ۔۔۔ اور بلا اختیار میرے ہونٹوں سے سسکاریا ں نکلنے لگ گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میں نے کہا کرن کھا جاؤ میرے مموں کو تمہاری زبان میرے جسم میں آگ لگا رہی ہے ۔۔۔۔۔ کرن میرے نپلز کو بار باری چوس رہی تھی ۔۔۔ میں نے کہا کرن تم بھی اپنی قمیض اتار دو ۔۔۔۔۔۔ کرن نے نے بھی اپنی قمیض اور برا اتار دی اور اپنے مموں کو میرے مموں پہ رکھ دیا ۔۔۔۔۔ اففففففففففففففف کیا عجیب کیفیت تھی ۔۔۔ ذہن میں ایک عجیب سا نشہ چھا رہا تھا ۔۔۔ ہم دونوں ایک لمحے کے لئے سب کچھ بھلا چکی تھیں ۔۔۔۔ میری زندگی اس رات مجھے نشے اور سرور سے واقف کر رہی تھی ۔۔۔۔۔ میں چاہ رہی تھی کاش یہ لمحہ کبھی خرم نہ ہو ۔۔۔۔۔ کرن کا گرم وجود یونہی میرے گرم مموں سے لگا رہے اور اس رات کی کبھی صبح نہ ہو۔۔۔۔ اتنے میں کرن نے میرے کان میں سر گوشی کی ۔۔۔۔ گلشن کہاں کھو گئی ہو ؟ میں نے کہا کرن آج میں خود نہیں جانتی میں کہاں ہو ایک سرور سا ایک نشہ سا ہے جو میرے انگ انگ میں چھا رہا ہے ۔۔۔ کرن میرے نشے کے کٹوروں کو منۃ لگاؤ اور میرے نپل کو چوسو ۔۔۔۔۔۔ کرن میرے نپلز کو چوسنے لگ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میں مزے کی دنیا میں غوطہ زن تھی۔۔۔۔۔۔ کرن کھا جاؤ نا ان کو اففففففففف ۔۔۔۔ کیا مزے کا چوستی ہو تم ۔۔۔۔ تمہاری زبان میں بہت مزہ ہے اتنے میں کرن کا ایک ہاتھ میری شلوار کے اندر داخل ہو گیا اور میری چوت کو چھونے لگا ۔۔۔۔ اس اچانک حملے کے لئے میں تیار نہیں تھی میں بے اختیا تڑپ گئی کرن یہ کیا کر رہی ہو؟؟//؟؟ کرن بولی کچھ نہیں گلشن آج میں تمہیں پورا مزہ دینا چاہتی ہوں ۔۔۔۔ کرن میرے ممے چوسنے کے ساتھ ساتھ میری چوت پہ اپنا ہاتھا چلا رہی تھی اور میں مزے میں ڈوبتی چلی جارہی تھی کہ اچانک مجھے یوں لگنے لگا کہ جیسے میری ساری جان میری ٹانگوں میں آگئی ہو میں نے کہا کرن پلیز تیز ہاتھ چلاؤ ۔۔۔ تو کرن میرے نپلز چوسنے کے ساتھ ساتھ میری چوت پہ تیز تیز ہاتھ چلانے لگ گئی پھر اچانک میری ٹانگیں جڑ گئی اور میں میری چوت منزل کو پنہچ گئی ۔۔۔۔۔۔ آج پہلی بار تھی کہ کسی نے مجھے فارغ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک عجیب سا مزہ اور سکون محسوس کر رہی تھی میں۔۔۔۔۔ پھر میں نے کرن کو فارغ کیا ۔۔۔۔ کرن ہمارے گھر اس کے بعد ایک ماہ رہی اور اس ایک ماہ میں ہماری ہر رات سیکس میں گزرتی اس دوران مجھے ڈیٹ بھی آئی مگر سیکس پھر بھی ہم کرتے رہے ۔۔۔ ایک بات اور رات ہم سیکس کرتے اور پورا دن ایک دوسرے سے شرماتے رہتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس سارے سیکس کے دوراں ہم نے چوت کے اندر کبھی کچھ نہیں ڈالا ۔۔۔۔۔۔۔ مارچ کے لاسٹ میں کرن کی شادی ہے آج بھی جب ہم کبھی فون پہ ان راتوں کا ذکر کرتے ہیں تو بلااختیار چوت گیلی ہونے لگتی ہے دوستو: یہ تھی میری رشتہ دار دوست کی کہانی جو آپ کو سنائی ہے یہ بقول گلشن کے حقیقت پر مبنی ہے اب میں بھی ٹرائی میں ہوں کہ گلشن مجھے بھی اپنے حسین جسم کی کچھ خیرات دے دے

Posted on: 01:07:AM 14-Dec-2020


1 1 442 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Thomas Bryton heard the bell ring sounding.....


3 0 57 4 0
Posted on: 05:33:AM 21-Jul-2021

Summary: MILF Mom catches nerdy son masturbating.....


0 0 51 2 0
Posted on: 05:28:AM 21-Jul-2021

I was 18 years old and had.....


0 10 33 5 0
Posted on: 05:18:AM 21-Jul-2021

The fair grounds were packed for the.....


0 0 39 1 0
Posted on: 11:16:AM 18-Jul-2021

The warm, gentle wind swept playfully through.....


0 1 70 9 0
Posted on: 11:03:AM 18-Jul-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com