Stories


میری بہن صوفیہ کا ریپ۔ریپ سیکس

دسمبر دو ہزار سات کی اس شام اور رات کا واقعہ ہے جب دہشتگردوں نے بے نظیر کو شہید کر دیا. آنا فاناً ہمارے شہر میں مظاہرے اور توڑ پھوڑ شروع ہو گئی میری بہن صوفیہ ایک کمپنی میں مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ میں جاب کرتی تھی اس کا فون آیا کہ کمپنی کی گاڑیاں مظاہروں کی وجہ سے نہیں نکل پا رہی اور تم مجھے آ کر لے جاو. میں نے گھر میں بتایا اور فوراً بائیک لے کر نکل گیا تا کہ جلدی سے صوفیہ کو لے کر واپس آ سکوں. پورے راستے میں جگہ جگہ روڈ بلاک تھی کئی جگہ پر گاڑیوں اور دکانوں کو آگ لگی ہوئی تھی. اور ہر طرف سے مظاہرین آ رہے تھے. خیر میں بیس سے پچیس منٹ میں وہاں پہنچ گیا اور صوفیہ کے آفس گارڈ کو بتایا کہ اس کو بلا دے. تھوڑی دیر میں صوفیہ آ گئی اور پوچھنے لگی کہ راستے کھلے ہیں میں نے بتایا کہ کافی جگہ سے بند ہیں لیکن بائیک کی وجہ سے نکل آیا میں. خیر ہم نے واپسی کاسفر شروع کیا لیکن اب مظاہرے اور شدید ہو چکے تھے مظاہرین گاڑیوں اور بایکس سے لوگوں کو اتار اتار کر توڑ رہے تھے… اور اندھیرے وغیرہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خواتین کے ساتھ نازیبا حرکات اور بدتمیزی بھی کر رہے تھے جس کو دیکھ کر میں کافی خوفزدہ ہو گیا اور صوفیہ کو کہا کہ ہمیں کسی اور راستے سے نکلنا چاہیے. میں نے ایک کچی ابادی کی طرف سے کافی لمبا راستہ لیا تا کہ شہر کے مرکزی علاقے سے ہٹ کر ہم اپنے گھر کی طرف جا سکیں.. یہ راستہ کچا تھا لیکن اس پر کوئی گڑ بڑ نہیں تھی ہم کچی آبادی کے ساتھ ساتھ سے ہوتے ہوئے کافی آگے نکل آئے اور ایک نالے کے ساتھ سے راستہ نہ ہونے کی وجہ سے بائک سے اتر کر نالے کو کراس کیا اور پار چڑھ گئے. یہ علاقہ بھی ابھی غیر اباد تھا کسی نئ ہاؤسنگ کالونی کا اکا دکا گھر بنے تھے. جب ہم نالے کو کراس کر کے ادھر پہنچے تو آگے ایک پچیس چھبیس سال کا لڑکا ہمیں کہنے لگا کہ آپ لوگ ادھر سے نہ جائیں آگے راستہ بند ہے اور آپ لوگوں کے لیے مشکل ہو گی.. میں نے اسے بتایا کہ ہم پہلے ہی اس وجہ سے اتنا لمبا راستہ لے کر آ رہے ہیں. اس نے کہا کہ آپ کی مرضی ہے لیکن آپ کے ساتھ لیڈی بھی ہیں تو آپ کے لیے مسئلہ ہو سکتا ہے. پھر اس نے کہا کہ آپ لوگ یہاں رک جائیں اور رات تک جب حالات ٹھیک ہو جائیں تو نکل جائیں.. میں نے کہا کہ اس ویرانے میں رکنا بھی تو ممکن نہیں. اس نے کہا کہ آپ لوگ ہمارے گھر میں رک سکتے ہیں میری والدہ گھر پر ہیں آپ لوگ اگر بھروسہ کر سکتے ہیں تو میرے گھر چلے چلیں. اس کا گھر اس گلی میں نکڑ پر تھا… میں نے صوفیہ سے پوچھا تو اس نے بھی کہا کہ کچھ انتظار کر کے چلے جاتے ہیں.. خیر ہم اس اجنبی لڑکے کے ساتھ اس کے گھر چل پڑے. گھر جا کر اس نے بائیک بھی اندر کھڑا کروا دیا کہ باہر سے کوئی نقصان نہ ہوہمیں اندر کمرے میں لا کراپنی والدہ کو آواز دینے لگا…. پھر کہنے لگا کہ شاید اس کی والدہ نزدیک ہی ایک گھر میں گئی ہوئی وہ ان کو بلا کر لاتا ہے اور ساتھ ہی اس نےکہا کہ آپ لوگ اپنے گھر فون کر کے بتا دو. بد قسمتی سے ہمارے فون کی کوریج نہیں تھی پھر اس نے اپنے فون سے ہی کہا کہ ملا کر بتا دو. میں نے امی کو فون پر بتایا کہ اس طرح ہم ابھی ایک گھر میں ہیں اور حالات ٹھیک ہونے پر آ جاییں گے. وہ بھی پریشان ہو گئیں امی کو بتایا کہ ایک فیملی کے ساتھ ہیں تو وہ کچھ بہتر ہوئیں. خیر اس لڑکے نے کہا کہ وہ ابھی اپنی والدہ کو بلا کر لاتا ہے اور باہر چلا گیا کمرے میں ایک بیڈ اور ایک ٹی وی تھا اس کے علاوہ کرسی اور میز اور ایک صوفے کا حصہ تھا… دیکھ کر لگ رہا تھا کہ جیسے یہاں کوئی اکیلا ہی رہتا ہے. لڑکے کو گئے ہوئے کافی دیر ہوگئی تھی اورگیٹ بھی آگے سے بند تھا… ہم نے اندر سے آواز دینے کی کوشش کی لیکن وہاں کوئی سننے والا ہوتا تو باہر سے کھولتا.. اب ہمیں تھوڑی پریشانی ہونے لگی تھی.. تھوڑی دیر میں بائک کی آواز آئی اور گیٹ کھلنے کی تو ہماری جان میں جان آئی لیکن جب اس لڑکے کے ساتھ اس کی ماں نہیں بلکہ اس کی عمر کا ایک اور مسٹنڈا تھا جس نے آتے ہی صوفیہ کو ایسے دیکھا کہ مجھے سب پتہ چل گیا کہ ہم نے کتنی بڑی غلطی کر دی ہے… اس نے صوفیہ کو دیکھتے ہی کہا کہ یار بھی مست پیس ہے. صوفیہ مارکیٹنگ میں جاب کرنے کی وجہ سے اس کا لباس وغیرہ واقعی بہت اچھا ہوتا تھا. دوپٹہ سر پر نہیں لیتی تھی لیکن اس کو دیکھ کر صوفیہ نے اپنا دوپٹہ اوڑھنے کی کوشش کی اور اس نے نہایت بازاری انداز میں صوفیہ کا دوپٹہ کھینچ کر کہا کہ ارے ابھی تو بہت کچھ دیکھنا ہے تمہارا… میں نے غصے سے اٹھ کر اس مسٹنڈے کو مارنا چاہا تو اس نے رکھ کر ایک چپیڑ مجھے ایسی لگای کہ میں کئی فٹ دور جا کر گرا.. خیر بہن کو اپنی نظروں کے سامنے تو ایسے نہیں دیکھ سکتا تھا تو میں نے دوبارہ اٹھ کر ان دونوں لڑکوں کے ساتھ لڑنے کی کوشش کی.. دوسرے لڑکے نے پتہ نہیں کہاں سے پسٹل نکال کر میری ساتھ لگایا اور اپنے ساتھی کو کہنے لگا کہ پہلے اس کوایسی لگای کہ میں کئی فٹ دور جا کر گرا.. خیر بہن کو اپنی نظروں کے سامنے تو ایسے نہیں دیکھ سکتا تھا تو میں نے دوبارہ اٹھ کر ان دونوں لڑکوں کے ساتھ لڑنے کی کوشش کی.. دوسرے لڑکے نے پتہ نہیں کہاں سے پسٹل نکال کر میری ساتھ لگایا اور اپنے ساتھی کو کہنے لگا کہ پہلے اس کو مار کر پھینک آتے ہیں… یہ سنتے ہی صوفیہ ان سے منتیں کرنے لگی اور رونے لگی کہ میرے بھائی کو کچھ نہیں کہنا… پسٹل دیکھ کر میں بھی ڈر گیا… خیر انہوں نے کہا کہ اب اگر میں نےکوی ایسی حرکت کی تو وہ مجھے گولی مار دیں گے انہوں نے مجھے کرسی پر باندھ دیا اور اب وہ صوفیہ کو کھل کر چھیڑ رہے تھے.. کبھی گشتی کبھی رنڈی کہ کر اس کے جسم کے ایک ایک حصے کو ہاتھ لگا رہے تھے جس کودیکھ کر میرا دل کر رہا تھاکہ زمین پھٹ جاے اور میں اس میں دفن ہو جاؤں…صوفیہ کا خوف کےمارے برا حال تھا دسمبر کے باوجود اس کو پسینہ آیا ہوا تھا اور اس کی قمیض پیچھے سے کمر کے ساتھ چپکی اور بغلوں سے گیلی ہو رہی تھی... وہ دونوں قمیض کے اوپر سے ہی صوفیہ کے ممے دبا رہے تھے صوفیہ اپنے ہاتھوں سے کبھی ایک کو پیچھے کرتی کبھی دوسرے کے ہاتھ. ایک دفعہ مجھے خیال آیا کہ میں ان کو کہ دوں کے مجھے کمرے سے باہر نکال دیں تا کہ میں یہ سب نہ دیکھ سکوں لیکن پھر خیال آیا کہ صوفیہ کیا سوچے گی درندوں کے سامنے چھوڑ دیا اسے. اب میں نےان دونوں کی منتیں شروع کر دی کہ ہم شریف لوگ ہیں اور ہماری عزت خراب نہ کرو… میری بہن کی عزت پر ہاتھ نہ ڈالو.. ساتھ ان کی بہن کی عزت کا واسطہ دینے لگا صوفیہ بھی ان کی منتیں کر رہی تھی.. جبکہ وہ دونوں اس طرح لگے ہوئے تھے. ہماری بار بار کی منتوں پر انہوں نے کہا کہ تم لوگوں کہ بہتری اسی میں ہے کہ چپ چاپ ہمیں کرنے دو جو کر رہے ہیں. اگر ایسے شور کیا تو عزت کے ساتھ جان بھی جائے گی تم دونوں کی اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کہاں گئے تم.. پسٹل والے مسٹنڈے جس کو دوسرا بلال کہ کر بلا رہا تھا اور وہ اسے جارج کہ کر بلا رہا تھا .شاید کرسچن تھا وہ. بلال صوفیہ کے ممے دبا رہا تھا اور ساتھ ساتھ اپنا ہاتھ صوفیہ کی شلوار میں ڈال رہا تھا.. اور منہ سے انتہائی گندی باتیں بھی کر رہا تھا. اس نے کہا کہ اگر صوفیہ کنواری ہوی تو وہ اس کے ساتھ کچھ نہیں کرے گا لیکن اگر اس کی چوت کھلی ہوئی تو پھر ہم دونوں کا بھی حق ہے. اور اس نے کہا کہ اس صورت میں میں چپ کر بیٹھوں گا اور صوفیہ کو کہنے لگا کہ اگر پہلے سے چدی ہوی ہو تو تمہیں پھر گشتیوں کی طرح پورا ننگا کر کے چودیں گے..جھے یہ سن کر اطمینان ہوا کہ صوفیہ تو کنواری ہی ہو گی بس یہ ڈر تھا کہ کہیں اس کی کنواری چوت دیکھ کر ان کی نیت خراب نہ ہو جائے. خیر بلال نے صوفیہ کو کہا کہ اپنی شلوار اتارو تمہاری چوت دیکھ کر پتہ چل جاے گا.. صوفیہ کچھ لیت و لعل سے کام لے رہی تھی کہ اس نے گرج کر کہا کہ جو کہا ہے وہ کر گشتی کی بچی… صوفیہ نے اپنی شلوار نیچے کر دی اور اس نے قمیض ہٹا کر کہا کہ نیچے کچھ اور پہنا ہوا ہے.. نیچے صوفیہ کی گوری ملائم ٹانگوں پر بلیک جالی دار پینٹیز نظر آ رہی تھی جارج نے اگے بڑھ کر اس کی پینٹی پر ہاتھ پھیر کر کہا بہن چود اس کی تو پینٹیز بھی گیلی ہو رہی ہے.. ایک ہاتھ ڈال کر اس نے ایک ہی جھٹکے میں پینٹی کو صوفیہ کے گھٹنے تک پہنچا دیا.. صوفیہ کی پینٹیز پر چوت والی جگہ پر سفید لیس دار مواد صاف نظر آ رہا تھا بلال نے اس کو بیڈ پر گرا کر اس کی پینٹی ایک ٹانگ سے ہٹا کر ٹانگیں پوری کھول دیں.. صوفیہ کی پھدی بالکل صاف تھی سواء اوپر ایک باریک بالوں کی پٹی کے.. اس نے دیکھتے ہی جارج کو کہا کہ شرط لگا لے یہ چدی ہوی ہے اس کی چوت نظر آ رہی ہے. دونوں نے کچھ دیر اس کی چوت کا معائنہ کیا اور صوفیہ سے پوچھا کہ بول رنڈی کس سے چدواتی ہے… صوفیہ نے کچھ نہیں بولا تو اس نے گالی دے کر کہا کہ بہن کی لوڑی اٹھ کر قمیض اتار.. میں نے کہا یار وہ کنواری ہے تو اب آپ چھوڑ دو اسے.. وہ دونوں ہنسنے لگے کہ بہن چود اس نے تیری سوچ سے سے بھی زیادہ لن لیے ہیں اتنی کھلی پھدی ہے ساتھ ہی اس کی ٹانگیں کھول کر ایک ساتھ تین انگلیاں ڈال دی اس کے اندر.. صوفیہ انگلیاں جانے پر کسمسا کر رہ گئی.. اس کی چوت سے کافی زیادہ سفید پانی جارج کی انگلیوں پر لگ چکا تھا. اس نے بلال کو کہا کہ یہ گشتی ابھی چدوا کر آئ ہے.. بلال نے بھی صوفیہ کی چوت میں انگلی ڈال کر معائنہ کیا اور اپنی انگلیا صوفیہ کے منہ میں ڈالتے ہوئے پوچھا کہ کس سے چدوا کر آ رہی ہے گشتی..صوفیہ نے منہ پیچھے کر لیا تو بلال نے زور سے اس کے بال پکڑ کر کہا کہ گشتی کی بچی میں نے پہلے کہا ہے کہ سب کچھ آرام سے کرنے دو.. صوفیہ نے کہا کہ آفس میں باس سے کرتی ہوں.. اس نے پوچھا کی اندر ہی فارغ کرواتی ہے لوگوں کے لوڑے مادر چود.. گولیاں استعمال کرتی ہے کیا.. صوفیہ کا اقرار میرے لیے حیران کن تھا…. صوفیہ اب تقریباً مزاحمت چھوڑ چکی تھی… بلال نے اس کی قمیض بھی اتروا دی تھی.. لیکن بلیک بریزیر ابھی تک اس نے پہنا ہوا تھا…اور وہ دونوں بریزییر سے اس کا ایک ایک مما نکال کر چوس رہے تھے…. کرسی پر بندھے ہوئے میں یہ سب دیکھ رہا تھا لیکن صوفیہ کے اقرار پر کہ وہ وہ اور لوگوں سے چدواتی ہے میرے شرمندگی کے جزبات کم ہو گئے تھے اور پتہ نہیں کیسے مجھے وہ سب دیکھتے ہوئے مزہ آ رہا تھا. لیکن مسئلہ یہ تھا کہ لن میرے ٹراؤزر میں کھڑا ہو گیا تھا اور ہاتھ بندھے ہونے کی وجہ سے میں اس کو ادھر ادھر نہیں کر سک رہا تھا… ممے چسوانے کے دوران صوفیہ کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں جس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ بھی مزے لے رہی ہے.. اب دونوں اس کو صوفے پر لے گئے اور انہوں نے اپنے کپڑے بھی اتارنے شروع کر دیے… دونو کے لن فل کھڑے تھے.. جارج کا لن آگے سے ختنہ نہیں ہوا ہوا تھا بلال کا لن کافی موٹا تھا..دونوں نے صوفیہ کے ہاتھوں میں اپنے لن پکڑا دیے.. صوفیہ دونوں کے لن کو ایکسپرٹ انداز میں ہاتھ میں ہلانے لگی.. وہ ان دونو کے درمیان بیٹھی ہوئی تھی… اس دوران انہوں نے صوفیہ کو بھی پورا ننگا کر دیا اور صوفیہ کے موٹے ممے اب ان بریزیر سے نکل کر ان دونوں کے ہاتھوں میں تھے…وہ تینوں اس طرح ایک دوسرے کو چوم چاٹ رہے تھے جیسے کمرے میں کوئی اور موجود نہیں ہو.بلال نے جارج سے کہا کہ اس سے ڈانس کرواتے ہیں… اور صوفیہ سے ہوچھا کہ ڈانس کر لیتی ہو.. صوفیہ ویسے شادی وغیرہ پر بہت اچھا ڈانس کر لیتی تھی.. اس نے کہا کہ صحیح ڈانس نہیں آتا.. تو انہوں نے کہا کہ ہم بے کونسا کسی فلم میں دکھانا ہے… جارج نے موبائل پر چھلا پوا دے ماہی گانا لگایا اور صوفیہ کو کہا کہ اس ہر ڈانس کرے.. صوفیہ نے اٹھ کر قمیض اٹھای تو بلال نے اس کی گانڈ ہر تھپڑ مار کر کہا گشتی تیرا ننگا مجرا دیکھنا ہے ہمیں چل ناچ.. صوفیہ کو لگا کہ اب احساس ہوا کہ میں بھی موجود ہوں تو وہ ڈانس کے لیے تیار نہیں ہو رہی تھی.. جارج نے اس کو کہا کہ تیرا بھائی بھی دیکھ کر مزے لے گا چل کنجری ناچ… میں نے مصنوعی جزبات بنا کر کہا کہ یا ر پلیز ایسا نہ کرواو میری بہن سے….صوفیہ ڈانس کے لیے اٹھی تو میں نے ایک بار ہھر ان لڑکوں سے کہا کہ ایسا نہ کرواو میری بہن سے. اس پر بلال نے پھر مجھے غصے سے دیکھا لیکن ساتھ ہی اس کی نظر میری ٹراوزر میں کھڑے لن پر پڑی تو وہ دوسرے کو مخاطب کر کے بولا کہ دیکھ اس بہن چود کو اپنی بہن چدتے دیکھ کرکیسے کھڑا ہے اس کا لن… اس پر صوفیہ نے بھی مڑکر دیکھا اور میں شرم سے پانی پانی ہو گیا کہ میری بہن کیا سوچے گی کہ اس کے ساتھ زنا بالجبر دیکھ کر میں گرم ہو گیا ہوں. جارج اٹھا اور آکر ایک ہی جھٹکے میں میرا ٹراوزر کھینچ کر نیچے کر دیا اور اب میرا لن سب کے سامنے کھڑا تھاجس پر تینوں ہنسنے لگے… صوفیہ اب اٹھ کر بیڈ کے سامنے خالی جگہ پر آ گئی اور ڈانس کرنے لگی… وہ ویسے بھی بہت اچھا ڈانس کرتی تھی لیکن ننگے ڈانس کا مزہ ہی کچھ اور تھا اس کے دونوں ممے بھی اچھل اچھل رہے تھے… وہ دونوں لڑکے بھی اس کے ڈانس پر خوب گندے کمنٹس جر رہے تھے اور صوفیہ شاید ان کے گندے کمنٹس پر اور جوش میں آ رہی تھی… اس کی چوت سے نکلتا پانی صاف نظر آ رہا تھا جو اس کی ٹانگوں کے ساتھ لگا ہوا تھا….. میرا بڑا دل کر رہا تھا کہ اپنا لن ہاتھ میں پکڑ کر ہلاوں لیکن ایسا کچھ نہیں کر پایا اور میرا لن اپنی بہن کے ہر ڈانس سٹیپ ہر ایک جھٹکا کھاتا اور میری لن سے پر ی کم نکل کر میرے ٹٹوں پر جا رہی تھی…. ڈانس کے دوران ہی بلال اور جارج بھی ننگے اس کے ساتھ اچھلنے لگے اور ساتھ ساتھ اس کے ممے پکڑتے اور چوت میں انگلی کرنے لگے… تھوڑی ہی دیر میں ڈانس سے اب وہ تینوں چدای کے موڈ میں آ چکے تھے… صوفیہ دونوں کے درمیان بیٹھی ان کے لن چوس رہی تھی اور ان دونوں کی ننگی گالیاں جو پہلے صرف صوفیہ کے لیے تھیں اب اس میں وہ مجھے اور امی کو بھی گالیاں دے رہے تھے.. بلکہ ہماری پیدائش کو بھی وہ اپنے کمنٹس میں کسی حرام اور زنا کا نتیجہ قرار دے رہے تھے… صوفیہ جس طرح کبھی ایک کا لن منہ میں لیتی کبھی دوسرے کا اس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ پورا لطف لے رہی ہے. جبکہ میرا لن جس طرح جھٹکے کھا رہا تھا اس سے سب میرے جزبات ویسے ہی عیاں ہو رہے تھے.جارج کےکالے لن کے اگلے حصے سے اس کی گلابی ٹوپی اب باہر نکل چکی تھی اور بلال کا لن بھی اب فل کھڑا تھا… صوفیہ نے خود ہی اٹھ کر اس کو بیڈ پر دھکا دیا اور اس کے لن پر بیٹھ گئی اور رنڈیوں کی طرح چدنے لگی بلکہ اس کے جوش سے لگ رہا تھا کہ کہ وہ اسے چود رہی ہے…جارج اب اس کے منہ میں لن دے رہا تھا اور صوفیہ بلال کے لن پف اچھل رہی تھی جب کہ دونوں کے ہاتھ اس کے مموں کو نوچ رہے تھے.. کمرے میں گالیوں اور سسکاریوں کی آواز ہی تھی اب مجھے یقین تھا کہ کسی بھی لمحے میرے لن کی برداشت ختم ہو جاے گی. بلال نے صوفیہ کو کہا کہ مادر چود رنڈی اب نیچے ہو میں بھی تجھے چودتا ہوں اور ساتھ ہی اس نے صوفیہ کو اپنے اوپر سے نیچے بیڈ پر گرایا…. جارج نے اسے کہا کہ اب اسے ڈالنے دے لیکن اس نے کہا کہ پہلے مجھے پورا کرنے دو… بلال کے لن اور صوفیہ کی چوت پر چوت کا پانی اب سفید کریم کی طرح نظر آ رہا تھا….صوفیہ کی ٹانگیں اپنے کندھے پر رکھ کر بلال نے اپنا لن میری بہن کی چوت میں اتار دیا اور زور زور سے جھٹکے دینے لگا.. صوفیہ نے اپنے ہاتھوں سے اپنی ٹانگوں کو پکڑ کر کھولا ہوا تھا اور جارج نے اپنا لن اسے منہ میں دیا ہوا تگا ساتھ ساتھ وہ اپنے ٹٹے بھی صوفیہ سے چسوا رہا تھا. تھوڑی ہی دیر میں بلال نے لن صوفیہ کی چوت میں اپنی منی خارج کرنا شروع ہو گیا.. اور چند لمحوں بعد اس نے اپنا لن نکالا اور جارج نے صوفیہ کو اپنے لن پر بٹھانے کے لیے خود بیڈ پر لیٹا اور صوفیہ ا سکے اوپر چڑھنے لگی… اس پوزیشن میں صوفیہ کی چوت سے بلال کی گاڑھی منی باہر نکل رہی نظر آ رہی تھی. اپنی سگی بہن کی چوت سے ایک غیر مرد کی منی نکلتے دیکھ کر اور پھر بلال کا منی سے لتھڑا ہوا لن صوفیہ کو چوستے دیکھ کر میرا لن بغیر ہاتھ لگاے ہی فارغ ہو گیا اور منی کا فوارہ کئی جھٹکوں کے ساتھ نکل کر میری رانوں پر گرا.. بلال کا لن صاف ہو چکا تھا اور اس نے ایک طرف لیٹ کر سگریٹ لگا لی تھی. جبکہ جارج اور صوفیہ اب فل چدای کر رہے تھے… جارج نے اسے نیچے کیا اور صوفیہ کا سر اب بلال کے لن پر تھا اور جارج اس کے اوپر چڑھ کر اس کی چوت میں لن اندر باہر کر رہا تھا.. صوفیہ کی سسکاریا ں کمرے میں گونج رہی تھیں.. بلال نے صوفیہ کے ہونٹوں کے ساتھ سگریٹ لگایا تو صوفیہ نے ایسے کش لیا جیسے وہ کوئی سموکر ہو… تھوڑی دیر میں جارج کا لن بھی میری سگی بہن صوفیہ کی چوت کی گرمی کی تاب نہ لا سکا اور اس نے جھٹکوں کے ساتھ منی صوفیہ کی پھدی میں نکال دی اور سائڈ پر ہو کر وہ بھی بیڈ پر گر گیا.. تنیوں ایک بھرپور چدای کے بعد ریلیکس ہو کر لیٹے ہوے تھے میری بہن فل ننگی دونوں کے ساتھ سگریٹ پینے میں مصروف تھی اور اس نے ان کو کہا کہ کوئی ٹشو یا کپڑا دو چوت صاف کرنے کے لیے.. جارج نے اس کی پینٹی اٹھای اور اپنا لن اس سے صاف کر کے وہی اس کو دی کے لے گشتی صاف کر لے اپنا پھدا.. اور ساتھ اس نے میری طرف دیکھا اور میرے لن کو دیکھ کر اندازہ ہو گیا اس کو کہ کیا ہو چکا ہے… ایک دفعہ پھر مجھے انتہائی گندی گالیاں سننے کو ملی کہ بہن کو چداواتے دیکھ کا گانڈو مادرچود کی مٹھ نکل گئی.. خیر اس نے میرے ہاتھ کھول دیے لیکن رانوں پر پڑی منی کی وجہ سے میں ٹراوزر اوپر نہیں کر سکتا تھا.. بلال نے صوفیہ کی پینٹی ہی پاوں سے میری طرف پھینکی اور گالی دے کر کہا یہ لے مادر چود اپنی گشتی بہن کے چوت کے کور سے تو بھی اپنا حرامی لن صاف کر لے.. میں نے پینٹی اٹھا کر اپنی ٹانگیں اور لن صاف کیا ان دونوں کی منی اور بہن کی چوت کے پانی کی وجہ سے لن صاف ہونے سے زیادہ اور چپ چپا ہو رہا تھا… خیر جیسے تیسے کر کے ٹراوزر اوپر کیا.. وہ تینوں بھی کپڑے پہن چکے تھے. صوفیہ نے پانی مانگا تو ایک نے پاس پڑی بوتل کی طرف اشارہ کیا.. صوفیہ نے پرس سے ایک گولی کا پیکٹ نکال کر گولی کھائ اور دونوں اس کو کچھ اور گندے القابات دیتے رہے. صوفیہ نے دوبارہ پرس سے برش نکال کر اپنے بال وغیرہ سیٹ کیے اور لپ اسٹک وغیر لگا کر وہ دوبارہ وہی شریف بہن بن چکی تھی .. خیر اس سب میں اس وقت تک رات کے گیارہ بج چکے تھے… پچھلے پانچ گھنٹے میں میری دنیا زیر زبر ہو چکی تھی.. اب وہ ہمیں ساتھ لےطکر نکلے اور کافی آگے تک آ کر چھوڑ گئے… میں بائک پر اپنی بہن کو لیے پتہ نہیں کس رفتار سے جا رہا تھا لیکن میرے زہن میں کئی آندھیاں چل رہی تھیں…. کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس سب کے ساتھ اب کیسے گھر جاؤں گا… صوفیہ بھی بالکل خاموش تھی..گھر سے تھوڑی دیر پہلے صوفیہ نے مجھے کہا کہ گھر میں اس پر کوئی بات کرنے کی ضرورت نہیں بالکل نارمل انداز رکھنا تا کہ کسی کو کچھ پتا نہ چلے کہ کچھ ہوا ہے… میں نے کہا کہ امی نے کچھ پوچھا تو کہنے لگی کہ امی کے سب سوالوں کو وہ ہینڈل کر لے گی… خیر گھر پہنچے تو امی کی جان میں جان آی.. صوفیہ نے امی کو بس یہی بتایا کہ ایک بوڑھی عورت کے گھر پر تھے اور جب حالات ٹھیک ہوے تو ہم آ گئے…. میں اس دن کے بعد بھی کبھی صوفیہ سے اس معاملے پر بات نہیں کر سکا.. اگرچہ میں اس سب کو یاد کر بہت دفعہ مٹھ لگا چکا تھا.. صوفیہ ویسے بھی مجھ سے بڑی تھی اس لیے اس کو کسی بات سے روکنا تو میرے لیے نا ممکن تھا… صوفیہ نے بھی کبھی اس رات کے بارے میں یا میرے ردعمل پر کوئی بات نہیں کی. وہ بدستور ایسے ہی رہی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں.. زندگی دوبارہ اپنی ڈگر پر چل پڑی لیکن اس رات کا یہ راز ہم دونوں کے سینے میں رہا.. اور اج اس بات کو پہلی بار میں نے آپ لوگوں کے سامنے بیان کیا… مجھے نہیں معلوم آپ لوگ کیا کرتے اس طرح کے حالات میں.. شاید میں بز دل تھا.. شاید مجھے کچھ اور کرنا چاہیے تھا… آپ اگر اپنی رائے دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں میرے ساتھ جو بیتنی تھی وہ بیت چکی تھی

Posted on: 01:55:AM 14-Dec-2020


1 1 688 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Thomas Bryton heard the bell ring sounding.....


3 0 56 4 0
Posted on: 05:33:AM 21-Jul-2021

Summary: MILF Mom catches nerdy son masturbating.....


0 0 51 2 0
Posted on: 05:28:AM 21-Jul-2021

I was 18 years old and had.....


0 10 33 5 0
Posted on: 05:18:AM 21-Jul-2021

The fair grounds were packed for the.....


0 0 39 1 0
Posted on: 11:16:AM 18-Jul-2021

The warm, gentle wind swept playfully through.....


0 1 67 9 0
Posted on: 11:03:AM 18-Jul-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com