Stories


موسم تھا عاشقانہ از عائلہ ملک

موسم بہت خوشگوار اور رومانٹک تھا ایسے میں کھڑکی سے نظارا کرکے اچھی طرح لطف اندوز ہونا میرے بس سے تو باھر تھا ۔ میں ٹی شرٹ کے ساتھ پاجامہ میں ہی گیراج سے اپنی ٹوسیٹر نکال کر لانگ ڈرائیو پر نکل پڑی بڑی پیاری بریز سے دل مچل أٹھا اور میں نے ہائی وے پر آتےہی کار کا چھت بھی أٹھا  دیا  غیر متوقع طور پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی ۔ مجھے انگلش سونگس اچھے لگتے ہیں مگر ایسے ظالم موسم میں جو مزہ دیسی گانوں میں ہے وہ بیان ے باھر سے ہے ۔ میں نے ڈھونڈ کرگانا  لگایا اور ساتھ ساتھ گنگناے لگی موسم ہے عاشقانہ ایسے میں اے دل ۔۔۔۔ میں ٹین ایجرز کی طرح لہک لہک کرکار سیٹ پر تھرک رہی تھی حالانکہ میری ایج ایسی حرکتوں کی اجازت نہیں دیتی لیکن موسم اتنا ظالم تھا کہ  ۔۔۔۔۔۔ ایک کپ کافی لینے کے لئے ایگزٹ لیا اور کافتیریا میں گئی تاکہ کافی لے کر پھر آن روڈ ہوجاؤں  ۔ لائن میں جاکر کھڑی ہو گئی اور کافیریا میں نظر دوڑائی  آخری ٹیبل پر ایک بہت ھینڈ سم جوان کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے پایا ۔ وہ اتنی محویت سے مجھے دیکھے جارہا تھا کہ اسے احساس ہی نہ ہوا کہ میں أس کی حرکت نوٹ کرچکی ہوں  لائن آگے بڑھی میں بھی تھوڑا آگے کھسکی  تو اس نے آس پاس دیکھتے ہوئےکافی کا کپ ہونٹوں سے لگایا اور پھر میری طرف دیکھا میں انجان سی بن گئی میری ٹرن آچکی تھی میں نے کافی اور کریم رول لیا اور ایگزٹ ڈور کی طرف بڑھتے اس جوا ن کی طرف دیکھا تو وہ اپنی  ٹیبل پے تھورا ساکھسک کے شاید میرے لئے جگہ بنا رہا تھا پھر اس نے آنکھوں کےاشارے سے  مجھے بیٹھنے کی دعوت دی میں نے مسکراتے ہوئے اشارے سےنظروں نظروں میں ہی أس کا شکریہ ادا کیا اور باھر نکل گئی ۔ میں اندر بیٹھنا نہ چاہتی تھی موسم کی پکار مجھےباھر کھینچ لائی تھی ورنہ وہ جوان لگتا تو کام کا تھا ۔ میں کار کو لے کرپھر ہائی وے پر ہولی اور دیسی گانوں سے لطف اندوز ہونے لگی ۔ کافی کو دیسی انداز سے چسکاری لے کر پیتے ہوئے مجھے کریم رول کا خیال آیا پیپر بیگ میں ہاتھ ڈال کر اسے نکالا تو اس کے نرم اور گرم پن نے  کچھ اور یاد دلا دیا اسے ہاتھ میں لےایک بائٹ کے ساتھ ہی کریم اوپر آگئی جس نے یہ ایجاد کیا ہوگا اس کی نیت تو کسی کو  کیا معلوم مگر میری  نیت اور طبیعت کافی مچل أٹھی میں نے جلدی جلدی کافی اور اس رول کو ختم کیا  اور سپیڈ بڑھا دی رول ہاتھ میں لیتے ہی میری جنسی خواہش جاگ أٹھی تھی تھوڑی دیر بعد  سپیڈ کو آہستہ کیا شام ہونے کو تھی اور مست ہوا میں میرا انگ نگ مستی مانگ رہاتھا ۔ ٹریفک بہت کم تھی بے خودی میں میرا ایک ہاتھ  میری رانوں سے ہوتا ہوا  ٹانگوں کے سنگم پر جا پہنچا وہاں کھجانا بہت اچھا محسوس ہوا اور میں بے اختیار پاجامہ کے اوپر سے ہی خود سے کھیلنے لگی ۔  شہوت نے کافی دنوں کے بعد جذبات کو برانگیختہ کیا تھا۔ میرے ہاتھ کو گیلا پن محسوس ہوا تو حیرانگی سے پہلے تو انگلیوں کو سونگھا اور ایک انگلی زبان پر رکھ کر چکھنے لگی تھی کہ اچانک احساس ہوا کہ میری کار ک ساتھ ساتھ ایک جیپ نما ٹرک بھی جارہاتھا ۔ مجھے بہت شرم آئی کہ نہ جانے کب سے میں دیکھی جا رہی تھی ۔ جب دوبارہ ادھر دیکھا تو حیران رہ گئی کافتیریا والا جوان بڑی ہوسناک نظروںسے مجھے تکے جا رہا تھا شاید اس کو میری کیفیت کا اندازہ ہو چکا تھا میں نے گاگلز لگا لئے اور کار کا روف بھی واپس سٹ کردیا ۔ وہ اپنی جیپ میری کار کے برابر رکھ  رہاتھا میں سپیڈ بڑھاتی تو وہ بھی بڑھا دیتا یوں ہی آنکھ مچولی میں ایک ایگزٹ سے میں آؤٹ ہوئی دیکھا تو وہ بھی میرا فالو کر رہاتھا میں یہی چاہتی تھی تھوڑا دور جاکر  اس نے اپنی جیپ میرے آگے لگا لی اور ایک گلی میں داخل ہوگیا اس کا خیال تھا کہ میں اس کے پیچھے آؤں گی مگرمیں اس کی طرف ایک ہوائی بوسہ  پھینکتی ہوئی آگے بڑھ گئی  مرر میں دیکھا تو حضرت کو اپنا فالوکرتے پایا سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے خود پر کچھ غرور ساآیاکہ اس عمر میں بھی کسی جوان کو اٹریکٹ کرسکتی ہوں اب میں نے سوچا چلو کچھ دل لگی ہوجائے اور خیال ہی خیال میں سیریس نہ ہونے کا خود سے عہد کرلیا اور رائٹ سائڈ کا اشارہ لگا دیا تاکہ اسے معلوم ہو کہ میں اب جانے لگی ہوں دوچار سٹریٹ کےبعد  ایک بند سٹریٹ کا سائن دیکھ کرمیں اسی میں مُڑ گئی  اور گلی کے خاتمے پر کار روک کر لائیٹس وغیرہ آف کردیں شام کا اندھیرا پھیل چکا تھا  ۔ مگر اس کی جیپ دکھائی نہ دی تو میں تھوڑا مایوس سا ہوئی کار سٹارٹ کرنے ہی لگی تھی کہ پیچھے کوئی ہیولا سا آتا ہوا دکھائی دیا نزدیک آیا تو وہی  تھا شاید جیپ گلی کے نکڑ پر چھوڑ آیا تھا میں نے بازو والا دروازہ کھول دیا وہ اندر بیٹھتے ہی  اپنا تعارف کروانے لگا ۔ میرا کیونکہ سیریس ہونے کا ارادہ نہ تھا اس لئے یوں ی اپنے بارے غلط سلط کہہ دیا  ایک غلط فون نمبر بھی لکھوا دیا تاکہ اسے اطینان ہو جائےاور اس کے بارے بھی کچھ دھیان سے نہ سنا ۔ اس نے اپنا ہاتھ میری گردن پر رکھا اور مجھ پر جھک کر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دئیے ظاھر ہے میں تھوڑا سا ہچکچائی مگر وہ بہت سویٹ کسر نکلامیں بھی ساتھ دینے لگی  اور اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑدیا اس کے ہاتھ میرے مموں سے کھیلنے گے اور میرے ہاتھ أس کی زپ کی طرف گئے کرچ سے زپ کھل گئی اس نے بٹن بھی کھول دیئے میرا ہاتھ أسکے انڈر ویر پر پھر رہا تھا اور مجھے اندازہ کرنے میں دیر نہ لگی کہ  مونسٹر ٹائپ راڈ میرے لئے تیاری پکڑ رہا ہے ۔ وہ ایک ہاتھ میں میرا مما پکڑ کے میرے نپلز  کو چوس رہا تھا اور دوسرے ہاتھ سے وہ میرا پاجامہ نیچے کھسکانے کی کوشش کرہا تھامیں تھوڑا سا اوپر ہوئی تو پاجامہ میرے گھٹنوں تک ہو گیا  میں نے اس کے انڈرویر نیچے  کیا تو مانسٹر اچھل کے باھر نکل آیا وہ مجھے اتنا پیارا لگا کہ میں نے اسے چومنے میں دیر نہ لگائی اور چومتے چومتے اسکی پری کم کو چکھا تو مزہ آگیا کیا ٹیسٹ تھا ٹینگی او سویٹ میں نے جھٹ منہ میں لے لیا اس کی انگلیاں اپنا کام بخوبی کر رہی تھیں اور میں لطف اندوزہو رہی تھی اس نے میرے منہ سے اپنا راڈ نکالوالیا اور جھک کے میری ٹانگوں میں منزل تلاش کرنے لگا سلرپ سلرپ کی آوازیں أسے زائقہ پسند آنے کی گواہ تھیں  میں آنکھیں بند کئے مزہ کی نئی دنیا دیکھ رہی تھی  میرے ہاتھ اس کے سر کے بالوں سے کھیل رہے تھےاور تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس کا سر دبا دیتے ۔ اب میری حالت پتلی ہو رہی تھی اور چاہتی تھی کہ جو کچھ نکلنا نکلوانا ہے ہوجائے اب صبر مشکل تھا میں نے اس کا سر أٹھایا  أس کے ہونٹوں پراپنا رس چوسنے لگی  پھر میں نے سیٹ کو ریلیکس موڈ پر کیا اور أس سے پوچھا کہ کوئی ربڑ ہے اس کا سر نفی میں ھلا میں نے جلدی سے ڈیش بورڈ پاکٹ سے کنڈوم نکال کے اس کے راڈ پر چڑھایا مگر وہ بہت چھوٹا نکلا ڈر تھا کہیں باھر ہی نہ آجائے میں نے دوبارہ چیک کیا ایک ایکسٹرا لازج مل گیا اسے پہنایا تو وہ فٹ تھا میں نےاب ریلیکسنگ سیٹ پر اس کو بٹھایا اور خود اسکے اوپر بیٹھ کر عذاب جان کو آہستہ آستہ اپنے اندر اترنے لگی ۔ ایک دو ٹرائی میں میں اسے پورا لے چکی تھی صرف اسکی ٹوپی تھوڑا مشکل لگیکہ کافی موٹی اور جاندارتھی باقی کا مرحلہ میں نے سانس روک کر اک ہی جھٹکےمیں طے کر لیا تھا اس کی طرف دیکھا تو اپنے لئے ستائش أسکی آنکھوں میں نظر آئی میں نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے وہ چو سنے لگا اسکے ہاتھ میرے مموں کی گولائیا ں ناپنےمیں مشغول رھے میں نے ھولے ھولے اوپر نیجے ہونا شروع کیا میں بڑے سلو موشن میں اس کی ٹوپی تک اوپر اٹھتی اور پھر کبھی بڑے آرام سے اور کبھی یکدم اس پر بیٹھ کر جڑھ تک نگل لیتی میں بڑالطف اندوز ہو رہی تھی اور چاہتی تھی وہ بھی مزہ لے وہ اب میرے کولہے پکڑ کرمیری حرکات کی رہنمائی بھی کرتا اس کی نشیلی آنکھوں میں کمال کی کشش تھی کہ ان میں دیکھنا اپنے آپ کو گم کرنے کے مترادف تھا  ان میں ہوس کے ساتھ پیار بھی جھلکتا تھا میں جھڑ چکی تھی اور اسے بولا کہ اب اس کی باری ہے ہم نے پوزیشن تبدیل کی میں اسکی جگہ لیٹ گئی اور وہ میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا اس نے میری رانوں کو اکڑوں کیااور اپنے ہونٹ صراحی سے لگا کر رس چوسنے لگا اس کے ہاتھ میرے مموں کو دبا رہے تھے میرے منہ سےجنسی سسکییوں نےماحول اور سیکسی بنا دیا وہ صراحی کو کبھی چومتا کبھی انگلی ڈال کر گہرائی چیک کرتا اب میں اور برداشت نہ کرپائی اور اسے بالوں سے پکڑ کراپنے اوپر کھینچ لیا اس کا بھرا ہوا پاائپ صراحی کے منہ کے ساتھ آن گا تو میں نے پکڑ کر اندرلے لیا اب س نے میری ٹانگیں اپنے شانوں پر رکھ لیں مگر کار کے اندرچھت کی وجہ میں نے اپنی کمر پر جکڑ لیں اور اب دھکہ پہ دھکا لگانے لگا اس کا  ہر دھکا چیرتا ہوا جاتا اورپھر جلدی سے لوٹ آتا اس کے پآئپ کی لمبائی اور چوڑائی نے مزہ دوبلا کردیا اس کا سٹیمنہ بھی حیران کن تھا ابھی تک وہ سٹروک پر سٹروک کھیل رہا تھا اور اس کے آؤٹ ہونے کے دور دور تک آثار نہ تھے یہ سچ تو ہے کہ میں کوئی ستی ساوتری نہیں ہوں مگر چالیس کے پیٹے میں ایک پچیس تیس سال کے جوان نے مجھے لطف کی ایک نئی منزل دکھائی تھی  جو نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد سر کرسکی ۔ اسنے اپنے ہونٹ میرے ہونٹ میں دے دیئےاور میں أنہیں چوسنے لگی اس کے دھکے تیز سے تیز ہوتے گئے اورآ خر کار ایک بھاری سیکسی آہاا ہا کے ساتھ اس کے پائپ نے اپنا پانی چھوڑ دیا اتنا کہ کیاری بھرنے بعد باھرسیٹ تک جل تھل ہوگئی ۔ تھوڑی دیر بعد ہم نے خود کو سنبھالا اس نے ایک بھر پور کس کی اور انڈر ویر اوپر کرنے لگا میں نے أسے روکا اور کریم جیسے رول کو ہاتھ میں لے کر اسے چوما اس پر  میری اور اسکی اپنی کریم تھی اسےچاٹ  لیا پھرکنڈوم اتار کر  منہ میں لے کر آخری بو سہ لیا اس نے میرے چہرے کو ہاتھوں میں لے کے میرا ماتھا رخسار ہو نٹ چومےاور کار سے نکل کر پینٹ کی زپ بندکی اور آئندہ ملنے کا وعدہ کرکے چلدیا ۔ میں اب ڈبل مائنڈڈ تھی کیونکہ نہ تو اسکے بار ے کچھ یادتھا نہ اسے صیح معلومات دی تھیں ۔ دل چاہتا تھا کہ اسے بلا کر اپناصحیح ٹیلیفون نمبر ہی دے دوں مگر دماغ کہتا کہ چھوڑ اس جیسے کئی ملیں گے ۔ دیکھا تو کوئی آرہا تھا قریب پہنچا تو وہی نکلا اس نے میرا ہاتھ جو کہ ونڈو سے باھر تھا بوسہ لیا میں نےآگے ہو کر اسے گال ماتھا آنکھیں اور ہونٹ چوم لئے وہ تھوڑا ہٹ کر بولا میں تمہیں ہرحالت میں ملتا رہنا چاہتا ہوں اس کی اواز بھرائی ہوئی تھی اور آنکھیں بھرآئی تھیں میں تڑپ کر کار  سے باھر نکلی اور اس کے سینہ کے ساتھ لگ گئی  جانےگتنے پل بے سُدھ ہوکر ہم پر قربان ہوگئے نزدیکی گھرکے بیرونی دروزے کی لائٹ آن ہونے نے ہمیں واپس رئیل دنیا میں آ پھینکا میں نے جلدی سے أسے کار کے اندر کیا اور ریورس گئیر لگا کر گلی کی شروعات تک لے آئی جہاں اسکی جیپ پارک تھی وہ جلدی سےاپنی جیپ کی طرف بڑھا اور واپس آکراپنا وزٹنگ کارڈ دے کر بن کُچھ بولے چلا گیا میں اسکے کارڈ کو دیکھتی رہی اور وہ جیپ سٹارٹ کر رخصت ہوگیا ۔ اب میرے پاس کوئی بہانہ نہیں کہ میں اپنے دمغی سوچ کی مانوں اور اس کو نہ ملوں مگر میرا دل یہی چاہتا ہے جس دن موسم پھر ایسا دغا باز ہوا تو اس کے چرنوں میں جا گروں گی نوٹ  لکھنا آتا نہیں آپ لوگوں کی رائے رائٹر کی جج ہے ۔ اگر مختصر سٹوری  پسند آتی ہے تو رائے  دے کر حوصلہ افزئی کریں کوشش ہوگی کہ اس سے اچھی کہانی لکھ سکوں مگر اس کے لئے آپ لوگوں کی حوصلہ افزائی کچھ لکھنے کا سبب بنے گی  شکریہ

Posted on: 04:17:AM 14-Dec-2020


0 0 202 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Thomas Bryton heard the bell ring sounding.....


3 0 57 4 0
Posted on: 05:33:AM 21-Jul-2021

Summary: MILF Mom catches nerdy son masturbating.....


0 0 51 2 0
Posted on: 05:28:AM 21-Jul-2021

I was 18 years old and had.....


0 10 33 5 0
Posted on: 05:18:AM 21-Jul-2021

The fair grounds were packed for the.....


0 0 39 1 0
Posted on: 11:16:AM 18-Jul-2021

The warm, gentle wind swept playfully through.....


0 1 67 9 0
Posted on: 11:03:AM 18-Jul-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com