Stories


چھوٹی بہن کی چدائی از ندیم پی کے۔ریپ سیکس

دوستو کچھ سال قبل میں نے کچھ کہانیاں لکھی تھیں لیکن بعد ازاں دانے پانی کے چکر میں ایسا مصروف ہوا کہ کچھ لکھ نہیں پایا۔۔۔
اسی سلسلے کی ایک کہانی سلسلہ وار پیش کرنا چاہ رہا ہوں۔۔۔ کہانی مکمل موجود ہے لہِذا ادھوری چھوڑنے کا کوئی چانس نہیں اگر آپ کو پسند آئی تو پیش کرتا رہوں گا۔
ندیم اور اس کی بیوی نجمہ ان دنوں لاہور میں تھے اور خوب مزے کر رہے تھے۔ انہی دنوں ندیم کے گاؤں میں تعلیم کا معیار کچھ بہتر نہ ہونے کے باعث اس کے والدین نے اس کی چھوٹی بہن سیمی کو پڑھائی کے لیے اس کے پاس لاہور بھیج دیا جو ان کے ساتھ ان کے گھر رہنے لگی۔ ندیم نے سیمی کو ایک اچھے پرائیویٹ سکول میں داخل کروا دیا تھا۔

سیمی بے حد حسین و جمیل تھی لیکن چونکہ ابھی کمسن تھی اور شباب کی دہلیز پر قدم رکھ ہی رہی تھی لہٰذا لڑکپن نے اس کے حسن کو نکھار دیا تھا۔ اس کے مموں نے ابھی سر ابھارنا شروع ہی کیا تھا جن کا ابھار اس معصوم کی قمیضوں اور کرتوں میں سے صاف دکھائی دینے لگا تھا۔ اس کے اسکول کے یونیفارم کی پتلی سی قمیض شلوار میں سے جھانکتا اس کا گورا بدن ندیم کو دیوانہ بنا دیتا تھا۔ سیمی تھی بھی بڑی شوخ و چنچل اور ہر لمحہ ہنسنے مسکرانے والی۔ ندیم بھی اس کی انہی اداؤں پر مر مٹا تھا لیکن جانتا تھا کہ اپنی ہی سگی چھوٹی کنواری بہن کو چودنے کی خواہش درست نہیں لیکن مجبور تھا کہ سیمی کے مدھر لڑکپن نے اسے دیوانہ بنا رکھا تھا۔ جب سے وہ ان کے ہاں رہنے آئی تھی ندیم اس کچی کلی کی جوانی کا رس پینے کو بے تاب تھا مگر درست موقع نہ ملنے پر پریشان تھا۔
لیکن اب دو ماہ گزرنے پر اسے ایسا لگنے لگا تھا کہ وہ خود پر زیادہ دن قابو نہیں رکھ پائے گا اور تبھی اس نے فیصلہ کیا کہ خواہ زور زبردستی ہی کیوں نہ کرنی پڑے لیکن سیمی کو ضرور چودے گا۔
ایک بات اور تھی کہ وہ اپنی بیوی نجمہ سے یہ کہتے ہوئے بھی شرماتا تھا کہ وہ ہماری نوکرانی صدف کی طرح میری اپنی سگی چھوٹی بہن کو بھی مجھ سے چدوانے میں مدد کرے اور نجمہ سے چھپ کر چدائی کرنے کو اس کا دل نہیں مانتا تھا کہ اگر نجمہ کو بعد میں معلوم ہو گیا تو نجانے وہ غصے میں کیا قیامت برپا کر دے۔ ندیم تو نجمہ کا دیوانہ تھا وہ اس کی ناراضگی بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔

یہ بات تو اسے بعد میں معلوم ہوئی کہ اس کی بیوی اس کی اس خواہش کو شروع سے جان چکی تھی۔ سیمی کو گھورتے ہوئے ندیم کی آنکھوں سے جھلکتی ہوس کی چنگاریاں نجمہ کی نظروں سے کیسے پوشیدہ رہ سکتی تھیں۔
دراصل سچ تو یہ تھا کہ نجمہ خود اتنی گرم تھی کہ ندیم ہر رات چود کر بھی وہ اس کو ٹھیک سے ٹھنڈی نہیں کر پاتا تھا۔ دوپہر کو وہ بے چین ہو جاتی تھی اور انگشت زنی کر کے اپنی آگ ٹھنڈی کرتی تھی۔ اس نے اپنے اسکول کے دنوں میں اپنی کچھ خاص سہیلیوں کے ساتھ جنسی تعلقات بنا لیے تھا اور اسے ان لیزبین تعلقات میں بڑا مزہ آتا تھا۔ اپنی امی کی عمر کی اسکول پرنسپل کے ساتھ تو اس کے بہت گہرے جنسی تعلقات استوار ہو گئے تھے۔ ہاں، شادی کے بعد وہ اور کسی مرد سے تعلق نہیں رکھنا چاہتی تھی کیونکہ ندیم کی جوانی اور مضبوط لنڈ اسے مردانہ چدائی کے مزے دینے کے لیے کافی تھا۔ اسے بھوک تھی تو لیزبین تعلقات کی۔ ویسے تو اسے اپنی ساس یعنی ندیم کی امی بھی بہت اچھی لگی تھیں۔ وہ اسے اپنی اسکول پرنسپل جیسی ہی دکھتی تھیں پر ساس کے ساتھ کچھ کرنے کی خواہش اس کے من میں ہی دبی رہ گئی۔ موقع بھی نہیں ملا کیونکہ ندیم شہر میں رہتا تھا اور اس کے والدین گاؤں میں۔ اب اس کی خواہش یہی تھی کہ کوئی اس کے جیسی چداسی لڑکی، چھوٹی یا بڑی، صرف سیکس کے لیے مل جائے تو مزہ آ جائے۔

پچھلے دو ماہ میں وہ خود بھی سیمی کی کچی جوانی کی جانب بہت مائل ہونے لگی تھی۔ سیمی اسے اپنے بچپن کی پیاری سہیلی سلمی کی یاد دلاتی تھی۔ اب نجمہ موقع ڈھونڈ رہی تھی کہ کیسے سیمی کو اپنے چنگل میں پھنسایا جائے۔ ندیم کی آنکھوں سے اس کے دل کا حال جاننے پر اسے لگا کہ اس کا یہ کام تھوڑا آسان ہو گیا ہے۔

ایک دن جب نجمہ نے ندیم کو اسکول کے ڈریس کو ٹھیک کرتی سیمی کو ہوس بھری نظروں سے گھورتے دیکھا تو سیمی کے اسکول جانے کے بعد ندیم کو طعنہ مارتے ہوئے بول پڑی: "کیوں جی، مجھ سے جی بھر گیا ہے کیا جو اب اس کچی کلی کو گھورتے رہتے ہو۔۔۔ اور وہ بھی اپنی ہی سگی چھوٹی کمسن بہن کو؟"
ندیم کے چہرے پر تو ہوائیاں اڑنے لگیں کہ وہ آخر کار پکڑا گیا۔ وہ کچھ بھی نہ بول پایا۔ اسے ایک دو کڑوے کسیلے طعنے اور مارکر نجمہ سے نہ رہا گیا اور اپنے شوہر کا چما لیتے ہوئے وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی اور جب اس نے ندیم سے کہا کہ وہ بھی اس گڑیا کی دیوانی ہے تو ندیم خوشی سے اچھل پڑا۔
نجمہ نے ندیم سے کہا کہ دوپہر کو اپنی آگ ٹھنڈی کرنے میں اسے بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ "تم تو کام پر چلے جاتے ہو اور ادھر میں مٹھ مار مار کر پریشان ہو جاتی ہوں اس چوت کی آگ ہے کہ ٹھنڈی ہی نہیں ہوتی۔ تم ہی بتاؤ میں کیا کروں۔" پھر اس نے اپنے بچپن کی ساری لیزبین رام کہانی ندیم کو سنا دی۔
ندیم اسے چومتے ہوئے بولا: "پر میری جان، دو بار ہر رات تجھے چودتا ہوں، تیری گانڈ بھی مارتا ہوں، چوت چاٹتا چوستا ہوں اور میں کیا کروں؟"
نجمہ اسے دلاسا دیتے ہوئے بولی: "تم تو لاکھوں میں ایک جوان ہو میرے راجا۔ اتنا مست لنڈ تو قسمت سے ملتا ہے۔ پر میں ہی زیادہ گرم ہوں۔۔۔ ہر وقت چدائی کروانا چاہتی ہوں۔۔۔ دل کرتا ہے کسی لڑکی سے اپنی چوت چسواؤں۔ تم رات کو خوب چوستے ہو اور مجھے بہت مزہ آتا ہے پر کسی لڑکی سے چسوانے کی بات ہی اور ہے۔ اور مجھے بھی کسی کی پیاری رسیلی چوت چاٹنے کا دل کرتا ہے۔ سیمی پر میری نظر بہت دنوں سے ہے۔ کیا رسیلی لڑکی ہے، دوپہر کو میری یہ ننھی نند میری بانہوں میں آ جائے تو میرے تو نصیب ہی کھل جائیں۔"
نجمہ نے ندیم سے کہا کہ وہ سیمی پر چڑھنے میں ندیم کی مدد کرے گی پر اسی شرط پر کہ پھر دوپہر کو وہ سیمی کے ساتھ جو چاہے کرے اور ندیم کچھ نہیں کہے گا۔ روزانہ دن میں وہ خود سیمی کو جیسے چاہے چودے گی اور رات میں ہم دونوں میاں بیوی مل کر اس بچی کے کمسن بدن کا من چاہا لطف لیں گے۔

اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔۔۔ ندیم فوراً ہی مان گیا۔ نجمہ اور سیمی کے آپس میں سیکس کی سوچ سے ہی اس کا لنڈ کھڑا ہونے لگا۔

وہ دونوں سوچنے لگے کہ کیسے سیمی کو پٹایا اور چودا جائے۔
ندیم نے کہا کہ دھیرے دھیرے پیار سے اسے بہلا پھسلا کر منایا جائے۔
نجمہ نے کہا کہ اس میں یہ خطرہ ہے کہ اگر نہیں مانی تو امی کو بتا کر سارا بھانڈا پھوڑ دے گی۔ ایک بار سیمی چد جائے تو پھر اس کے بعد کچھ نہیں کر پائے گی۔ چاہے یہ زبردستی ہی کرنا پڑے۔

پھر نجمہ نے پلان پیش کیا کہ کل وہ سیمی کو اسکول نہیں جانے دے گی۔ آفس جانے سے پہلے وہ سیمی کو کسی بہانے سے اپنے بیڈروم میں بھیج دے گی اور خود دو گھنٹے کے لیے کام کا بہانہ کر کے گھر سے باہر چلی جائے گی۔ سیمی بیڈروم میں چدائی کی تصویروں کی کتاب دیکھ کر اسے ضرور پڑھے گی۔ اسی اثنا میں جب وہ ننگی تصویریں دیکھ رہی ہو گی، ندیم اوپر سے اچانک پہنچ جائے گا اور اسے پکڑ کر اسے ڈانٹنے کے بہانے سے اسے دبوچ لے گا اور پھر دے گھچا گھچ چود ڈالے گا۔ جی بھر کے اس خوبصورت لڑکی کو ٹھوکنے کے بعد وہ آفس نکل جائے گا اور پھر نجمہ آ کر روتی بلکتی سیمی کو سنبھالنے کے بہانے خود اسے دوپہر بھر چودے گی اور آئندہ کے لیے تیار کرے گی۔
اور پھر ندیم کے آفس سے واپس آنے پر اس رات تو جیسے چدائی کا دریا ہی بہہ پڑے گا۔ پھر اس کے بعد تو دن رات اس دوشیزہ کی چدائی ہوتی رہے گی۔ صرف صبح اسکول جانے کے وقت اسے آرام دیا جائے گا۔ باقی وقت دن بھر چودم چدائی ہو گی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ شروع میں بھلے سیمی روئے دھوئے لیکن جلد ہی اسے بھی اپنے خوبصورت بھیا بھابھی کے ساتھ مزا آنے لگے گا اور پھر وہ خود ہر وقت چدوانے کو تیار رہے گی۔

ندیم کو بھی یہ پلان پسند آیا۔
وہ رات بڑی مشکل سے کٹی کیونکہ نجمہ نے اسے اس رات چودنے نہیں دیا اس کے لنڈ کا زور تیز کرنے کو جان بوجھ کر اسے پیاسا رکھا۔

سیمی کو دیکھ دیکھ کر ندیم یہی سوچ رہا تھا کی کل جب یہ بچی بانہوں میں ہو گی تب وہ کیا کرے گا۔
اگلی صبح ندیم نہا دھو کر تیار تو ہوا لیکن آفس فون کر کے بتا دیا کہ آج وہ لیٹ آئے گا۔
نجمہ نے پلان کے مطابق آج جان بوجھ کر سیمی کو نیند سے ہی نہیں جگایا اور اس کے اسکول کا ٹائم مس ہو جانے پر اسے کہا کہ آج اسکول سے بنک مار لے۔ سیمی تو خوشی خوشی مان گئی۔ ندیم نے چدائی کی ننگی تصویروں والی ایک کتاب اپنے بیڈروم میں تکیے کے نیچے رکھ دی اور خود باہر جا کر اخبار پڑھنے لگا۔
نجمہ نے سیمی سے کہا: سیمی بیٹا تم اندر جا کر ذرا بیڈروم تو ٹھیک کر دو کیونکہ میں باہر جا رہی ہوں اور دوپہر تک واپسی ہو گی۔
سیمی "جی اچھا بھابھی" کہہ کر اندر چلی گئی۔۔۔
نجمہ نے ندیم سے سرگوشی میں کہا: "ڈارلنگ، جاؤ، مزے لوٹو اپنی چھوٹی بہن کے معصوم بدن کا۔ اور ہاں، سیمی آج جتنا بھی روئے چلّائے تم بالکل اس کی پروا نہیں کرنا۔۔۔ ہماری کالونی ابھی نئی بنی ہے تو ہمارے گھر کے ارد گرد کے پلاٹس ویسے بھی خالی ہیں اس لیے اس بچی کی چیخیں باہر چلی بھی گئیں تو کوئی سننے والا نہیں۔۔۔ میں دروازہ باہر سے لاک کر کے جاؤں گی۔۔۔ لیکن پلیز پلیز پلیز ابھی اپنی بہن کی صرف چوت چودنا۔۔۔ گانڈ مت مارنا۔ اس کی گانڈ بہت ہی کومل اور تنگ ہو گی۔۔۔ اس لیے جب تمہارا اتنا موٹا اور لمبا لوڑا اس بے چاری کی گانڈ میں گھسے گا تو وہ بہت روئے گی اور بے انتہا چیخے گی۔ میں بھی اس کی گانڈ پھٹتی دیکھنے کا مزا لینے کے لیے اور اسے سنبھالنے کے لیے ساتھ موجود رہنا چاہتی ہوں۔ اس لیے اس کی گانڈ ہم دونوں مل کر رات کو ماریں گے۔ "
یہ کہہ کر نجمہ ندیم کو آنکھ ماری اور دروازہ بند کر کے گھر سے باہر نکل گئی۔

پانچ منٹ یونہی گزار کر ندیم نے چپکے چپکے جا کر چھپ کر بیڈ روم کے دروازے سے دیکھا تو پلان کے مطابق سیمی تکیے کے نیچے وہ کتاب ملنے پر برداشت نہیں کر پائی تھی اور بیڈ پر بیٹھ کر وہ اسی کتاب میں تصویریں ہی دیکھ رہی تھی۔ لڑکوں اور لڑکیوں کی چدائی کی ننگی تصویریں کو دیکھ دیکھ کر وہ معصوم بچی اپنی پتلی پتلی نازک سی ٹانگیں آپس میں رگڑ رہی تھی اور اپنے ایک سے ہاتھ سے شلوار کے اوپر سے ہی وہ اپنی چوت کو سہلا رہی تھی۔ وہ تصویریں دیکھ کر اس کا چہرہ گلابی سے سرخ ہو گیا تھا۔
موقع دیکھ کر ندیم آہستگی سے بیڈروم میں داخل ہو گیا اور سیمی سے بولا: "دیکھوں تو سہی، میری پیاری بہنا کیا پڑھ رہی ہے؟"
سیمی گھبرا گئی اور کتاب چھپانے لگی۔
ندیم نے اس کے ہاتھ سے چھین کر دیکھا تو فوٹو میں ایک عورت کو تین تین جوان مرد چوت گانڈ اور منہ میں چودتے دکھے۔
ندیم نے سیمی کے منہ پر ایک کرارا طمانچہ رسید کیا اور چلّایا "تو تو آج کل ایسے کتابیں پڑھتی ہے بےشرم لڑکی۔ تو بھی ایسے ہی مروانا چاہتی ہے؟ تیری ہمّت کیسے ہوئی یہ کتاب دیکھنے کی؟ دیکھ آج تیرا کیا حال کرتا ہوں۔"
سیمی اپنے گال پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی اور بولی: بھائی، اللہ کی قسم، میں نے پہلی بار یہ کتاب دیکھی ہے اور وہ بھی اس لیے کہ اسے وہ تکیے کے نیچے پڑی ملی تھی"۔
ندیم ایک نہ مانا بولا: بکواس مت کرو، اگر تکیے کے نیچے ملی تو وہیں کیوں نہ چھوڑ دی؟ اپنی چوت سہلاتے ہوئے خود کیوں دیکھ کر مزے لے رہی تھیں؟"
سیمی کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا اور یوں بھی اپنے بڑے بھائی کے منہ سے "چوت" کا لفظ پہلی بار سن کر حیرت اور شرم کے مارے وہ گنگ سی ہو گئی تھی۔
ندیم نے جا کر بیڈروم کا دروازہ بند کیا اور واپس سیمی کی جانب بڑھا۔ اس کی آنکھوں میں ہوس اور درندگی کی جھلک دیکھ کر سیمی گھبرا کر کمرے میں روتی ہوئی ادھر ادھر بھاگنے لگی لیکن ایک تو کمرہ تھا ہی کتنا بڑا اور پھر کہاں وہ پانچ فٹ کی دھان پان سی 40 کلو سے بھی کم کی بچی اور کہاں سوا چھ فٹ کا سانڈ جیسا ندیم۔۔۔ اس نے اسے پکڑنے میں ایک منٹ نہ لگایا اور اسے یوں دبوچ لیا جیسے باز چڑیا کے بچے کو اپنے پنجوں میں دبوچتا ہے اور لا کر واپس اسے بیڈ پر پٹخ دیا۔

اب ندیم نے اس کے کپڑے اتارنا شروع کیے۔ سیمی روتے ہوئے اپنے بھائی کی منتیں کر رہی تھی "بھائی، مجھے معاف کر دیں۔۔۔ میں آئندہ کبھی نہیں دیکھوں گی ایسا کچھ۔۔۔ میں آپ کی چھوٹی بہن ہوں یہ آپ کیا کر رہے ہیں بھائی؟ میرے کپڑے کیوں اتار رہے ہیں بھائی نہ کریں میں ہاتھ جوڑتی ہوں پلیز بھائی پلیز۔۔۔"
لیکن ندیم کہاں سن رہا تھا اپنی بہن کی منتیں اور واسطے۔۔۔ اس نے اپنی بہن کی شلوار اتارنے کے لیے ازاربند کھولنا چاہا تو اسے پتا چلا کہ سیمی کی شلوار میں ازاربند کی بجائے الاسٹک ہے جو اس کا کام مزید آسان بنا رہا تھا۔۔۔ ندیم نے کھینچ کر اس کی شلوار اتار دی۔ سیمی ہچکیوں کے ساتھ رو تو پہلے ہی رہی تھی اب وہ بے چاری خوف سے پتے کی طرح کانپنے بھی لگی۔
پھر ندیم نے سیمی کی قمیض کے گریبان کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور ایک ہی جھٹکے میں اس بچی کی قمیض گریبان سے دامن تک چرررر کی آواز سے پھٹتی چلی گئی۔۔۔ ندیم نے اپنی بہن کی پھٹی ہوئی قمیض کو اس کے بازوؤں سے نکال کر اس کے  بدن سے الگ کر دیا۔
اب سیمی کے چکنے گورے بدن پر صرف ایک چھوٹی سی سفید سپورٹ برا اور ایک پینٹی بچی۔ وہ معصوم ابھی دو ماہ پہلے ہی تو اپنی بھابھی کے کہنے پر 28 بی سائز کا بریزیئر پہننے لگی تھی۔

اپنی بہن کے نیم برہنہ کومل کمسن بدن کو دیکھ کر ندیم کا لنڈ اب بری طرح تن کر کھڑا ہو گیا تھا۔ اس نے بہن کو چھوڑا اور اپنا ٹراؤزر اور شرٹ بھی دو سیکنڈز میں اتار دیے اور مکمل ننگا ہو گیا۔۔۔ انڈرویئر تو ندیم گھر میں پہنتا ہی نہیں تھا۔
ندیم کے مست موٹے تازے کھڑے لنڈ کو دیکھ کر سیمی کے چہرے پر دو احساسات ایک ساتھ امڈ پڑے۔ ایک گھبراہٹ اور خوف کا اور دوسرا ہوس کا۔
آخر تھی تو وہ بھی ایک جوانی ہوتی لڑکی ہی اور پھر ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو اس نے چدائی کی اتنی ننگی تصویریں دیکھی تھیں۔ پھر وہ گاؤں میں اپنی سہیلیوں سے بھی ایسی باتیں اکثر سنتی اور کبھی کبھار ان کے موبائل فونز پر ننگی تصاویر اور چدائی کی ویڈیوز بھی دیکھتی تھی اور پھر ان میں موجود مست لڑکوں کے لوڑے یاد کر کے رات کو انگشت زنی بھی کرتی تھی۔
جب سے وہ لاہور بھائی کے گھر آئی تھی اکثر اپنے بھائی کے ٹراؤزر کا ابھار دیکھتی تھی جسے دیکھ کر بار بار اس کے دماغ میں آتا تھا کہ اس کے ہینڈسم بھیا کا لوڑا کیسا ہو گا۔ آج سچ میں اس مست لوڑے کو دیکھ کر اسے ڈر کے ساتھ ایک عجیب گدگدی بھی ہوئی۔

اسی اثنا میں اس کے کانوں میں اپنے بھائی کی آواز پڑی۔۔۔
"چل میری نٹ کھٹ بہنا، ننگی ہو جا اور اپنی سزا بھگتنے کو آ جا۔۔۔"
یہ کہتے ہوئے ندیم نے زبردستی کھینچ کر سیمی کی برا اور پینٹی بھی اتار دیے۔ سیمی اپنا آپ چھڑوانے کو ہاتھ پیر ہی مارتی رہ گئی پر ندیم کی طاقت کے سامنے اس معصوم کی ایک نہ چلی۔ اب وہ مادر زاد ننگی اپنے بھائی کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔ اس نے اپنے دونوں بازو اپنی چھوٹی چھوٹی چھاتیوں پر رکھے ہوئے تھے اور رانیں آپس میں جوڑ کر چوت کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔۔۔ اس کمسن کا گورا، نازک اور چکنا بدن اپنی پوری آن بان کے ساتھ ندیم کے سامنے تھا اور اس پر قیامتیں ڈھا رہا تھا۔

ندیم نے تھوڑا سا زور لگا کر سیمی کے بازو اس کے سینے سے الگ کیے اور اسے اپنی بانہوں میں بھر کر اپنی جانب کھینچا اور پھر اپنے دونوں ہاتھوں میں سیمی کے ملائم ننھے ننھے سے پستان پکڑ کر سہلانے لگا۔ وہ چاہتا تو نہیں تھا پر اس سے نہ رہا گیا اور انھیں زور سے دبانے لگا۔ وہ درد سے کراہ اٹھی اور روتے ہوئے بولی "بھیا، درد ہوتا ہے، اتنی زور سے مت مسلیں میری چوچیوں کو"۔

ندیم تو ہوس سے پاگل تھا۔ سیمی کا رونا، سسکنا اور اس کے منہ سے "چوچیوں" کا لفظ اسے مزید پرجوش کرنے لگا۔ اس نے اپنا منہ کھول کر سیمی کے کومل رسیلے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں دبا لیے اور انھیں چوستے ہوئے اپنی بہن کے میٹھے منہ کا رس پینے لگا۔ ساتھ ہی اس نے اپنی بہن کو دھکیلتے ہوئے بیڈ پر لٹا دیا اور اسے پٹخ کر اس پر چڑھ بیٹھا۔
جھک کر اس نے سیمی کے گورے پستان کے براؤن نپل کو منہ میں لے لیا اور چوسنے لگا۔
اس کے دونوں ہاتھ لگاتار اپنی بہن کے بدن پر گھوم رہے تھے۔ اس کا ہر انگ اس نے خوب ٹٹولا۔ جی بھر کر ملائم میٹھی چوچیوں کو باری باری چوسنے کے بعد وہ بولا: "بولو سیمی بیٹا، پہلے چوت چدواؤ گی یا سیدھے گانڈ مرواؤ گی؟"
آٹھ انچ کا تنا ہوا موٹی ککڑی جیسا جھٹکے مارتا لنڈ دیکھ کر سیمی گھبرا گئی اور بلکتے ہوئے اپنے بڑے بھائی سے منّتیں کرنے لگی، "بھیا، یہ لنڈ میری نازک چوت پھاڑ ڈالے گا، میں مر جاؤں گی، مت چودو مجھے پلیز۔ آپ جو کہتے ہیں میں کرنے کو تیار ہوں۔۔۔ میں آپ کی مٹھ مار دیتی ہوں۔"

ندیم کو اپنی نازک دوشیزہ بہن پر آخر ترس آ گیا۔ اتنا تو اب یقینی تھا کہ سیمی چھوٹ کر بھاگنے کی کوشش اب نہیں کر رہی تھی اور شاید چدوانے کو دل ہی دل میں تیار بھی تھی لیکن خوفزدہ تھی۔
اسے پیار سے چومتا ہوا ندیم بولا: "بیٹا، اتنی مست کچی کلی کو تو میں نہیں چھوڑنے والا اور وہ بھی میری پیاری ننھی سی بہنا! چودوں گا بھی اور گانڈ بھی ماروں گا۔ پر چل، پہلے تیری پیاری رسیلی چوت کو چوس لوں جی بھر کر تا کہ تو بھی گرم ہو جائے اور تجھے زیادہ تکلیف نہ ہو، یوں بھی میں تو کب سے اس چوت کا رس پینے کو مرا جا رہا ہوں۔"

پھر ندیم نے سیمی کی گوری گوری چکنی رانوں کو اپنے ہاتھوں سے پھیلا دیا اور جھک کر اپنا منہ بچی کی لال لال کومل گلاب کی کلی جیسی چوت پر جما کر اسے چاٹنے اور چوسنے لگا۔ اپنی زبان سے وہ اس مست چوت کی لکیر کو چاٹنے لگا۔

سیمی کی گوری بچکانہ سی چوت پر ابھی تک بس ذرا سے ریشم جیسے کومل بالوں کے روئیں اگے تھے ورنہ باقی تو اس بچی کی چوت ایکدم صاف تھی۔ اس کی چوت کو انگلیوں سے پھیلا کر بیچ کی لال لال لکیر کو ندیم چاٹنے لگا۔ چاٹنے کے ساتھ ندیم اس کی چکنی ابھری ہوئی چوت کی چمیاں بھی لیتا جاتا۔
دھیرے دھیرے سیمی کا رونا سسکنے میں تبدیل ہوا اور پھر سسکیوں کی جگہ لطف بھری آہوں نے لے لی۔ اس کی چوت پسیجنے لگی اور ایک عجیب سکھ بھری مسحور کن لہر اس کے جوان ہوتے بدن میں دوڑ گئی۔ بالآخر اس کے ہاتھ اٹھے اور اس نے اپنے بھائی کا سر پکڑ کر اپنی چوت پر مزید دبا لیا اور ایک مسحور کن سسکاری بھر کر وہ چہک اٹھی۔۔۔
"بھیا چوسیں، میری چوت اور زور سے چوسیں۔ زبان ڈال دیں میری چوت کے اندر۔"
ندیم نے دیکھا کہ اس کی چھوٹی بہن کی جوان چوت سے چپچپا پانی بہنے لگا ہے جسے آب حیات سمجھ کا جھرنا سمجھ کر وہ پیار سے چاٹنے لگا۔
اس کی زبان جب سیمی کے چھوٹے سے لیکن اکڑے ہوئے لال کلائٹوریس پر سے گزرتی تو سیمی نہ چاہتے ہوئے بھی مستی سے بے خود ہو کر ہمکتے ہوئے اپنی رانیں اپنے بھائی کے سر کے دونوں جانب جکڑ کر دھکّے مارنے لگتی۔
کچھ ہی دیر میں سیمی ایک میٹھی سی چیخ کے ساتھ فارغ ہو گئی۔ اس کی چوت سے شہد کی جیسے ندی بہہ اٹھی جسے ندیم بڑی بیتابی سے چاٹنے لگا۔ اسے سیمی کی چوت کا پانی اتنا اچھا لگا کہ اپنی چھوٹی بہن کو فارغ کروانے کے بعد بھی وہ اس کی چوت چاٹتا رہا اور جلد ہی سیمی پھر سے مست ہونا شروع ہو گئی۔ مزے سے سسکتے ہوئے وہ پھر اپنے بڑے بھائی کے منہ کو اپنی چوت سے چودنے لگی۔ اسے اتنا مزا آ رہا تھا جیسا کبھی خود لذتی میں نہیں آیا تھا۔ ندیم اپنی زبان اس کی گیلی پیاری چوت میں ڈال کر چودنے لگا اور کچھ ہی منٹس میں سیمی دوسری بار فارغ ہو گئی۔ ندیم اس امرت کو بھوکوں کی طرح چاٹتا رہا۔ پورا فارغ ہونے کے بعد ایک سکون کی سانس لے کر وہ کمسن بچی سمٹ کر ندیم سے الگ ہونے لگی۔۔۔ کیونکہ اب مستی اترنے کے بعد اسے اپنی ڈسچارج ہوئی ہوئی چوت پر ندیم کی زبان کا ٹچ برداشت نہیں ہو رہا تھا۔
ندیم اب سیمی کو چودنے کے لیے بیتاب تھا۔ وہ اٹھا اور بیڈ کے سامنے لگی ڈریسنگ ٹیبل پر سے نجمہ کی ناریل کے تیل کی بوتل اٹھا لایا ۔ تھوڑا سا ناریل کا تیل اس نے اپنے ٹوپے پر لگایا اور سیمی کو سیدھا کرتے ہوئے بولا: "چل چھوٹی، بیٹا چدوانے کا وقت آ گیا ہے"۔
سیمی گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔ اسے لگا تھا کہ اسے ننگی کرنے اور چوت چاٹنے کے بعد اب شاید اس کے بھیا اسے چھوڑ دیں گے لیکن ندیم کو اپنے بری طرح سوجے ہوئے لنڈ پر تیل لگاتے دیکھ اس کا دل ڈر کے مارے زور زور سے دھڑکنے لگا۔
سیمی خوف سے کانپتے ہوئے بیڈ سے اتری اور بھاگ کر دروازے کی طرف بڑھی کہ پیچھے سے ندیم نے ایک چھلانگ لگا کر ایک ہاتھ سے سیمی کا بازو پکڑا دائیں ہاتھ سے اس معصوم کے گالوں پر لگاتار تین چار تھپڑ رسید کر دیے اور اس پر غرایا: حرام زادی، کتیا اپنا مزا لے کر بھاگ رہی ہے۔۔۔ رنڈی مجھے بھی تو مزا لینے دے۔۔۔
پھر ندیم اپنی بہن کو بازو سے دبوچ کر کھینچتا ہوا بیڈ کے پاس لے گیا اور اسے بیڈ پر پٹخ دیا۔ پھر اس نے اپنی بہن کے دونوں نازک سے بازو کہنیوں سے موڑ کر اس کی پشت پر گھما کر اس کے اپنی ہی جسم کے نیچے دبا دیے اور خود اس کے اوپر چڑھ بیٹھا۔ اب وہ بے چاری اس سانڈ بھائی کے نیچے سے کہاں نکل سکتی تھی۔۔۔ ندیم نے اپنی گڑگڑاتی، روتی معصوم بہن کی ایک نہ سنی اور اس کی ٹانگیں پھیلا کر ان کے بیچ میں بیٹھ گیا۔ تھوڑا سا تیل سیمی کی کومل چوت میں بھی چپڑا۔ پھر اپنا ٹماٹر جیسا ٹوپا اس نے اپنے بہن کی کنواری چوت پر رکھا اور اپنے لنڈ کو ایک ہاتھ سے تھام لیا۔

ندیم کو پتا تھا کہ چوت میں اتنا موٹا لنڈ جانے پر سیمی درد کے مارے بہت زور سے چیخے چلّائے گی۔ اسی لیے پہلے تو اس نے سوچا کہ اپنے ایک ہاتھ سے وہ اس کا منہ بند کر دے تا کہ اس کی آواز نہ نکل سکے لیکن پھر اسے نجمہ کی بات یاد آئی کہ اگر سیمی کی چیخیں گھر سے باہر نکلیں بھی تو انہیں سننے والا کوئی نہیں کیونکہ اس نئی کالونی میں ان کا گھر دوسرے گھروں سے کافی ہٹ کر تھا اور ان کے نزدیک ترین گھر بھی کم از کم پانچ چھ پلاٹس چھوڑ کر بنا ہوا تھا۔ یہ سوچ کر اس نے سیمی کا منہ کھلا چھوڑ دیا تا کہ اس کی درد بھری چیخیں اور منتیں سن کر وہ مزید مزے لے سکے۔
پھر ہوس سے تھرتھراتا ہوا اپنا لنڈ وہ اپنی بہن کی چوت کے اوپر دبانے لگا، اس کا لنڈ اور سیمی کی چوت دونوں ناریل کے تیل سے چپڑ کر کافی چکنے ہو چکے تھے۔۔۔
ندیم اپنا لنڈ اپنی بہن کی چوت میں آہستہ آہستہ پیلنے لگا۔ تنگ کنواری چوت دھیرے دھیرے کھلنے لگی اور سیمی نے درد سے کراہنا اور رونا شروع کر دیا۔ ندیم نے تھوڑا زور سے دبایا تو اس کے لنڈ کا ٹوپا گھپ کی آواز سے اس کی چھوٹی بہن کی انتہائی تنگ چوت کے اندر داخل ہو گیا اور ساتھ ہی سیمی کی چیخوں کا ایک طوفان آ گیا۔۔۔ وہ بے چاری نجانے کیا کیا کہہ رہی تھی جو سمجھ سے بالا تر تھا۔۔۔ مر گئی۔۔۔ بھااااااااااائی، اففففففففففف، بچااااااااااؤ میں مری، امی جی ی ی ی ی ی ہائے اللہ ہائے ے ے ے ے ے آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ۔۔۔ وہ مسلسل بلک بلک کر روئے جا رہی تھی۔۔۔
لیکن ابھی اس معصوم کو یہ کہاں معلوم تھا کہ اصل قیامت تو ابھی برپا ہونا باقی تھی۔۔۔ ابھی تو ندیم کے لنڈ کا ٹوپا صرف سیمی کے پردۂ بکارت تک پہنچا تھا جسے پھاڑنا باقی تھا۔
ایک بلا کی خوبصورت اور کمسن بچی اور وہ بھی اپنی سگی بہن کو چودنے میں اسے اتنا مزا آ رہا تھا کہ ندیم سے رہا نہ گیا اور اس نے لنڈ کو تھوڑا سا پیچھے کیا اور پھر کس کے ایک دھکّا لگایا۔ ندیم کے لنڈ کا ٹوپا پھر سے اس کی بہن کی کومل کنواری چوت میں پھچک سے گھس گیا۔۔۔ سیمی کا پردۂ بکارت شاید ابھی کافی سخت تھا اور اس جھٹکے میں بھی پورا نہیں پھٹا تھا اس لیے ندیم کے لنڈ کو رکاوٹ محسوس ہو رہی تھی لیکن سیمی کا تڑپنا اور بلکنا مزید بڑھ گیا تھا۔
ندیم نے اپنی بہن کی کپکپاتی چوت کا مزا لیتے ہوئے اس کی آنسو بھری آنکھوں میں جھانکا اور اپنی بہن کی حالت زار دیکھ کر کچھ دیر ویسے ہی بیٹھا رہا۔ سیمی کے منہ سے نکلتی فریادیں اور چیخیں سن کر اسے اور زیادہ مزا آ رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ جیسے وہ ایک شیر ہے جو ہرن کے بچے کا شکار کر رہا ہے۔
کچھ دیر بعد جب لنڈ بہت مستی سے اچھلنے لگا تو اس نے ایک جاندار دھکّا اور لگایا۔ اس بار ندیم کا آدھا لنڈ بچی کی چوت کو چیرتا ہوا اور پردۂ بکارت کو پھاڑتا ہوا اندر گھس گیا اور سیمی درد کے مارے اتنی زور سے اچھلی جیسے بکری قصائی کے چھری پھیرنے پر اچھلتی ہے۔۔۔ اس بار وہ چیخ یا چلا نہیں رہی تھی بلکہ واقعتاً کسی ذبح ہوتی بکری کی طرح ہی ڈکرا رہی تھی۔۔۔ اسے لگا کہ جیسے ندیم بھائی نے لنڈ نہیں بلکہ کوئی چھرا چوت کے راستے اس کے پیٹ میں گھسا دیا ہو۔ چوت میں ہوتے اس بے پناہ درد کی شدت کو وہ بیچاری کہاں سہہ سکتی تھی۔۔۔ بمشکل تمام دو چار سیکنڈز میں ہی وہ بے چاری بیہوش ہو گئی۔
ندیم کو فی الحال اس کی کوئی پروا نہیں تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ درد وقتی ہے جو ہر لڑکی کے سہنا ہی ہوتا ہے۔۔۔ اسی لیے اس نے مسلسل دھکّے مار مار کر اپنا موسل جیسا لنڈ اس نازک چوت میں گھسیڑنا جاری رکھا۔۔۔ ہر دھکے میں لنڈ آدھا آدھا سینٹی میٹر مزید گہرائی میں اس کنواری چوت میں اتر جاتا اور سیمی کے منہ سے بیہوش ہونے کے باوجود چیخیں اور کراہیں نکلتی رہیں۔۔۔ بالآخر جب لنڈ جڑ تک سیمی کی چوت کے اندر اتر گیا اور ندیم کو لنڈ کا ٹوپا اپنی بہن کی بچہ دانی کو دبا کر اس میں گھستا محسوس ہونے لگا تو وہ ایک گہری سانس لے کر اپنی بہن کے اوپر لیٹ گیا۔ نرم و نازک سی سیمی کے کمسن پستان اس کے سانڈ جیسے بھائی کی چھاتی سے دب کر رہ گئے اور چھوٹے چھوٹے اکڑے ہوئے نپلز ندیم کو دبا کر اسے مست کرنے لگے۔

ندیم تو جیسے جنّت کے مزے میں ڈوبا ہوا تھا کیونکہ اس کی چھوٹی بہن کی تنگ اور کومل مخمل جیسی ملائم چوت نے اس کے لنڈ کو ایسے جکڑا ہوا تھا جیسے کہ کسی نے اپنے ہاتھوں میں اسے بھینچ کر پکڑا ہوا ہو۔ سیمی کے گلابی ہونٹوں کو چومتا ہوا ندیم دھیرے دھیرے اسے بیہوشی میں ہی چودنے لگا۔ چوت میں چلتے اس سوجے ہوئے لنڈ کے درد سے سیمی کچھ دیر میں خود ہی ہوش میں آ گئی۔ اس نے درد سے بلکتے اور کراہتے ہوئے اپنی آنکھیں کھولیں اور سسک سسک کر رونے لگی۔ "ندیم بھائی، میں مر جاؤں گی، ہائے امی جی، بہت درد ہو رہا ہے، میری چوت پھٹی جا رہی ہے، مجھ پر رحم کریں، بھائی میں آپ کے پاؤں پڑتی ہوں مجھے چھوڑ دیں"۔
ندیم نے جھک کر دیکھا تو اس کا موٹا تازہ لنڈ سیمی کی پھیلی ہوئی چوت سے پسٹن کی طرح اندر باہر ہو رہا تھا۔ چوت کا لال چھید بری طرح کھنچا ہوا تھا اور بیڈ شیٹ جو کبھی سفید ہوتی تھی اب اس کی بہن کے خون سے سرخ ہو چکی تھی۔۔۔ بچی درد سے بلبلا رہی تھی اور ندیم مست ہو کر اپنی بہن کو اور زور سے چودنے لگا۔ ساتھ ہی اس نے سیمی کے گالوں پر بہتے آنسو اپنے ہونٹوں سے سمیٹنا شروع کر دیا۔ سیمی کے چیخنے کی پروا نہ کرتے ہوئے وہ زور زور سے اس کنواری مست چوت میں اپنا لنڈ پیلنے لگا۔
"ہائے کیا مست چکنی اور مخمل جیسی چوت ہے تیری سیمی، کاش سال دو پہلے ہی چود ڈالتا تجھے۔ چل اب بھی کچھ نہیں بگڑا ہے، دیکھ اب روز تجھے کیسے تڑپا تڑپا کر چودتا ہوں"۔
ٹائٹ چوت میں لنڈ چلانے سے 'پھچ پھچ پھچ' جیسی مست آوازیں کمرے میں گونجنے لگیں۔ جب سیمی اور زور سے رونے لگی تو ندیم نے سیمی کے کومل گلابی ہونٹ اپنے منہ میں دبا لیے اور انھیں چوستے ہوئے دھکّے مارنے لگا۔ ایسے ہی سیمی کی چیخوں اور ندیم کے جھٹکوں میں تقریباً آدھا گھنٹا گزر گیا اور سیمی کی چیخیں اب کراہوں اور سسکیوں میں تبدیل ہو چکی تھیں۔
آخر کار جب مزا برداشت سے باہر ہونے پر وہ فارغ ہونے کے قریب آ گیا اور اس کے جھٹکے جنونی کیفیت اختیار کر گئے تو سیمی کو شدید درد ہونے لگا اور اس کی ہچکیاں اور بلکنا پھر سے بڑھ گیا لیکن اب سیمی کو یہ لگا کہ شاید ندیم بھائی اب فارغ ہونے والے ہیں اسی لیے بیچاری بڑی امید سے اپنی چوت کو پھاڑتے لنڈ کے فارغ ہونے اور سکڑنے کا انتظار کرنے لگی۔ لیکن ندیم ابھی اور مزا لینا چاہتا تھا۔۔۔ پوری طاقت لگا کر وہ رک گیا جب تک کہ اس کا جھٹکے کھاتا اور اچھلتا لنڈ تھوڑا شانت نہ ہو گیا۔

کچھ ہوش میں آنے پر اس نے سیمی سے کہا: "میری پیاری بہن، اتنی جلدی تھوڑی ہی چود کے چھوڑ دوں گا تجھے۔ محنت سے لنڈ گھسایا ہے تیری کنواری چوت میں تو خدا کی قسم، کم سے کم گھنٹے بھر تو ضرور چودوں گا"۔
یہ کہہ کر وہ پھر سے اپنی بہن کو چودنے کے کام میں لگ گیا۔

دس منٹ بعد سیمی کی پھٹی چوت کا درد بھی تھوڑا کم ہو گیا۔ وہ بھی آخر ایک مست اور پیاسی لڑکی تھی اور اب چدواتے چدواتے اسے درد کے ساتھ ساتھ تھوڑا مزا بھی آنے لگا تھا۔ ندیم جیسے خوبصورت جوان سے چدوانے میں اسے دل ہی دل ایک عجیب خوشی ہو رہی تھی، اور اوپر سے اپنے بڑے بھائی سے چدوانا اسے زیادہ پرجوش کر رہا تھا۔ جب اس نے تصویروں میں دیکھی چدواتی ہوئی عورتوں کو یاد کیا تو ایک سنسناہٹ اس کے بدن میں دوڑ گئی۔ چوت میں سے پانی بہنے لگا اور مست ہوئی چوت چکنے چپچپے رس سے گیلی ہو گئی۔ جس کی وجہ سے ندیم کا لنڈ اور آسانی سے اندر باہر ہونے لگا اور چودنے کی آوازیں بھی تبدیل ہو کر 'پھکاک پھکاک پھکاک' نکلنے لگی۔

بالآخر رونا بند کر کے سیمی نے اپنی بانہیں ندیم کے گلے میں ڈال دیں اور اپنی پتلی پتلی نازک ٹانگیں کھول کر ندیم کے بدن کو ان میں جکڑ لیا۔ وہ ندیم کو بے تحاشہ چومنے لگی تھی اور خود بھی اپنے چوتڑ اچھال اچھال کے چدوانے لگی۔ "چودیں مجھے بھیا، زور زور سے چودیں۔ ہائے، بہت مزا آ رہا ہے۔ میں نے آپ کو رو رو کر بہت تکلیف دی، اب چود چود کر میری چوت پھاڑ دیجیے، میں اسی لائق ہوں"۔
ندیم ہنس پڑا اور اپنی بہن سے بولا: "ہائے، ہے نا آخر میری ہی بہن، میرے جیسی چودو ہی ہے۔ پر یہ تو بتا سیمی، تو اتنی جلدی چدائی کا مزا کیسے لینے لگی ہے؟ لگتا ہے بہت مٹھ مارتی ہے، سچ بول، کیا ڈالتی ہے؟ موم بتی یا ککڑی"؟
سیمی نے شرماتے ہوئے بتایا کہ زیادہ اندر کچھ نہیں لیا اس نے لیکن انگلی اور گاجر سے مٹھ مارنے کی اسے عادت ہے اس لیے چوت کو مزے کی عادت پڑ چکی ہے۔
دونوں بھائی بہن اب ہچک ہچک کر ایک دوسرے کو چودنے لگے۔ ندیم تو اپنی ننھی نازک معصوم بہن پر ایسے چڑھا ہوا تھا جیسے کہ کسی بازاری چداسی رنڈی پر چڑھ کر چودا جاتا ہے۔
سیمی کو مزا تو آ رہا تھا لیکن ندیم کے لنڈ کے بار بار اندر باہر ہونے سے اس کی چوت میں بھیانک درد بھی ہو رہا تھا۔ اپنے لطف کے لیے وہ اس درد کو بھی اب کسی نہ کسی طرح درد برداشت کر رہی تھی اور مزا لیتی ہوئی چدواتی بھی رہی پر ندیم کے ہر وار سے اس کے منہ سے درد اور مزے کی ملی جلی سسکیاں بھی برآمد ہو رہی تھیں۔

چدائی کا یہ دور کافی دیر تک چلا۔ ندیم پورے تاؤ میں تھا اور مزے لے لے کر لنڈ کو فارغ ہونے سے بچاتا ہوا اس ننھی جوانی کو چود رہا تھا۔ سیمی کئی بار ڈسچارج ہوئی اور آخر کار نڈھال ہو کر بیڈ پر پڑ گئی۔ چدائی کا نشہ اترنے پر اب وہ پھر سے رونے لگی۔ جلد ہی درد سے سسک سسک اور بلک بلک کر اس کا برا حال ہو گیا کیونکہ ندیم کا موٹا لنڈ ابھی بھی بری طرح سے اس کی چوت کی چدائی کر رہا تھا۔ ندیم تو اب پورے جوش سے سیمی پر چڑھ کر اسے چود رہا تھا جیسے وہ اس کی چھوٹی بہن یا انسان نہیں بلکہ کوئی کھلونا ہو۔ سیمی بے چاری کے نازک بدن کو اتنی زور کی چدائی برداشت نہیں ہوئی اور سات آٹھ زوردار چیخوں کے بعد وہ ایک ہلکی سی چیخ کے ساتھ ایک مرتبہ پھر سے بیہوش ہو گئی۔
لیکن ندیم اس پر مسلسل چڑھا رہا اور اسے ہچک ہچک چودتا رہا۔ اس نے اپنی معصوم بہن کی چدائی کو مزید لمبا کھینچنے کی پوری کوشش کی لیکن آخر اس سے بھی رہا نہیں گیا اور وہ زور سے ہمکتا ہوا ڈسچارج ہو گیا۔
گرما گرم گاڑھی منی کا فوارہ ہی سیمی کی چوت میں چھوٹ پڑا تو وہ معصوم بھی ہوش میں آئی اور اپنے بھیا کو فارغ ہوتا دیکھ کر اس نے رونا بند کر کے سکون کی ایک سانس لی۔ اسے لگا کہ اب ندیم اسے چھوڑ دے گا پر ندیم اسے بانہوں میں لے کر پڑا رہا۔ سیمی رونے والی آواز میں اس سے بولی: "بھیا، اب تو چھوڑ دیجیے، میرا پورا بدن دکھ رہا ہے آپ سے چد کر"۔
ندیم نے ہنس کر اپنی بہن کے ننگے چوتڑوں پر ہاتھ پھیرا اور بیدردی سے اس بے چاری کو ڈراتا ہوا بولا: "ابھی تو کچھ بھی نہیں ہوا ہے سیمی بیٹا۔ اصل کام تو رہتا ہے۔۔۔ ابھی تو تمہاری یہ گانڈ بھی مارنی ہے تمہارے بھائی نے"۔
سیمی کے ہوش و حواس یہ سن کر اڑ گئے اور گھبرا کر وہ پھر سے رونے لگی۔۔۔
ندیم ہنسنے لگا اور اسے چومتے ہوئے بولا: "اچھا اچھا بیٹا رو مت، چلو تمہاری گانڈ ابھی نہیں مارتا پر ایک بار اور چودوں گا ضرور اور پھر آفس جاؤں گا"۔
سیمی اپنے بھائی کی یہ بات سن کر سہم سی گئی لیکن مجبور تھی کہ کچھ کر نہیں سکتی تھی۔
ندیم نے اب پیار سے اپنی بہن کے چہرے، گالوں اور آنکھوں کو چومنا شروع کر دیا۔ اس نے سیمی سے اپنی زبان باہر نکالنے کو کہا اور اسے منہ میں لے کر سیمی کے منہ رس پیتے ہوئے کینڈی کی طرح اس کومل لال لال زبان کو چوسنے لگا۔ اس کے ہاتھ سیمی کے چھوٹے چھوٹے بوبیز کو دبا اور سہلا رہے تھے۔
تھوڑی ہی دیر میں اس کا لنڈ پھر کھڑا ہو گیا اور وہ دوبارہ سے اٹھ کر اپنی بہن کی ٹانگیں کھول کر خود بیچ میں آ کر بیٹھ گیا۔
ندیم نے ایک تکیہ اٹھا کر سیمی کے چوتڑوں کے نیچے رکھا اور اس کی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھیں اور دوسری بار اپنی بہن کی چدائی شروع کر دی۔
چپچپی منی سے سیمی کی چوت اب ایک دم چکنی ہو گئی تھی اسی لیے اب اسے زیادہ تکلیف نہیں ہوئی۔ 'پچک پچک پچک' کی آواز کے ساتھ یہ چدائی قریب آدھا گھنٹہ چلی۔
سیمی بہت دیر تک چپ چاپ یہ چدائی برداشت کرتی رہی لیکن بالآخر چد چد کر بالکل نڈھال ہو کر وہ درد سے سسکنے لگی۔ آخر ندیم نے زور زور سے دھکّے لگانے شروع کیے اور تقریباً پانچ منٹ بعد وہ اس بچی کی چوت کے اندر ہی ڈسچارج ہو گیا۔ فارغ ہونے کے بعد کچھ دیر تو ندیم مزے لیتا ہوا اپنی کمسن بہن کے نیم بے جان بدن پر یونہی پڑا رہا۔ پھر اٹھ کر اس نے اپنا لنڈ باہر نکالا۔ وہ 'پکک' کی آواز سے باہر نکلا۔ لنڈ پر منی اور چوت کے پانی کا ملا جلا گاڑھا مواد لگا تھا۔
سیمی بیہوش پڑی تھی۔ ندیم نے اس کا چہرہ چوما اور پھر اسے بیڈ پر ویسے ہی لیٹی ہوئی چھوڑ کر باہر آ گیا اور دروازہ بند کر دیا۔
باہر نکل کر دیکھا تو نجمہ واپس آ چکی تھی اور باہر ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی بڑی بے صبری سے ندیم کا انتظار کر رہی تھی۔ شوہر کی نشیلی آنکھیں دیکھ کر وہ سمجھ گئی کہ چدائی مست ہوئی ہو گی۔۔۔
ندیم کو دیکھتے ہی بڑی ادا سے مسکراتے ہوئے بولی: "ظالم بھائی جان، چود آئے میری گڑیا جیسی پیاری نند کو"؟
ندیم دیوانہ ہو کر اسے چومتا ہوا بولا: "ہاں میری جان، چود چود کر بیہوش کر دیا سالی کو، بہت رو رہی تھی، درد کا ڈراما بھی خوب کیا لیکن میں نے ایک نہیں سنی اس کی۔ اف کیا مزا آیا اس ننھی سی چوت کو چود کر"۔
نجمہ ہوس کے جوش میں گھٹنے کے بل ندیم کے سامنے بیٹھ گئی اور اس کا رس بھرا لنڈ اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگی۔ لنڈ پر سیمی کی چوت کا پانی اور ندیم کی منی سوکھ چکی تھی اور ان کا مکسڈ ذائقہ نجمہ کے منہ میں آ رہا تھا۔ اچھی طرح چاٹ اور چوس کے ندیم کا لنڈ پوری طرح صاف کر کے ہی وہ اٹھی۔
ندیم کپڑے پہن کر آفس جانے کو تیار ہو گیا۔ اس نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ اب وہ کیا کرے گی؟
نجمہ بولی: "اس بچی کی رسیلی چوت پہلے چوسوں گی جس میں تمہارا یہ مست رس بھرا لنڈ گیا ہے۔ پھر اس سے اپنی چوت چسواؤں گی۔ ہم لڑکیوں کے پاس مزا کرنے کے لیے بہت سے پیارے پیارے طریقے ہوتے ہیں۔ آج ہی سب سکھا دوں گی اسے"۔
ندیم نے پوچھا، "آج رات کا کیا پروگرام ہے رانی"؟
نجمہ اسے کس کر چومتے ہوئے بولی: "جلدی آنا، آج ایک ہی پروگرام ہے۔ رات بھر تمہاری بہن کی تنگ گانڈ مارنے کا۔ خوب ستا ستا کر، رلا رلا کر گانڈ ماریں گے سالی کی، جتنا وہ روئے گی اتنا مزا آئے گا۔ میں کب سے اس گھڑی کا انتظار کر رہی ہوں۔ "
ندیم مسکرا کے بولا: "بڑی رنڈی ہو۔ بچی کو تڑپا تڑپا کر چودنا چاہتی ہو"؟
نجمہ بولی: "تو کیا ہوا، شکار کرنے کا مزا ہی الگ ہے۔ بعد میں اتنا ہی پیار بھی تو کروں گی اپنی لاڈلی نند کو۔ اس کی چوت کو ایسے مزے دوں گی کہ وہ میری غلام بن جائے گی۔ ہفتے بھر میں ہم میاں بیوی سے چد چد کر کھلی ہو جائے گی تمہاری بہن، پھر درد بھی نہیں ہو گا اسے اور خود ہی چدائی کی تڑپ میں ہم سے چدوانے کی منتیں کیا کرے گی۔ پر آج تو اس کی کنواری گانڈ مرنے کا مزا لے لوں"۔
ندیم ہنس کر آفس چلا گیا اور نجمہ بڑی بیتابی سے بیڈروم میں جا پہنچی اور اندر سے چٹخنی لگا لی۔

سیمی ہوش میں آ گئی تھی لیکن ویسے ہی ننگی بیڈ پر لیٹی ہوئی درد سے سسک رہی تھی۔ چدائی کی پیاس ختم ہونے پر اب اس کی چدی ہوئی چوت میں بے انتہا درد ہو رہا تھا اور اس میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ اٹھ کر کپڑے پہن لے۔
نجمہ کو دیکھ کر سیمی گھبرا گئی اور اپنا ننگا بدن چھپانے کے لیے بیڈ شیٹ کھینچ کر اپنے اوپر ڈالنے کی کوشش کرنے لگی لیکن بیڈ شیٹ اس کے اپنے وزن اور میٹرس کے نیچے دبی ہوئی تھی جو اس معصوم سے کھینچ کر نکالی نہ جا سکی۔
نجمہ سیمی کے پاس بیٹھ کر اس کے ننگے بدن کو پیار سے سہلانے لگی اور بولی: "کیا ہوا میری سیمی رانی کو؟ ننگی کیوں پڑی ہے اور یہاں تمہاری ٹانگوں کے بیچ سے چپچپا سا کیا بہہ رہا ہے"؟
بیچاری سیمی شرم سے رو دی اور بولی: "بھابھی، بھیا نے آج مجھے چود ڈالا"۔
نجمہ حیرت کا ڈراما کرتے ہوئے بولی: "اوہ، چود ڈالا۔۔۔ اپنی ہی ننھی بہن کو؟ کیسے"؟
سیمی سسکتی ہوئی بولی: "میں گندی کتاب دیکھتی ہوئی پکڑی گئی تو مجھے سزا دینے کے لیے بھیا نے میرے کپڑے زبردستی اتار دیے، پھر میری چوت چوسی اور پھر مجھے خوب چودا۔ میری چوت پھاڑ کر رکھ دی بھابھی۔ وہ تو گانڈ بھی مارنا چاہتے تھے پر میں نے جب خوب منّتیں کیں تو چھوڑ دیا"۔
نجمہ نے بیڈ پر چڑھ کر اسے پہلے پیار سے چوما اور بولی: "اف اتنا سب کچھ کر دیا؟ مجھے دکھاؤ ذرا"۔۔۔ سیمی نے شرماتے ہوئے اپنی نازک سی ٹانگیں پھیلا دی۔ نجمہ جھک کر چوت کو پاس سے دیکھنے لگی۔
کچی کمسن چوت سوجی ہوئی تھی اور اس کے ارد گرد لال لال خون لگا دیکھ کر نجمہ کو بخوبی اندازہ ہو گیا کہ وہ بے چاری بہت بری طرح چدی ہے۔
اس کمسن چوت کی یہ حالت دیکھ کر لمحے بھر کو نجمہ کو ترس تو آیا لیکن ساتھ ہی اس کے منہ میں پانی بھر آیا اور اس کی خود کی چوت مچل کر گیلی ہونے لگی۔ وہ بولی: "سیمی بیٹا، ڈرو مت، جو ہونا تھا وہ ہو گیا ہے اور ویسے بھی یہ تو ہر لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے۔۔۔ میری چوت کی بھی یہی حالت کی تھی تمہارے بھائی نے۔۔۔ ویسے تمہاری چوت پھٹی نہیں ہے، بس تھوڑی سی کھل گئی ہے۔ درد ہو رہا ہو گا، جلن بھی ہو رہی ہو گی ناں۔ میں پھونک مار کر ابھی ٹھنڈی کر دیتی ہوں تمہاری چوت"۔

Posted on: 07:27:AM 18-Dec-2020


2 0 691 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Thomas Bryton heard the bell ring sounding.....


3 0 55 4 0
Posted on: 05:33:AM 21-Jul-2021

Summary: MILF Mom catches nerdy son masturbating.....


0 0 51 2 0
Posted on: 05:28:AM 21-Jul-2021

I was 18 years old and had.....


0 10 33 5 0
Posted on: 05:18:AM 21-Jul-2021

The fair grounds were packed for the.....


0 0 39 1 0
Posted on: 11:16:AM 18-Jul-2021

The warm, gentle wind swept playfully through.....


0 1 65 9 0
Posted on: 11:03:AM 18-Jul-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com