Stories


ایک عورت ایک کہانی خالہ کا پیار از ووڈ مین

نامکمل کہانی ہے

یہ کہانی میں شاہ جی اور سیما ناز کے نام کرتا ہوں جن کی تحریروں نے مجھے لطف و تفریح فراہم کی

تحریر، ووڈمین
راوی، نگھت


میرا نام نگھت ہےاور میں یہ کہانی ووڈمین کے توسط سے آپ تک پیش کر رہی ہوں


اس کہانی کا۔مقصد ترغیب دینا نہیں ہے بلکہ اپنی آپ بیتی سنا کر دل کر بوجھ ہلکا کرنا ہے

اس وقت میری عمر 42 سال کی ہے اور یہ کہانی آج سے تین سال پہلے شروع ہوئی۔

میں شادی شدہ اور ایک بچی کی ماں ہوں میرے میاں دبئی جاب کرتے تھے اور سال میں بیس دن کی چھٹی پر گھر آتے تھے زندگی اچھی گزر رہی تھی اور میں اپنے گھر میں خوش تھی اگرچہ تنہائی کاٹتی تھی مگر  اب میں س اکلاپے کی عادی ہو گئی تھی۔

کبھی کبھار جسم کی خواہش پوری کرنے لئے انگشت زنی کر کے سکون حاصل کر لیتی تھی

اگرچہ مجھے آس  پڑوس اور خاندان کے مردوں کی طرف سے ناجائز تعلقات کی آفریں بھی ملیں۔
مگرمجھے  ایسی باتوں سے کوئی سروکار نہ تھا اور نہ ہی میں اپنے شوہر سے بے وفائی کرنا چاہتی تھی
کیوں  کہ مجے اپنے شوہر سے بے حد محبت تھی اور ایسے ہی انہیں مجھ سے


پھر میری زندگی میں شانی آیا
شانی میری کزن کا بیٹا تھا۔ شانی میری گود میں کھیلا اور بڑا ہوا تھا
پچیس سال کا کڑیل جوان،چھ فٹ قد ،اور مردانہ وجاہت کا  نمونہ تھا۔ شانی میری آنکھوں کے سامنے ہی جوان ہؤا تھا۔میری بہت عزت اور احترام کرتا تھا۔اور میں بھی اسے خالہ بھانجے کی محبت سے دیکھتی تھی۔اگرچہ وہ میرا سگا بھانجا نہیں تھا، مگر میرے سمیت  پورے خاندان کا لاڈلا بچہ ہے

ہوا یوں کہ اسے ہمارے گھر کے پاس ہی جاب مل گئ اور وہ شہر میں  رہائش کی تلاش میں ہمارے گھر آیا۔اتفاق سے میرے میاں بھی آے ہوئے تھے
اور انھیں میرے اکیلے رہنے کی وجہ سے میری مشکلات کا اندازہ تھا ویسے بھی ہمارے لیے شانی بچہ ہی تھا لہذا
انہوں نے اصرار کیا کہ وہ ہمارے گھر ہی رہائش اختیار کر لے۔اس سے مجھے کمپنی بھی مل جائے گی اور شانی کو بھی آسانی ہو جائے گی۔
اس طرح شانی ہمارے گھر میں رہنے لگ گیا۔

کچھ  ہی دنوں میں میرے میاں واپس چلے گئے۔

اور میں اپنی روٹین میں مگن ہو گئی مگر اس دفعہ حالات بدل چکے تھے
اب شانی ا گیا تھا اس کے آنے سے بوریت نے رخت سفر باندھ لیا تھا وہ زندگی سے بھرپور اور ہر وقت خوش رہنے والا لڑکا تھا

اور  شانی اتنی جلد میری فیملی کا حصہ بن گیا۔اب روزانہ میں شانی کے آنے کا انتظار کرتی،اس کے آنے پر ہم شام کا کھانے کھاتےپھر ٹی وی پر کوئی پروگرام دیکھنے  وہ میری بیٹی کے ساتھ کوئی کھیل کھیلتا یا اسے کہانیاں سناتا اورپھرہم  اپنے اپنے کمروں میں سو جاتے۔
،اسے میری پانچ سالہ بیٹی بہت پسند تھی ہر وقت اسی کو لاڈ پیار کرتا،
اس کے لیے تحائف اور چاکلیٹ وغیرہ لاتا۔

وہ مجھے ہمیشہ آنٹی کہہ کے پکارتا اور میں اسے شانی  بیٹا۔
اس کے آنے سے مجھے بڑی مدد مل گی اب  چھوٹے موٹے کاموں کے لئے مجھے باہر نکلنے کی ضرورت ختم ہوگئی تھی میرا ہر کام وہ خود ہی کردیا کرتا۔اور گھر میں ایک مرد کی موجودگی میں  بہت محفوظ محسوس کرنے لگی۔
اور مجھے بھی اس سے آنس و پیار ہو گیا تھا۔


سوموار سے جمعے تک ہمارے گھر رہتا اور جمعے کی رات کو اپنے قصبے میں ماں باپ کے پاس چھٹی گزار کر سیدھا سوموار کو آفس پہنچ جاتا۔۔
تین ماہ بعد پھر گرمیاں سٹارٹ ہو

گئیں ہمارے گھر میں ایک ہی اے سی تھا جو میرے بیڈروم میں لگا تھا،جب گرمی کی شدت بڑھی  تو میں نے اسے اپنے بیڈروم میں سونے کا کہہ دیا۔
کیونکہ دل میں کسی بھی قسم کا غلط خیال نہیں تھا۔۔


اب وہ روزانہ میرے بیڈ پر سونے لگا۔
مگر سونے سے پہلےوہ روزانہ موبائل پر اکثر چیٹ کرتا تھا۔
مگر میں نظر انداز کر کے سو جاتی۔
پھر ایک دن پوچھا توشرما کر بولا خالہ گرل فرینڈ بنای ہے۔کوی ثانیہ نام کی
اسکے آفس میں کام کرتی تھی نوجوان اور خوپصورت لڑکی تھی
مجھے سن کر تھوڑی حیرانی ہوئی۔کہ بچہ  تو بڑا ہو گیا ہے۔
مگر ہلکا سا جلن کا بھی احساس ہوا کہ  بیڈ پر ساتھ سوتی عورت کو چھوڑ کر کسی اور عورت میں دلچسپی لے رہا  ہے
،کیونکہ میں اس کے سامنے کپڑوں کی خاص فکر نہ کرتی تھی کبھی گلا ڈھانپنے کی کوشش نہیں کی تھی مجھے کھلے گلے کی قمیض پہننا پسند تھا جس میں بغیر ڈوپٹے کے چھاتیاں آدھی ننگی نظر آتیں تھیں۔اور شانی کے سامنے میں نے دوپٹے کا کبھی تکلف کیا ہی نہیں تھا۔
بہرحال اب مجھے اس کی گرل فرینڈ سے جیلیسی محسوس ہونے لگ گئی۔
کیوں کہ  جب سے  اس نے  گرل فرنڈ بنای تھی تب سے اس کی روٹین بدل گئی تھی اب  ہم پر اپنی
توجہ کم کردی تھی اور ہر وقت اپنی گرل فرینڈ سے باتوں میں  یا چیٹ میں مصروف رہتا تھا


ایک دن ڈرائنگ روم میں سے گزری تو فون پر اپنی گرل فرینڈ سے چیٹ میں اتنا مگن تھا کہ اسے پتہ بھی نہ چلا کہ میں بیڈروم سے باہر آ گئی ہوں۔


وہ سکرین پر نظریں ٹکائے بیٹھا تھا اور اس کی نیکر میں ایک بڑا ابھار نظر آ رہا تھا  شاید اس کی گرل فرینڈ نے کؤی نیوڈ بھیجی تھی جس سے اس کا عضو نے جان پکڑی تھی
غور سے دیکھا تو پورے لنڈ کی شیپ واضح ہو رہی تھی اور لنڈ کی لمبائی اور موٹائی دیکھ کر میرا جسم سلگنے لگا۔کیوںکہ مرد کے ساتھ کی پیاس تو پہلے سے موجود تھی۔ یہ نظارہ مجھ سے مزید برداشت نہ ہوا۔
اور مجھے  باتھ روم میں جا کر  چوت  میں انگشت زنی کرنی پڑی۔


مگر اس سے جسم کی آگ  اس طرح ٹھنڈی نہ ہوئی۔ جیسے پہلے ہوتی تھی کیونکہ دماغ میں شانی کا موٹا ڈنڈا چھایا تھا۔
اگر میں اس کے لنڈ کو ننگا دیکھ لیتی تو شاید ذہن
پراتنا گہرا اثر نہ ہوتا ،جتنا اس کی نیکر ] میں چھپے ہتھیار نے کیا تھا۔ایک جستجو اور تمنا سی جسم میں جاگ گئی تھی

اب شانی کو دیکھنے کی میری نگاہ کا زاویہ بدل چکا تھااب میں  اسے پیاسی  اور ہوسناک نظروں سے دیکھنے لگی۔اور اس کے سامنے اپنے جسم کی نمائش کرنے لگی کبھی آدھ ننگی چھاتیاں دکھائی تو کبھی سوتے ہوے اس ڈھنگ سے سونے کا ناٹک کرتی کہ میرے جسم کے خدو خال اس پر اچھے سے واضح ہوں۔مگر وہ پتہ نہیں کس چکنی  مٹی کا بنا تھا کہ اس پر میرے لطف وکرم کی بارش کا کؤی اثر نہ ٹھا۔اس کی نگاہوں میں میرے لیے وہی احترام اور عزت تھی جو ایک بیٹے کی ماں کے لیئے۔مگر میں نے اسے اپنے دل کے تخت پر بٹھا لیا تھا اور خیالوں میں اس کے ساتھ کتنی ہی سہاگ راتیں منا چکی تھی۔ حالانکہ میں جانتی تھی کہ اس کا ساتھ  ایسا ہونا نا ممکن ہے  کیونکہ اسکی اور میری عمر میں بہت فرق ہےاور  پھر بیچ میں عزت و احترام کی دیوار

دن گزرتے گئے اور ہر آنے والا دن میرے لئے مشکل ہوتا ہوگیا
میرا دل ودماغ دو حصوں میں منقسم ہو چکا تھا
ایک حصہ شوہر کی وفا کا تقاضا کرتا تو دوسرا حصہ
جوان جسم کے ساتھ کی آرزو کرتا،
میں دوراہے پر بری طرح پھنس چکی تھی

بات صرف جوان جسم کی ہی نہیں تھی شانی کی شخصیت کی شگفتگی اور میری فیملی سے لگاؤ نے بھی مجھے متاثر کیا تھا

مگر ہمارے درمیان تعلقات میں موجود احترام اگلی پیشرفت میں بہت بڑی رکاوٹ بنا ہوا تھا
پھر جب سے اس کلمونہی گرل فرینڈ کے چکر میں پڑا تھا
وہ بالکل ہی بدل گیا تھا،اس کی توجہ کا مرکز اس کی گرل فرینڈ بن گئی تھی
اور میں جو اس کی توجہ کی عادی ہوگئی تھی
اسے اس بے رخی نے مزید تڑپا دیا تھا

میں کوئی اگلا قدم اٹھانا چاہتی تھی مگر میری آنا و غرور مجھے روکے ہوے تھا
میں لاکھوں میں نہیں تو ہزاروں میں ایک تھی
مجھے جو دیکھتا وہ دیکھتا ہی رہ جاتا تھا
میں چہرے سے تو خوبصورت تو تھی ہی مگر میری اصل خوپصورتی میرے جسم میں تھی
میں سرو قد اور پرکشش جسم کی مالک تھی میرا سینہ چھپانے سے نہ چھپتا تھا چھاتیاں بھاری چادر میں بھی ایسے سر اٹھائے کھڑی ہوتی تھیں جیسے چوٹیاں برف پڑنے کے بعد بھی نمایاں ہوتیں ہیں
اور میرے کولہے لوگوں کو دعوت نظارہ دیتے تھے
دیکھنے والے مڑمڑ کر دیکھتے تھے اور پیچھے سے میری چال کا نظارہ راہیوں کو راہ سے بھٹکا دیتا تھا

بدتمیز سے بدتمیز مرد بھی میرے سامنے موم ہو جاتے تھے
مردوں کی زبانوں میں مجھ سے بات کرتے ہوئے شیرینی ٹپکنے لگتی تھی
دکاندار حضرات مجھے سودا سستے میں دیتے تھے
محلے دار میری اک نگاہ کے طالب تھے
میرے رشتے دار مجے مدد کی پیشکش کیا کرتے،اپنے فون نمبر دیتے کہ کوئی بھی کام ہو تو انہی۔ بتاؤں مگر میں ان عنایات و نوازشات کا مقصد جانتی تھی اور سمجھتی تھی کہ سب عزت دے کر میری عزت لینا چاہتے ہیں۔
مگر میں اپنے شوہر کے پیار میں پاگل تھی اور میں اپنے شوہر سے بے وفائی کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی اسی لئے میں نے
اپنی جنسی ضروریات کو دبا ڈالا تھا

مگر شانی نے انجانے میں میری کچلی ہوی خواہشات کو جگا دیا تھا
اب میں اسکا پیار پانا چاہتی تھی مگر کوئی راہ دکھائی نہ دے رہی تھی
ابتدائی کوششوں کے بعد میں تھک کر مناسب وقت کا انتظار کرنے لگی
اور اپنی توجہ دوبارا اپنی بیٹی اور شوہر پر مبذول کر دی

پہلے دن میں شوہر سے ایک بارفون پر بات کرتی اب دو بار کرنی شروع کر دی
ہیٹی تو پہلے ہی میری زندگی کا محور تھی۔

اور پھر تین ماہ بعد میری سنی گئی

شامی کا اپنی گرل فرینڈز سے بریک اپ ہو گیا

اس نے پروموشن کے لئے اپنے باس سے دوستی کر لی

شانی بہت ادہاس ہوگیا تھا بہت بجھا بجھا رہنے لگا
رویا تو نہیں مگر مجھے بتاتے ہوئے اتنا ہی غمگین تھا جیسے کوئی اپنے کی وفات پر ہو۔
میں نے اسے حوصلہ دیا کہ فکر نہ کروکہ تالاب میں بہت مچھلیاں ہیں
تمہیں ضرور کوئی اچھی لڑکی ملے گی۔

اب مجھے موقع مل گیا تھا کہ اپنی چالیں ہوشیاری سے چلوں
مگر اس سے پہلے مجھے اسکو اس غم کے فیز سے نکالنا تھا
لہزا میں نے پلاننگ شروع کر دی،
اور جامعہ کو وہ جاب سے آیا تو میں نے کہا کہ کھانا آج باہر کھاتے ہیں تیار ہو جاؤ
وہ فریش ہو کر آیا اتنی دیر میں بھی تیار ہوگئی اور ہم تینوں ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے چلے گئے،وہاں پہلے تو افسردہ سا بیٹھا رہا پھر آہستہ آہستہ نارمل ہوگیا اور ہم نے مزے سے کھانا کھایا اور اور گھر آ گئے گھر آ کر بھی وہ ایسے ہی موبائل پکڑ کر بیٹھا اور افسردہ صورت بنا لی۔میں نے پوچھا کہ اب کیا ہؤا تو وہ اپنی گرل فرینڈ کی تصویریں دکھانے لگا۔

مجھے تھوڑا سا غصہ آیا اور اسے کہا کہ ابھی کہ ابھی اسکی ساری تصاویر ڈیلیٹ کرے
اور اپنے سامنے اسکی ساری گیلری خالی کرا دی
اور کہا کہ گرل فرینڈ جب تک نہیں بنتی مجھے ہی اپنی دوست سمجھے ۔
اور آئیندہ مجھے میرے نام سے پکارے خالہ ، آنٹی کا ڈرامہ چھوڈے۔
اس طرح اپنے تعلقات کا پہلا پڑاؤ مکمل کیا

اس سے اگلے دن ہم نے کھانا گھر سے کھایا اور فلم دیکھنے چلے گئے
آہستہ آہستہ وہ مجھ سے فری ہونے لگ گیا میں کوئی سیکسی لڑکی دکھتی تو میں اسے اشارہ کرتی کہ دیکھو کیا پیس ہے۔یا وہ کسی بڑے پر کشش عورت کو دیکھتا تو مسکرا کر میری توجہ دلاتا۔
اب میں خوش تھی اصل منزل تو نہیں پائی تھی مگر کافی کامیابی حاصل کر لی تھی
شانی کا موڈ بھی اچھا ہوگیا تھا اب پہلے والی روٹین ا گئی تھی
بلکہ پہلے سے بھی بہتر،اب وہ مجھے نوٹس کرنے لگ گیا تھا
میں اسے اکثر اپنی طرف دیکھتے پاتی اور پکڑے جانے پر کبھی تو آنکھیں چرا جاتا اور کبھی زیرلب مسکرا جاتا
مجھے بھی اس کھیل میں مزہ آنے لگ گیا اور میں اپنے لباس کو اور بھی بے پروائی سے پہننے لگی
شلوار قمیض کی بجائے ٹی شرٹ اور ٹائٹس پہننے لگی
جن میں میری ہپس کی گولایاں اوو چھائیوں کی اونچایاں واضح ہوتیں
اور وہ نظروں ہی نظروں میں مجھے نہارتا
اب اس کی آنکھوں میں احترام کی بجائے پسندیدگی جھلکتی
اور میں نے بھی اسکی نگاہوں کا تعاقب چھوڈ دیا تھا۔
حالانکہ۔مجھے پتہ ہوتا تھا کہ اسکی نگاہیں ٹی وی پر نہیں میری چھاتیوں کے درمیان واقع گہرائیوں میں ہے مگر میں اسے پورا موقع دیتی کہ بیٹا دیکھو
یا کبھی صوبے پر ایسے نیم دراز ہوتی کہ میرے ہپس اس کی طرف ہوتے۔
اور شانی پر شوق نگاہوں سے انکی گولایوں کا ناپ رہا ہوتا۔

دن گزرتے گئے اور مجھے اب اس کی آنکھوں میں پسندیدگی سے بڑھ کر پیار کی تپش نظر آنے لگ گئی اور عزت کی بجائے ہوس کے ڈورے دکھنے لگے
مگر وہ کوئی عملی قدم اُٹھانے سے ہچکچا رہا تھا
ایک دن حسب معمول ٹی وی لاونج میں فلم دیکھ رہے تھے اور میں صوفے پر پشت لگائے بیٹھی تھی اور دونوں ٹانگیں سامنے ٹیبل پر رکھیں تھیں
اسکی توجہ سامنے سکرین پر مرکوز تھی
میں نے اپنی انی ٹانگ کو فولڈ کر کے صوفے پر رکھ لیا اس طرح اب ٹانگوں کے درمیان کا حصہ اور ایک ہپ کی گولائی کا نظارہ اس کے سامنے تھا
اور ٹائٹس کا کھچاؤ مجھے اپنی اندام نہانی کے لبوں پر بھی محسوس ہو رہا تھا مجھے یقین تھا کہ چوت کے ہونٹوں کی وضاحت ٹائٹس نے عیاں کر دی ہوگی۔
میں کن اکھیوں سے اس کا رد عمل دیکھ رہی تھی
اس نے سکرین کو چھوڈ کر سامنے بیٹھی ہیروئن کو دیکھنا شروع کردیا تھا
اسکا ایک ہاتھ اپنےٹراوز پر تکا تھا
اور اپنے گھوڑے کی مالش شروع کر دی تھی
گھوڑا آہستہ آہستہ اٹھنے لگا اور اپنی لمبائی چوڑائی میں پھیل گیا
جبکہ وہ نامحسوس انداز میں اسکی مالش کیا جارہا تھا
پھر کچھ ہی دیر بعد وہ یکدم اٹھا اور تقریباً بھاگتا ہوا
واشروم میں چلا گیا۔ لگتا تھا کہ معاملہ برداشت سے باہر ہوگیا تھا


،وہ مارا


،میں نے ایک خاموش نعرہ لگایا

اس دن کا بدلہ میں نے لے لیاتھا جب مجھے انگشت زنی پر مجبور ہونا پڑا تھا
۔
۔
مگر اب س سلسلے کو آگے بڑھانے کا بوجھ بھی میرے کندھوں پر اتھا
مجھے ہی اگلے مرحلے میں اس گیم کو لے کر جانا تھا
میری ٹانگیں اٹھیں ہوئیں تھیں گھٹنے چھاتیوں کے ساتھ لگے ہوئے تھے،
میرا پاجامہ اتر کر میرے گھٹنوں میں  پھنسا ہوا تھا
میری  ننگی ہپس صوفے ہے کنارے پر ٹکی ہوئیں تھیں۔
اور شانی کا لؤڑا میری گیلی مگر ٹائٹ چوت میں کسی میخ کی طرح گڑا ہؤا تھا"

چند گھنٹے پہلے:

آج میں  نے شانی کو ناشتے پر ہی بتا دیا تھا کہ آج جمعہ ہے تو ویک اینڈ کرنے گھر نہ چلے جانا،
اور شام کو جاب سے سیدھے گھر آنا ، سینما نیو مووی آی ہے وہ دیکھنے چلیں گے۔
گرچہ وہ پچھلے ویک اینڈ پر بھی ہمارے ہی ساتھ تھا مگر میں اب اس  آنکھ مچولی کے کھیل کو ختم کر کے
پلنگ پولو کا میچ کرنا چاہ رہی تھی۔

لہزا اس سن کے لیے میں نے تیاری شروع کر دی۔
پہلے تو بیڈروم میں موجود الماری میں بنے خفیہ خانے سے شوہر کی  شراب کی بوتل نکالی۔ دیکھا تو آدھی سے زیادہ  بھری ہوئی تھی۔
پھر ویاگرا کی ٹیبلیٹ دیکھیں تو وہ بھی دس گولیاں پڑی ہوئی تھیں۔
بوتل اور شراب دونوں کچن کے کیبنٹ میں رکھ دیں ۔
سیکس کے لیئے کنڈوم کی ضرورت نہیں تھی۔کیوںکہ میں کچھ پچیدگی کی وجہ سے حاملہ نہیں ہوسکتی ہوں۔
۔
پھر گھر کے کام کیے اور شام کے لیے اچھا سا کھانا تیار کیا۔
کھانا تیار کرنے کے بعد غسل کیا اور زیرناف اور باقی غیر ضروری بالوں کو صاف کیا۔
ابھی نہا کر  نکلی ہی تھی کہ  تھوڑی ہی دیر میں شامی بھی آ گیا۔
آ کر غسل وغیرہ کر کے کھانے کی ٹیبل پر بیٹھا۔ہم نے کھانا کھایا ۔
کھانے کے دوران کولڈ ڈرنکس بھی پیں۔  اتنی دیر میں چھ بج گیے اور سینما کا ٹایم ہو گیا۔
پھر ہم فلم دیکھنے چلے گیۓ فلم کی اچھی رومانٹک کہانی تھی
سینما سے گھر آ کر میں نے اپنی بیٹی کو سلا دیا۔اور اسے بولا کہ کل تو تمہاری چھٹی ہے چلو بیٹھو کچھ دیر ٹی وی ہیں۔
ہم ٹی وی روم بیٹھ کر کامیڈی شو دیکھنے لگے۔
رات کے دس بج رہے تھے۔
میں" شانی کبھی ڈرنکنگ کی ہے؟
شانی"جی چند بار دوستوں کے ساتھ کبھی فنکشن  وغیرہ میں پی لیتا ہوں
ویسے عادت نہیں پڑی۔
میں" میں بھی امجد(شوہر) کے ساتھ کبھی ان کے اصرار پر پی لیتی ہوں
شانی"اچھا آپ بھی!
میں" جی  تو اور کیا یار.اج صفائی کرتے ہوئے مجھے ان کی بوتل ملی ہے، پینے کا  موڈ ہے تو بتاؤ کچن میں کیبنٹ میں رکھی ہے لے آؤ
شانی اٹھا اور گلاس  بوتل کچن سے لے آیا پھر فریج سے سوڈا اور برف بھی نکال لایا۔
شانی" سامان میں لے آیا ہوں ان آپ  بنائیں۔
میں نے اسے پیگ بنا کر دیا۔
وہ ہاتھ میں پکڑ بولا۔"میں اکیلا تو  نہیں پیوں گا۔
اس کے اصرار پر میں نے بھی ایک چھوٹا سا پیگ بنا لیا اور چھوٹی چھوٹی چسکیاں لینے لگیں

میں " شانی کبھی گرل فرینڈ یاد آتی ہے۔
شانی" جب سے آپ سے دوستی ہوئی ہے میں تو اسے بھول ہی گیا ہوں۔ویسے بھی وہ ترقی کر کے دوسرے آفس چلی گئی ہے۔

" تو کیسے تعلقات تھے تمہارے بیچ۔ مطلب ڈنگ ڈونگ کر لیا تھا کہ نہیں
"
میں نے شرارتی لہجے میں پوچھا

اس کے چہرے پر شرماہٹ آ گئی۔
ہکلہ کر بولا"  نہیں  نہیں مطلب  ہاں جی جی ہاں
اچھا  کیسے ہؤا"
وہ بس ایک دفعہ اسے آسکے فلیٹ چھوڈنے گیا تو بولی کہ چاے پی کر جانا،اور پھر فیکٹ میں اکیلی تھی اور اسکی روم میٹ ابھی آی نہیں تھی۔ ،لہزا تنہائی کا فایدہ اٹھاتے ہوئے کسنگ شروع کردی اور بات بڑھتے بڑھتے بڑھ گئی۔
میں "ہمم بڑے چھپے رستم ہو تم۔
اسی دوران وہ دو پیگ پی چکا تھا جبکہ میرا ابھی پہلا بھی آدھا نہیں ہؤا تھا۔میں اسے مدہوش نہیں کرنا چاہتی تھی  بلکہ شراب انسان کو بے باک کر دیتی ہے میں اسی  بے باکی کا فایدہ اٹھانا چاہتی تھی۔
اسی لیے میں نے اسے روک دیا کہ زیادہ پی کر ٹن ہی نہ ہو جاے۔

میں" اچھا میں  تو تمہاری گرل فرنڈ سے بوڈھی لگتی ہوںگی تمہیں۔
شانی "  جانے دیں آپ کیسی باتیں کرتیں ہیں،اپ اس سے زیادہ جوآن اور پرکشش ہیں،اپ کا جسم بومب ہے بومب،اور آپ میں کپڑوں میں اتنی سیکسی لگتی ہیں جتنی وہ ک ننگی نہیں لگتی"
شراب کے نشے نے کام دکھانا شروع کر دیا تھا۔
میں اس کی طرف کھسک گئی اور اس سے سرگوشی نما لہجے میں پوچھا۔
مجھ میں، اور میرے جسم میں
کیا اچھا لگتا ہے"
شانی " آپ نے شراب آج پلای ہے می آپ کے حسن میں بہت دیر سے مدہوش ہو ۔اپ کے ہونٹوں کے گداز ہونٹ گلاب کی پتیوں کی مانند ہیں۔اپ کی چھاتیوں کی اٹھان کے آگے کےٹو بھی ہیچ ہے ،
آپ کے کولہوں میں  دوران چال ایسے مدوجذر بنتے ہیں کہ دیکھنا والا حساب کتاب بھول جاتا یے۔
جب سے آپ کو مرد کی نگاہ سے دیکھا ہے باہر کوی عورت دل کو بھاتی نہیں"
وہ پتہ نہیں کیا کچھ بولے جا رہا تھا اور میں دم بخود اسے دیکھے    جارہی تھی
میری وارفتہ نگاہوں کو محسوس کرتے ہوے وہ بولتے بولتے رک گیا اور ہڑبڑا کر بولا
" سوری سوری انٹی مجھے پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے میں کیا بکے
جارہا ہوں آپ پلیز  ناراض نہ ہوئی گا"
میں اس کے مزید پاس ہو گئ اور بولی
" تمہیں تو تین چار ماہ ہوے ہیں مجھے پسند کرتے ہوے۔
میں تو چھ سات مہینوں سے تمہاری نظر التفت کی منتظر ہوں
میں نے تمہاری باہوں میں سمٹنے کو تیار تھی مگر میری نسوانی آنا اور ہماری عمروں کے فرق نے پاؤں میں بیڑیاں ڈالی ہویں تھیں اور پھر تم نے بھی کبھی پیش قدمی نہ کی، تو میں تو مایوس ہو چلی تھی"
میری باتیں سن کر پہلے تو دم حیران بیٹھا رہا پھر یکدم میری بات کو سمجھتے ہوے میرے اوپر جھکتا چلا ایا۔اور دونوں ہاتھوں میں میرا چہرہ تھام کر میری  آنکھوں میں دیکھنے لگا۔جہاں اس کے لیئے پیار کا دریا رواں تھا۔

پھر اس کا چہرہ میرے چہرے کے پاس آیا اور ہمارے ہونٹوں کے درمیان دو انچ کا فاصلہ رہ گیا۔
اس کی گرم سانسیں میرے چہرے سے ٹکرا رہا تھیں
اس کے ہونٹ نیم وا کھلے ہوئے تھے
پھر اس نے یہ دوری بھی ختم کر دی
اور بڑھ کر اپنے کپکپاتے ہونٹ
میرے لبوں پر ٹکا دیئے
میں نے اس کے بوسے کا سواگت کرتے ہوئے اپنے ہونٹوں کو کھول کر اس کےلبوں پر گرفت کر لی۔
اس کے ہونٹوں کی گستاخیاں بڑھتی چلیں گیئں۔کبھی وہ نچلا ہونٹ پکڑتے اور کبھی اوپر کا لب  چوستے۔
میرا منہ کھلتا چلا گیا اور اس نے موقعہ کا فایدہ اٹھا کر اپنی زبان میرے منہ میں گھسیڑ دی۔جس کا مقابلہ میری زبان نے نوک سے نوک ملا کر کیا۔
کبھی وہ حملہ کرتے ہوئے میری زبان کو چوستا، تو کبھی میں جوابی حملہ کرتے ہوئے اس کی زبان کو چوستی۔
اسی دوران اس کے ہاتھ میرے جسم پر رینگنا شروع ہو گئے۔
اور میری چھاتیوں کولباس کے اوپر سے ہی دبوچنے،نوچنے لگے,
اسی دوران اس نے ایک ہاتھ سے میری پشت کو تھاما اور دوسرے ہاتھ کو شرٹ کے اندر لے گیا۔
اس ہاتھ نہ قمیض کے اندر ریشمی برا کے حفاظتی بند کو ہٹاتے ہوے میری چھاتیوں تک براہ راست رسائی حاصل کر لی۔اس کے ہاتھ کا لمس اپنی ننگی جلد پر محسوس کرتے ہی مجھے جھرجھری آ گئی۔
شہوت سے تنے مموں کو اس نے پیار سے سہلانا شروع کردیا۔
کبھی ایک کو پکڑتا، پھر دوسرے کو کو سہلاتا۔
اسی دوران ہماری زبانوں اور ہونٹوں کی جنگ جاری تھی اس لڑائی میں وہ دانتوں کی کمک بھی لے اہا، اور دانتوں سے میرے ہونٹوں کو دبانے کاٹنے لگا۔
اسی دوران اس نے ہاتھ قمیض سے نکالا اور میرے ٹائٹس میں گھسا دیا۔
پہلا پڑاؤ اس نے چوت کے دانے پر کیا اور اس کی موٹائی اور چوڑائی کو سہلایا۔
پھر لمبائی کے رخ اندام نہانی کے لبوں کو بھینچا۔
میری چوت جو کہ اس واردات کے شروع سے رو رہی تھی کہ آج اس کی پٹائ ہونے والی ہے۔
اسکی راہداری کو لیس دار پاتے ہی اپنی دو انگلیاں اندر داخل کر دیں۔
اس کی اس حرکت سے میرے منہ سے ایک آہ نکل گئی۔
میری اس کراہ نے شانی کو مشتعل کر دیا اور اس نے اپنے ہاتھ کو باہر نکال کر میرے پاجامے کو گھٹنوں تک اتار دیا۔
اور آٹھ کر کھڑا ہوگیا اور اپنے ٹراؤزر کو بھی اپنی رانوں تک اتار دیا۔
اس کا لؤڑا  جوانی کے جوش اور کولڈ ڈرنک میں گھلی ہوئی ویاگرا کے اثر سے لکڑ سخت ہؤا تھا
اور جوش سے اوپر نیچے جھول رہا رہا تھا ۔
شانی نے ایک ہاتھ سے میری ٹانگوں کو اوپر اٹھا کر دبوچ لیا
میرا جسم کولہوں سے لے کر گھٹنوں تک ننگا تھا۔میری  رانوں میں بالوں سے پاک چوت کے پھولے ہوئے ہونٹ اسے دعوت دے رہے تھے۔
اس نے بھی زیادہ دیر نہیں کی اور ایک ہاتھ سے میری ٹانگوں کو تھامتے ہوے دوسرے ہاتھ سے اپنے چھ انچ کے بد معاش  کو میری معصوم پھدی کا رستہ دکھایا۔
اس کے لنڈ کا سپاڑا میر ی پھدی کے لبوں کو چیرتا ہوا آگے بڑھا۔
میری پھدی کے رس نے اس کو خوش آمدید کہا۔
مگر میری پھدی کی دیواریں اتنے عرصے بعد مہمان کو دیکھ کر خود پر قابو نہ رکھ سکیں اور موٹے مہمان کو جکڑنے کی کوشش کی۔
مگر مہمان موتا ہونے کے ساتھ طاقتور بھی تھا اور اہست آہستہ آگے بڑھتے ہوے بچے دانے کے دروازے پر دستک دے ڈالی۔
میں جو بے سدھ پڑی ہوئی تھی اس حرکت سے جھٹکا کھا گئی۔
میرے جسم میں اس کے لنڈ و پا کر خوشی بھر گئی تھی۔
جیسے تپتے صحرا میں بارش کی بوندیں اسے ٹھنڈا کر دیتیں ہیں ایسے ہی اس کے لنڈ  نے میرے وجود کو سکون بخشا تھا۔

"میری ٹانگیں  اوپر اٹھیں ہوئیں تھیں گھٹنے چھاتیوں کے ساتھ لگے ہوئے تھے۔
اس نے میرے وجود کو اپنے بازوؤں کے گھیرے میں۔ سمیٹا ہؤا تھا
اس کے  ہونٹوں نے میرے ہونٹوں کو دبوچا ہؤا تھا
میرا پاجامہ اتر کر میرے گھٹنوں میں  پھنسا ہوا تھا

میری  ننگی ہپس صوفے ہے کنارے پر ٹکی ہوئیں تھیں۔

اور شانی کا لؤڑا میری گیلی مگر ٹائٹ چوت میں کسی میخ کی
طرح گڑا ہؤا تھآ

 

Posted on: 03:27:AM 22-Dec-2020


0 0 414 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Thomas Bryton heard the bell ring sounding.....


3 0 57 4 0
Posted on: 05:33:AM 21-Jul-2021

Summary: MILF Mom catches nerdy son masturbating.....


0 0 51 2 0
Posted on: 05:28:AM 21-Jul-2021

I was 18 years old and had.....


0 10 33 5 0
Posted on: 05:18:AM 21-Jul-2021

The fair grounds were packed for the.....


0 0 39 1 0
Posted on: 11:16:AM 18-Jul-2021

The warm, gentle wind swept playfully through.....


0 1 70 9 0
Posted on: 11:03:AM 18-Jul-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com