Stories


میری پیاری چچی از ایلفا 1

دوستو یہ کہانی بہت پہلے میں نے کسی فورم پر لکھی تھی اور آپ نے شاید پڑھی ہو یہ چونکہ میری ابتدائی تحریروں میں سے ایک ہے اس لیئے ہو سکتا ہے کہ کچھ کمیاں اور قلمی بے قاعدگیاں اپ محسوس کریں اس لیئے اپ سے معزرت خواہ ہوں پر یہ میری ابتدائی تحریروں میں سے ہونے کہ باوجود پلاٹ اور فریم ورک کے لحاظ سے گزارے لائق ہے امید ہے کہ آپ لطف آٹھایں گے۔
میری نظریں اس وقت ان بڑے اور موٹے چوتڑوں پر تھیں جو اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ میرے اگے پیچھے گھوم رہے تھے، بڑے ، مظبوط اور چوڑے چوتڑ چچی کے ہر قدم کے ساتھ ہلتے اور میرے لن پر بجلیاں گرا دیتے میں مجبوراََ محصوم سی شکل بنائے اور اپنی ٹانگوں کہ بیچ میں اپنے ہتھِیار کو چھپائے اپنے دل پر جبر کرتے ہوئے اس آفت کے پرکالے کو دیکھ رہا تھا۔ یہ میری چچی سمیرا تھیں جو سب سے چھوٹے چچا کے ساتھ بیاہی گئیں تھیں، میرے والد اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں اس لیئے دونوں چاچاوں کی طرف سے اپنی اپنی بیگمات کو میرے والد کے بارے میں خاص ہدایات تھیں اور وہ ان کا احترام اپنے والد کی ہی طرح کرتے تھے اور ان کی بیگمات بھی ان کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتی تھیں۔ اس وقت میں چھوٹے چچا کے گھر میں تھا چونکہ امی ابو دونوں مذہبی فریضے کی ادائیگی کے لیئے ایک مہینے کے لیئے سعودیہ جا رہے تھے اور میرے دونوں بڑے بھائی اپنی اپنی  فیملیز کے ساتھ پہلے ہی ملک سے باہر تھے، روانگی سے پہلے جب چھوٹے چچا جب ابو سے ملنے اور مبارک باد دینے آَئے تو انھوں نے ابو سے ضد کی کہ وہ جاتے ہوئے مجھے ان کے گھر چھوڑ جائیں ابو نے کافی منع کیا کہ اب ریحان بڑا ہو گیا ہے اور اپنا خیال رکھ سکتا ہے مگر چچا نہیں مانے اور انھوں نے ابو کو راضی کر ہی لیا اور میری دلی خواہش پوری ہو گئی۔

میرا نام ریحان ہے میں بیس سال کا ہوں، جسمانی طور پر عام سا اور دماغی طور پر شیطان کا بھی باپ یعنی میرے دماغ پر ہر وقت یا تو شہوت سوار رہتی ہے یا پھر کسی کو پھسانے اور چودنے کے خیالات، شکل صورت سے معصوم لگتا ہوں جس کا میں بھرپور فائدہ اٹھاتا ہوں یونی کے لیکچرار سے لے کر لیب اسیسٹنٹ اور سینیَر جونیر کئی لڑکیاں اور عورتیں میرے لن کا مزہ چکھ چکی ہیں عام طور پر میری عمر کے لڑکوں کو جگہ کی کمی مار دے جاتی ہے پر میرے پاس ہمارے پرانے گھر کی چابی ہے جو خالی پڑا ہوا ہے جسے میں اپنے مقاصد لے لیئے بھرپور استعمال کرتا ہوں۔
چچی سمیرا کی شادی میرے چھوٹے چچا سے کوئی دس سال پہلے ہوئی تھی، میں اس وقت دس سال کا تھا مگر اس وقت بھی چچی کو دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگا تھا، کیونکہ چچی ناصرف خوبصورت تھیں بلکے دھیمے لہجے والی اور بھرپور جسم کی مالک عورت تھیں، چچا اور چچی کی جوڑی مثالی کہی جاتی تھی پر ابھی تک وہ دونوں اولاد کی نعمت سے محروم تھے اور شاید وہ دونوں اسے اپنی قسمت کا لکھا سمجھ کر صبر کر بیٹھے تھے۔ چچی اور چچا کا پیار بہت تھا اور میرا اندازہ تھا کہ چچا نے ان کے ساتھ کوئی رات بھی ضائع نہیں کی ہو گی کیونکہ شادی کے بعد چچی کا جسم انتاہی دلکش ہو گیا تھا۔ صورت تو پہلے ہی لاجواب تھی مگر اب جسم کا ہر حصہ اپنی طرف بلاتا محسوس ہوتا ہے، پانچ فٹ چھ انچ قد کے ساتھ بھرا ہوا جسم جس کی نمایاں خصوصیات بڑے اور گول ممے، مظبوط اور موٹی رانیں، موٹی اور چوڑی گانڈ، لمبے اور سیاہ بال، چوڑے کندھے، سرخ و سپید رنگ اففف کیا توپ چیز ہے میری چچی بھی۔ کبھی کبھی مجھے چچا سے حسد ہونے لگتا اور ان کی قسمت پر رشک آنے لگتا، کئی دفعہ میں نے چچی کی طرف پیش قدمی کرنے کا بھی سوچا پر ایک تو چچی اپنے شوہر سے انتاہی وفادار ہیں دوسرا ابو کے لتروں کا خوف تیسرا مناسب مواقع کی کمی بھی رہی ہے، بارحال اب کی بار میرے پاس پورا مہینہ تھا۔

اس وقت جب چچی گھر کی صفائی کر رہی تھیں اور میں بظاہر ٹی وی دیکھ رہا تھا پر جب ایسا ائیٹم سامنے مٹکتا پھر رہا ہوں کون کمبخت کسی اور طرف دیکھ سکتا ہے، میری نظر چچی کی تشریف پر چپک گئی تھیں اور میرا دل اس تشریف سے لپٹنے اور چومنے کا کر رہا تھا، تب ہی چچی نے مجھے سے پوچھا ریحان بیٹا آج یونی نہیں جانا کیا تو میں نے دل ہی دل میں چچی کے بیٹا بلانے پر برا مناتے ہوئے کہا نہیں چچی سمیسٹر ختم ہو گیا ہے نہ اس لیئے ڈیڑھ میہنے کی چھٹیاں ہیں، چچی نے سر ہلایا اور جھک کر ٹیبل پر کپڑا مارنے لگیں، مجھ سے برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا اور لن صاحب تھے جو میری ٹانگوں کے بیچ میں سے بھی سر اٹھا اٹھا کر مجھے گالیاں دے رہے تھے۔ میں نے سوچا ریحان بیٹا کچھ کرنا پڑے گا ورنہ ساری عمر اپنے لن سے زلیل ہوتا رہے گا۔ پر کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کروں کیونکہ یہ تو چچی تھیں کوئی اور عورت نہیں کہ جن کے ساتھ میں فلرٹ کروں ایک دو ٹرائی ماروں گرم ہوئی اورموقع ہوا تو کام بن جائے گا ورنہ جائے بھاڑ میں کہ اپنے لن کو ٹھنڈ ہے۔ یہ وہ خاتون ہے جو خود پیش قدمی نہ کرے یا کوئی ایسا اشارہ نہ دے تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا اور ادھر لن نے خودکشی کی دھمکی دی ہوئی ہے کہ اگر اس جسم کی لزت نہ چکھائی تو کسی کی پھٹی ہوئی چوت میں سر دے کر اپنا اپ جلا لے گا۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا کروں اور کیا نہ کروں دو دن گزر چکے تھے اور رات کو چچا کے کمرے سے ٹھک ٹھک کی اتی آوازوں کے ساتھ ہی لن نے اپنا سر پیٹنا شروع کر دیا تھا اب تو لن کا سرکش رویا میرے لیئے پرشانی کا باعث بنتا جا رہا تھا، جو چچی کو دیکھتے ساتھ ہی ضد شروع کر دیتا تھا یہ لینی ہے مجھے نہیں پتا لے کر دو اور ساتھ ہی اپنا اپ اکڑا کر رونا شروع کردیتا دل تو کرتا تھا کہ اس سے کہوں جا کر لے خودکشی پر کیا کروں دل میں بھی خواہش تھی کہ کاش ایک دفعہ موقع مل جائے پھر اپنی تمام حسرتیں پوری کر لوں گا۔ اور پھر وہ موقع مل ہی گیا، میرا چچا کے گھر شفٹ ہوئے چوتھا روز تھا، رات کو کھانے کے ٹیبل پر چچا نے چچی اور مجھ سے کہا کہ انھیں پندرہ دن کے لیئے کراچی جانا ہے، میرے چچا جونکہ چارٹرڈ اکاوٹنٹ ہیں اس لیئے انھیں کبھی کبھی شہر سے باہر جانا پڑتا ہے اگر انھیں زیادہ دنوں کے لیئے باہر جانا ہو تو وہ چچی کو ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ مگر اس دفعہ میں ان کے گھر پر تھا تو انھوں نے اکیلے ہی جانا مناسب سمجھا، یہ سنتے ہی میرے دل میں ڈھول بجنا شروع ہو گیا اور نیچے لن نے بھنگڑے ڈالنے شروع کر دیا ادھر دماغ چلنے لگا کہ کیا کرنا ہے ان پندرہ دنوں میں کہ یہ پھل میری گود میں آ گرے۔
رات کو چچا کے کمرے سے مجھے لڑائی کی آواز بھی ائی مگر اس کے بعد وہی جان لیوا ٹھک ٹھکا ٹھک، لن نے سر اوپر اٹھایا اور کہا دیکھ بھیا اگر ان پندرہ دنوں میں تو نے مجھے ان باغوں کی سیر نہ کرائی نا تو میں ساری عمر کے لیئے کھڑا نہیں ہوتا پھر پھرتا رہیں مجھے لٹکا کے اور کرتا رہیں میری منتیں میں نے بھی ٹٹوں سے یاری لگا لینی ہے اور ان سے ہی باتیں کرنی ہیں۔ لن کی یہ بکواس سن کر میرے ٹٹے سچ مچ شارٹ ہو گئے اور دماغ کو کرنٹ لگا، میں نے لیپ ٹاپ کھولا اور پنگ ویاگرا کے بارے میں پڑھنے لگا، چونکہ جب مجھے پتہ چلا تھا کہ میں نے ایک مہینے کے لیئے چچا کے گھر شفٹ ہونا ہے تو میں نے پنگ ویاگرا کافی مقدارمیں منگا لی تھی جس کی وجہ سے میری جیب کافی ہلکی ہو گئی تھی، جن لوگوں کو پنگ ویاگرا کا نہیں پتہ ان کو بتاتا چلوں، کہ یہ ایک گولی ہے جو ویاگرا کی ہی طرح کام کرتی ہے پر یہ عورتوں کےلیئے ہے، چونکہ ویاگرا خون کا پریشر جنسی عضو کی طرف بڑھا کر لن کی سختی اور سیکس کی خواہش کو بڑھاتی ہے پر اس کے سائیڈ افیکٹ بھی بہت زیادہ ہیں، عورت کی سیکس کی خواہش کا تعلق اس کے عضو کے ساتھ کم اور دماغ کے ساتھ زیادہ ہے اس لیئے کئی دفعہ ویاگرا عورتوں پر اثر نہِیں کرتی اور ان میں بیماریوں کو جنم دیتی ہے، جبکہ پنگ ویاگرا عورت کے دماغ پر اثر کرتی ہے اور ایسے مواد خارج کرتی ہے جو عورت میں شہوت کو بڑھاتی ہے۔ اس گولی کا زیادہ سے زیادہ فائدہ لینے کے لیئے امینوایسڈ کی مقدار بھی بڑھانی چاہیے اور اس گولی کا لگاتار استعمال ہی اس کا سہی فائدہ دیتا ہے۔

میں یہ تو جانتا تھا کہ چچی کو عادت پڑ چکی ہے روز سیکس کی اور ایک یا دو دن بعد ہی ان کو طلب ہونے لگے گی پر وہ شاید اس کو کنٹرول کر لیں اگر میں ساتھ کوئی طریقہ استعمال کروں تو ان سے برداشت کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہو جائے گا۔
میں نے سوچ لیا تھا کہ جو مرضی ہو جائے پر ٹرائی مارنی ہے، میں سوچنے لگا کہ یہ گولی کس طرح چچی کو استعمال کروانی ہے، میں نے چچی کی روٹین اور ان کی عادتوں کا اچھی طرح جائزہ لیا، میں نے دیکھا کہ چچی چائے کا استعمال زیادہ کرتی ہیں اور چائے کھلے دودھ کی پیتی ہیں اور میں ڈبے کے دودھ کی چائے پینے کا عادی ہوں، میں چاچی کے دودھ میں گولی ملا سکتا تھا، پر میں نے گولی کا اثر بھی دیکھنا تھا، میں اٹھا اور ایک کپ میں دودھ لے کر کمرے میں آ گیا پھر اس میں گولی پیس کر مکس کی گولی نے دودھ کے رنگ پر کوئی اثر نہیں ڈالا پھر میں نے ہلکا سا چکھ کر دیکھا دودھ کا ذائقہ بھی نہیں بدلہ تھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ روز دو گولی چچی کے دودھ میں ملانی ہیں کیونکہ اس کا کوئی سائڈ افکیٹ میری نظر سے نہیں گزرا تھا اس لیئے میں اس کا بے دھڑک اور شدید استعمال اپنی چچی کو کرانا چاہتا تھا۔ ایک دفعہ یہ پردہ ختم ہو گیا تو پھر موجاں ہی موجاں۔

مجھے یہ تو پتہ تھا کہ چچا کے جانے کے بعد یہ دودھ میں نے ہی لے کر انا ہے اور دودھ لاتے وقت ہی میں اس میں گولیاں پیس کر ملا سکتا تھا، پر گولیوں کے علاوہ بھی مجھے کچھ ایسا کرنا تھا کہ چچی کا اپنے اوپر قابو نہ رہے اور مجھے اپنے اوپر چڑھا لیں۔
صبح جب چچا چلے گئے تو میں نے اپنے پلین کے مطابق دو دو گولیوں کو پیس کر ان کے پیکٹ بنا لیئے اور ایک پیکٹ جیب میں رکھ لیا، میں ناشتے کے بعد اپنے لیپ ٹاپ پر کوئی مووی دیکھ رہا تھا کہ تب ہی وہ آفت میرے پاس آئی اور کہا ریحان بیٹا ذرا دودھ تو لا دو مارکیٹ سے میں نے بےواقوف بنتے ہوئے پوچھا کون سا نیسلے یا کوئی اور تو چچی اپنی پاگل کر دینے والی مسکراہٹ کے ساتھ بولیں نہیں یار کھلا دودھ لے کر آو میں نے پھر پوچھا کتنا تو انھوں نے کچھ سوچ کر کہا ایک لیٹر ہی لے آو ٹھرو برتن دیتی ہوں، میرا دل تیز دھڑک رہا تھا چچی مڑی اور اپنی چوڑی اور خوبصورت بنڈ مٹکاتی کچن کی طرف گئی تو لن کو آگ لگ گئی اور اس نے وہی رونا شروع کر دیا مجھے نہیں پتا لے کر دو میں نے لن کی گردن دبا کر اس کی سانس بند کی اور اسے خاموش کروایا اور کہا مروائے گا صبر کر تھوڑا سا، چچی برتن لے کر کچن سے باہر ائی تو لگا کہ دنیا سلو موشن میں چلنے لگی ہے اور چچی کے ہر قدم کے ساتھ ان کے خوبصورت ممے ہلکا سا جھٹکا لیتے اور لن سسکی لے کر رہ جاتا، میں نے جب دیکھا کہ چچی نے میری گندی نظروں کو نوٹس کرنا شروع کر دیا ہے تو میں نے سر جھکا لیا اور لن کی کلاس لی خود بھی مرے گا مجھے بھی مروائے گا، چچی نے برتن مجھے پکڑایا اور کچھ کرنسی نوٹ میرے ہاتھ پر رکھ دیئے میں نے وہ لینے سے انکار کر دیا تو چچی نے اپنا ہاتھ مجھے دکھاتے ہوئے کہا بچے تھپڑ کھاو گے یہ لو اور کوئی نخرہ نہیں، میں نے بھی جواب دیا مار لو آپ پر میں آپ سے نہیں لوں گا اور باہر کی طرف دوڑ لگا دی وہ تو شکر ہے یونی بند تھی ورنہ میری ہلکی جیب نے بڑا پریشان کرنا تھا، خیر دودھ لے کر میں گاڑی میں آ بیٹھا اور ارد گرد کا جائزہ لے کر اپنی جیب سے پیکٹ نکالا اور دودھ میں ڈال دیا اور برتن بند کر اپنے آپ سے کہا لے بیٹا یا تو آر یا پھر پار۔

سارا دن گزر گیا تھا پر چچی کے رویے میں کوئی بدلاو نہیں آیا تھا، اور میں سوچ رہا تھا کہ میری انوسٹمنٹ ضائع گئی، اگلا دن پھر کچھ خاص نہیں ہوا تھا، میں مایوس ہوتا جا رہا تھا، تیسرا دن تھا آج چچی کو پنگ ویاگرا ستعمال کرواتے ہوئے پر کچھ نہیں ہو رہا تھا، میں نے دوبارہ سے اس گولی کے بارے میں پڑھنا شروع کر دیا، مگر ہر جگہ اس گولی کے بارے میں سب صیع لکھا ہوا تھا، مگر ایک چیز ہر ہی جگہ لکھی تھی کہ یہ گولی لگاتار استعمال سے فائدہ دیتی ہے میرے پاس صرف بارہ دن رہ گئے تھے مگر ارادےمظبوط تھے میں نے فیصلہ کر لیا کہ آخری دن تک گولی دودھ میں ملاوں گا شاید آخری رات ہی کچھ ہو جائے۔
  چوتھا روز تھا چچی کو گولی استعمال کرواتے ہوئے میں کال آف ڈیوٹی کھیل رہا تھا میں نے ہیڈ فون لگائے ہوئے تھے مجھے نہیں پتہ چلا کہ چچی میرے ساتھ آ کر بیٹھ گئی ہیں اور مجھے کھیلتے ہوئے دیکھ رہی ہیں، اگر کسی نے ٹیم کمبیٹ میں حصہ لیا ہو تو اسے پتہ ہو گا کہ لڑکے کتنی گندی گالیاں اور زبان استعمال کرتے ہیں، چچی دوسری طرف کی آواز تو نہیں سن سکتی تھی پر میں جو کچھ بکواس کر رہا تھا وہ انتہائی بے ہودہ تھا، چچی حیران پریشان سی مجھے بکواس کرتے ہوئے سن رہیں تھیں پھر انھوں نے مجھے اواز دے کر اپنی موجودگی کی احساس دلانے کی کوشش کی پر ایکسپلوزوز اور گن تھنڈر کی وجہ سے مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا چچی میری بے ہودہ بکواس کافی دیر تک سنتی رہیں اور پھر اٹھ کر اپنے کمرے میں چلیں گئیں۔
شام کو کچھ دوستوں سے ملنے باہر جانے لگا تو میں چچی کو بتانے کے لیئے ان کے کمرے کی طرف گیا، میرے زہن میں اس وقت خاص نہیں تھا پر میں نے جو اس وقت میں نے چچی کو جس حالت میں دیکھا اس نے میری حالت خراب کر دی، چچی بستر پر الٹی لیٹیں تھیں اور ان کی ٹانگوں کے بیچ میں تکیہ تھا، چچی کی موٹی بنڈ اس وقت قہر ڈھا رہی تھی، میرا دل کیا کہ میں ابھی اس بنڈ پر چڑھ جاوں اور اس کے ہر انچ کو محسوس کروں اسے چوموں اسے چاٹوں پر کیا کروں میں ایسا کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ میں دوبارہ کمرے سے باہر آیا اور کمرے سے نکل کر سوچا بیٹا اگر اسی طرح چلتا رہا تو کچھ نہیں کر پائے گا اور یہ موقع بھی نکل جائے گا۔ میں نے باہر جانے کا ارادہ بدل لیا اور چاچی کو گھیرنے کا فیصلہ کیا، میں نے وہیں کھڑے کھڑے آواز لگائی چاچی، چاچی کدھر ہو، تھوڑی دیر بعد کمرے سے آواز آئی ریحان میں یہاں ہوں، میں کمرے میں داخل ہوا اور کہا چچی میں نے چائے پینی ہے بنا دو گی کیا، چچی نے مسکرا کر کہا کیوں نہیں میرے بچے بس دس منٹ میں فریش ہو جاوں پھر بنا دیتی ہوں اور اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھ گئیں ان کے قیامت خیز ممے اور وہ ہلتی مٹکتی گانڈ میرے صبر کے تمام بند توڑ رہی تھی۔

میں گیلری میں آ کر بیٹھ گیا اور سامنے لان اور پھولوں کو دیکھنے لگا، ایک پھول مجھے پسند ایا میں نے اسے قریب سے جا کر دیکھا اور پھر اسے توڑ لیا، چچی مجھے آواز دے رہیں تھیں میں نے جواب دیا باہر ہوں، تو وہ ہاتھ میں ٹرے پکڑی باہر ائیں جس میں دو کپ چائے تھی، انھوں نے ایک کپ مجھے پکڑایا اور دوسرا خود اٹھا کر ٹرے ٹیبل پر رکھ دی میں نے وہ پھول جو ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا چچی کی طرف بڑھا دیا، چچی نے مسکرا کر وہ پھول میرے ہاتھ سے لے لیا اور کہا شکریہ میرے بچے، میرے سارے ارمانوں پر اوس پڑ گئی اور لن کی ہنسی چھوٹ گئی جو سر اٹھا اٹھا کر مجھے کہہ رہا تھا بڑا آیا رومیو شکل دیکھ اپنی، وہ سمجھ رہی ہے تیرے پاس سامان پورا نہیں ہے، اسے دکھا کہ تو پورے سے زیادہ سامان رکھتا ہے ایک دفعہ میری صورت تو دکھا دے اسے پھر دیکھیں کیسے تیرے نیچے ہوتی ہے۔

میں نے  چچی کی طرف دیکھا اور کہا چچی بور نہیں ہوتی آپ سارا دن گھر رہ رہ کر میں تو بور ہو گیا ہوں، کہیں باہر چلیں گھومنے تو چچی نے کہا نہیں ریحان میں آپ کے چچا کہ ساتھ ہر جگہ جاتی ہوں اور میں ان کے بخیر کہیں نہیں جاتی، لن نے پھر کہا ہور چوپ لے مزے، میں خاموش ہو کر چائے پینے لگا۔

رات کو کھانے کہ بعد میں نے ایک مووی لگا لی اور بیٹھ کر دیکھنے لگا، چچی بھی میرے پاس آ کر بیٹھ گئیں، مووی کوئی وار مووی تھی، اور آپ کو پتہ ہے امریکن فوجی گندی زبان کا استعمال بہت زیادہ کرتے ہیں، چاچی نے جب دیکھا کہ یہ وہی بکواس ہو رہی ہے جو میں دوپہر کو گیم کھیلتے وقت کر رہا تھا، تو انھوں نے کہا اچھا یہ ساری گالیاں اور بکواس تم نے یہاں سے سیکھیں ہیں، میری گانڈ پھٹ کر ہاتھ میں آ گئی، چچی پھر بولیں بیٹا بہت گندی بات ہے تم بہت بے ہودہ زبان استعمال کرتے ہو، شرم سے میرے پسینے چھوٹ گئے، چچی نے پھر کہا میں بھابی سے بات کروں گی کہ تم پر نظر رکھیں تم ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہو، میں نے نظر آٹھا کر دیکھا اور چچی کو کہا چچی غلطی ہو گئی معاف کر دیں پر کیا کروں سب لڑکے اس طرح کی ہی بکواس کرتے ہیں مجھے بھی جواب دینا ہوتا ہے تو اس طرح کی بکواس ہی منہ سے نکلتی ہے۔ چچی ہنس پڑیں اور کہا ڈرو نہیں کسی کو کچھ نہیں کہوں گی مجھے پتہ ہے کہ تم لڑکے کس طرح کی باتیں کرتے ہو، اچھا یار کوئی اور مووی لگاو یہ کیا لگایا ہوا ہے ، میری سانس میں سانس آئی اور میں نے چچی سے پوچھا کہ کوں سی مووی لگاوں تو انھوں نے کہا کہ کوئی انڈین مووی لگا دو، ہمارے درمیان برف پگھل رہی تھی پر ابھی بہت سے پردے اور منزلیں باقی تھیں۔
میں نے کوئی انڈین مووی لگا دی جو مجھے ابھی یاد نہیں ہے جب اس طرح کی عورت اتنے پاس بیٹھی ہو تو کوئی ٹھنڈی سٹ کی پیداورہی کسی اور طرف دھیان دے گا، خیر چچی مووی دیکھ رہی تھیں اور میں چوری چوری ان کو دیکھ رہا تھا، چچی نے اپنی ایک ٹانگ اٹھا کر دوسری ٹانگ پر رکھ لی اور صوفے کی ٹیک اور بازو سے لگ کر آرام سے بیٹھ گئیں، اور ادھر میری حالت پتلی ہو گئی، افف کیا ران تھی اور کیا ہی گانڈ ہو گی، میرا تو سانس بند ہو رہا تھا پر لن نے ادھم مچایا ہوا تھا لینی ہے لینی ہے لے کر دو میں نے آرام سے اپنی ٹانگوں کے بیچ میں لن کو پھسا کر اسے دبا دیا، پھر میں نے بھی اپنی ایک ٹانگ اٹھا کر اپنی دوسری ٹانگ پر رکھی تاکہ بلوتوتھ کنکشن تو صیح بنے، مجھے لگا کہ چچی نے میری اس حرکت کو نوٹ کیا ہے اور ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی، میں بھی چچی کی طرح صوفے کے دوسرے کونے پر بیٹھا ہوا تھا، پھر چچی نے مسکراتے ہوئے اپنی پوزیشن صیح کی اور میں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی صیع ہو کر بیٹھنے میں ہی بہتری سمجھی، چچی ہنس پڑیں اور مجھے کہا ریحان میری نقل اتار رہے ہو، میں نے ان کی طرف دیکھا اور سر ہلا کر کہا جی، تو انھوں نے مصنوعی سا غصہ کرتے ہوئے کہا کیوں مجھے تنگ کرنا چہا رہے ہو، میں نے بھی لاپرواہی سے کہا ہاں تھوڑا سا، وہ پھر ہنس پڑیں اور بولی کیوں ، تو میں نے فوراََ کہا یار اتنے دن ہو گئے ہیں نہ کسی کی ڈانٹ کھائی ہے نہ کسی سے لتر اوپر سے آپ انتاہی بور ہو، چچی کے ماتھے پر بل پڑے اور کہا ریحان کیا میں واقعی ہی میں بور ہوں، تو میں نے کہا نہیں تو اور کیا پتہ نہیں میرا کیا بنے کا ان بیس بائیس دنوں میں، چچی نے مسکراتے ہوئے کہا تجھے لتر کھانے ہیں تو میں لگا دیتی ہوں اس میں اتنا پریشان ہونے والی کون سی بات ہے، میں نے کہا ایسے نہیں کھانے مجھے کوئی لتروتر کوئی وجہ بھی تو ہو آپ کیا سمجھ رہیں ہیں کہ میں آرام سے کھا لوں گا مار، نہیں میڈم جی امی کو بھی اپنا چھتر مجھے مارنے کے لیئے کم از کم سو دو سو میٹر سپرینٹ کرنا پڑتا ہے اور وہ بھی ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکیں نشانے پر چھتر مارنے کی، چچی میری باتیں سن کر ہنس رہیں تھیں اور وہ مجھے کوئی معصوم سا شرارتی بچہ سمجھ رہیں تھیں اور یہ بات میرے فائدے میں تھی۔

خیر اسی طرح کی فضول باتیں کرتے کرتے چچی مجھ سے کافی فری ہو گئیں، جب رات کے گیارہ بجے تو ان کے موبائیل پر چچا کا فون آ گیا اور وہ اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چل پڑیں، میں مایوس ہو گیا کہ لو آج کا دن بھی ضائع ، میں نے تھوڑی دیر مووی دیکھی انتاہی بکواس اور فضول سی کوئی مووی تھی، میں نے ٹی وی بند کیا اور اپنے کمرے کی طرف جانے لگا، تب ہی مجھے چچی کے کمرے سے چچی کی آواز آئی یار بہت مس کر رہی ہوں آپ کو، پتہ نہیں کیسے گزریں گے یہ دن پتہ نہیں دوسری طرف سے کیا کہا گیا مگر جو چچی نے کہا وہ میرے لیئے کسی سرپرائز سے کم نہیں تھا، یار آگ لگی ہوئی ہے نیچے اور آپ کہہ رہے ہو کہ صبر کروں مجھ سے نہیں ہو رہا صبر یہ عادت بھی آپ نے ہی ڈالی ہے نہ بس اب آ جاو نا یار، میرے تو طوطے آڑ گئے کہ چچی اتنی گرم ہے افف افف۔ میں نے اپنے لن کو دونوں ہاتھوں میں پکڑا اور اپنے کمرے میں جا کر لن کو سمجھایا بیٹا تھوڑا صبر کر لے بس ایک یا دو دن گیم اپنے کورٹ میں آ چکی ہے تھوڑی احتیاط کرنی ہے، کام تو آج بھی ڈال سکتا تھا پر مجھے لمبے ٹائم کے مزے چاہیں یہ نہ ہو کہ ایک دفعہ کہ بعد چھٹی ہو جائے۔
صبح میں جلدی اٹھ گیا اور فریش ہو کر کچن کی طرف گیا تو دیکھا کہ کچن میں کوئی نہیں ہے میں نے چچی کے روم کی طرف جا کر دیکھا تو دروازہ بند تھا یعنی چچی سو رہی ہیں، میں نے کچن میں جا کر اپنے لیئے چائے بنائی اور پھر کچھ سلائس گرم کر کے ٹیبل پر بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگا، میں ناشتہ کر رہا تھا کہ چچی کے کمرے کا دروازہ کھلا اور وہ ہڑبڑا کر باہر نکلیں، اور مجھے دیکھ کر تھوڑا شرمندہ ہوتے ہوئے کہا سوری ریحان رات کو نیند نہیں آئی اور بہت دیر سے سوئی اس لیئے صبح جلدی نہیں اٹھا گیا، میں نے مسکرا کر کہہ اٹس او کے، آپ نے ناشتہ کرنا ہے نا چلیں آج آپ کا ناشتہ میں بناتا ہوں، آپ فریش ہو جائیں، چچی ہنس پڑیں اور کہا تم اور ناشتہ واہ کیا بات ہے، میں نے کہا آپ مجھے انڈرایسٹیمیٹ کر رہی ہیں، آپ فریش ہو کر ائیں میں ناشتہ بناتا ہوں پھر بات کریں گے میرے سکلز کے بارے میں، چچی نے سر ہلایا اور مسکراتی دوبارہ اپنے کمرے میں گھسنے لگیں تو میں نے کہا، میڈیم ناشتے میں کیا پسند فرمائیں گی، تو چچی نے مسکراتے ہوئے کہا چائے اور اوٹس فلیکس، میں نے با اخلاق بٹلر کی طرح ہاتھ باندھ کر سر کو ہلکا سا جھکایا اور پھر پوچھا اور کچھ میڈیم، چچی نے قہقہ لگایا اور کہا بکواس نہیں کرو ریحان مجھے پہلے ہی شرم آ رہی ہے، میں نے دوبارہ سر جھکایا اور کہا جیسے آپ کی مرضی اور مڑ کر کچن کی طرف جانے لگا، جب دیکھا کہ چچی ہنستی مسکراتی اپنے کمرےمیں چلی گئیں ہیں تو میں نے جلدی سے ٹیبل سے چائے کا کپ اٹھایا اور ایک بڑا سا سپ لے کر چائے ختم کی اور کچن میں گھس گیا، میں نے چچی کے لیئے چائے بنانا شروع کی اور فلیکس ایک باول میں نکال کر اسے ایک ٹرے میں رکھا اور جلدی سے کچھ فروٹس کے سلائس بنا کر ٹرے میں سجائے اور پھر دودھ ایک جار میں ڈال کر فلیکس کے ساتھ رکھے اور ایک تنقیدی نظر ٹرے پر ڈالی تو کچھ سلائس دوبارہ ترتیب سے رکھے پھر چائے نکال کر ایک کپ میں ڈالی اور اسے بھی ٹرے میں رکھ دیا تب ہی لگا کہ چچی کے کمرے کا دروازہ کھلا ہے میں نے جلدی سے ایک کپڑا اٹھا کر اپنے ایک بازو پر ڈالا اور اسی ہاتھ میں ٹرے پکڑ کر اپنا ایک ہاتھ پیچھے باندھا اور کچن سے نکلتے ہوئے ایک واس سے ایک پھول نکال کر اپنے پیچھے والے ہاتھ میں پکڑ لیا، چچی نے مجھے دیکھا تو کرسی پر بیٹھ گئیں میں ان کی کرسی کے پیچھے گیا اور جھک کر کہا میڈیم آپ کا ناشتہ اور ٹرے ان کے سامنے رکھ دی، چچی میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھیں پھر پھول والا ہاتھ اگے کیا اور ان کے سامنے پھول کرتے ہوئے کہا فار یو میڈیم، پہلے تو ان کی انکھوں میں شرم کی جھلک نظر ائی اور پھر ستائشی نظر سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا تھینک یو مسٹر ریحان اور میں نے سر جھکا کر کہا ویلکم میڈیم، اور چچی نے میرے سر پر ہلکی سی چپت لگاتے ہوئے کہا یار بس کرو اب شرم آ رہی ہے مجھے، میں نے مسکراتے ہوئے کرسی کھینچی اور ان کے سامنے بیٹھ کر ان کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا، چچی مجھے دیکھتے ہوئے ہنس رہی تھیں اور میں ان کی ہنسی کو انجوائے کر رہا تھا، پھر وہ خاموش ہوئیں اور بولیں تیری تو بیگم کے مزے ہوں گے ریحان قسم سے، میں نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا پتہ نہیں کب آئیں گے وہ دن، چچی پاگلوں کی طرح ہنسنے لگیں اور میں ان کی ہنسی میں کھو گیا، چچی نے ہنستے ہوئے ہی کہا بہت جلدی ہے میں بات کرتی ہوں بھائی صاحب سے کہ لڑکا بہت مچل رہا ہے، میں نے معصوم سی شکل بناتے ہوئے اور دونوں ہاتھوں کو ان کے سامنے جوڑ کر مٹھی بناتے ہوئے کہا پلیز چچی آپ کا احسان ہو گا کوئی ابو کو بھی تو سمجھائے کہ پڑھائی کے علاوہ بھی غم ہیں، چچی کا ہنس ہنس کر برا حال ہو چکا تھا ان کا گلابی چہرہ لال ہو گیا تھا ان کی انکھوں سے پانی بہہ رہا تھا اور ان کے موتی جیسے ترتیب سے لگے دانت دیکھ دیکھ کر میرا دل واقع میں دھڑکنا بھول گیا تھا، چچی نے ہنستے ہوئے اپنی انکھیں صاف کیں اور پھر کہا ریحان تم گھر میں بھی ایسے ہی ہوتے ہو، میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا اور کہا کیسے، تو چچی تھوڑا سنجیدہ ہوتے ہوئے بولیں ایسے ہی جیسے یہ حرکتیں کر رہے ہو، میں نے جواب دیا اور ایسے ہی روز لترول ہوتی ہے میری ان ہی حرکتوں کی وجہ سے کبھی امی اور کبھی ابو پھینٹی لگا رہے ہوتے ہیں، چچی نے مسکراتے ہوئے کہا تمھیں شرم نہیں اتی اتنے بڑے ہو گئے ہو پھر بھی ان کی مار کھاتے ہو، میں نے بھی سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا ایسی بات نہیں ہے پر عادت سے مجبور ہوں اور ان کی مار بھی کیا مار ہے وہ بھی تو پیار سے مارتے ہیں اور اگر ابو کبھی غصہ ہو بھی جائیں تو آرام سے سن لیتا ہوں سب کچھ ویسے بھی تو پتہ نہیں باہرٹکے ٹکے کے لوگ کیا کہتے رہتے ہیں ان کی باتیں بھی سنتے ہیں وہ تو امی ابو ہیں ان کی تو کیا ہی بات ہے۔ چچی نے میرے سر میں ہاتھ پھیرا اور میرے بالوں کو خراب کیا اور کہا واہ بہت عقلمند ہو میں تو سمجھتی تھی کہ تم بھی آج کل کے لڑکوں کی طرج بے پروا ہو گے ہر چیز سے، میں نے چچی کا ہاتھ پکڑ لیا جو میرے سر پر تھا اور کہا یار میرا سٹائل خراب کر دیا پھر گھنٹہ لگے گا، چچی نے میرے گال پر ایک ہلکا سا تھپڑ لگایا اور کہا کوئی نہیں خراب ہوا آرام سے بیٹھ، اور اپنا ناشتہ کرنے لگیں
چچی نے ناشتہ کیا اور پھر کہا ریحان بہت شکریہ چلو پکی دوستی کرتے ہیں میں آج بہت دنوں بعد اس طرح ہنسی ہوں اور اتنا اچھا ناشتہ کیا ہے تھینکس، میں نے منہ بنا کر کہا تو کیا میں اپ کا دوست نہیں ہوں چچی نے میرے گال پر چٹکی کاٹی اور کہا دوست تو ہو پر کچے والے آج پکی دوستی کر لو، میں نے اپنا گال مل کر کہا یار ایک تو یہ بہت گندی عادت ہوتی ہے آپ آنٹیوں کی گال ہی لال کر دیتی ہو، چچی پھر قہقہ لگا کر ہنسنے لگیں اور دونوں ہاتھوں کو میرے گالوں کی طرف بڑھایا تو میں نے دوڑ لگا دی چچی ہنستے ہوئے میرے پیچھے دوڑ پڑیں، اور کہا رک میں آنٹی لگتی ہوں تجھے، میں نے بھی دوڑتے ہوئے کہا چچی کو انگریزی میں آنٹ ہی کہتے ہیں، چچی رک گئیں اور اپنی کمر پر ہاتھ رکھ کر سانس لیتے ہوئے کہا، ٹھیک ہے پھر اور ساتھ پڑی کرسی پر بیٹھ گئیں، میں ان کے پاس گیا اور کہا کیا ہوا، تو چچی ایک دم کھڑی ہو گئیں اور میرے دونوں گالوں پر چٹکی کاٹ لی اور ہنسنے لگیں میں نے رونے والی شکل بناتے ہوئے کہا کوئی دوستی نہیں آپ سے یار آپ تو بہت بے رحم ہو، چچی نے ہنستے ہوئے مجھے جھپی ڈالی اور جہاں مجھے چٹکی کاٹی تھی وہاں پیار کرتے ہوئے کہا اچھا نا یار سوری، نیچے لن غش کھا کر آپے سے باہر ہو رہا تھا اور مجھے لگ رہا تھا کہ اگر اج میں نے لوہے کا کچھا بھی پہنا ہوتا تو لن صاحب نے اسے بھی پھاڑ کر شور مچا دینا تھا، لینی ہے لینی ہے مجھے نہیں پتہ لے کر دو۔

چچی مجھ سے علیدہ ہوئیں اور کہا اچھا میں چینج کر کے آتی ہوں پھر کچھ گراسری لینی ہے وہ لے آتے ہیں مارکیٹ سے، میں نے کہا اوکے میں بھی چینج کر لوں شاید کوئی لڑکی ہی پھس جائے میرے ساتھ اور میری بھی موجیں ہو جائیں، چچی نے مسکراتے ہوئے ایک تھپ میری کمر پر لگایا اور کہا باز آ جاو ریحان، میں نے حیرانی سے کہا کس چیز سے میڈیم جی، تو بولیں اپنی حرکتوں سے، میں نے کہا یار زندگی میں تھوڑا رنگ بھی ہونا چاہیے نا ورنہ تو ساری عمر آپ جیسی آنٹیاں لاڈ کر کر کے ہی کسی کام کا نہیں چھوڑیں گی، چچی کو پہلے میری بات کی سمجھ نہیں لگی مگر جب لگی تو اپنے پاوں سے جوتی اتارتے ہوئے کہنے لگیں شرم کر، میں ہنستا ہوا اپنے کمرے میں گھس گیا۔ میں نے چینج کی اور اپنے آپ کو مرر میں دیکھا اور خود کی تعریف کرتے ہوئے کہا چل شکاری میدان کھلا ہے اور شکار سامنے ہے۔ اور کمرے سے باہر آ گیا، اور صوفے پر بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے لگا، تھوڑی دیر میں چچی بھی باہر آ گئیں، جب وہ باہر نکلیں تو میری سانس اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے ہی رہ گئی اف سفید کلر کی قمیض اور نیچے جینز جو بہت مشکل سے ان کی گانڈ اور رانوں کو چھپا رہی تھی، پھر وہ دوپٹہ کھلے بالوں پر، اور پاوں میں ہیل والے سینڈل اففف توبہ، میں نے چچی کو دیکھتے ہوئے کہا کیا ارادہ ہے میڈیم جی، تو چچی نے پہلے اپنے اپ کو دیکھا پھر مجھے دیکھتے ہوئے حیرانی سے کہا کیوں کیا ہوا، میں نے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا میڈیم باہر کسی کو نہیں پتہ کہ اپ کسی کی منقوح ہیں اور دوچار نے ویسے ہی لڑک جانا ہے آپ کو دیکھ کر اور چار پانچ نے رشتہ بھجوا دینا ہے اور کچھ میرے جیسوں نے صرف آہیں بھرنی ہیں، چچی نے مسکراتے ہوئے کہا اویں فضول بکواس کرتا رہتا ہے، کچھ نہیں ہوتا پر ان کے چہرے سے لگ رہا تھا کہ ہر عورت میں شدت سے پائی جانے والی بیماری ان میں بھی موجود ہے، جب انھوں نے مجھے کہا چلو تو میں نے گھڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا مانا کہ آپ کے دیوانے شہر میں ہزار ہوں گے پر اتنی صبح کون الوکا پٹھا دکان کھولے گا، چچی کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور بولیں ہاں ٹھیک کہہ رہےہو، پر کیا مطلب میرے دیوانے، میں نے کہا میڈیم جب اپ باہر نکلتی ہوں گی تو لوگ تو اپ کو ہی دیکھتے ہوں گے نا اپنا کام کون دیکھتا ہو گا، چچی نے مسکراتے ہوئے کہا ریحان یار شرم کر میں تیری چچی ہوں، میں نے بھی سر جھکا کر کہا اوکے چچی جان، تو وہ ہنس پڑیں اور میرے پاس بیٹھتے ہوئے کہا باز نہیں ائے گا اس فلڑٹ کرنے سے، میں نے ان کی طرف دیکھے بخیر کہا کون بدقسمت اپ سے فلرٹ کرنا چاہے گا جو بھی چاہے گا وہ سب کچھ حقیقت میں ہی چاہے گا، چچی نے مسکراتے ہوئے کہا توبہ ہے یار تمھاری بھی کسی رانجھے کے جاننشین، میں نے بھی اچھل کر صوفے پر اپنی پوزیشن ٹھیک کرتے ہوئے کہا مطلب اپ میری ہیر ہیں، چچی نے ایک لمبی سی سانس لی اور کہا ریحان بس کر میں نے انگلی منہ پر رکھتے ہوئے کہا اوکے۔ تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد چچی میرے قریب ہوئیں اور بولیں سچ میں تیری کوئی گرل فرینڈ نہیں ہے، میں نے ان کی طرف دیکھا اور کہا کوئی آپ جیسی ملی ہی نہیں ورنہ اسے گرل فرینڈ کیا اپنی لائف پاٹنر بنا لیتا چاہے ابو سے روز لترول کروانی پڑتی، چچی نے مسکراتے ہوئے کہا میں اچھی لگتی ہوں آپ کو، تو میں نے بھی ان کسی معصوم سے عاشق کی طرح سر جھکا کر ہلکا سا کہا بہت زیادہ، چچی ہنس پڑیں اور کہا تو باز نہیں ائے گا میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا میں نے تھوڑی شروع کیا تھا اپ خود ہی پوچھتی ہو پھر مجھ پر ہی غصہ کرنے لگتی ہو، اور جو دل میں ہے وہ زبان پر آ جاتا ہے۔

مجھے اندازہ تھا کہ گولیوں نے اپنا کام شروع کر دیا ہے چچی کی چوت اس وقت لن مانگ رہی ہے کیونکہ تمام اشارے ٹھیک اسی طرف تھے، اب یہ میرا فرض بنتا تھا کہ اس چوت کو ٹھنڈا بھی کروں اور اپنا دیوانہ بھی بنا لوں اس کے لیئے مجھے تھوڑا اور صبر کرنا تھا ورنہ لوہا تو اب گرم ہو ہی چکا تھا پر میں اس لوہے کو پگھلا کر اپنی مرضی کی مورت بنانا چہاتا تھا۔
چچی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اچھا کیا پسند ہے اپ کو مجھ میں، میں بے بھی کسی اجڑے ہوئے عاشق کی طرح جواب دیا پوچھیں کیا نہیں پسند آپ میں مجھ کو، چچی نے حیرت سے میرے کندھے پر بازو لپیٹتے ہوئے کہا اچھا چل بتا کیا نہیں پسند، اس وقت اس بلا کے ممے میرے بازو سے ٹچ ہو رہے تھے اور میرا حلق خشک ہو رہا تھا ان کے جسم سے اٹھتی ہوئی مہک نے مجھے فل ٹن کر دیا تھا، میں نے تھوک نگلتے ہوئے چچی جان قسم سے اپ میں کوئی ایسی  بات نہیں جو مجھے پسند نہ ہو، انھوں نے لمبا سا ہوں کیا اور کہا واہ میرے رانجھے آپ تو بہت بڑے فلرٹ ہو، میں نے غصے سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا میں آپ کو فلرٹ کرتا ہوا لگ رہا ہوں تو چچی نے ہاں میں سر ہلا دیا، میں نے روٹھنے والے انداز میں ان کا بازو اپنے کندھے سے ہٹایا تو لن نے کہا کمبخت کیا کر رہا ہے، تو دل نے جواب دیا بڑی جنگ جیتنے کی لیئے چھوٹی موٹی لڑائیاں ہارنی پڑتی ہیں۔ چچی نے میرا روٹھنا دیکھا تو ہنستے ہوئے کہا اوئے میرے رانجھے بس اتنی سی ہی برداشت ہے، میں نے کوئی جواب نہیں دیا، چچی نے تھوڑا سیریس ہوتے ہوئے کہا کیا ہوا برا لگا، میں نے نہیں میں سر ہلا دیا، چچی نے پھر کہا تو یہ کیا ہے، میں نے کہا برا نہیں لگا اپنے آپ پر افسوس ہوا کہ کیسے سمجھ لیا کہ آپ میری فیلنگز سمجھ جائیں گی، چچی نے میرے بازو کو پکڑا اور پھر میرا چہرے پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف گھما کر کہا، ریحان تمہیں پتا ہے کہ تم کیا بات کر رہے ہو، میں نے ان کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ہاں پتا ہے اس لیئے ہی خاموش ہو گیا تھا کہ آپ برا مان جائیں گی، چچی نے غور سے میری انکھوں میں دیکھتے ہوئے میرے گال پر پیار کیا اور کہا نہیں سمجھ رہی آپ کو غلط پر اپ کو میری طرف سے نہ روکنا غلط ہے، میں نے کسی برباد عاشق کی طرح کہا میں کچھ مانگ تو نہیں رہا اپ سے بس اپ کو خوش دیکھنا چاہ رہا ہوں، چچی کی گرم سانسیں میرے انگ انگ میں آگ لگا رہیں تھیں اور ان کی وہ نظریں اس آگ پر تیل ڈال رہیں تھیں، چچی نے کہا تم بہت چھوٹے ہو یہ سب سمجھنے کے لیئے پر جیسے ہو بہت اچھے ہو بس ایسے ہی رہو اس سے اگے بربادی ہے میری جان، میں نے پھر اسی لہجے میں جواب دیا میں اپنی جگہ پر ہی ہوں اور آپ کے لیئے ساری عمر ایسے رہنے کے لیئے بھی تیار ہوں۔ چچی نے میرے چہرے کو غور سے دیکھا اور پھر میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے میں نے انکھیں بند کر ان نرم اور نم ہونٹوں کی طلب کو محسوس کیا مگر اپنے آپ کو کچھ کرنے سے روکے رکھا، حتہ کہ لن نے نیچے غدر مچایا ہوا تھا، چچی نے جب میری طرف سے کوئی پیش قدمی محسوس نہیں کی تو اپنے ہونٹوں کو میرے ہونٹوں سے ہٹایا میری بند انکھوں پر رکھ کر باری باری چوما، میں نے انکھیں کھولیں اور ان کے دور ہوتے ہوئے چہرے کے پیچھے ہاتھ رکھ کر ان کے ہونٹوں سے دوبارہ ہونٹ جوڑ لیئے، کبھی اوپر والے لب کو چومتا کبھی نیچے والے لب کو پھر اپنی زبان سے ان کے ہونٹوں کو علیدہ کیا اور زبان کو ان کے منہ میں دے دیااور ان کے منہ کے اندر اس زبان کو گھمانا شروع کر دیا، چچی کی سانس بہت تیز ہو گئی تھی انھوں نے ایک دم اپنے ہونٹوں کو سختی سے بند کیا اور میری زبان کو چوسنا شروع کر دیا، میرے ٹٹے بھی مجھے اپنے پیٹ میں محسوس ہوئے جنھیں لن نے ٹھڈوں پر رکھا ہوا تھا، عجیب سا سرور تھا وہ بھی، میں سچ مچ میں اس خاتون کا دیوانہ بنتا جا رہا تھا، میں نے بہت سی عورتوں کے ساتھ یہ سب کیا تھا پر جو مزا اور سرور اس وقت آ رہا تھا اس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا، چچی نے کافی دیر میری زبان کو چوسا اور پھر اپنے ہونٹ کھول دیئے اور میں نے اپنی زبان ان کے منہ سے نکال کر ان کے لبوں پر پھیری تو چچی نے اپنی تیز سانسوں کے ساتھ میری طرف دیکھا میں نے ایک ہاتھ ان کے سر کے پیچھے رکھا ہوا تھا پر دوسرا ہاتھ میرا صوفے کے بازو پر ہی پڑا تھا جسے میں نے جان بوجھ کر حرکت نہیں دی تھی، چچی نے ایک لمبی سانس لی تو میں نے ان کے سر کے پیچھے سے ہاتھ ہٹا کر ان کا ایک ہاتھ پکڑا اور اسے چومتے ہوئے کہا تھینک یو مائی لو، چچی نے حیرانی سے میری انکھوں میں دیکھا جیسے شہوت کو تلاش رہی ہوں پر میرے جیسا استاد آسانی سے پکڑائی نہیں دیتا میں نے ان کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے دنیا جہان کی محبت اپنے چہرے پر سجا لی، چچی مسکرائیں اور کہا ریحان تم واقعی ہی میں بہت چھوٹے ہو، میں نے مسکراتے ہوئے کہا تو کیا محبت پر حق صرف عمر والوں کا ہے، کیا میں آپ سے محبت نہیں کر سکتا، چچی نے پریشان ہوتے ہوئے کہا ریحان میں تمھاری چاچی ہوں، جو کچھ میں نے کیا وہ بہت غلط کیا ہے میں نے اور شاید میں ساری عمر اپنے اپ سے شرمندہ رہوں، میں نے افسردگی کو اپنے چہرے پر سجاتے ہوئے کہا اگر اپ کو میری محبت کا جواب محبت سے دینے میں شرمندگی محسوس ہو رہی ہے تو میں اس شرمندگی کو ختم کرنے کے لیئے اپنی جان بھی دے سکتا ہوں آپ ایک دفعہ حکم تو کریں، چچی نے پریشان ہوتے ہوئے کہا ریحان میرے بچے تم نہیں سمجھ رہے ہو میں بیوی ہوں تمھارے چچا کی اور یہ سب کچھ بہت غلط ہے، میں نےسر ہلایا اور کہا کچھ غلط نہیں ہے میں نے کون سا اپ کو ان سے تعلق توڑنے کو کہا ہے میں نے کون سے اپنی محبت کا جواب آپ سے محبت میں مانگا ہے، میں تو بس اس احساس کے ساتھ زندہ رہنا چاہتا ہوں کہ کوئی ہے جس کے لیئے میں اہم ہوں اور وہ میرے لیئے سب کچھ، میری اتنی بھاری اور وزنی باتیں سن کر تو بڑی بڑی گھاگ عورتیں پگھل جاتی تھیں تو چچی جو بےچاری ایک گھریلو عورت تھی وہ کیسے بچی رہ سکتی تھی۔

Posted on: 07:46:AM 27-Dec-2020


7 0 489 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Thomas Bryton heard the bell ring sounding.....


3 0 56 4 0
Posted on: 05:33:AM 21-Jul-2021

Summary: MILF Mom catches nerdy son masturbating.....


0 0 51 2 0
Posted on: 05:28:AM 21-Jul-2021

I was 18 years old and had.....


0 10 33 5 0
Posted on: 05:18:AM 21-Jul-2021

The fair grounds were packed for the.....


0 0 39 1 0
Posted on: 11:16:AM 18-Jul-2021

The warm, gentle wind swept playfully through.....


0 1 67 9 0
Posted on: 11:03:AM 18-Jul-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com