Stories


بیوی کو رنڈی بنا کے چدوایا از رابعہ رابعہ 338

چوبیس اگست کو صبح سے ہی میرے دل میں سیکسی خیال آ رہے تھے. مے صبح آفس گیا پر میرا من آج کچھ مستی کرنے کا تھا. مے آفس جانے سے پہلے صبح بار بار اپنی بیوی کو چھیڑ رہا تھا. میری بیوی کی چوت بھی شاید مچل رہی تھی کیونکہ وہ بھی صبح سے ہی بےقرار سی ہو رہی تھی. کئی بار مجھے اشارہ کر چکی تھی اور میں بھی مست ہو رہا تھا. دیر شام کو قریب دس بجے جب میں نے تم سے sms پر بات کی اس کے بعد گھر پہنچ کر میں نے کہا آج گاڑی میں ڈرائیو پر چلو گی؟ اس وقت اس نے کہا ٹھیک ہے چلیں گے اور تمہیں sms کیا.
اس دن گھر پر کچھ مہمان تھے سو میری بیوی گھر سے بغیر کندھوں والی پھرك پہن کر نہیں نکل سکتی تھی. سو میں نے اس کی پھرك اور سکارف پہلے سے گاڑی میں رکھ لیا اور جب ہم گھر سے نکلے تو اس کی قمیض، پجامي، برا اور پیںٹی اتروا کر اس کو بغیر کندھوں والی پھرك پہننے کو کہا. اس نے کھلی سڑک پر چلتی ہوئی گاڑی میں بداس ہوکر نںگی ہوکر کپڑے بدلے اور میں درمیان درمیان میں اس کے ننگے جسم کو چھوتا، مسلتا اور مستی لیتا رہا. پھرك پہن کر اس نے اپنی موٹی چوچی کے اوپر سکارف ڈال لیا. میں نے دپٹٹے کے نیچے ہاتھ ڈال کر اس کی پھرك چونچيو سے نیچے سرکا کر اس کی چوچیاں نںگی کر دی. اس نے شرارت بھری نظروں سے میری طرف دیکھا اور آہستہ سے اپنا سینہ تان لیا جس سے اس کی موٹی موٹی چوچیاں اور ابھر آئیں اور میں نے مستی سے اس کی چوچیاں سہلانی، مسلني، دبانی اور چھےڑني شروع کر دی. کئی بار اس کے نپل مسئلے، كھيچے، مروڑ اور نوچے جس نپل بھی ایکدم مست ہو کر تن گئے. اس کی چوچیاں بھی جیسے اور بھر گئی اور گاڑی کے ہر دھچكے کے ساتھ چھلكتي تھی. راستے میں ایک ویران سی جگہ میں نے گاڑی روکی اور جھک کر دوپٹا ہٹا کر اس کی چوچی کو سڑک کی دھندلی سی روشنی میں دیکھا. اس کی چونچی مستی سے دمک رہی تھی نپل پورے تنے ہوئے تھے، اور گاڑی میں چونچی ننگی کرنے کی اتتےذنا کی وجہ اس کی آنکھیں مدہوش ہو رہی تھی. میں نے جھک کر اس کے دائیں نپل کو موہ میں بھر لیا اور زور سے چوسا. اتتےذنا سے میری بیوی کی سےسسکی نکل گی. اور اس نے اپنے ہاتھوں میں میرا سر تھام کر ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے اپنی چوچی پر دبا لیا. میں نے زور زور سے اس کی چونچی چوسني شروع کر دی. مے مکمل نپل اپنے موہ میں بھر کر ایسے چوس رہا تھا جیسے کوئی ویکیوم کلینر سے نپل کو کھینچ رہا ہو. اور وہ مستی سے سسکاریاں بھر رہی تھی
اور اس نے اپنے ہاتھوں میں میرا سر تھام کر ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے اپنی چوچی پر دبا لیا. میں نے زور زور سے اس کی چونچی چوسني شروع کر دی. مے مکمل نپل اپنے موہ میں بھر کر ایسے چوس رہا تھا جیسے کوئی ویکیوم کلینر سے نپل کو کھینچ رہا ہو. اور وہ مستی سے سسکاریاں بھر رہی تھی.
3-4 منٹ چوچی چوس کر میں نے چھوڑ دی اور گاڑی آگے بڑھا دی. میری بیوی مجھ بولی کہ سلیمان کو فون کرکے جلدی بلا لو مے آج وہاں پہنچ کر انتظار کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں. مے پورے راستے اس کی چونچی مسلتا ہوا آیا. بیچ بیچ میں میں نے اس کی پھرك اوپر کر اسکی چوت بھی سہلائی جو تھوڑی تھوڑی گیلی ہونے لگی تھی. اس کی چوت پر ہاتھ رکھتے ہی اس نے اپنی ٹاںگیں بھی کھول دی. گاڑی میں منظر بہت مست تھا. میری بیوی ایک گرم سستی عورت کی طرح اپنی چوت نںگی کر ٹاںگیں کھول کر بے شرمی سے بیٹھی تھی اور دپٹٹے کے نیچے اس کی چوچیاں ننگی، بغیر کسی پابندی کے کار کے ہر دھچكے کے ساتھ چھلچھلا رہی تھی، اس کے نپل سخت ہوکر تنے ہوئے تھے اور میں بیچ بیچ میں اس کی مست رسبھري چوچیوں کو سہلاتا اور مسلتا ہوا گاڑی چلا رہا تھا. راستے سے میں نے تجھ کو فون کیا اور پہلے سے طے کی ہوئی جگہ پہنچنے کو کہا. میری سیکسی بیوی بالکل مست تھی اور ہلکے ہلکے سسکاریاں بھر رہی تھی اور درمیان درمیان میں اپنے ہاتھ سے میرے لؤڑے کو سہلا رہی تھی جو کہ میرے شارٹس میں خیمہ بنا رہا تھا
ایک بار اور رک کر میں نے اس کی چوچی کو دونوں ہاتھوں سے مسئلہ، اسے اپنی طرف گھمایا اور جھک کر دونوں نپل کو چوسا اور میری بیوی اور بھی زیادہ مست ہو گئی. اس نے میرے جانیں مختصر کی الاسٹك میں سے ہاتھ اندر دال کر میرے ننگے لؤڑے کو پکڑ لیا اور ہلکے سے دبایا. میرا لؤڑا بھی مکمل طور پر کھڑا تھا. اسی درمیان دھیرے سے ہم وہاں پہنچے جہاں تم ملنا تھا پر تم اس وقت تک آئے نہیں تھے .... میری بیوی کو ہلکی سی جھوبجھلاہٹ ہوئی پر میں نے کہا ایک چکر لگا کر واپس آتے ہیں. جب ہم کار سے چکر لگا کر واپس آئے تو تم ہمیں آتے ہوئے دکھائی دیے اور میں نے تمہارے پاس کار روک دی تم فورا کار میں میری بیوی کے پیچھے والی سیٹ پر بیٹھ گئے اور میں نے کار آگے بڑھا دی. تمہیں شاید اندازہ تھا کہ میری بیوی کی چوچی دپٹٹے کے نیچے شاید نںگی ہوگی کیونکہ پچھلی بار بھی ایسا ہوا تھا. تبھی میں نے ہاتھ بڑھا کر اپنی گرم بیوی کی چوچیاں سہلانی شروع کر دی. تمہیں پکا ہو گیا کی میری مست بیوی کسی رنڈی کی طرح کار میں اپنی چونچی ننگی لٹکا کر بیٹھی ہے جن کو اس نے بس ایک جھينے سے دپٹٹے سے ڈھکا ہوا ہے. تم نے فورا آگے جھک کر اس کی سیٹ کے دونوں طرف سے ہاتھ بڑھا کر اگلے سے اسکی چوچیوں کو تھام لیا. مے پہلے سے اس کی دائیں چوچی پكڈے تھا. جب تمہارا ہاتھ بھی وہاں آیا تو کچھ سےكڈس تک ہم دونوں اس کی چونچی کو ایک ساتھ سہلاتے رہے. مے اسکے نپل کو سہلا رہا تھا، مسل رہا تھا اور کھینچ رہا تھا، اور تم اس کی چونچی کو پکڑ کر دبا رہے تھے .... مجھے آپ کے ساتھ مل کر اس کی چوچی کو مست کرنے میں بہت مزہ آیا.
اب تک میری بیوی بہت گرم ہو چکی تھی اور میں تو گرم تھا ہی. تمہارا بھی لںڈ مکمل طور تن گیا ہوگا کیونکہ تم نے اس کی چوچیاں پوری مست کے ساتھ بےدردي سے مسلني شروع کر دی. میری بیوی اتنی گرم ہو رہی تھی کی اس نے تمہیں روکنے یا کچھ کہنے کے بجائے مستی میں آنکھیں بند کر لی اور آہستہ آہستہ سسکاریاں بھرني شروع کر دی. میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ مستی میں بھری ہوئی سیکس کی مورتی لگ رہی تھی. ووہ اپنی سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کر پیچھے کی طرف جھک کر بیٹھی تھی شاید اس لئے تاکہ تمہیں اسکی چوچیوں کے ساتھ کھیلنے میں دقت نہ ہو. میں نے اس کی طرف دیکھا تو میری طرف سے اس کا دوپٹا تھوڑا کھسک گیا تھا، اس کی بھری بھری چوچی اور اس پر رےگتا تمہارا ہاتھ بہت سیکسی لگ رہا تھا. میرے اوپر جیسے ایک جنوں سا چھا گیا میں نے سڑک پر گاڑی سائیڈ لگا کر روکی اور جھک کر اسکی چوچیوں سے دوپٹا ہٹا دیا. تم اپنے دونوں ہاتھ سے اس کی دونوں چوچی سہلا رہے تھے اور اوںگلی کے پور سے نپل کو چھیڑ رہے تھے. میں نے جھک کر اپنی طرف والی چوچی کو دیکھتے ہوئے اس کی طرف اپنا منہ بڑھایا تو تم نے اس پر سے اپنا ہاتھ ہٹا لیا میں نے مشتعل ہوکر اس کی چونچی منہ میں بھر کر چوسنا شروع کر دیا. اور ووہ اور زیادہ مست ہو گئی. میں نے ہاتھ بڑھا کر اس کی دوسری چوچی بھی تھام لی اور اس کو جور جور سے دبانے لگا. میری بیوی نے مست ہو کر آہ بھری اور بولی "زور سے" تم بھی اس کی بات سن کر اتیجت ہو رہے تھے پر تم نے آہستہ سے کہا "یہاں گھر ہیں آس پاس، کوئی دیکھ نہ لے" مے تو مستی سے پاگل ہو رہا تھا میں نے اس کے نپل سے منہ ہٹا کر بولا "فکر مت کرو - کوئی دیکھ لے گا تو بھی کوئی بات نہیں." تھوڑی ہی دیر اس کی چونچی چوس کر اور دوسری چوچی مسل کر مے سیدھا بیٹھ گیا اور گاڑی آگے بڑھا دی. تمہیں بھی سمجھ میں آ گیا کی مجھے رسک لینے میں مزہ آتا ہے
تھوڑی ہی دیر اس کی چونچی چوس کر اور دوسری چوچی مسل کر مے سیدھا بیٹھ گیا اور گاڑی آگے بڑھا دی. تمہیں بھی سمجھ میں آ گیا کی مجھے رسک لینے میں مزہ آتا ہے.
اس کے بعد تم پورے راستے پیچھے سے ہاتھ بڑھا کر اس کی چوچی سہلاتے اور مسلتے ہوئے بیٹھے رہے. کئی بار ہماری کار کے سوا دوسری گاڑیاں آئیں پر آج تم پوری مستی سے اس کی دپٹٹے سے ڈھکی پر ننگی چوچی سہلاتے رہے. ہم جب پہلے والی سنسان جگہ پہنچے تو میں نے آج پہلے سے بھی زاید سنسان اور ایسا علاقہ کیا جہاں کسی کے بھی آنے کا کوئی چانس نہیں تھا. وہاں پہنچ کر میں نے گاڑی روکی اور سیٹ بیلٹ کھول کر اپنی بیوی اور تمہاری طرف مڑ گیا میری بیوی اب بھی ویسے ہی بیٹھی ان کی چوچی تم سهلوا رہی تھی اور مجھے پکا یقین ہے کی تم پورے ٹائم اس کی چونچی کوئی ہلکے سے نہیں سہلا رہے تھے درمیان درمیان میں تم نے اس کی چوچیاں پوری قوت سے مسلي تھی جیسا اس کو پسند ہے. میں نے اس کی طرف مڑ کر اس کا دوپٹا اس کے سینے سے کھینچ کر نکال دیا اور چاند کی روشنی میں اس کی ننگی چوچیوں کو دیکھا تو مست ہو گیا. اس دن چاند کافی بڑا اور تیز روشنی والا تھا اور گاڑی کی كھڈكيو سے چاند کی بہت روشنی اندر آ رہی تھی. اس روشنی میں میری ٹپلےس بیوی بہت مست لگ رہی تھی اور ووہ بغیر کسی جھجھک یا شرم کے تمہارے سامنے اپنی چوچیاں ابھار کر بیٹھی تھی. میں نے آگے بڑھ کر اس کی چوچی تھام لی اور ان کو زور سے مسئلہ. ووہ مستی سے بولی "اور زور سے" اس بات سے تم بھی بہت مست ہو گئے میں نے اس کی پھرك پوری نیچے سرکا کر کمر تک نںگی کر دیا اور اس کی سیٹ بھی پیچھے کو جھکا دی. آج تم بھی پوری مستی میں لگ رہے تھے تم نے اس کی ایک چونچی کو تھام لیا اور جھک کر اس چوسنے لگے. ووہ میرے لؤڑے کو ننگا کر کے اپنے ملائم اور گرم ہاتھ سے مسل رہی تھی. مے اسکی دوسری چوچی پر ٹوٹ پڑا. ہم دونوں مستی سے بھرے جانوروں کی طرح اسکی چوچیوں کو مسل رہے تھے، چوس رہے تھے، نپپلس کو نوچ رہے تھے درمیان درمیان میں اپنے دانتوں سے نپل پر ہلکے ہلکے کاٹ رہے تھے اور ووہ اور زیادہ مست ہوتی جا رہی تھی. میں نے اس کی اس چوچی کو جو میرے حصے میں آئی تھی زور زور سے دبا دبا کر مسئلہ جس سے ووہ اور گرم ہو گئی. پھر میں نے اس نپل تو اپنی اوںگلی اور انگوٹھے کے درمیان پکڑ کر چوچی جو زور سے کھیںچا جس ووہ لمبی ہوکر کون جیسی نظر آنے لگی اور میں نے اس کے نپپلےس کو جور جور سے ہلانا شروع کر دیا. اس کی چونچی پانی سے بھرے غبارے کی طرح مچل رہی تھی اور میری سیکسی بیوی اور زیادہ مست ہو رہی تھی.
میں نے اس کو اس کی سیٹ پر تھوڑا اوپر کرکے اسکی پھرك اسکی کمر سے نیچے كھسكاني شروع کر دی اور اس نے اس میں میری مدد کی. اس درمیان مجھے بیلٹ کے کھلنے کی آواز آئی تو میں نے تمهري طرف دیکھا. تم جلدی جلدی اپنی پینٹ کی بیلٹ کھول رہے تھے. مے سمجھ گیا کی آج تم بہت گرم ہو، کیونکہ اس سے پہلے تم نے اس طرح میری بیوی کے سامنے اپنے لؤڑے کو ننگا نہیں کیا تھا. میں نے اپنی توجہ اپنی بیوی کو ننگا کرنے میں لگایا اور اس کو تمہارے سامنے ہی پوری نںگی کر دیا. میری مست بیوی نے ننگی ہونے میں مکمل تعاون دیا اور تمہارے سامنے ننگی ہو کر وہ بہت گرم ہو گئی. I wish کہ ووہ مگلسوتر پہنا کرتی تو اس کو اس وقت تمہارے سامنے صرف مگلسوتر پہنے اور پوری نںگی دیکھنے میں اور زیادہ مزہ آتا. لیکن بغیر مگلسوتر کے بھی وہ بہت سیکسی لگ رہی تھی اور کسی رنڈی کی طرح لگ رہی تھی. اس درمیان تم نے اپنے لؤڑے کو ننگا کر دیا اور اس کا ایک ہاتھ پکڑ کر اپنے لؤڑے پر رکھ دیا ووہ شاید آہستہ آہستہ تمہارا لؤڑا سہلانے لگی. تم مستی سے بھر کر اس کی چوچی مسلنے لگے، اور اس کو چومنے لگے ووہ مستی سے بھر چکی تھی اور ایک ہاتھ سے تمہارا اور دسرے ہاتھ سے میرا لؤڑا سہلا رہی تھی. یہ زندگی میں پہلی بار تھا کہ اس نے میرے علاوہ کسی دوسرے لؤڑے کو چھو لیا تھا. مے بھی آج بہت مست ہو گیا تھا اور تمہارے اپنے لؤڑے کو ننگا کرکے میری اتنے سالوں سے بياهي بیوی کے ہاتھ میں دینے پر میں نے کوئی بجےكشن نہیں کیا. تھوڑی دیر اسکی چوچیوں کو مسلنے چوسنے اور اس کی چوت کو سہلانے کے بعد میں نے اس کو اس طرح گھومنے کو کہا کہ اس کی لٹکی ہوئی چوچیاں ہم دونوں چوس سکیں. ووہ فورا مستی سے گھوم گئی اور اس کی سیکسی مست چوچیاں لٹکا کر ہمارے سامنے پیش کر دی. ہم دونوں اس کو گاڑی میں پوری نںگی دیکھ کر اور چاند کی روشنی میں اس کی لٹکتی اور جھولتي ہوئی موٹی موٹی چوچیاں دیکھ کر اور زیادہ مست ہو گئے. تم نے کہا "چاند کی روشنی میں تمہارا ننگا جسم بہت سیکسی لگ رہا ہے" اور اس نے اپنے ہاتھوں میں دوبارہ سے ہمارے لؤڑے تھام لئے اور مسلنے لگی.
میں سوچ رہا تھا کی کاش میرے پاس کیمرہ ہوتا تو میں ہم تینو کی مستی کرتے ہوا تصویر لے لیتا.
اس درمیان میں نے اس کو جھک کر اس کا منہ اپنے ننگے لؤڑے پر لگایا تو اس نے نیچے جھک کر میرا لؤڑا اپنے مںہ میں بھر لیا اور کسی رنڈی کی طرح چوسنے لگی. نیچے جھکنے سے اسکی گاںڈ کے اوپر ابھر آئی اور تم نے اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا تم نے فورا جھک کر اسکی گاںڈ پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا اور اس کی گاںڈ اؤر چوت کو چومنے لگے
اس نے مسکراتے ہوئے کہا "نیچے سے ہاتھ ڈالو" اور اس نے اپنی ٹاپ ایڈجسٹ کری. مجھے لگتا ہے شاید تم نے نیچے سے اس کی ٹاپ میں ہاتھ ڈال کر اس کی ننگی چوچی سہلانی شروع کر دی تھی. میرا لؤڑا دوبارہ کھڑا ہو گیا. مے من ہی من سوچ رہا تھا کی کاش میری بیوی دوبارہ واپس لوٹنے کو کہے اور وہاں جا کر دوبارہ نںگی ہوکر اپنی چدائی کے لئے ہمیں کہے. پر اس نے ایسا کہا نہیں اور پورے راستے ہم دونوں سے پانی چوچی مسلواتي رہی. اور ہم تمہیں ڈراپ کرکے واپس آ گئے
گزشتہ کچھ دنوں سے مے نیٹ پر ایک اور لڑکے سے بات چیت کر رہا تھا. اس کا نام بھی راج تھا اور یہ پنجاب سے ہے. یہ لڑکا انجینئر ہے، کسی کمپنی میں کام کرتا ہے اور کام کے سلسلہ میں ماہ - دو ماہ میں ہمارے شہر میں آتا رہتا ہے.
ہم کچھ وقت تک صرف نارمل چیٹ کرتے تھے. پھر کچھ وقت کے بعد میں نے اس کو اپنی بیوی کی کچھ تصاویر دكھايي. اس نے میری بیوی کی بہت تعریف کی. اس درمیان ہم لوگ بہت کھل چکے تھے تو میں نے اس کو پریہ کی کچھ ننگی تصویر بھی دكھايي. یہ لڑکا میری بیوی کا فین ہو گیا. ایک بار چیٹ کرتے - کرتے میں نے اس کو اپنے اپنے اس اےكسپيرےس کے بارے میں بتایا کہ کس طرح میں نے اپنی سیکسی بیوی کے ساتھ رات کے وقت لنگ ڈرائیو پر جانا شروع کیا اور آہستہ آہستہ اس کو کار میں نںگی کرتا تھا اور ہیم کار میں مستی کرتے تھے اور ہم دونوں ہی بہت اےكساٹےڈ ہو جاتے تھے اور پھر گھر جا کر خوب جم کر چدائی کرتے تھے. بعد میں جب میری بیوی اور کھل گئی اور بولڈ ہو گئی تو میں اس کو کار میں ٹپلےس بٹھا کر ڈرائیو کرتا تھا. کبھی کبھی اس کی ننگی چونچیاں سڑک پر چل رہے پیدل لوگو کو دکھاتا بھی تھا.
میں نے راج کو بتایا کہ کس طرح یہ سب شروع ہوا
ایک بار میں نے اپنی بیوی کو بہت گرم کر دیا تھا. دن بھر ہم دونوں ایک دوسرے سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہے تھے، اس لئے دونوں sexually گرم تھے. میں نے اس کو کہا کہ آج شام ڈنر کرنے باہر کسی 5 star ہوٹل میں چلتے ہیں. پریہ نے مجھ سے پوچھا کی ووہ کیا پہنے تو میں نے اس کو اپنی ایک پسندیدہ سوتی ساڑی پہننے کے لئے کہا. ووہ ساڑی پرانی ہے پر بہت خوبصورت ہے اور مجھے بہت پسند ہے. اور شام کو اس وہی ساڑی پہنی تھی. ہم ایک ہوٹل میں ڈنر کرنے گئے اور اس دن ووہ بہت گرم تو تھی ہی. 5 سٹار ہوٹل میں بہت اچھا ماحول تھا اور کھانے کا آرڈر دینے کے بعد پریہ شیطانی سے مسکراتے ہئے بولی کہ اس ساڑی کی بلاج بہت ٹائیٹ ہو گئی ہے اور ووہ اس نیچے برا نہیں پہن پائی. یہ بلاج تھوڈا پرانا تھا اور کپاس کا تھا. پرانا ہونے کی وجہ سے یہ اس کو بہت ٹائیٹ ہو گیا تھا اور ساتھ ہی یہ بلاج جھيني کپاس کا تھا. جب اس نے آہستہ سے شرارت بھری نظروں سے مجھے اشارہ کیا کہ میں اس کی طرف دیکھوں. مے سمجھ گیا کہ آج میری بیوی بہت مست ہو رہی ہے. اس نے آہستہ سے اپنا پلو ہٹا کر اپنا سینہ دکھایا. ٹائیٹ بلاج میں اس کی چوچی سمايے نہیں سما رہی تھیں اور بلاج کے گلے سے چھلكي پڑ رہی تھیں. اس کی كليوےذ گہری دکھ رہی تھی اور اس نے اس دن بلاز کے نیچے برا بھی نہیں پہنی تھی. بلاج سے اس کے موٹے موٹے سیاہ نپل بھی چمک رہے تھے جو اےكساٹےڈ ہونے اور ہوٹل کے ٹھنڈے AC کی وجہ تنے ہوئے تھے. اس کو وہاں ہوٹل میں ایسے دیکھ کر مزہ آ گیا. اس نے آہستہ سے کہا کہ بلاج کے ٹائیٹ ہونے کی وجہ اس نے نیچے کے 2 اور اوپر کا 1 ہک بند نہیں کیا ہے اور بلاج صرف 2 ہک ہی ٹکا ہوا ہے. ویٹر کے آتے ہی اس نے اپنا بلاج پلو سے ڈھک لیا پر شاید ویٹر کی سمجھ میں ماجرا آ گیا تھا کیونکہ وہ اس کے بعد ہماری میز کے ارد گرد ہی منڈلاتا رہا. تھوڑی دیر میں کھانا آ گیا اور ہم دونوں کھانا کھانے لگے. بیچ بیچ میں مے اسکو آنکھ سے اشارہ کرتا تو وہ شرماتے ہوئے اپنا پلو ہلکے سے ہٹا کر اپنی چوچیوں کی جھلک مجھے دکھا دیتی. ہم دونوں بہت مست اور گرم ہو رہے تھے. ویٹر جب بھی ادھر ادھر جاتا تو میں پریہ کو اشارہ کرتا اور آہستہ سے اپنا پلو تھوڈا کھول دیتی تھی. تھوڑی دیر بعد وہ اور مستی میں آ گئی اور ویٹر کے آنے پر بھی اپنے پلو کو پورا نہیں ڈھک رہی تھی. اور شاید ویٹر کے موہ میں بھی پانی آ رہا تھا. وو میری مست بیوی کہ چوچیوں کی جھلک دیکھ رہا تھا.
ڈنر کرکے ہم ہوٹل سے باہر نکلے اور میں نے اس کو لنگ ڈرائیو کے لئے بولا تو وہ فورا تیار ہو گئی
ڈنر کرکے ہم ہوٹل سے باہر نکلے اور میں نے اس کو لنگ ڈرائیو کے لئے بولا تو وہ فورا تیار ہو گئی.
میں نے گاڑی گھر سے الٹی سمت کی طرف بڑھا دی اور بیوی کی باہوں پر آہستہ آہستہ ہاتھ پھیرنے لگا. وہ گرم تو تھی ہی اس نے اپنی سیٹ تھوڑا پیچھے کیا اور آرام سے لیٹ گئی. اس بلاج کے اوپر ساڑی کا پلو تھا.
مے اسکو ایک سیکسی کہانی سنانے لگا کہ ایک بار ایک عورت کو کسی انٹرويوه کے لئے ایک پتلون اور شرٹ سلواني تھی. تہوار کے دن تھے تو ووہ گھر سے درزی کے یہاں جانے کے لئے کافی لیٹ ہو گئے اور رات کو دیر سے نکلے. جب ووہ دونوں درزی کے یہاں پہنچے تو سب کچھ سنسان ہو چکا تھا. بس درزی تہوار کی وجہ کام زیادہ ہونے کہ وجہ سے اپنا شٹر نصف بند کرکے سلائی میں لگا تھا. جب یہ دونوں پہنچے اور انہونے اس سے جلدی ناپ لے کر کپڑے تیار کرنے کو کہا تو ووہ بولا کہ آج کل اس کے پاس کام زیادہ ہے تو وہ ان کے کپڑے نہیں سل پائے گا | جب یہ دونوں ضد کرنے لگے تو اس نے انہیں ٹالنے کے لئے بولا کہ میڈم مے آپ کی پتلون کی ناپ کیسے لوں گا آپ نے تو ساڈی پہنی ہے! تو یہ سن کر بیوی نے شوہر کی طرف دیکھا. شوہر نے درزی سے کہا کہ ان کو کوئی اور کپڑے دے دو تاکہ یہ ساڈی بدل کر ناپ دے دے. درزی نے کہا کہ اس کے پاس اس وقت کوئی ایسا كپڈا نہیں ہے تو شوہر بولا کہ ووہ اپنی گاڑی میں دیکھ کر آتا ہے اور باہر چلا گیا. ادھر اس کی بیوی کو کپڑے سلوانے بہت ضروری تھے تو ووہ بولی کہ "مے اپنی ساڈی اتار دیتی ہوں آپ ناپ لے لو". اس پر درزی بولا کہ ساڈی کے نیچے تو پیٹیکوٹ ہے اس لئے ناپ آج نہیں ہو پايےگي. بیوی نے ایسا جتایا جیسے کہ اس کو ان کپڑوں کی بہت ضرورت تھی اس لئے اس نے کہا کہ "مے جلدی سے اپنی ساڑی اور پیٹیکوٹ اتار دیتی ہوں آپ ناپ لے لو" اور درزی کے دیکھتے دیکھتے اس نے اپنی ساڑی اور پیٹیکوٹ اتار دیا اور صرف پیںٹی اور بلاج میں کھڑی ہو گئی. اتنی ہی دیر میں اس کا شوہر بھی وہاں آ گیا اور اس کو اس ادھنگي حالت میں دیکھ کر بھوچككا رہ گیا پر وہ ساتھ ہی ساتھ اتیجیت بھی ہو گیا اور تھوڑا پیچھے ہوکر ایک الماری کی آڑ میں چھپ گیا. ادھر وہ درزی بھی اتیجت ہو گیا اور ٹھیک سے اس کا ناپ لینے لگا. ووہ اس کو جاگھو کو جان بوجھ کر اس طرح چھونے لگا کہ ووہ عورت بھی اتیجت ہونے لگی. درزی نے ناپ کا فیتا اس عورت کے نتمبو (چوتڑو) پر لگایا اور پوچھا کہ "کیا اتنی ٹائیٹ ٹھیک ہے؟" وہ عورت بولی "کچھ زیادہ ٹائیٹ لگ رہی ہے". تب ووہ درزی بولا "اگر آپ اس کو تھوڑا اور ٹائیٹ کروا لوگي تو آپ کی گاںڈ پیچھے سے بہت مست لگے گی اور آپ انٹرويوه میں شرتيا منتخب کر لی جائےگی. اور اس نے پیچھے سے اس کے چوتڑو پر ہاتھ لگا کر سہلا کر بتایا کہ کس طرح اس کے چوتڑو کی گولائیاں باہر کو ابھر کر پتلون سے نظر آئے گی |
یہ کہانی سنتے ہوئے پریہ مست ہو چکی تھی اور مستی کی كھماري میں مدہوش گاڑی کی سیٹ پر ادھلےٹي تھی. میںنے دھیرے سے اپنا ہاتھ اسکے پلو کے نیچے سرکا کر اس کے بلاج کا 1 ہک اور کھول دیا اور کہانی آگے بڑھائی کہ اس کے بعد درزی نے آگے بولا "اگر آپ چاہو تو میں اس پتلون کی فٹنگ ایسے کر دوں گا کی آگے سے آپ کی چوت کا ابھار اور اس کے ہونٹ باہر ہی دکھائی دیں گے اور کام ضرور مل جائے گی | (پریہ کی مستی دیکھ کر میں نے اسکا پلو بالکل نیچے سرکا دیا تھا. تھوڑی دور چل کر اس نے کہا کہ اس کا بلاج بہت ٹائیٹ ہے.) میں نے اپنی کہانی آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد ووہ عورت اس طرح کہ پتلون سلوانے کو تیار ہو گئی تو درزی بولا کہ اگر آپ اپنا بلاج اور پیںٹی بھی اتار دو تو میں شرٹ کا بھی ناپ لے لوں اور آپ کی پتلون بھی ایسی بنا دوں گا کہ کوئی بھی دیکھتے ہی مست ہو جائے گا اور آپ کی نوکری پکی! "اس درمیان وہ عورت بھی گرم ہو چکی تھی اور اس کو معلوم تھا کہ اس کا شوہر بھی جان بوجھ کر چھپا ہے تاکہ وہ اس کو ایسی مست حالت میں مزے لیتے ہوئے دیکھ سکے. وہ درزی سے بولی کہ میرے باقی کے کپڑے آپ ہی اتار لو، آپ میری ناپ کا اور زیادہ اچھی طرح اندازہ لگ جائے گا.
پریہ بہت گرم ہو چکی تھی اور میں اس کے بلاج میں سے اس کی چوچیاں سہلا رہا تھا. اب اس سے رہا نہیں گیا اور اس نے اپنے بلاج کا ایک بچا ہوا ہوک بھی کھول دیا اور میں فورا اس کے بلاج کو ضمنی کرکے اس کی ننگی چوچیوں کو مسلنے لگا. اس کے نپل اور بھی سخت ہو گئے تھے اور بالکل تنے ہوئے تھے | کچھ دیر اس کے سینوں کو مسل مسل کر میں نے اس کو بالکل گرم کر دیا اور پھر میں نے اس کو اپنا بلاج اتارنے کو کہا. جیسا آپ کو معلوم ہی ہے کہ اس نے کوئی برا بھی نہیں پہنی تھی تو اس کی چوچیاں بلاج کہ قید سے آزاد ہو گئی اور چلتی ہوئی گاڑی کی vibrations اور جھٹکوں کے ساتھ تھرتھرانے لگیں. مے اپنا ہاتھ اب کھل کر ان چچیوں پر پھرا رہا تھا. پریہ کے نپپلےس پورے تنے ہوئے تھے اور كچو کی طرح سخت ہو رہے تھے اور وہ مستی میں آہستہ آہستہ سسکاریاں بھرنے لگی تھی.
پریہ بہت ہی گرم تھی اور میں اس سے کہہ رہا تھا ق کاش! اس وقت کوئی tailor شاپ کھلی مل جائے تو میں تمہیں وہاں لے چلوں. پھر ووہ درزی تمہاری ساڑی اتارے، پھر پیٹیکوٹ اور تمہیں ننگا کرکے پینٹ کا ناپ لے گا. تو ووہ بولی ق ہاں بڑا مزا آئے گا کیونکہ میں نے پیںٹی بھی نہیں پہنی ہے. یہ سنتے ہی میرا لںڈ اور کڑک ہو گیا اور میں بھی بہت sexcited ہو گیا.
میں نے اس کے بلاج کے دونوں هسسو کو سائیڈ میں کر دیا تاکہ ساڑی کے نیچے اس کی چھاتیاں نںگی ہو جائیں. اس نے ایک بار بھی اعتراض نہیں کیا. میں نے اس کے بلاج کو تھوڑا اور سرکا کر باہوں سے نکلنا چاہا تو وہ اٹھ گئی. مجھے لگا کہ شاید وہ اب بلاج کے ہک بند کر لے گی، پر ہوا اس کا الٹا. اس نے ساڑی کے پلو کو اپنے دانتوں میں اس طرح دبا کر کہ اس کے سینے ڈھک جائے، اپنا بلاج اپنی باہوں سے نکال کر پیچھے کی سیٹ پر پھینک دیا. اور پھر مسکرا کر میری طرف دیکھا اور ساڑی سے اپنی چوچیاں ڈھک کر دوبارہ لیٹ گئی.
مے تو پہلے ہی بہت اتیجت تھا اب میرا لؤڑا اور زیادہ کھڑا تھا. میں نے پتلون کے اوپر سے اپنے لؤڑے کو سہلایا اور ایک بار اس کی ساڑی کے اوپر سے ننگی چوچيو کو كاس کر مسئلہ اور اپنے لیفٹ ہاتھ میں تھرتھراتا ہوا محسوس کیا. میں نے دھیرے سے اس کا سیدھا ہاتھ اپنے پتلون میں قید لؤڑے پر رکھا اور اس نے میرے لںڈ کو سہلانا شروع کر دیا.
وہ بھی مکمل طور پر اتیجیت تھی. میں نے دھیرے سے اس کی ساڑی کے پلو کو کھسکا کر پہلے ایک چوچی کھول دی. کیونکہ رات ہو چکی تھی اور چاروں طرف اندھیرا تھا تو مجھے ڈر نہیں تھا کہ دوسرا کوئی آدمی ہمیں اس طرح دیکھ کر کوئی پریشانی کھڑی کر پائے گا. اس لئے مے بداس ہوکر اس کی ننگی چوچی کو کھول کر سہلانے لگا. تھوڑی ہی دیر میں میں نے اس کی دونوں چوچیاں نںگی کر دی اور ساڑی کے پلو کو بالکل حذف کر دیا. اب پریہ کمر تک بالکل ننگی ہو کر گاڑی کی سیٹ پر مدہوش لیٹی تھی.
اس کی چوچیاں درمیان درمیان میں سٹریٹ لائٹ میں دکھ رہی تھی. اس کی آہستہ آہستہ ہلتی اور گاڑی کے دھکوں کے ساتھ چھلكتي ہوئی چوچیاں دیکھ کر مے اور جیادا اتیجت ہو رہا تھا دل کر رہا تھا کہ اس کو یہیں ننگی کر کے، گاڑی سے اتار کر چود دوں. ایک جگہ موقع دیکھ کر میں نے گاڑی سڑک کے کنارے روک دی اور اپنی سیٹ بیلٹ کھول کر اس کی طرف جھک گیا. پریہ مستی میں آنکھیں بند کرکے لیٹی تھی. اس نے محسوس کیا کہ گاڑی رک گئی ہے پر انجن اب سٹارٹ تھا. اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں اور دیکھ کہ میں اس کی طرف جھکا ہوا تھا اور اپنا موہ کھول کر اسکا نپل موہ میں بھرنے والا ہی تھا. اس نے مد بھری گرسنہ نگاہوں سے میری طرف دیکھا اور آپ کی چوچی ابھار دی. میں نے اپنا منہ کھول کر اس کے نپل کو مںہ میں بھر لیا اور زور سے چوسا. پریہ نے ایک گہری سسکاری بھر کر اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر میرا سر زور سے اپنی چوچی پر دبا لیا میں نے ایک ہاتھ سے اس کی دائیں چوچی کو زور سے پکڑ کر بھيچتے ہوئے چوسنا شروع کر دیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کی بائیں چوچی کو مسلنے لگا اور درمیان درمیان میں اس کی ساڑی کے اوپر سے اسکی چوت بھی سہلانے لگا. وہ اب کھل کر کراہ رہی تھی. میں نے دائیں چوچی کو چھوڑ کر تھوڑا اور آگے کر اس کی بائیں چوچی کو اپنے منہ میں بھر کر زور زور سے چوسنا شروع کر دیا. اب وو اتتےذنا سے پاگل سے ہو رہی تھی اور اس کی چوچی ابھار ابھار کر میرے پیاسے منہ میں گھسا رہی تھی. اب گاڑی کے اندر ماحول مکمل طور پر سیکسی اور گرم تھا. میں نے ایک ہاتھ اسکی ساڑی کے نیچے ڈال دیا اور پیٹیکوٹ کے اندر ہاتھ دال کر اس کی مخملی سڈول اور ہموار جاںگھیں سہلانی شروع کر دی. میں نے ہاتھ بڑھا کر اس کی ساڑی اوپر کرنی شروع کر دی اور اس کے پاؤں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا. ووہ اور مست ہو گئی جاںگھوں پر ہاتھ لگتے ہی اس نے اپنے پاؤں کھول دیا اور زور سے سسکاری بھر کر اپنی گاںڈ سیٹ سے اوپر اچكاي. میں نے فورا اس کی چوت کو سہلانے کے لیا ہاتھ اور اندر ڈالا تو یاد آیا کہ اس نے كچچھي بھی نہیں پہنی تھی. میں نے اس کی طرف دیکھا تو مسکرا کر شرارت بھری نظروں سے مجھے دیکھتی ہوئی بولی "میں نے سوچا جب برا نہیں پہن رہی ہوں تو پیںٹی بھی کیوں پهنو" اور آپ کی ساڑی اوپر ہوتے ہی اپنی ٹاںگے اور زیادہ کھول لی اور میرا ہاتھ اپنی ننگی چوت پر رکھ لیا. میں نے اس کی ساڑی تھوڑا اور اوپر کی اور اس کی گاںڈ کے نیچے ہاتھ لگا کر اشارہ کیا ق ووہ ساڑی کو اپنے نتبو کے نیچے سے بھی اوپر کھسکا لے. اس نے یہ کام بھی خوشی خوشی کیا. میرا اپھان زور پر تھا اور میں نے اس کی چوت میں اوںگلی ڈال کر زور سے گسا دی. اس نے سسکاری بھر کر کہا - "اور زور سے"
پریہ بہت ہی گرم ہو چکی تھی. اس درمیان میں نے گاڑی آہستہ چلا دی تھی. اس کی ساڑی اس کی کمر سے اوپر ہو گئی اور اب ووہ، اوپر سے بھی ننگی تھی کیونکہ اس کی چونچی سے کمر تک کچھ نہیں تھا اور نیچے سے بھی کیونکہ اس کے انگوٹھے سے لے کر کمر تک ووہ ننگی تھی

اس کی ساڑی اس کی کمر سے اوپر ہو گئی اور اب ووہ، اوپر سے بھی ننگی تھی کیونکہ اس کی چونچی سے کمر تک کچھ نہیں تھا اور نیچے سے بھی کیونکہ اس کے انگوٹھے سے لے کر کمر تک ووہ ننگی تھی.
میں نے آہستہ آہستہ اس کی چوت سہلانی شروع کر دی، بیچ بیچ میں مے اسکی چوچیوں کو مستی سے مسل رہا تھا، نپل کو نوچ رہا تھا اور کھینچ رہا تھا، تبھی میں نے دیکھا ق آگے سڑک پر ایک پولیس بےرر تھا، میں نے اس کو بتایا تو اس نے بس ساڑی کا پلو اپنے منہ پر اور چوچیوں پر ڈال لیا، جب میں نے کہا ق چوت بھی ڈھک لو، تو بولی پولیس والا کون سا گاڑی میں جھاكےگا؟ اور میں گاڑی آہستہ آہستہ بےرر سے نکال کر لے گیا. مستی سے میرا لںڈ بلکل کھڑا تھا. مے کبھی بھی نہیں سوچ سکتا تھا ق پریہ اتنی گرم ہو جائے گی اور اتنی بیباک. بےرر سے نکلتے ہی میں نے اس کی چوچی اور موہ پر سے ساڑی ہٹا دی اور دوبارہ اس کی چوت میں اوںگلی کرنے لگا. اس نے ایک ہاتھ میری پینٹ ق جپ پر رکھا اور اس کو کھولنے لگی میں نے اس کام میں اس کی مدد کی اور اس نے میرا لؤڑا باہر نکال کر سہلانا شروع کر دیا. میں نے اس کو بولا - میرا لؤڑا چوسو تو اس نے اپنی سیٹ بیلٹ کھولی اور جھک کر میرا لؤڑا چوسنے لگی، مے مستی میں ساتویں آسمان پر تھا اور اس کی گاںڈ سہلا رہا تھا.
تبھی مجھے یاد آیا ق گاڑی میں پٹرول ڈلوانا ہے. میں نے اس کو بولا ق مجھے گاڑی میں پٹرول ڈلوانا ہے تو تم کپڑے ٹھیک کر لو کیونکہ آگے کسی بھی پٹرول پمپ پر میں گاڑی روكوگا.
ووہ بہت مستی میں تھی، میرا لؤڑا چوس کر اپنی سیٹ پر لیٹ گئی اور بولی، "کیوں مجھ کو ایسے پےٹرولپمپ پر نہیں لے جا سکتے کیا؟"
میں نے کہا - "کیا پاگل ہو گئی ہو؟"
تو بولی - "ویسے تو بہت کہتے ہو ق تمہے دوسروں سے چدواوگا اور آج مجھے اپنے ننگے بدن پر کپڑے ڈالنے کو بول رہے ہو"
مے تو دنگ رہ گیا اور تھوڑا گھبرا بھی گئی. میں نے اس کے لیٹے ہوئے ہی اس کی چونچی کے اوپر ساڑی ڈال دی اور کمر سے ساڑی سرکا کر چوت اور ٹاںگے ڈھک دیں. حالانکہ اس کے کپڑے صاف طور پر درہم برہم دکھائی دے رہے تھے، پر اور کیا کرتا؟
پٹرول ڈلواتے ہوئے، پٹرول پمپ کا آدمی بار بار اس کی طرف دیکھ رہا تھا کیونکہ گاڑی میں پٹرول ٹینک کا انلےٹ اس سائیڈ ہی تھا. شاید اس آدمی کو پتہ لگ گیا تھا ق یہ عورت ننگی ہے ساڑی کے نیچے.
میں نے جلدی سے پٹرول ڈلوا کر اس پیسے دیئے اور وہاں سے نکل لیا.
باہر نکل کر میری گرم بیوی نے اپنی ساڑی پھر اوپر سے ہٹا دی اور بولی - "اگر آپ مجھے ویسے ہی لے جاتے تو شاید ووہ پیسے بھی نہ لیتا. مے دوبارہ گرم ہونے لگا، اور میں نے اس کی چوت سے ساڑی پھر اوپر کرکے اسکو دوبارہ تقریبا مکمل ننگی کر دیا.

ووہ بولی اگر ہم ابھی درزی کے یہاں جائیں گے تو میں آپ کی بلاج بھی نہیں پهنوگي. اور اس سے کہوں گی ق میری شرٹ کا ناپ بھی لے. | مے بولا - "پریہ! اگر تم ساڑی اور بلاج اتار کر، بالکل ننگی ہو کر ناپ دینے جوگی تو ووہ ناپ نہیں لے گا" | تو بولی ہاں پہلے تو ووہ میری چوت لے گا، میں نے کہاں - جی ہاں، اور تمہیں اس وقت تک نہیں واپس آنے دے گا جب تک تمہارے کپڑے سل نہیں جائیں گے، شاید 3-4 دن، تجھے ایسے ہی ننگی رکھے گا اور ہر وقت چودیگا اور گاںڈ مارے گا.

پریہ بہت گرم تھی اور اس کی چوت سے رس بہہ رہا تھا، ووہ بولی - "چھوڑو! تم سے مجھے پٹرول پمپ پر تو ننگی دکھایا نہیں گیا، اور کیا کروگے؟" مجھے تھوڑا غصہ آ گیا، اور میں نے سوچا ق اس رنڈی کو آج مزہ دیتا ہوں اور میں بھی مزا لوں گا. میں نے گاڑی کو ایک residential علاقے ق طرف گھما دی اور اس کی چوت میں دو - دو اوںگلی کرتا رہا. یہ بہت سسکاریاں بھر رہی تھی اور یکایک اس کو orgasm بھی ہو گیا پر مے اس کی چوت کو اپنی اوںگلی سے چودتا رہا اور یہ مستی میں اور گرم ہو گئی.

آگے جا کر میں نے دیکھا ق ایک کالونی کے گیٹ پر ایک گارڈ کھڑا ہے. ووہ گیٹ ہمارے بائیں طرف تھا، یعنی جس طرف پریہ گاڑی میں نںگی ادھلےٹي تھی. ووہ آگے ق سیٹ میں ہی تھی، میں نے گاڑی روکی اور پریہ کی طرف کی کھڑکی کا شیشہ کھول کر اس کو پاس بلایا اور ایسے ہی کسی جگہ کا راستہ پوچھا. پریہ ایکدم سنن رہ گئی اور کچھ بھی نہیں کر سکی، وہاں تھوڑا اندھیرا تھا اور ووہ آدمی سیدھا تھا، اس نے مجھے پوری امانداري سے راستہ بتایا اور میں دل ہی دل سوچتا رہا کہ یہ اب میری بیوی کو نںگی دیکھے گا - اب دیکھے گا، پر اس نے نہیں دیکھا. میں نے اس سے ایک دو اور فالتو سوال پوچھے کی ووہ جگہ کتنی دور ہے، کتنا وقت لگ جائے گا، پر اس نے میری نںگی بیوی کو نہیں دیکھا.

میں نے گاڑی آگے بڑھا دی.

پریہ مجھ بولی، تم مجھے بتا تو دیتے کی گاڑی روک رہے ہو، تو میں موہ ڈھک لیتی. میں نے کہا کی "اب ڈھک لو مے دوبارہ گاڑی روكوگا"

وہ بڑبڑاي "تم مجھے بالکل بیشرم بنا کر چھوڑوگے، پر اس گارڈ نے تو مجھے دیکھا ہی نہیں جبکہ مے نںگی پڑی تھی"

میں نے مسکرا کر کہا "بدكسمت تھا !!"

اور میں نے گاڑی تھوڑی ہی دیر میں ایک اور گارڈ کے سامنے روک دی یہ گارڈ بھی پریہ کی طرف ہی تھا. پریہ کو اس بار بھی موہ وجہ سے رمضان کا موقع نہیں ملا. میں نے اس کی کھڑکی کا شیشہ کھول دیا اور اس گارڈ سے بھی راستہ پوچھا اور ووہ گارڈ بھی اماندار سے راستہ بتانے لگا. میں نے دیکھا کی یہ گارڈ بھی میری نںگی رنڈی کی طرف نہیں دیکھ رہا ہے، تو میں نے پریہ کی چوت سہلانی شروع کر دی اور گارڈ کو آنکھوں سے اشارہ کیا. گارڈ نے پریہ کی ننگی اور گیلی چوت کے دیکھا تو چونک گیا اور میری طرف دیکھنے لگا. میں نے ہاتھ چوت سے ہٹا کر پریہ کی چوچی پر رکھا اور ان کو مسلنے لگا، اور گارڈ بالکل دنگ رہا گیا، اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں.

میں نے دوبارہ پریہ کی چوت سہلانی شروع کر دی اور گارڈ سے بات کرتا رہا، مستی میں پریہ کو پھر سے orgasm ہو گیا. پریہ اس کی طرف ہلکے سے مسکرائی. میں نے اشارے سے گارڈ سے پوچھا "کیسی ہے" وو سر ہلا کر بولا "بہت مست" اور میں نے گاڑی آگے بڑھا دی.

تھوڈا آگے چل کر میں نے گاڑی روکی، پریہ تب تک بالکل مستی میں تھی، اور اس کو ایک سنسان جگہ پر اتر کر کھڑے ہونے کو بولا اور اس کی تصویر لیں.

گھر آکر ہم نے جی بھر کے چدائی کی.

اس واقعہ میں میں نے کچھ بھی جھوٹ نہیں کہا ہے. واقعی میں سب کچھ ایسے ہی ہوا.

پریہ بعد میں مجھ بولی، کی تم نے مجھے ان پڑھ گارڈ کے سامنے ننگی دکھایا، اگر کوئی پڑھا لکھا اور مہذب سا آدمی ہوتا تو شاید مے اسکو اپنی چوچی چھونے بھی دیتی. !!!!!

اپنی اس ڈرائیو جس پر میں نے اپنی بیوی کو تقریبا مکمل طور نںگی کر دیا تھا اور دو سکیورٹی گارڈز کو دکھایا تھا، اس کے بارے میں میں نے راج کو بتایا تو وہ بھی بہت اتیجت ہو گیا.
مے اور میری بیوی دونوں ہی کسی بھی طرح کے نشے سے دور ہیں. ہم دونوں کو صرف ایک دوسرے کے ساتھ کا اور ایک دوسرے کے جسم کا ہی نشہ ہے.
گزشتہ سال موسم سرما کے دن تھے اور ہم دونوں ہی شہوانی، شہوت انگیز موڈ میں تھے. دیوالی پر ایک شریف آدمی مجھے وہسکی کی بوتل تحفے میں دے گئے تھے جو کہ بغیر کھلے ایسے ہی پڑی تھی. اس دن میرا من کچھ مستی کرنے کا تھا. میں نے پریہ سے کہا کہ آج تم تھوڑی وہسکی پیو پھر تمہیں ڈرائیو پر لے کر چلوںگا. وہ تھوڑا ناراض ہو کر بولی کیوں مے وہسکی کیوں پيو؟ میں نے کہا ایسے ہی! مے تمہیں پوری مستی میں بغیر کسی ذہنی بانڈ کے دیکھنا چاہتا ہوں. پینے کے بعد عام طور پر لوگ اپنے ذہنی كٹھاو سے باہر نکل آتے ہیں اور بھارتی ناری تو سماجی، خاندانی بدھنو اور كٹھاو کے درمیان ہی بڑی ہوتی ہے.
تھوڈا منانے کے بعد پریہ فرض گی، میں نے کوک کے ساتھ اس کے لئے ایک تھوڑا بڑا پےگ بنا دیا. پریہ نے ایک گھوٹھ بھرا اور فورا بہت برا سا منہ بنایا میں نے اس کو فورا اس کو تھوڑی سی مسالیدار نمکین دی جس سے اس کا ذائقہ تھوڑا ٹھیک ہوا پر اس کے بعد اس نے مکمل پےگ ایک ہی سانس میں پی لیا اور پھر تھوڑی سی نمکین کھا لی.
رات کا وقت تھا اور پریہ نے صرف ایک ریپ اراڈ سکرٹ اور ٹاپ پہنی تھی. کیونکہ ہم شام ہی شہوانی، شہوت انگیز موڈ میں تھے، تو میں نے اس کی پیںٹی اؤر برا بہت پہلے ہی اتروا دی تھی. اب وہسکی کا پےگ اس نے اتنی جلدی سے پیا تھا کہ اس کو جلد ہی نشہ ہونے لگا. اور وہ مستی میں تو تھی ہی. مے اس کا ہاتھ پکڑ کر پارکنگ میں کھڑی گاڑی تک لے گیا اور اس کو گاڑی میں بٹھایا اور گاڑی سٹارٹ کر کے سڑک پر نکل گیا سردیوں کے دن تھے اور تقریبا رات 10: 30 کا وقت تھا اس لئے سڑک تقریبا سنسان تھی اور کوئی اکا دکا وهيكل ہی نظر آ رہا تھا. پریہ کے اتنی تیزی سے پےگ پینے کے کارن مے تھوڑا فکر مند تھا کہ کہیں یہ سو نہ جائے. میں نے ٹاپ کے اوپر سے اسکی موٹی موٹی چونچیاں دبا دبا کر مزے لینے شروع کر دیے اور پریہ نے شراب کے نشے میں کھل کر سسکاری بھرني شروع کر دی. تھوڑی ہی دیر میں اس نے ہاتھ بڑھا کر میرے لؤڑے کو پیںٹ کے اوپر سے سہلانا شروع کر دیا اور لرذتي ہوئی آواز میں بولی "نشے میں ایک بات تو ہے - میرا دماغ کام کر رہا ہے پر جسم بےقابو ہو رہا ہے
یہ سن کر مجھے اور كھماري چڑھ گئی اور مے اسکی چوچیاں جور جور سے مسلنے لگا. پریہ اصل میں اپنی چوچیاں مسلواتے ہی مست ہونا شروع ہو جاتی ہے. اس نپپلس میں کھجلی شروع شروع ہو جاتی ہے، ووہ نپل چسوانے کو بےقرار ہو جاتی ہے اور اس کی چوت گیلی ہونے لگتی ہے. اس دن بھی یہی ہوا اور ووہ بھی بہت جلد.
پریہ مجھ بولی "صرف مسلتے ہی رہو گے میری چوچی، یا انہے چوسوگے بھی؟"
یہ سن کر مے اور بھی مست ہو گیا. پریہ کو وہسکی پلانا کام کر رہا تھا. اب ہیم گھر سے بہت دور نہیں پہنچے تھے، نہ ہی سڑک سنسان تھی، پر جیسا اتیجت ہونے پر ہوتا ہے، ہم دونوں کے دماغ پر لںڈ اؤر چوت کہ گرمی سوار تھی.
میں نے پریہ سے کہا - مے تمہاری چوچی خوب زور زور سے چسگا اگر تم اپنی ٹاپ اتار دو اور ایک وعدہ کرو ".
اس درمیان مے پورے وقت اپنے بائیں ہاتھ سے اس کی چونچی مسل رہا تھا اور درمیان درمیان میں اس کی چوت بھی سہلا رہا تھا.
وعدے کی بات پر پریہ فورا بولی "جو بھی تم کہو" اور آپ کی ٹاپ اترنے لگی.
مجھے ایک لمحے کو فکر ہوئی کہ یہاں کوئی دیکھ لے گا. پر رات کا وقت تھا اور سرديا تھی تو سڑک پر ٹریفک کم تھا. دو پل میں ہی پریہ ٹپلےس کار میں میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی تھی. اب آہستہ آہستہ اس کا نشہ زیادہ ہو رہا تھا اور ووہ مستی میں اپنی چوچی خود سہلانے لگی اور مجھ نشیلی آواز میں بولی "لو اب چوسو" مجھے گاڑی سڑک کے ضمنی پر لگا کر اس کی چوچی چوسني شروع کرنی پڑی. مے ایک چوچی میں اپنے ہاتھ سے زور سے مسلتا اور دسرے ہاتھ میں پوری چوچی بھر کر اس کا نپل موہ میں زور زور سے چوستا جیسے پوری چوچی منہ میں بھرنا چاہتا ہوں. ایسا کرنے پر ووہ بہت گرم ہو جاتی ہے. اس دن بھی یہی ہوا. پریہ بہت گرم ہو گی، اور زور سے زور تقریبا چلاتے ہوئے میرا سر اپنی چوچیوں پر دبانے لگی. میں نے ایک ہاتھ سے اس کی چونچی مسلتے ہوئے چوستا رہا اور دوسرا ہاتھ اسکی چوت پر لے گیا. چوت پر میرا ہاتھ رکھتے ہی اس نے اپنی ٹاںگے کھول دیں اور ایک ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ کر اپنی چوت پر دبانے لگی. مجھ سے بھی اب رکا نہیں جا رہا تھا اور میں نے اس کی ریپ اراڈ سکرٹ کے کھلے حصے سے ہاتھ اندر ڈالا اور سکرٹ کو دونوں طرف پھیلا کر اس کی ٹاںگیں نںگی کر دی. اور اس کی چوت کو نںگی کرکے سہلانے لگا. اب تو پریہ بہت گرم ہو گئی تھی. میں نے تھوڑی دیر تک اس کی چونچی چوس کر اور چوت سہلا کر کار آگے بڑھا دی کیونکہ ہم اب بھی main روڈ پر ہی تھے.

Posted on: 09:46:AM 05-Jan-2021


0 0 296 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Thomas Bryton heard the bell ring sounding.....


3 0 57 4 0
Posted on: 05:33:AM 21-Jul-2021

Summary: MILF Mom catches nerdy son masturbating.....


0 0 51 2 0
Posted on: 05:28:AM 21-Jul-2021

I was 18 years old and had.....


0 10 33 5 0
Posted on: 05:18:AM 21-Jul-2021

The fair grounds were packed for the.....


0 0 39 1 0
Posted on: 11:16:AM 18-Jul-2021

The warm, gentle wind swept playfully through.....


0 1 70 9 0
Posted on: 11:03:AM 18-Jul-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com