Stories


میاں بیوی اور نوکر از جواد جواد

شام کا وقت تھا۔ گھر آ کر میں ٹی وی لاونج میں بیٹھ گیا، اور ریموٹ اٹھا کر ٹی وی آن کر کے چینل بدل بدل کر دیکھتا رہا۔ اتنے میں میری بیوی ماہم کچن سے نکل کر ٹی وی لاونج میں آگئی۔ مجھ پر نظر پڑتے ہی وہ دھیرے سے مسکرا دی اور میری طرف آگئی۔ وہ سیدھی میری گود میں آ کر بیٹھ گئی اور میری گردن کے گرد اپنی بانہیں ڈال کے میرے ہونٹوں سے ہونٹ ملا کر کسنگ کرنے لگی۔ میں نے بھی اسے اپنی مانہوں میں بھر لیا اور اس کے ہونٹوں کو چومنے لگا۔ تھوڑی دیر بوس و کنار کرنے کے بعد ماہم نے پوچھا۔
ماہم: جان دن کیسے گزرا؟
میں: بس ٹھیک تھا جیسے عام طور پر رہتا ہے۔ تم کیا کرتی رہی سارا دن۔
ماہم: اپنی جان کا انتظار
اور یہ کہتے ہوئے اس نے ایک پیار بھری چومی میرے ہونٹوں کی لی، اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔
میں اس کے کوتڑوں پر ہاتھ پھیرنے لگا
میں: اچھا جناب، ایسی کیا خاص بات تھی کہ جناب نے سارا دن
انتظار کیا میرا؟
میری آواز میں شوخی تھی
ماہم: تم جانتے ہو کہ میں ایک پل کیلیے بھی تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی۔
میں: اچھا جی۔ میں تو سمجھ رہا تھا کہ میری جان میری غیر موجودگی میں اپنا غم فراز کے ساتھ غلط کرتی ہے۔
 
فراز ہمارا قابل اعتماد نوکر ہے ، جس کی عمر 20 سال ہےکافی مدت سے ہمارے ساتھ رہتا ہے۔ پھر میں نے اور ماہم نے اسے بھی اپنی سیکس لایف میں شامل کر لیا۔ اور اب اکثر میں اور فراز ایک ساتھ مل کر ماہم کے ساتھ سیکس کرتے تھے۔
ماہم: شاہد میری جان تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں فراز کے ساتھ صرف اس وقت سیکس کرتی ہوں جب تم ساتھ ہوتے ہو ورنہ نہیں۔ میں تم سے محبت کرتی ہوں فراز سے نہیں۔ جب تم ساتھ ہوتے ہو تب ہی فراز کا ساتھ بھی اچھا لگتا ہے ورنہ نہیں۔
اس نے روٹھنے کے انداز میں بات کی تھی، جسے میں نے محسوس کیا۔
میں: او میری جان میں تو مذاق کر رہا تھا، مجھے پتہ ہے اور اگر اس کے ساتھ تم اکیلے میں سیکس کرنا بھی چاہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے تم اچھی طرح سے جانتی ہو، پہلے بھی اس ایشو پر ہم بات کر چکے ہیں۔
میں نے ماہم کے گالوں پر کس کرتے ہوے کہا۔ اب میرا ایک ہاتھ ماہم کی کولہوں کے نیچے تھا جس سے میں ان کو دبا رہا تھا اور ایک ہاتھ میں نے ماہم کی کمر پر رکھا تھا۔ ماہم میری گود میں ایسے بیھٹی تھی کہ اس کے کولہے باہر نکلے ہوے تھے، اور اس نے اپنی بانہیں میری گردن کے گرد ڈال رکھی تھیں۔ مین اس کے دونوں گالوں اور ہنٹوں کے بوسے لینے لگا۔
ماہم: اُف جان آج تو میں صبح سے ہی تمہارا انتظار کررہی تھی۔ اب اور نہ تھڑپاو۔ مجھے بیڈ روم میں لے جاو۔
میں: اوہ جان ابھی شام کو ہی
ماہم: ہاں اب مجھ سے رات کا انتظار نہیں ہوتا۔ بیڈ پر لے جاو مجھے شاہدددددد۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی ہوس سے بھری باتیں سن کر میں نے ماہم کو اپنی بانہوں میں اٹھا لیا اور اسے بیڈ روم لے گیا۔ بیڈ روم میں بیڈ پر ماہم کو لٹا کر میں اس کے اوپر لیٹ گیا اور ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کسنگ کرنے لگے۔ میرا ایک ہاتھ اس کے مموں پر تھا اور ایک ہاتھ سے نیچھے اس کے کولہوں کو مسل رہا تھا اور ماہم اپنے دونوں ہاتھوں سے میری کمر مسل رہی تھی۔۔۔
ہماری کسنگ جاری تھی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو بھرپور انداز میں چوم رہے تھے۔ میں نے اپنی زبان ماہم کے منہ میں ڈال دی تو ماہم اسے شوق سے چوسنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد ماہم نے اپنی زبان میرے منہ میں ڈال لی اور میں ماہم کی زبان کو چوسنے لگا۔ ماہم نیچھے تھی اور ہم دونوں کے منہ سے نکلنے والی رال ماہم کے چہرے پر بہہ رہی تھی۔ میں نے ماہم کے ہونٹوں کو چھوڑا اور اس کی گالوں پر بہنے والی ہم دونوں کی رال کو چاٹنے لگا۔ مجھے پتہ تھا ماہم کو یہ سب بہت پسند ہے ۔ وہ اووووہ ہہہہ کرنے لگی اور میری شرٹ کے بٹن کھولنے لگی۔ میری شرٹ کے بٹن کھول کر ماہم نے میری شرٹ نکالی۔ شرٹ کے نیچھے میں نے بنیان نہیں پہنی تھی وہ میرے ننگے سینے پر ہاتھ پھیرتی رہی اور میں اس کے سارے چہرے اور گردن کو کس کرتا رہا۔ ہم دونوں جزبات کی انتہاوں پر تھے۔ ماہم جزبات میں اپنے ہاتھوں سے میرے سینے کو مٹھی میں دبانے لگی، کبھی وہ میرے سینے کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی کبھی میرے نیپل کو انگلیوں میں مسلتی۔
پر میں نے ماہم کو اپنی بانہوں میں پکڑ کر گھما دیا اور اپنے اوپر لے آیا۔ اب میں نیچے تھا اور ماہم میرے اوپر تھی۔ اوپر آتے ہی ماہم میرے سینے پر جیسے ٹوٹ پڑی۔ وہ میرے سینے کو چھومنے، چاٹنے اور کاٹنے لگی۔ میرے منہ سے لزت بھری سسکاریاں نکلنے لگی۔ میں نے ماہم کی قمیض اوپر کھینچی اور نکال دی۔ پر ماہم کی برا کا ہک کھول کر اسے بھی الگ کر لیا۔ اب ماہم کا اُپری بدن مکمل ننگا ہو چکا تھا۔ اس کا گورا صاف بدن میرے سامنے تھا۔ وہ ابھی تک میرے سینے سے کھیل رہی تھی۔ میں نے اسے بازوں سے پکڑ کر اوپر کھینچا اور اس کا چہرہ اپنے چہرے کے اوپر لے آیا۔ ہم دوبارہ کسنگ کرنے لگے۔ اب ہم دونوں کے سینے ننگے تھے۔ اسے کے ممے میرے سینے میں پیوست تھے۔ اس کے مموں کی نرمی اور اس کے نپلز کی سختی میں اپنے سینے پر محسوس کر رہا تھا۔
پر ماہم خود ہی توڑا اور اوپر آگئی کہ اس کا سینہ میرے چہرے کے اوپر آگیا۔ اس نے خود اپنے ہاتھ میں اپنا مما پکڑ کر میرے منہ سے لگایا۔۔۔۔۔
ماہم: اُف شاہد میرے ممے چوسو۔۔۔ آہ میرے نیپل چوپو شاہد،،اہ ہ ہ ہ ہ جلدی کرو میر بیغیرت شوہر۔۔۔ چوسو انہیں۔۔۔۔
ماہم کی گندی اور شہوت سے بھری باتیں سن کر میرے جوش میں اور اضافہ ہوا۔ ہم اکثر سیکس کے دوران ایسے ہی ایک دوسرے کو گالیاں دیتے تھے۔ ہم دونوں کو اس میں بہت مزہ آتا تھا۔ ماہم کی باتیں سن کر میں تو جیسے پاگل سا ہو گیا اور اس کے گورے نرم گرم ممے پر ٹوٹ پڑا۔ آف کیا مزہ تھا اس کے مموں میں ۔۔۔ اس کے نپلز کو میں باری باری چوستا رہا اور اس کے مموں کو چاٹنے لگا۔ ماہم نے جزبات میں دونوں ہاتھ میرے سر کے پیچھے رکھے ہوے تھے،اوروہ میرے سر کو اپنے مموں پر دبا رہی تھی۔ میں باری باری اس کے تنوں کو چومتا چاٹتا رہا۔ وہ اپنے تنوں کو میرے منہ اور چہرے سے مسلتی رہی۔ ساتھ ہی ساتھ میں ہاتھوں سے اس کی ننگی پیٹھ کو بھی مسل رہا تھا۔ پھر میرے ہاتھ اس کی پیٹھ سے نیچے چلے گئے اور میں نے اس کی شلوار نیچے کی۔ اس نے شلوار میں لاسٹک ڈالا تھا اس لئے مجھے اس کی شلوار نیچے کرنے میں کوئی مسلہ نہیں ہوا۔ اب ماہم مکمل ننگی میرے اوپر لیٹی اپنے ممے مجھ سے چوسوا رہی تھی۔ اس نے شلوار کے نیچے کچھ نہیں پہنا تھا۔ تھوڑی دیر ایسی پوزیشن میں رہتے ہوئے ہم ایک دوسرے کو پیار کرتے رہے۔ میں اب اس کے مموں کو چوسنے کے ساتھ اس کی ننگی گانڈ پر بھی ہاتھ پھیرتا رہا۔ اس کے موٹے نرم چوتڑوں کو مٹھی میں دبنے لگا۔ اور وہ مزے سے منمنانے لگی۔ پھر ماہم اٹھی اور میری ٹانگوں کےساتھ سائیڈ پر بیٹھ گئی۔ میں سمجھ گیا کہ وہ کیا کرنے والی ہے۔ اس نے میرے پینٹ کی بیلٹ کھولی۔ اور پینٹ کا زیپ کھول کر میری پینٹ نکالی۔ پر اس نے میرا انڈر وئیر بھی جلدی جلدی سے نکالا ۔ اسے بہت گرمی چڑھی تھی اور وہ بہت تیزی سے سب کر رہی تھی۔ میرا انڈر وئیر نکالتے ہی میرا لوڑا باہر نکل آیا۔ میرا لن پہلے سے ہی کھڑا ہو چکا تھا۔ میرے مظبوط موٹے لن کو دیکھ کر ماہم کے منہ میں پانی آنے لگا۔ وہ ہمیشہ سے میرے لوڑے کی عاشق تھی۔ لوڑے کو ننگا دیکھ کر اسے فوراََ ہاتھوں میں لے کر مسلنے لگی۔۔۔۔۔۔
ماہم: اف شاہد دیکھو تو۔ تیرا لوڑا کیسے سخت کھڑا ہے،، ہائے لگتا ہے آج میری چوت میں یہ تیرا لوڑا تباہی مچانے والا ہے
میں: ہاں میری رنڈی ماہم۔ آج میں تیری چوت کو چود چود کر اس کا برا حال کرنے والا ہوں۔ چل میری رانڈ اب میرے لوڑے کو منہ میں لے کر چوس۔۔۔۔
میرے یہ کہنے کی دیر تھی کہ ماہم میرے لوڑے پر جُھک گئی اور پہلے میرے لن کی ٹوپی کو زبان نکال کر چاٹنے لگی جب خوب لن کی ٹوپی کو چاٹ لیا تو اسے منہ میں لے لیا۔ اور آہستہ آہستہ اسے اپنے حلق میں اتارنے لگی۔ میرا لن بہت موٹا اور لمبا تھا۔ بہت مشکل سے ماہم کے منہ میں آرہا تھا اور وہ بار بار اسے اپنے منہ سے نکالتی اور ڈالتی رہی۔۔۔۔۔ وہ تیزی سے مرے لن کے چوپے لگانے لگی اور میں مزے کی وادیوں میں پہنچ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہم بڑے شوق اور جزبات سے میرے لوڑے کو چوس رہی تھی۔ وہ بار بار میرے لوڑے کو منہ میں ڈالتی اور باہر نکالتی۔۔ ساتھ ہی ساتھ وہ لوڑے کو چوس بھی رہی تھی۔ ایسا کرنے سے میرے جزبات اور زیادہ بھڑک گئے تھے۔ میں نے اسے بالوں سے پکڑا اور اس کے سر کو اپنے لوڑے کے اوپر دبانے لگا۔ ساتھ میں نیچے سے اپنے لوڑے کو اس کے منہ میں گھسانے لگا۔ اب لن کو اس کے منہ میں اندر باہر کرنے کی باری میری تھی۔ میں اس کے منہ کو اپنے لن سے تیز تیز چودنے لگا۔ اس کے منہ سے اغ غ ااغ غ کی آوازیں نکل رہی تھی۔ اس کے منہ کی رال میرے لن کو بھگوتے ہوے میرے ٹٹوں اور میرے پیٹ اور رانوں کو گیلا کر رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔
میں: اہ میری رنڈی تیرے منہ میں کتنی گرمی ہے۔ قسم سے تیری چوت سے زیادہ تو تیرے منہ میں مزہ ہے مادر چود بازاری کتیا۔۔ آہ ہ ہ ہ لے اور لے لے تیری ماں کی چوت ماروں، تیری بہن کی گانڈ پھاڑوں مادر چود۔۔۔ لے چوس میرا لوڑا۔۔۔۔
میں نزبات میں گندی گندی گالیاں دیتا رہا۔ اور وہ ایسے ہی اپنا منہ میرے لن کے اوپر رکھ کر میرے لن کو چوستی اور چاٹتی رہی اور میں اس کے منہ کو چودتا رہا۔ کچھ دیر اسی طرح اس کے منہ کو چودنے کے بعد ماہم اٹھی اور پوزیشن بدل دی۔ اس نے پلٹ کر اپنی ٹانگیں میرے سے کے دائیں بائیں رکھی اور خود میرے لوڑے پر جھک گئی۔ اب ہم 69 کی پوزیشن میں تھے۔ میں ابھی بھی نیچے اور وہ اوپر تھی۔ اس کی لال گلابی چوت میرے چہرے کے اوپر تھی۔ اور وہ میرے لن پر جھک کر اسے ہاتھوں میں مسل رہی تھی۔۔۔۔
ماہم: اہ میرے دلے شوہر۔۔۔ چوس میری چوت کو۔ سارا پانی پی جا میری جان۔ اپنی ماں کی چوت سمجھ کر چاٹ لے بھڑوے۔۔۔
اور یہ کہتے ہی مہم نے ایک بار پر میرے لوڑے کو منہ میں لیا اور چوسنے لگی۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے ماہم کے چوتڑ پکڑ کر کھولے اور اس کی چوت کھول کے زبان سے اسے چاٹنے لگا۔ جیسے ہی میں نے زبان سے ماہم کے چھوٹے پیشاب کی جگہ کو چاٹا، ماہم کو جیسے ایک جھٹکا لگا، وہ اپنی چوت کو دائی بائیں کرنے لگی اور میرے چہرے پر اپنی چوت مسلنے لگی۔ وہ اور زور و شوق سے میرے لن کو چومنے چاٹنے لگی۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے اس کے چوتڑ مظبوطی سے پکڑ لئے اور اس کی چوت کو باہر سے چاٹنے لگا۔ چاٹنے کی وجہ سے اس کی چوٹ گیلی ہو گئی۔ پر میں نے اپنی زبان ماہم کی چوت کے اندر گھسائی اور زنان سے ماہم کی چوت کو چودنے لگا۔ اسے بہت مزہ آ رہا تھا وہ بار بار اپنے چوتڑ اوپر نیچے کر رہی تھی۔ میں تیز تیز اس کی چوت چاٹتا رہا۔۔
کافی دیر اس کی چوت اور میرے لوڑے کی ایسے ہی چودائی جاری رہی۔ پرمیں نے اسے پلٹا اور مین اسی 69 کی پوزیشن میں اس کے اوپر آگیا، اب میں اوپر سے اس کی چوت چاٹ رہا تھا اور ساتھ میں انگلیاں بھی اس کی چوت میں گھسا دی تھیں اور لن سے اب میں اس کے منہ کو چود رہا تھا۔ میرا لوڑا بہت گرم ہو چکا تھا۔ میں اٹھا اور ماہم کی ٹانگوں کے بیچ بیٹھ کر اس کی ٹانگیں کھول لیں اور اپنا لورا اس کی چوت کے اوپر رکھا۔۔۔۔
ماہم: اف سالے مادرچود اندر ڈال اب تڑپا کیوں رہا ہے چود مجھے۔۔ ڈال دے اپنا لوڑا میری چوت میں
میں:یہ لے سالی کتیا،،، باپ کا لوڑا لینے والی رانڈ یہ لے میرا لوڑا۔۔
اور گالیاں دیتے ہوے میں نے اپنا لوڑا اس کی چوت میں گھسا دیا۔ اس نے ایک لمبی سسکی بھری اور میں نے جڑ تک اپنی لنڈ اس کی چوت میں گھسا دیا ۔۔ پھر میں اس کی چوت میں جھٹکے لگانے لگا۔ جھٹکوں سے اس کا پورا جسم ہلنے لگا۔ میں نے آگے پڑھ کر اس کے ممے تھام لئے اور جھٹکے لگاتا رہا۔ اس کی چوت کا پانی میرے لن کو بھگو رہا تھا۔
ماہم:اُف میرے شیر میرے دلے میرے بھڑوے اااہ ہ ہ ہ چود اور زور سے چود اوہ مادرچود بہن چود مجھے اپنی ماں بہن سمجھ کر چود
میں:یہ لے رنڈٰی اہ مری کتیا بہت گرمی ہے تیری چوت میں
میں اور تیز تیز جھٹکے لگانے لگا۔۔۔ میرا لوڑا اب آخری حدوں کو چھونے لگا تھا۔۔۔ میرا پانی نکلنے والا تھا
میں: او رنڈی میرا پانی نکلنے والا ہے میں آنے والا ہوں
ماہم:نہیں ابھی نہیں ابھی مجھے چودتے رہو ابھی نہیں نکالنا پانی
میں:اف ماہم میری جان مجھ سے اور مرداشت نہیں ہوتا
ماہم:مادر چود ابھی نہیں چوٹنا ابھی چودو مجھے۔۔
میں نے ایک دم سے اپنا لوڑا باہر نکالا اور اپنا پانی اس کے پیٹ پر نکال دیا۔۔۔۔
ماہم: مادر چود حرامی مجھے درمیان میں چھوڑ دیا تو نے۔۔ اب مجھے کون ٹھنڈا کرے گا سور کی اولاد
میں سارا پانی اس کے پیت پر نکال کر اس کی شائیڈ میں لیٹ گیا
میں:فکر نہ کرو، تمہاری باقی کی گرمی اب فراز نکالے گا
ماہم:بیغیرت دلے بلا اپنے نوکرکو اور اپنی بیوی کو چدوا اس سے۔ جلدی کر راندی کے بچے مجھ سے مرداشت نہیں ہوتا
میں نے فراز کو اونچی آواز میں پکارا۔ تھوڑی دیر میں فراز اندر آیا اندر کا ماحول دیکھ کر وہ سمجھ گیا کہ اسے کیوں بلایا گیا ہے۔ اس کے چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ تھی۔۔۔۔۔
فراز بے تابی سے بیڈ کی طرف آیا۔ میں ماہم سے اتر کر سائیڈ پر ہو چکا تھا اور اپنا لن صاف کر رہا تھا۔ جبکہ ماہم فراز کو دیکھ کر اٹھ گئی اور فراز کی طرف منہ کرکے ڈوگی سٹائیل میں فراز کے بستر تک پہنچنے کا انتظار کرنے لگی۔ فراز جیسے ہی بستر کے پاس پہنچا، ماہم نے اس کی شلوار کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اور فراز کا ناڑا کھول کر اس کی شلوار نیچے گرا دی۔ فراز نے شلوار کے نیچے کچھ نہیں پہنا تھا۔ پر فراز نے خود ہی اپنی قمیض کا پلو آگے سے اوپر اٹھایا تو اس کا 8 انچ کا لن پھنپھناتا ہو ماہم کے سامنے آگیا۔ ماہم نے جھٹ سے اسے ایک ہاتھ میں پکڑ لیا اور پٹ سے اسے منہ میں لے گئی۔ وہ ابھی تک ڈوگی پوزیشن میں تھی۔ اس کی گانڈ میری طرف تھی اور اوپر کو اٹھی ہوئی تھی۔ اس کی گانڈ کا سوراخ واضع نظر آرہا تھا اور اس کی چوت سے اس کا پانی نکل کراس کی رانوں پر بہہ گیا تھا۔ وہ فراز کا موٹا لمبا لوڑا منہ میں لے کر کسی بھوکی کتیا کی طرح چوس رہی تھی۔

ماہم کے منہ سے ام م م م  کی آوازیں نکل رہی تھیں اور فراز مزے سے سسکیاں لے رہا تھا۔ میں نے اپنا لوڑا صاف کر لیا تھا اور ان دونوں کے قریب سائیڈ پر لیٹ کر ان کو دیکھ رہا تھا۔ مجھے اپنی بیوی کو اپنے نوکر فراز سے چُدواتے ہوئے بڑا مزہ آتا تھا۔ اور ماہم کو بھی فراز سے اسی وقت سیکس مزہ دیتی تھی جب میں دیکھ رہا ہوتا تھا۔ فراز مجھ سے کم عمر تھا مگر صحت اس کی بہت شاندار تھی، اور اس کا لوڑا میرے لن سے بھی لمبا اور موٹا تھا۔

ماہم بٖڑے شوق اور شدت سے فراز کا موٹا لمبا لوڑا چوس رہی تھی۔ میں اس کی گرمی نہیں ختم کر سکا تھا اس لئے وہ فراز کے لن پر ٹوٹ پڑی تھی۔ ماہم فراز کا لوڑا پورے کا پورا منہ میں اندر گھسا رہی تھی اور اسے چوس رہی تھی۔ فراز بھی ماہم کے منہ میں اپنے لن سے آہستہ آہستہ جھٹکے مارنے لگا، اور میں بیغیرتی سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔


پیچھے سے ماہم کی گاند کا نطارہ بہت خوبصورت تھا۔ میں ماہم کو لن چوسنے کے ساتھ ساتھ اس کی کھلی چوت اور گانڈ کے بھی نظارے کر رہا تھا۔ میرے لن میں اب دوبارہ سے ہلچل ہونے لگی تھی، مگر ابھی اسے کچھ ٹایم چاہئے تھا دوبارہ سے تیار ہونے کیلئے۔

میں نے پیچھے سے ماہم کو چومنا شروع کیا۔ پہلے اس کےپیروں کو چومنے چاٹنے لگا۔ پر میں اورآگے چلتا گیا اور ماہم کی ٹانگوں سے ہوتا ہوا رانوں تک پہنچا اور رانوں سے ماہم کی چوتڑوں تک پہنچا۔ میں سب جگہ ماہم کو چومتا اور چاٹتا رہا۔

ماہم کو بھی بڑا مزہ آرہا تھا۔ اس نے ایک لمحے کیلیے فراز کے لوڑے سے منہ ہٹایا۔۔۔

ماہم: اف میرے بیغیرت شوہر۔۔ میرے دلے آہ ایسے ہی کتے کی طرح اپنی کتیا بیوی کو چاٹ سالے مادرچود حرامی ۔۔۔ آہ اچھی طرح سے میری چوت تیار کر میرے یار کیلیے۔ حرامی بیوی کے دلے۔۔۔۔

ماہم پیار اور شہوت سے مجھے گندی گندی گالیاں دینے لگی اور فراز ہماری
گندی حرکتوں سے محظوظ ہورہا تھا۔

 

ماہم دوبارہ فراز کی طرف متوجہ ہوئی۔ اس نے فراز کو بستر پر کھینچ لیا اور اسے سیدھا لٹا دیا۔۔ پر وہ اس کے لوڑے پر جھک گئی اور اس کے لوڑے کو چاٹنے لگی۔ میں ماہم کی چوت چاٹ رہا تھا، جو میرے چودنے کی وجہ سے گیلی تھی اور کافی کھلی تھی۔

پھر ماہم نے فراز کا لوڑا منہ سے نکالا اور پیچھے میری طرف منہ پھیر کر پیار سے میرے بالوں میں انگلیان پھیرنے لگی۔ پھر ایک دم سے اس نے میرے بالوں کو مٹھی میں دبا یا اور آگے کی طرف کھینچا۔ اس کے کھینچنے سے میں فراز کی ٹانگوں کے اوپر آگیا جہاں سے ماہم اب ہٹ چکی تھی۔

ماہم: آجا مادرچود، میرے دلے آجا تو بھی اپنی بیوی کے یار کے لوڑے کے مزے لے۔۔ آجا بیغیرت۔

اور یہ کہہ کر ماہم نے فراز کا لوڑا ہاتھ میں لے کر سیدھا کیا اور مجھے بالوں سے پکڑ کر میرا منہ فراز کے لن پر لے آئی اور پر اپنے ہاتھوں سے اس کے لوڑے  کو میرے منہ میں ڈال دیا۔

 

ماہم: چوس بھڑوے چوس اپنی بیوی کے یار کا لوڑا چوس۔

ماہم میرے منہ کو فراز کے لن پر اوپر نیچے کرتے ہوئے بولی

میں بھی پورے شوق سے فراز کے لن کو چوسنے اور چاٹنے لگا تھا۔ فراز کا لن بہت سخت تھا اور وہ بھی میرے منہ میں جھٹکے دینے لگا۔ میری بیوی میرے نوکر کے ساتھ ملکر میرا منہ چدوا رہی تھی۔ مجھے اس میں بڑا مزہ آتا تھا اور میں اکثر فراز کا لن چوستا تھا ۔ سو یہ کوئی پہلی بار نہیں ہو رہا تھا۔

میں شوق سے فراز کا لن چوس رہا تھا۔ اور ماہم میرے سر کو لنڈ پر دبا رہی تھی اور مجھے فراز کا لن چوستے دیکھ رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ماہم نے بے دردی سے میرے بالوں کو مٹھی میں پکڑا اور مجھے پیچھے ہٹا دیا۔ پر ماہم خود فراز کے لوڑے پر چڑھ گئی اور مجھے بالوں سے پکڑے اپنی گاند کے قریب کیا

ماہم: اف دلے چل اپنے دو ٹکے کے نوکر کا لوڑا اپنی پیاری بیوی کی چوت میں ڈال۔ چل مادرچود، اپنی بیوی کو چُدا حرامی

میں نے اپنے ہاتھوں میں فراز کا لوڑا لیا اور اوپر بیٹھی ماہم کی چوت کے سوراخ پر رکھا۔ ماہم آہستہ آہستہ فراز کے لوڑے پر بیٹھ گئی۔ آآآآہ ہ ہ ہ ہ ہ کیا نظارہ تھا۔ میری جوان بیوی کی مست چوت میں میرے نوکر کا لوڑا گھس گیا تھا۔ افففففف ماہم نے مجھے بالوں سے پکڑا اور اپنی گانڈ کے قریب کیا اور خود فراز کے لنڈ پر اوپر نیچے ہونے لگی۔

 

فراز کے لنڈ کے ساتھ ماہم کی چوت سے پانی نکل رہا تھا تو میں نے اس سے منہ لگا لیا اور ماہم کی چوت سے نکلنے والا اور فراز کے لنڈ پر لگا ہوا پانی چاٹنے لگا۔ ماہم بہت جوش میں آئی ہوئی تھی۔ وہ زور زور سے فراز کے لوڑے پر اچھلنے لگی۔ فراز کا لنڈ ماہم کی چوت میں خوب پھنس پھنس کر جارہا تھا اور ماہم فراز کا پورا لن ٹٹوں تک اپنی چوت میں لے رہی تھی اور میں چوت اور لنڈ کو چاٹ رہا تھا۔ ماہم اور فراز دونوں کی کراہیں نکل رہی تھیں۔
ماہم: اف فراز۔ آآآآآہ ہ ہ ہ ہ چود سالے اپنی مالکن کو چود۔ چود مجھے مادرچود۔۔۔ آہ اپنی مالکن کی چوت کے مزے لے
وہ فراز کو گالیاں دیتے ہوے فراز کے اوپر لیٹ گئی اور اپنے ممے فراز کو چسوانے لگی۔ نیچے سے فراز ماہم کی چوت میں دھکے مار رہا تھا اور اوپر ماہم کے ممے چوس رہا تھا۔ ماہم نے ایک بار پھر سے ہاتھ پیچھے میری طرف بڑھایا اور مجھے بالوں سے پکڑ کر میرا منہ اپنی گانڈ سے لگایا

ماہم: اف مادرچور میرے دلے شوہر۔۔میری گانڈ چاٹ۔ او گانڈو حرامی میری ٹٹی کھا جا سالاے کتیا کے پلے

 

وہ جزبات میں خوب گندی گندی گالیاں دے رہی تھی۔

میں بھی اب دوبارہ سے گرم ہونے لگا تھا۔ ماہم کی گانڈ سے منہ لگتے ہی میں نے زبان نکالی اور کتے کی طرح اپنی بیوی کی گانڈ چاتنے لگا۔ اس کی گانڈ کے تنگ سوراخ میں میں نے زبان ڈال دی اور گانڈ کو اندر سے چاٹنے لگا۔ وہ بار بار اپنی گانڈ کے سوراخ کو کھول اور بند کر رہی تھی۔ میری زبان باہر ہوتی تو وہ گانڈ کو کھول لیتی اور میں اپنی زبان گھسا دیتا، پھر وہ اپنی گانڈ کا سوراخ بند کردیتی اور میری زبان کو اند کھینچنے لگتی۔ اف کیا بتاوں کیا مزہ آرہا تھا۔

فراز ابھی تک بھرپور انداز میں ماہم کی چوت میں لنڈ کے جٹھکے مار رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ماہم رکھ گئی، فراز سے اٹھی اور فراز کو بھی اٹھا دیا اور اس کے ساتھ کسنگ کرنے لگی۔ وہ دونوں بیڈ پر گھٹنوں کے بل کھڑے تھے اور ایک دوسرے سے کسنگ کر رہے تھے جبکہ میں اب بھی ماہم کی گانڈ چاٹ رہا تھا۔
تو ماہم نے پیار سے میری گال پر ہاتھ پھیرا اور مجھے آگے کی طرف کھینچا۔ میں کتے کی طرح آگے آیا، ماہم کی چوت اور رانیں مکمل گیلی تھیں۔ جبکہ فراز کا لنڈ ابھی بھی کھڑا تھا اور ماہم کی چوت کے پانی میں شرابور تھا۔ ماہم نے میرا چہرا فراز کے لنڈ کے سامنے کیا اور کہا

ماہم: میرے مجازی خدا،، میرے بےغیرت دلے چل میرے یار کے لنڈ سے اپنی بیوی کی چوت کا پانی چاٹ۔

اور یہ کہتے ہوئے اس نے فراز کا لنڈ ہاتھوں میں لے کر میرے منہ سے لگایا۔ میں نے منہ کھول دیا اور فراز نے اپنا لنڈ میرے منہ میں گھسا دیا۔

 

ماہم میرے سر کو پکڑ کر آگے پیچھے کرنے لگی اور میرا منہ فراز کے لنڈ سے چدوانے لگی۔ فراز بھی میرے منہ میں اب اپنے لنڈ کو ہلانے لگا۔ ام م م م م م م میں بڑے شوق سے فراز کے لنڈ کو چوسنے لگا۔ اور وہ دونوں مجھے دیکھ دیکھ کر ہنس رہے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ کسنگ کر رہے تھے۔ فراز ساتھ ہی ساتھ ماہم کے مموں سے کھیل رہا تھا۔

پھر ماہم میرے برابر ڈوگی پوزیشن میں لیٹ گئی۔ اس نے اپنی گانڈ اٹھائی ہوئی تھی اور ٹانگیں کھول رکھی تھی۔ اس کے گانڈ کا سوراخ مکمل نظر آرہا تھا۔ اور گانڈ کے نیچے اس کی لال گیلی چوت منہ کھولے دعوت چدائی دے رہی تھی۔ میں ابھی تک فراز کے لنڈ کو چاٹ رہا تھا۔

 

تھوڑی دیر بعد فراز نے اپنا لنڈ میرے منہ سے ہٹایا اور ماہم کی گانڈ کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ اس نے اپنا لن ماہم کی کھلی چوت کے منہ سے لگایا اور اس کی چوت کی موری سے مسلنے لگا۔ پھر ایک ہی جھٹکے میں اپنا لنڈ ماہم کی چوت میں گھسا دیا۔۔ ماہم کی ایک لمبی آہہ ہ ہ ہ نکل گئی۔ اور فراز ایک بار پھر زوردار جھٹکوں سے ماہم کی چودائی کرنے لگا۔

میں گھم کر ماہم کے آگے آیا اور ماہم کے چہرے کے سامنے بیٹھ کر ٹانگیں کھول لیں۔ میرا لنڈ بھی اب پورا کھڑا ہو چکا تھا۔ ماہم نے میرے لنڈ کو ہاتھوں میں لیا اور چوسنے لگی۔ اب پوزیشن یہ تھی کہ ماہم میرا لنڈ منہ میں لے کر چوس رہی تھی اور فراز پیچھے سے اس کی چودائی کر رہا تھا۔


فراز کے جھٹکوں سے ماہم کا سارا بدن لرز رہا تھا اور وہ اور جوش و خروش سے میرے لنڈ کو چاٹنے لگی۔ میرا لنڈ پورا گرم ہو چکا تھا۔ اور میں بھی نیچے سے ماہم کے منہ میں لنڈ سے جھٹکے مارنے لگا۔ دونوں طرف سے اب ماہم بُری طرح چُد رہی تھی۔ ایک لنڈ اس کے منہ میں اور دوسرا اس کی چوت میں تھا۔ اس کے منہ سے ام ام ام ام کی آوازی نکل رہی تھیں اور اس کی چوت سے شپ سپ سپ کی آوازی آرہی تھیں۔ کمرے کا ماحول بہت ہیجان خیز تھا۔

اب ماہم بھی چوٹنے لگی تھی۔ وہ تیز تیز منمنانے لگی۔ اور اپنے بدن کو آگے پیچھے کرنے لگی۔ پھڑ تھوڑی دیر میں اس کا پانی نکل گیا۔ لیکین میرا اور فراز دونوں کے لوڑے ابھی بھی کھڑے تھی۔ تو ماہم نے مجھے شرارت سے دیکھتے ہوئے کہا

ماہم: جان اب تمہاری باری ہے۔ آجاو

یہ کہہ کر ماہم نے مجھے سیدھا لیٹا دیا ۔ اور فراز کو اشارا کیا۔ میں سمجھ گیا کیا ہونے والا ہے۔ فراز میری ٹانگوں کے بیچ میں آگیا اور میری ٹانگیں کھول کر اپنا لن میری گانڈ کی موری سے لگا دی۔ جبکہ ماہم میرے لن کو منہ میں لے کر چوسنے لگی۔

 

پر فراز نے میری گانڈ میں اپنا لنڈ گھسانا شروع کیا۔ اف ف ف ف خدا۔ مری تو گانڈ پھٹنے لگی۔ میں کراہنے لگا لیکین فراز کو پتہ تھا کہ مجھے گانڈ مروانے میں بہت مزہ آتا ہے اس لیے اس نے میری کراہوں کی کوئی پرواہ نہیں کی اور اپنا لنڈ میری گانڈ میں اتارتا گیا۔ ہائے کیا مزہ تھا ۔۔ ماہم برابر میرا لن چاٹ رہی تھی۔ فراز نے بھی پہلے ایک دو بار آرام آرام سے اپنا لنڈ میری گانڈ میں گھسایا، اور پھر جب میری گانڈ کا سوراخ تھوڑا کھلا تو وہ میری گانڈ جم کر مارنے لگا۔ افففففففف میں تو آگے اور پیچھے دونوں طرف سے مزے میں تھا۔ ایک طرف فراز میری گانڈ ماررہا تھا تو آگے سے ماہم میرا لنڈ چوس رہی تھی۔

فراز کے جھٹکوں میں شدت اتی گئی اور اس کے جھٹکوں سے میرے وجود میں مزے کی لہریں دوڑنے لگی۔ تھوڑی دیر میں ہی میں فراز کے جھٹکوں کو مزید نہ سہہ سکا اور میرے لنڈ سے منی خارج ہونے لگی، جسے ماہم پی گئی ۔ پر فراز نے ایک دم سے اپنا لنڈ میری گانڈ سے نکالا اور میرے منہ کے قریب لے آیا۔ فراز بھی فارغ ہونے والا تھا اور پر اس کی منی بھی نکلنے لگی۔ میں اور ماہم دونوں فراز کے لنڈ سے منی چاٹنے لگے۔

 

فراز کے لنڈ سے نکلنے والی گرم گرم گاڑھی منی بہت مزے دار تھی۔ ہم تینوں فارغ ہوچکے تھے۔ فراز نے اپنے آپ کو صاف کیا، کپڑے پہنے اور نکل گیا۔ ماہم اور میں ایک ساتھ بانہوں میں بانہیں ڈال کر لیٹ گئے۔ اور کسنگ کرنے لگے ۔ ہم دونوں کے منہ میں ابھی تک فراز اور میری منی اور ماہم کے چوت کے پانی کا ذائقہ تھا۔ ہم دونوں مطمئین تھے۔ ہم دونوں کی زندگی ایسے ہی گزر رہی تھی۔

ختم شد

Posted on: 04:28:AM 18-Jan-2021


0 0 204 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Thomas Bryton heard the bell ring sounding.....


3 0 57 4 0
Posted on: 05:33:AM 21-Jul-2021

Summary: MILF Mom catches nerdy son masturbating.....


0 0 51 2 0
Posted on: 05:28:AM 21-Jul-2021

I was 18 years old and had.....


0 10 33 5 0
Posted on: 05:18:AM 21-Jul-2021

The fair grounds were packed for the.....


0 0 39 1 0
Posted on: 11:16:AM 18-Jul-2021

The warm, gentle wind swept playfully through.....


0 1 70 9 0
Posted on: 11:03:AM 18-Jul-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com